نامور صحافی انجم ہیرلڈ گل کا زندگی نامہ
زندگی میں دو صحافیوں کی موت نے کئی دن تک افسردہ کیا۔ ویسے تو ہر انسان کی موت افسردہ کرتی ہے، لیکن ایسے شخص کی موت سے آپ کو کیا دکھ جس سے آپ کبھی ملے نہ ہوں، کوئی رشتہ، تعلق اور رابطہ نہ ہو ان کی موت دلی طور پر افسردہ کرے تو وہ انسان واقعی ہی کوئی خاص ہوتا ہے۔ صحافیوں سے ویسے بھی ایک الگ رومانس ہے، گزشتہ سال ارشد شریف کے قتل کی خبر نے جہاں پورے ملک کو سوگوار کیا وہاں میں بھی بہت دکھی ہوا۔ اس مرتبہ بھی واٹس ایپ پر 24 اپریل کی شام، امریکہ سے جناب طاہر محمود چوہدری نے رپورٹ بھیجی جس کا عنوان تھا۔
”معروف پاکستانی صحافی انجم ہیرلڈ گل امریکہ میں انتقال کر گئے۔“
پہلے تو میں نے اس خبر کو روایتی اندازہ میں دیکھ کر نظر انداز کر دیا لیکن رات میں فیس بک پر معروف صحافی جناب مبشر علی زیدی کی یہ پوسٹ دیکھی۔
”عین عید کی صبح، جب امریکی مسلمان نماز پڑھ رہے ہوں گے، میں میری لینڈ کے ہولی کراس اسپتال کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔ میں نے بھابھی کو کال کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے فون نہیں اٹھایا۔ استقبالیے پر موجود لڑکی کو میں نے پیشنٹ کا نام بتا کر کمرہ نمبر پوچھا۔ اس نے ایک اسٹیکر پرنٹ کر کے میری شرٹ پر چپکایا اور آئی سی یو کی راہ دکھائی۔ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل ہونا، چاہے آپ مریض ہوں، یا تیمار دار، کبھی اچھا نہیں ہوتا۔
میں کئی راہداریوں میں گھوم کر انیس نمبر کے کمرے میں پہنچا تو دھک سے رہ گیا۔ یہ تو معلوم تھا کہ ہمارے دوست انجم ہیرلڈ گل پھیپھڑے کے کینسر میں مبتلا تھے اور آکسیجن لگی ہوگی لیکن ان کا حال دیکھا نہ گیا۔ ابھی چند دن پہلے تک مضبوط جسم والا ہنس مکھ شخص بستر پر بے ہوش پڑا تھا۔ آنکھیں تھوڑی سی کھلی ہوئی تھیں۔ ناک اور منہ میں نلکیاں لگی تھیں۔ بدن پر تاریں لپٹی تھیں۔ ایک مشین بگڑے ہوئے دل کی کیفیت بتا رہی ہے۔
میرے حواس قابو میں آئے تو کمرے میں ایک خاتون نظر آئیں۔ میں نے اپنا تعارف کروایا تو انھوں نے بتایا کہ وہ انجم کی بہن ہیں۔ کینیڈا سے آئی ہوئی ہیں۔ جب انھوں نے کہا کہ انجم میرا اکلوتا بھائی ہے تو میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ رونے لگیں۔ میری سمجھ میں نہ آیا کہ انھیں کیسے تسلی دوں۔ میں نے زندگی میں لاکھوں الفاظ لکھے ہوں گے۔ اس وقت کوئی لفظ یاد نہیں آیا۔ میں بستر کے قریب گیا تو بہن نے کہا، انجم بول نہیں سکتے لیکن سن سکتے ہیں۔
