ہم بابا عبدالقادر بخش مری المعروف ”صحابہ کے حلیے والے“ کے عہد میں جی رہے ہیں

ہم اکیسویں صدی میں ایک ایسے معاشرے کے باسی ہیں جہاں ”اسٹوری ٹیلنگ“ کا چلن ہے اور نسیم حجازی ذہنیت کا راج ہے۔ زیادہ تر لوگ اپنی اپنی بضاعت کے مطابق اسی ذہنیت کی آبیاری کرتے رہتے ہیں۔
بدقسمتی سے اس ملک میں اسی ”نسیم حجازی ماڈل“ کے قصہ خوانوں یا روحانی بابوں کی کثرت رہی ہے اور اتفاق سے ان بابوں کو قصہ خوانی کے لیے ایسے لوگوں کی خدمات بھی میسر رہتی ہیں جو ان کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچانے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور جو ایسی پراسرار قسم کی روحانی ہستیوں کو فضا میں اڑتا ہوا دکھانے یا دشمن کے ایٹمی اوزاروں کو نورانی ہاتھوں سے کیچ کرتے ہوئے مناظر کی دلیلیں پیش کرنے یا ان مناظر کو روحانی تڑکے کے ساتھ قصہ گوئی کی صورت میں بیان کر نے کی صلاحیت اور عوام کو قائل کرنے کی قابلیت یا چرب زبانی جیسے جوہر سے مالامال ہوتے ہیں۔
اس قسم کے چرب زبان اور ججازی ذہنیت کے نمائندگان جاوید چوہدری، اوریا مقبول جان، زید حامد یا ڈاکٹر عفان قیصر کی صورت میں ہر اس معاشرے میں موجود ہوتے ہیں جہاں سستی جذباتیت یا شہرت کا چلن ہوتا ہے جو دنوں میں ایسی ہستیوں کو ایسے ”ان ٹچ ایبل“ مقام پر پہنچا دیتے ہیں کہ جہاں ایک عام بندہ چاہتے ہوئے بھی نہیں پہنچ سکتا۔
اس قسم کی گمنام ہستیاں یا ”خواہ مخواہ کے صوفی“ ادب کے میدان میں بھی پائے جاتے ہیں اور سیاست کے ایوانوں میں بھی۔ اور ان ہستیوں کے ترجمان عمران ریاض خان یا اوریا مقبول جان کی صورت میں سوشل میڈیا پر پر موجود ہوتے ہیں جو من چاہی شخصیات کے متعلق بشارتیں دیتے ہیں اور بڑے دھڑلے سے حالت بیداری میں اپنے روحانی خواب جن کے صرف وہی شاہد ہوتے ہیں ٹی وی اسکرین پر بیٹھ کر بیان فرما رہے ہوتے ہیں۔
یاد رہے کہ ایسے لوگوں کی ذہنی کریڈبیلٹی کا معیار سنی سنائی باتوں یا سطحی جذباتیت کی حد تک ہوتا ہے اور ایسوں کی گفتگو کا محور ”بے تکیاں یا بے پرکیاں“ ہوتی ہیں جن کا زمینی حقائق سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ آج کل ایک بابا جی کی ویڈیو بہت وائرل ہے جو حرم کے فرش پر بڑی سادگی سے چل رہے ہیں، جن کا نام بابا عبدالقادر بخش مری ہے، جس کے حلیے میں بہت سوں کو ”صحابہ کے حلیے“ کی جھلک نظر آئی اور سب اپنے اپنے حساب سے بشارتیں دینے لگے ہیں اور اب تو یہ سلسلہ کوہ ہمالیہ کی بلند ترین چوٹی کوٹچ کرنے لگا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ یہ سلسلہ تھمنے والا نہیں ہے۔ ممکن ہے بلکہ یقین کامل ہے کہ اس کی تان اب بابا عبدالقادر بخش کے مزار اقدس کے تعمیر ہو جانے پر ہی جا کر ٹوٹے گی اور بابا جی کی سات نسلیں اسی فیضان کے سہارے ”ویہلے“ مطلب فارغ البالی کا مزہ چکھتے ہوئے گزر بسر کریں گی۔
بلوچستان کے عبدالقادر بخش جب سے روحانی یاترا کر کے وطن پہنچے ہیں ان کے در پر دم درود کروانے والوں، زیارت کرنے والے زائرین، نذرانے نذر کرنے والے معتقدین اور ان کے ضعیف و ناتواں ہاتھوں کی ”پپیاں“ لینے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے اور لوگ جوق در جوق اپنے من کی مرادیں پانے کے لئے پہنچ رہے ہیں۔
ویڈیو کی صورت میں ڈاکٹر عفان قیصر نے اپنا حصہ ڈال دیا ہے اور ”ابتدائی پرومو“ کے طور پر ویڈیو میں ایسا بہت کچھ بتا دیا ہے جس کے متعلق شاید اس معصوم سے بابے کے فرشتوں کو بھی خبر نہ ہو، بابا جی کو تو خیر کیا پتا ہونا ہے۔
