جدید دور میں فلسفے کا مقام
میرے دیرینہ دوست واقف ہیں کہ مجھے فلسفے سے شدید دلچسپی رہی ہے اور ایک عرصہ تک فلسفیانہ گفتگو میری پسندیدہ ترین گفتگو رہی ہے۔ میں نے فزکس جیسے مشکل مضمون کا انتخاب بھی شاید فزکس کے فلسفے سے متاثر ہو کر کیا تھا۔ اگرچہ میرے دیگر ہم جماعتوں کے برعکس میرے پاس کسی بھی پروفیشنل ڈگری یا انجینئرنگ کے آپشن کافی حد تک کھلے تھے لیکن مجھے فطرت کے اسرار و رموز کھوجنے میں سائنسی طریقہ کار نے اوائل عمر ہی میں بہت متاثر کیا۔ لیکن فزکس کی پیچیدہ تہوں میں چھپے مشکل مراحل اور ریاضیاتی دشواریوں کو عبور کرنے میں اک عمر لگتی ہے اس لئے یہ سفر ابھی تلک جاری ہے۔
اس سفر میں سب سے زیادہ جس چیز نے متاثر کیا وہ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت اور پلانک و بوہر وغیرہ کا کوانٹم نظریہ ہے جو کہ جدید فزکس کے بنیادی کام ہیں۔ ہائزنبرگ کی کتاب ”فزکس اور فلسفہ“ کے مطالعے اور آئن سٹائن کے تصور زمان پر ہونے والی فلسفیانہ گفتگو نے مجھے مغربی و مشرقی دونوں قسم کے فلسفے کو پڑھنے کا موقع دیا۔ اور یہی وجہ ہے کہ میری گفتگو یا لیکچرز میں اکثر فزکس کی ریاضیاتی بحث سے زیادہ اس کی فلسفیانہ تشریح غالب موضوع رہی ہے۔ اور وقت کے ساتھ یہی میری پہچان بھی بنتی گئی ہے۔
ایک وقت میں میرا یہ عقیدہ بن چکا تھا کہ سائنس کو فلسفے سے مدد لینا چاہیے اور یہ کہ فلسفہ ہمیشہ سائنس سے دو قدم آگے چلتا ہے اور کہ سائنس جزویات جبکہ فلسفہ جامع حقائق کا نام ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اب گزشتہ کچھ عرصے سے (شاید امریکی جامعات کے ماحول اور اساتذہ کے زیر اثر) میرا فکری رجحان سائنس کی اولیت و جامعیت کی طرف ہوتا جا رہا ہے۔ مجھے فلسفے کی تمام تر بحثیں بیکار نہیں تو غیر متعلقہ ضرور محسوس ہونے لگی ہیں۔ خاص طور سے مادی دنیا کے بارے قدیم و جدید اور مشرقی و مغربی فلسفہ نہایت غریب اور لاچار دکھائی دیتا ہے۔
خصوصی طور پر جو لوگ اسلام اور سائنس یا اسلام اور فلسفہ کے موضوعات پر لکھتے یا بات کرتے ہیں اور کسی نہ کسی طرح مذہبی فلسفے یا علم کلام کو سائنس سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، سب سے زیادہ غریب الدیار اور ہیجان زدہ نظر آتے ہیں۔ ایک دسویں جماعت کا فزکس یا کیمسٹری کا طالبعلم، بڑے بڑے علماء سے زیادہ عقلمند دکھائی پڑتا ہے کیونکہ ان علماء نے سوائے اصطلاحات کے ڈھیر اور اسلاف کی نقل کے کچھ اور نہیں سیکھا۔ اسلاف شاید اپنے دور کے علوم میں ماہر تھے یہ لوگ تو اپنے دور کے علوم سے بھی کوسوں دور ہیں۔ مدارس میں ایساغوجی اور فیثاغورس و اقلیدس و ارسطو کے حساب و طبیعات و منطق سے آگے نہیں چل پا رہے۔ آپ اکثر کبھی بریلویوں کے علماء کو دیکھیں تو وہ زمین کو ساکن کہتے نظر آتے ہیں تو کبھی کرامات سے مزین کہانیاں سننے کو ملیں گی۔ کوئی بلیک ہول سے جہنم اور براق سے نظریہ اضافیت کو ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔
جسے اسلامی فلسفہ کہا جا رہا ہے وہ تصوف کی صحافت ہے، صوفیا کی قلبی وارداتوں کو منطق کے لفافے میں لپیٹ کر عوام کے لئے قابل قبول بنانے کی کوشش ہے۔ چونکہ تصوف جہل مرکب ہے اسی لئے نام نہاد اسلامی فلسفہ سائنس کی ہر بات کے الٹ چلتا ہے۔ جو اس پر مزید تفصیل جاننا چاہے وہ علامہ طباطبائی کی کتاب بدایۃ الحکمہ دیکھ لے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ اسلام کے دور زوال میں ایسی آوازیں زیادہ بلند نظر آتی ہیں۔ سو سال پہلے تک اسلامی فلسفہ نام کی کوئی اصطلاح نہیں تھی۔
سب جانتے تھے کہ مسلمانوں کا لکھا فلسفہ اسی یونانی فلسفے کی شرح ہے۔ غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی فلسفے کی اصطلاح یا اس موضوع پر کتابیں لکھنے کا رواج بھی مستشرقین کی آمد کے بعد ہوا ہے۔ اب جدید تعلیمی اداروں میں تاریخ علم سے ناواقف نوجوان بچوں کو اسلام کے نام پر بلیک میل کر کے ان کے ماہ و سال انہی فرسودہ تخیلات میں ضائع کرائے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب میرے مارکسی دوست ہیں جن کے ساتھ میں نے ہیگل کی جدلیات اور پھر انگلز کی فطرت کی جدلیات اور سائنسی سوشلزم اور جدید فزکس پر مارکسی تنقید وغیرہ جیسے عجیب و غریب موضوعات پر بحث و مباحثہ کیا، وہ سب ایمانیات تو نہیں لیکن عقل کو کسی مابعد الطبیعیاتی مقام پر فائز کر کے فطرت و سماج کو ایک ہی فلسفے سے ہانکنے کی کوشش کرتے پائے گئے ہیں۔ اس کے پیچھے بھی دراصل وہی مسئلہ ہے جو ایمانیات کو سائنس پر فوقیت دینے والوں کا ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ یہ لوگ مارکس کو پیمبر نہیں کہتے اور سائنس کی نفی نہیں کرتے بلکہ اس کو اپنے رنگ میں رنگنے کی بات کرتے ہیں۔
اگر غور کیا جائے تو فلسفے کا کام اب صرف اور صرف سائنس کی صحافت کا رہ گیا ہے۔ میں نے اب تک جتنے بھی فزکس کے میدان میں کام کرنے والے ماہرین کو دیکھا یا سنا ہے یا ان سے گفتگو کی ہے، کسی نے بھی ایسا تاثر نہیں دیا کہ انہیں کبھی فزکس کی اپنی ڈومین سے نکل کر کسی خالص فلسفی یا منطقی ماہر کی ضرورت پڑی ہو۔ بلکہ اکثر شعبہ فلسفہ کے ہاں یہ رجحان بڑھتے ہوئے دیکھا ہے کہ وہ اب ان سوالات اور مباحث کی طرف جا رہے ہیں جو سائنس کے جدید نظریات اور تشریحات سے جنم لیتے ہیں۔