لیکن وہ گہری غنودگی میں تھے۔ ان کے منہ میں اتنی موٹی نلکی لگی تھی کہ اگر وہ ہوش میں ہوتے اور چاہتے بھی تو نہ بول پاتے۔ میں دس منٹ بھی اس کمرے میں کھڑا نہ رہ سکا۔ ہم نے کئی سال ایک دفتر میں ساتھ گزارے تھے۔ آٹھ گھنٹے آمنے سامنے بیٹھتے تھے۔ دوپہر کا کھانا ساتھ کھاتے تھے۔ دو بار ورزش کی تہمت کے لیے دو بلاک چہل قدمی کرتے تھے۔ ایسے پکے یار تھے کہ نوکری سے بھی ایک ہی دن نکالے گئے۔ میں نے فون پر بھابھی سے پوچھا تھا کہ انجم کو کیا ہوا؟
انھوں نے بتایا کہ سانس لینے میں دشواری تھی۔ ابتدائی تشخیص نمونیے کی تھی۔ لیکن مزید ٹیسٹ کروائے تو آخری مرحلے کا کینسر ظاہر ہوا۔ اس کے بعد انجم نے ہاتھ پاؤں چھوڑ دیے۔ کینسر کسی اور مقام پر ہو تو بڑھتے بڑھتے پھیپھڑوں تک پہنچتا ہے اور تب انسان موت کے شکنجے میں جکڑا جاتا ہے۔ انجم کو تو معلوم ہی تب ہوا جب کینسر نے آخری وار کیا۔ کمرے سے نکلتے ہوئے میں جانتا تھا کہ وہ آخری ملاقات تھی۔ بے شک میں نے کہا تھا کہ ان شااللہ انجم بالکل ٹھیک ہوجائیں گے اور بہن نے بھی کہا کہ خداوند مسیح انھیں صحت دیں گے۔ لیکن ہم دونوں اندر سے ڈرے ہوئے تھے اور سچائی کا سامنا کرنے سے گھبرا رہے تھے۔ میری کوئی عید اس سے زیادہ خراب نہیں گزری۔
ابھی اطلاع ملی ہے کہ انجم کا انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر پچپن چھپن سال ہوگی۔ وہ امریکا میں اوسط عمر سے بیس سال پہلے چلے گئے۔ جرنلزم ہم صحافیوں کی زندگی ہوتی ہے۔ لکھنے پڑھنے کی مشقت ہماری عمر بڑھاتی ہے۔ ہم نیوز روم میں زندہ رہتے ہیں۔ وائس آف امریکا کے نیوز روم میں جاکر دیکھیں، وہاں پچھتر، اسی اور پچاسی سال کے صحافی آج بھی کام کر رہے ہیں۔ یہ رزق چھن جانے سے ہماری زندگی گھٹ جاتی ہے۔
ڈیڑھ دو سال پہلے ہم سے ہماری زندگی چھینی گئی تھی۔ ابھی دو ماہ پہلے نیوز روم میں واپسی نے مجھے ڈوبنے سے بچایا۔ میں سروائیو کر گیا۔ انجم کو لائف لائن نہیں مل سکی۔ ایک محروم صحافی مرحوم ہو گیا۔ میں اپنی بیروزگاری بھول سکتا ہوں لیکن ان کی ملازمت ختم کرنے والے کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔ اس نے صرف معاشی قتل نہیں کیا، انجم کا جسمانی قتل بھی کیا۔ جب تک سفاک لوگ نیوز روم کے مالک رہیں گے، صحافی اسی طرح قتل ہوتے رہیں گے۔ ”