عجیب بات نہیں ہے کہ ہمیں بلوچستان کے اس ضعیف و ناتواں بابے کے حلیے میں صحابہ کی جھلک تو دکھائی دے گئی جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا تک نہیں ہے صرف پڑھا ہے مگر حیرت ہے کہ اس بابے کے حلیے میں چھپی ہوئی غربت، کسمپرسی، بے بسی اور معاشی تقاضوں کے آگے بے بس ہونے اور لمحہ بہ لمحہ سفر کے انمٹ نقوش یا داستان جو ان کے چہرے کی جھریوں میں صاف دکھائی دے رہے تھے وہ کسی کو نظر کیوں نہیں آئے؟
جن صعوبتوں سے گزر کے وہ حرم مقدس میں پہنچا ہے کیا ہمارے معاشرے یا خداوند ان نظام کے اوپر ایک سوالیہ نشان نہیں ہے؟
آپ اپنی سرزمین کی طرز زندگی اور یورپ کی طرز زندگی کا موازنہ کر کے دیکھ لیں ساری صورتحال واضح ہو جائے گی بلکہ حقیقت جان کر سر شرم سے جھک جائے گا کہ ہم اکیسویں صدی میں غاروں کی سی زندگیاں بسر کر رہے ہیں۔ جہاں اشیائے خوردنی سے لے کر انسانی تعلقات تک حتی کہ افکار تک خالص دستیاب نہیں رہے۔
ہر طرف ملاوٹ کا راج ہے یہاں تک کے خود کو مقبول عام بنانے کے لیے یا دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے بھی مذہبی ٹچ ناگزیر ہو چلا ہے، جی اسی مذہب کی بات ہو رہی ہے جو ہر ایک کا اپنا اپنا ہے اور نجانے کتنے ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکا ہے، ذرا تصور تو کریں ایسے معاشرے کا کہ جہاں ”دو نمبری“ تک کے لیے بھی مذہب کی ضرورت پڑتی ہو آ خر اس معاشرے کی فکری سطح کیا ہوگی؟
پھر ایسے معاشروں میں لوگ ”اوتار“ ہونے کا دعوی کیوں نہ کریں گے؟
اس کے علاوہ ان کے پاس شارٹ کٹ کامیابی کا آپشن کیا ہو سکتا ہے جسے تھام کر وہ کسی نا کسی طرح سے اپنے دکھوں کا مداوا کر سکیں؟
عبدالقادر بخش کی عمر کے لوگ یورپ کی آب و ہوا میں بالکل فٹ نظر آتے ہیں، میری ایسے بہت سے لوگوں سے آشنائی ہے جو امریکہ، فرانس، انگلینڈ اور کینیڈا میں بھرپور اور مہم جویانہ طرز کی زندگی جی رہے ہیں جب کہ ہمارے بابے جیسے ہی عمر کے اس پڑاؤ میں پہنچتے ہیں عبرت کا نشان لگنے لگتے ہیں۔
عبدالقادر بخش مری تمام تر سادگی کے باوجود، ظاہر ہے جو اس کی خود کی چوائس بالکل نہ ہوتی اگر اسے وہ تمام وسائل میسر ہوتے جو بنیادی انسانی زندگی کا لازم و ملزوم ہوتے ہیں، وہ اس غیر مساوی معاشرے کا حقیقی چہرہ ہے جسے عبادت کی ادائیگی کے لئے اپنا مختصر سا اثاثہ زندگی بھی دان کرنا پڑا تاکہ وہ مذہبی فریضہ ادا کرسکے۔
یہ سب ”اوتاری حربے“ غربت کا شاخسانہ ہوتے ہیں اور یہ تقدسی لبادے ہر اس معاشرے کا خاصہ بن جاتے ہیں جہاں غربت، تنگدستی اور بھوک کا راج ہوتا ہے۔ غربت میں گھرے اور رذیل ترین سطح کی زندگی گزارتے لوگ اوتار بن کے غربت کے بھنور سے نکلنے کی کوششیں کرنے لگتے ہیں۔
یاد رکھیں بھوک تمام تقدسی پیمانوں سے اوپر ہوتی ہے اور حس لطافت کا تیا پانچہ کر کے رکھ دیتی ہے۔ سوچتا ہوں کہ آخر اتنے سارے اسلامی ممالک میں نجانے کیوں اس قسم کے ”برگزیدہ“ نہیں پائے جاتے جن کی ہمارے ہاں بھرمار رہتی ہے؟ ایسے مقدس مقامات پر اس قسم کے اوتاروں کا ظہور کیوں نہیں ہوتا جو ہمارے ہاں سینکڑوں کے حساب سے پائے جاتے ہیں؟ جو مہاتماؤں کی محبت کے اس حد تک اسیر ہو جاتے ہیں کہ خواب میں بھی انہیں بزرگ ہستیاں ان کے مہاتما کے کردار کی تصدیق کرنے لگتی ہیں؟
ہمارے جیسی نابغہ روزگار ہستیاں جن کا مذہب ہمیشہ خطرے میں رہتا ہے اور کسی کی ذرا سی تنقید سے ہچکولے کھانے لگتا ہے آ خر ایسے مقدس مقامات پر کیوں نہیں پائی جاتیں؟
کیا ہم یہ سمجھیں کہ عرب کے لوگ مذہب کے متعلق اس درد یا تڑپ سے ناآشنا ہیں جس کا ہمیں حتمی گیان حاصل ہو چکا ہے؟ ابھی ہمارے معاشرے کو شعور کی اس سطح تک پہنچنے میں شاید صدیاں لگیں گی کہ ”ہم جو خیرات کے نام پر مذہبی طبقوں کو اکثر و بیشتر نوازتے رہتے ہیں سوچنا ہو گا کہ اس خیراتی رقم کے اصل بینیفیشری کون ہیں اور کن کے دھندے چل رہے ہیں؟