حتیٰ کہ جو لوگ فلسفے یا مذہب کی سائنس پر برتری ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ بھی انہی موضوعات کو زیر بحث لا رہے ہوتے ہیں جو سائنس کے بطن سے پیدا ہوتے ہیں۔ یوں سائنس نے تو فلسفے کی کافی خدمت کی ہے کہ فلسفیوں کی نوکریوں کو بچانے کے لئے نت نئے موضوعات مہیا کر دیے ہیں لیکن اس کے برعکس ایک بھی ایسا موقع دیکھنے کو نہیں ملا کہ کسی خالص فلسفیانہ نکتے نے سائنس کو نئے موضوعات یا سمت عطا کی ہو (ہاں سائنس کی بنیادوں میں جو فلسفیانہ عقائد موجود ہیں وہ بھی شاید پانچ صدی پرانے ہیں اور ان کی بھی شکل کافی حد تک تبدیل ہو چکی ہے ) ۔
ایک مغالطہ سوشل سائنس کو سافٹ سائنس کہنے کا بھی ہے۔ سافٹ سائنس کی اصطلاح اس قدر سافٹ ہے کہ اس کو جتنا چاہیں کھینچ لیں۔ یہ آپ کے اندازے کے مطابق ڈھل جاتی ہے۔ میرا مشاہدہ ہے کہ ان مضامین میں تحقیق کرنے والوں کی میتھڈالوجی نیچرل سائنس والوں سے یکسر مختلف ہے۔ سائنسی طریقہ کے پہلے دو مراحل یعنی مفروضہ اور مشاہدہ تک تو یہ ٹھیک جاتے ہیں لیکن اگلے تین مراحل یعنی نظریہ، پیش گوئی اور تجربہ کرنا ان کے لئے محال ہے۔
نظریے کے لئے یہ فلسفہ یا پہلے سے موجود کچھ ماڈلز کا سہارا لیتے ہیں جو ریاضی جیسی قطعیت نہیں رکھتا، اسی لئے ان کی پیش گوئی بھی مبہم رہتی ہے۔ جہاں تک سائنسی تجربے کی بات ہے وہاں تک تو یہ پہنچتے ہی نہیں۔ ان کا تجربہ ایک ایسی شے پر ہے جو جامد نہیں بلکہ سیال ہے یعنی انسان اور انسانی سماج۔ اس لئے سروے کے وقت یا بند کمرے میں کسی سیٹ ایپ کے اندر یا کھنڈرات و تاریخی نقوش وغیرہ سے جو بھی ڈیٹا ان کے پاس آتا ہے وہ biased subjectively ہوتا ہے۔
پھر ان کا سروے یا سیٹ اپ بھی پہلے سے کچھ مفروضات کی بنیاد پر تیار ہوا ہوتا ہے۔ آپ نے ایسے اکثر سروے دیکھے ہوں گے۔ میرا ذاتی مشاہد ہے کہ ایسے سروے جان بوجھ کر ایسے سوالات کی شکل میں ہوتے ہیں کہ سروے کے آخر تک انسان ان کی ہی بنائی بولی بولنے لگتا ہے۔ آخری بات یہ کہ ایک مرتبہ ہو جانے کے بعد والا ”تجربہ“ ویسے ہی حالات میں ہوبہو نتائج نہیں دیتا اور نہ اسے ویسا ہی دہرایا جا سکتا ہے۔
اس لئے سافٹ سائنس، بقول رچرڈ فائن مین، سوڈو سائنس ہے۔ اب تو لوگ سائنس کا لفظ بطور عام ”علم“ کے معنوں میں استعمال کر رہے ہیں بالکل جیسے قرون وسطیٰ میں ہوتا تھا۔ فرق اتنا ہے کہ جدید سائنس کا اس قرون وسطیٰ کی سائنس سے بہت دور کا رشتہ ہے۔ اس سب کے باوجود، میرے خیال میں جتنی تھوڑی بہت سائنسی میتھڈالوجی یہ لوگ استعمال کرتے ہیں، وہ بھی کافی ہے۔ وگرنہ تو لوگ بنا کسی جواز کے نجانے کون کون سے من مانے نظریے گھڑ لیتے تھے۔ اب کم از کم انہیں ایک نیم سائنسی کسوٹی سے تو گزرنا پڑتا ہے۔ وگرنہ آج بھی ہم ابن خلدون کی سماجیات اور عراقی کی نفسیات میں الجھے رہتے۔