اس خبر نے میرے اندر ایک ایسی آگ اور اداسی کو جنم دیا کہ میں ساری رات نہ سو سکا۔ ایک عجیب، انجان اور غیر معمولی افسردگی، میں مبشر علی زیدی صاحب سے فیس بک پر کئی سالوں سے فرینڈ ہوں لیکن بہت کم ان سے مسینجر پر بات ہوئی۔ میں نے انہیں میسیج کیا اور کہا کہ میں انجم ہیرلڈ گل پر مضمون لکھنا چاہتا ہوں، آپ مجھے ان کے متعلق معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مجھے سینئر صحافی حیدر جاوید سید صاحب کا بتا یا جو انجم گل صاحب کے پاکستان میں اچھے دوست رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے مجھے جناب اصفر امام کا وٹس ایپ نمبر دیا جو واشنگٹن میں رہتے ہیں۔
24 اپریل کی رات کو میں سو نہ سکا، رات بھر یہ سوچتا رہا کہ، میں ایک ایسے شخص کے لئے کیوں پریشان ہوں جس سے نہ میرا کوئی رشتہ اور نہ کوئی رابطہ تھا۔ فیس بک اور گوگل پر ان کے بارے میں مزید سرچ کرتا گیا تو ان کے بارے میں بہت سارے صحافی دوستوں کی پوسٹس دیکھتیں تو اندازہ ہوا کہ انجم گل ایک عام اور معمولی انسان اور صحافی نہیں تھا۔ مجھے اندازہ ہے کہ پاکستان میں ایک پنجابی بیک گراؤنڈ کے دیسی مسیحی کا آج سے 30، 35 پہلے صحافت کا شعبہ اختیار کرنا ہمارے معاشرے اور کمیونٹی کے لئے کوئی معمولی بات نہیں، بے شک پاکستانی مسیحیوں کی دیگر شعبوں میں گراں قدر خدمات ہیں لیکن صحافت اور لکھنے کے میدان میں بہت کم لوگوں نے اچھے اور نامور اداروں میں کام کیا ہے۔
یوں میری دلچسپی انجم گل صاحب کی زندگی کے بارے میں بڑھی اور میرے تجسس نے مجھے مختلف لوگوں سے ان کے بارے میں جاننے کا موقع دیا۔
میں نے سینیئرمسیحی صحافی عمانوایل سرفراز کو فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ انجم گل ان کے بہت ہی پیارے دوست تھے۔ جب وہ کالج میں پڑھتے تھے تو انجم گل بڑے اخبارات میں رپورٹنگ کرتے تھے۔ انہوں نے پاکستان ٹائمز، ڈان، دی نیوز، ڈیلی ٹائمز اور وائس آف امریکہ میں کام کیا۔ خدا ان کی روح کو ابدی سکون میں رکھے اور ان کے اہل خانہ کو یہ ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔
نامور صحافی طاہر سرور میر نے لکھا
”انجم گل سے میرا بانڈ گجرانوالہ سے تھا لیکن وہ جگر لاہور آ کر بنا تھا، گجرانوالہ، لاہور اور واشنگٹن میں بھی ملتے رہے، سانولی رنگت میں اتنا وجیہہ مرد نہیں دیکھا، 6 فٹ سے زیادہ لمبا قد، ستواں ناک اور پنجابی وارئیر کی طرح بل کھاتی مونچھیں اسے کوئی اساطیری کردار بنائے رکھتی تھیں۔ اس کی موٹی گہری آنکھیں اور پنجابی، اردو انگریزی بولتا، میرا جگر انجم ہیرالڈ گل پردیس مٹی میں دفن کر دیا گیا!
اس کا کھنکتا ہوا زندگی سے بھرا قہقہہ کانوں میں گونج رہا ہے۔
یہ بھی زندگی کا ایک شیڈ ہے، اداس اور غمزدہ کر دینے والا رنگ،
آج انجم کی موت سے دل کے قبرستان میں ایک اور قبر بن گئی ہے! ”
امین راجپوت نے لکھا۔
”اصفر امام نے بتایا تھا کہ انجم گل تو اپنے قدموں پر چل کر اسپتال گیا تھا کہ ایم آر آئی کروا سکیں۔ آہ انجم! ہم دونوں پہلی بار اس وقت ملے جب لاہور پریس کلب دیال سنگھ مینشن میں تھا۔ اس کے قہقہے بار بار ذہن میں آ رہے ہیں۔ الوداع انجم۔ ابدی سکون کے ساتھ۔“
بقول مبشر علی زیدی
”ہمارے پیارے دوست انجم گل مرحوم کا زندگی نامہ“ ۔
آخر میں ہم سب کہانیاں بن جاتے ہیں۔
یہ مضمون اس حوالے سے کافی طویل ہو گا۔
آئیے آنجہانی انجم ہیرلڈ گل کی زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
انجم ہیرلڈ گل 1964 کو کراچی، ہولی فیملی ہسپتال میں اشرف مسیح اور خورشید گل کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کا تعلق گوجرانوالہ کی ایک بڑی مسیحی برادری سے تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سینٹ جوزف سکول گوجرانوالہ سے حاصل کی۔ پھر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے صحافت میں گریجویشن کیا۔
انہوں نے مختلف نیوز رپورٹنگ ایجنسیوں میں، مثلاً فرنٹیئر پوسٹ، ڈان نیوز، پاکستان ٹائمز، دی نیوز، سمہ ٹی وی میں بطور صحافی اپنی خدمات سرانجام دیں۔
2009 میں، انہوں نے اپنی محبوبہ فلورا سے شادی کی۔ 2010 میں وہ اپنی اہلیہ فلورا کے ساتھ امریکہ ہجرت کر گئے۔ وہ سلور اسپرنگ، میری لینڈ میں آباد ہوئے اور وائس آف امریکہ کی اردو سروس کے لیے بطور رپورٹر، براڈکاسٹر اور ایڈیٹر کام کیا۔ کوویڈ نے جب گھر سے کام کرنے پر مجبور کیا تو انہوں نے ویب پیج اردو سروس پر کام کیا۔
انجم گل کھیلوں کے شوقین تھے۔ کرکٹ، فٹ بال، ہاکی، ٹینس اور ریسلنگ دیکھنا پسند کرتے تھے۔ وہ کلاسیکی موسیقی کے دلدادہ تھے اور غزلیں سننا پسند کرتے تھے۔ اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی میں ادب پڑھنا بھی ان کا بہترین شوق تھا۔ پنجابی، اردو اور انگریزی جیسی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ وہ بہت ہی سماجی اور باصلاحیت انسان تھے۔ ان کے پاس اسکول کے دنوں، کالج کی زندگی اور کام کی جگہ سے دوستوں کا ایک بڑا وسیع نیٹ ورک تھا۔
انہوں نے دنیا بھر میں اپنے تمام خاندانی رشتہ داروں سے روابط رکھے، چاہے وہ پاکستان، ہائی لینڈ، انگلینڈ، کینیڈا اور نیویارک میں ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کی بیوی فلورا نے آخری ایام تک ان کا بہت خیال رکھا۔ اس کے علاوہ ان کی بہن جو کینیڈا میں مقیم تھیں ان کی دیکھ بھال کی۔ ان کی مسیحی جنازے کی رسومات 28 اپریل 2023 کو فرسٹ انڈین یونائیٹڈ میتھوڈسٹ چرچ میں ادا کی گئیں۔
نیویارک سے طاہر محمود چودھری نے بتایا کہ