قدیم یونان و مصر و ہند وغیرہ میں جدید سائنس تھی ہی نہیں۔ سائنس کبھی فلسفے کی شاگرد نہیں رہی۔ پہلے دور میں بے بس انسان بیچارے افلاطون کی غار کے مانند اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے تھے جنہیں بعد کے لوگوں نے جمع کر کے فلسفہ کہہ دیا۔ جب تک جدید سائنس کی بنیاد نہیں پڑی، انسان کی مادی ترقی میں تیزی نہیں ہو سکی۔ یہ اس بات سے صاف واضح ہے کہ فلسفے کی ہزاروں صدیاں سائنس کی تین صدیوں کے مقابلے میں دنیا کو سمجھنے میں زیادہ کردار ادا نہ کر سکیں۔ یہ ایک غلط فہمی ہے کہ فلسفہ علوم کی ماں ہے۔ فلسفہ علم کا بچپن ہوتا ہے۔ جب علم پختہ ہوتا ہے تو فلسفے سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ جدید تعلیمی نظام میں فلسفہ ماضی کی ایک یادگار کے طور پر باقی ہے۔ جیسے برطانیہ کے سیاسی نظام میں بادشاہت صرف میوزیم میں پڑے ایک مجسمے کا کردار ادا کرتی ہے۔
فلسفے کو ادب کا ہی جزو کہنا چاہیے۔ ادب میں متوازی معنی بلکہ لایعنیت تک کی گنجائش نکل آتی ہے۔ جس طرح ادب میں ہر طرح کی گنجائش ہے ایسے ہی قدیم علماء کے کام کو بھی علوم کے بجائے ادب کے زمرے میں ڈال دینا چاہیے۔ ملا صدرا کی کتاب اسفار کی حیثیت آج کے علوم میں ایک ناول سے زیادہ نہیں ہے۔ بالکل جیسے غالب کے ہاں غیب کے مضامین آتے تھے یونہی ان حکماء کے ہاں بھی نت نئے مضامین غیب سے آتے تھے جنہیں یہ بغیر کسی سائنسی مشاہدے یا پرکھ کے لکھ دیتے تھے۔
بہرحال، جب تک ہم ایمانیات اور علمیات کی تفریق واضح نہیں کریں گے اور یونہی فلسفے اور سائنس کی حیثیت مقرر نہیں کریں گے، ہم ہمیشہ منتشر الخیال اور جہالت سے آلودہ افکار میں الجھ کر ایک دوسرے کے دست و گریباں ہوتے رہیں گے۔ عدل کا تقاضا ہے کہ ہر شے کو اس کے مناسب مقام پر رکھا جائے۔ اگر فلسفے میں اتنی قطعیت اور پرواز ہوتی کہ وہ الہیات کے مسائل حل کر سکتا تو وحی کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟ ایسے ہی اگر کشف و الہام میں اتنی اڑان ہوتی کہ وہ خدا کی معرفت کر سکے تو الہامی کتب کی کیا ضرورت تھی؟
ایسے ہی فلسفہ اور تصوف وغیرہ میں اتنی ہمت ہوتی کہ وہ مادی مظاہر کی وضاحت کر سکتے تو سائنس کی کیا ضرورت تھی؟ اور ایسے ہی مادی سائنس میں اس قدر گنجائش ہوتی کہ وہ سماجی مظاہر یا سرمایہ پرستی کا علاج کر سکتی تو سماجیات کی کیا ضرورت تھی؟ جس کا جہاں مفاد ہوتا ہے وہ وہیں قیاس کے گھوڑے پر سوار ہو کر من مرضی کا نتیجہ کسی بھی مضمون سے نکال لاتا ہے۔ میرا مقصد یہ ہے کہ سائنس کو دیگر فلسفوں یا الہیات و تصوف وغیرہ سے الگ کر کے ”مادی“ مظاہر کی تفہیم کا کام سونپ دینا چاہیے۔ فلسفہ، سائنس کی صحافت اور عوام میں سائنسی شعور پھیلانے کی خدمت سرانجام دے کر اپنی کھوئی ہوئی عزت حاصل کر سکتا ہے۔
محمد علی شہباز
پی ایچ ڈی فزکس سکالر
یونیورسٹی آف نیواڈا رینو، امریکہ