امریکی ریاست میری لینڈ کے ہولی کراس ہسپتال میں معروف پاکستانی امریکی سینئر صحافی انجم ہیرلڈ گل پھیپھڑوں کے کینسر کے باعث انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 59 برس تھی۔ وہ پاکستان کے شہر گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے انجم ہیرلڈ گل نے 90 ء کی دہائی میں لاہور سے شائع ہونے والے انگریزی اخبارات سے اپنی صحافت کا آغاز کیا تھا۔ ابتداء میں وہ ”دی فرنٹیئر پوسٹ“ سے منسلک رہے۔ بعد ازاں انہوں نے ”دی نیوز“ ، ”ڈیلی ٹائمز“ سمیت کئی انگریزی اخبارات کے لیے کام کیا۔ لاہور پریس کلب کے وہ کئی سال تک ایک متحرک اور فعال رکن رہے۔ کئی سال پہلے وہ لاہور سے امریکی ریاست میری لینڈ میں منتقل ہو گئے تھے۔ جہاں قیام کے دوران انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں کئی برس تک وائس آف امریکہ کے لیے بھی کام کیا۔
جناب مقبول ملک نے بون، جرمنی سے 23 اپریل، 2023 کو یہ تحریر لکھی۔
”منڈیر تک ریت سے بھر جانے والا میٹھے پانی کا کنواں“
پینتیس چھتیس سال پہلے کے لاہور میں مال روڈ پر دیال سنگھ مینشن میں قائم پرانے لاہور پریس کلب سے شروع ہو کر شملہ پہاڑی منتقل ہو جانے والے نئے لاہور پریس کلب میں پروان چڑھنے والی، پیشہ ور صحافیوں کے طور پر جوانی میں بہت قریبی اور باہمی احترام پر مبنی، سیاسی اور صحافتی بحثوں، ہنسی مذاق، لطیفوں، اکٹھے پیئے گئے بیشمار سگریٹوں اور چائے کے کپوں سے لے کر مل کر کھائے گئے ان گنت کھانوں کے ماحول میں کئی برسوں میں لاتعداد خوبصورت یادوں کی وجہ بننے والی دوستی، جس میں تیس سال پہلے ملک، معاشرے اور براعظم بدل جانے سے بھی کوئی کمی نہ آئی؛ آج اسی دوستی کے سفر میں واشنگٹن ڈی سی سے اطلاع ملی کہ انجم ہیرالڈ گل کا انتقال ہو گیا ہے۔
برسوں کی دوستی، خوشیوں اور قہقہوں کے (بظاہر طبعی) انجام پر یک دم چھلک جانے والے چند آنسو! یہ ویسے اس رشتے کی آبیاری کے لیے کی گئی محنت اور محبت کا کوئی مناسب معاوضہ تو نہیں۔ لیکن زندگی کسی بھی انسان کو کسی بھی کام کی تکمیل یا رشتے کی پرورش کا ویسا، وہیں پر اور اتنا ہی معاوضہ ادا کرنے کی عادی تو ہے ہی نہیں جتنا وہ جہاں اور جیسا بنتا ہے۔ رشتے خون کے ہوں یا دل کے، ان میں بندھے کسی بھی دو انسانوں میں سے ایک کو موت چھین لے جائے، تو جو کچھ باقی بچتا ہے، وہ ویسا ہی ہوتا ہے جیسے میٹھے پانی کا کوئی کنواں اپنی منڈیر تک یک دم ریت سے بھر جائے۔
یہی کنواں برسوں تک پینے والوں کو دن رات میٹھا پانی دیتا رہا تھا، نہ تو اس سچ سے کوئی انکار ممکن ہے اور نہ ہی اس کی وجہ سے جنم لینے والی بیشمار خوبصورت یادوں سے۔ لیکن دل میں سوئی کی طرح چبھنے والے اس درد سے انکار بھی تو ممکن نہیں کہ اس کنویں کا سارا میٹھا پانی اسے یکایک منڈیر تک بھر دینے والی ریت چوس گئی۔
ریت کنویں کا سارا پانی پی جائے یا ہمیشہ سے بھوکی موت کہیں نہ کہیں پھر کوئی زندگی نگل جائے، یہ دونوں ہی بہت تکلیف دہ باتیں ہیں۔ لیکن یہ دونوں ہی عمل چاہے جتنے بھی اٹل اور مستقل رونما ہونے والے کیوں نہ ہوں، یہ اتنے طاقت ور نہیں ہوتے کہ خشک کنویں سے اس کا میٹھے پانی والا ماضی چھین سکیں یا موت یہ ثابت کر سکے کہ طبعی خاتمے کی صورت میں وہ جس رشتے یا جس زندگی کو نگل گئی وہ بہت سوں کا عمر بھر کا اثاثہ نہیں تھا۔
انجم گل! بہت سال پہلے آپ سے بات ہوتی تھی تو ہم لاہور میں ایک ہی میز پر آمنے سامنے بیٹھے یا لاہور پریس کلب میں دیگر دوستوں کے ساتھ ایک دوسرے کے پاس ہی کھڑے ہوتے تھے۔ پھر یہ گفتگو جرمنی اور پاکستان کے درمیان ہونے لگی تھی۔ اس کے بعد دہائیوں کا لبادہ پہن لینے والے پچھلے بہت سے برسوں سے یہی مکالمت جرمنی اور امریکہ کے درمیان ہوتی رہی تھی۔ شہر، ملک اور براعظم تک بدل جانے سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ اب دنیا بدل جانے سے بھی بھلا کیا فرق پڑ سکتا ہے، گل صاحب؟ ملتے ہیں پھر! ”
میں نے اس تحریر پر ان کو میسج کیا جس پر انہوں نے جواب دیا۔
”بڑی نوازش، ایاز مورس صاحب! شکریہ۔ انجم گل ایک بہت پیارے، پرانے اور قیمتی دوست تھے۔ ان کے لیے بہت سی دعائیں۔ آپ نے یہ میسج کیا، آپ کا بھی بہت شکریہ۔ میری ان سے اکثر بات ہوتی تھی۔ میرے پاس ان کا نمبر بھی ہے، جو میں ان کی اجازت کے بغیر کسی کو بھی نہ دیتا۔ جہاں تک انجم گل کی بات ہے تو وہ اتنے ہی اچھے انسان، صحافی اور پاکستانی تھے جتنے کہ شاید ہم ہو سکتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ آج کل انسانوں کا اچھا انسان ہونا مفقود ہو گیا ہے۔ آپ کے لیے شکریے کے ساتھ دعائیں اور نیک خواہشات۔ میرے لیے انجم گل کی اس دنیا سے رخصتی کے ساتھ سب سے بڑا نقصان وہی ہے جو اس تحریر کی سرخی ہے
”میٹھے پانی کا وہ کنواں جو اپنی منڈیر تک ریت سے بھر گیا ہے۔“
محمد نواز طاہر نے عمدہ تحریر لکھی۔
”آہ! انجم پیرالڈ گل۔ گوجرانوالیا، پھر لاہوریا، پھر امریکی اور اب آنجہانی“
”
انجم گل صاحب کی زندگی کے بارے میں ابھی بے شمار باتیں ہیں جو لکھی جائیں گی۔ میں فیس بک لائیو سے جنازے کی رسومات دیکھ رہا تھا
اور سوچ رہا تھا کہ ان سے بہت سارے سوال پوچھنے تھے،
شاید کچھ لوگوں کی پراسرار زندگی ہی ان کی خوبصورتی ہوتی ہے۔
انجم گل کی تصویر دیکھ ان کی آنکھوں میں زندگی نظر آتی ہے،
یہ زندگی کی رونق ہی تھی جو ان کے دوستوں کے الفاظ اور رویے سے عیاں ہوتی ہے۔
ایک کہاوت ہے کہ اگر کسی کو جاننا ہے تو اس کے دوستوں کو جان لو، ۔
انجم گل کے بارے میں ان کے ساتھیوں، دوستوں اور سینئرز کی رائے پڑھ کر احساس ہوا کہ وہ واقعی ایک دلچسپ اور زندہ دل انسان تھے جنہوں معاشرتی اور سماجی منفی رویوں کو اپنے مثبت رویے سے متاثر نہ ہونے دیا۔ انجم ہیرلڈ گل صاحب ہم آپ کو خدا حافظ کہتے ہیں اور آپ کی خدمات، انسان دوستی اور عظمت کو سلام کہتے ہیں۔
آپ اپنے دوستوں اور چاہنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔






