فلم: جدید علم کا جدید میڈیم


وقت اور حالات کے ساتھ ہمارے رویے اور طور طریقے بدل چکے ہیں چند ہی سال پہلے کی روایات اور عادات ہی بدل چکی ہیں۔ سیکھنے اور سکھانے کے انداز بھی جدید ٹیکنالوجی کی آمد سے بہت تبدیل ہو چکے ہیں۔ چونکہ میرا تعلق تعلیم و تربیت یعنی ٹریننگ اینڈ لرننگ انڈسٹری سے ہے جس میں ہر عمر اور شعبہ سے وابستہ افراد سے واسطہ پڑتا ہے۔ فلم علم کی دنیا میں سیکھنے کا ایک بہترین اور جدید میڈیم ہے۔ میں نے گزشتہ 5 سالوں میں تعلیم، ادب، سیاست، مذہب، زبان، ثقافت، کھیل کے موضوع اور زندگی کے مختلف شعبوں پر مبنی 500 سے زائد فلمیں دیکھی ہیں اور آنے والے پانچ سالوں میں مزید 500 فلمیں دیکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ ان فلموں کے ذریعے میرے سوچنے، چیزوں کو دیکھنے اور پرکھنے کا نظریہ بدلا ہے۔ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل میڈیا نے اس ضمن میں بہت زیادہ ترقی کی ہے۔ ویب سیریز، شارٹ موویز، تخلیقی کہانیوں، پوڈکاسٹ، وی لاگ اور دستاویزی فلموں نے سیکھنے کے نئے طریقے متعارف کروائے ہیں۔

آج کی نئی نسل اس لئے بھی مطالعہ سے اس قدر مانوس نہیں جس قدر 2000 سے پہلے کی نسل تھی۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ جدید فلمی صنعت ہے۔ فلم نے نئی نسل پر بہت گہرا اثر ڈالا ہے۔ چند منٹ کی تحریر نہ پڑھنے والے بچے کئی کئی قسطوں پر مبنی ویب سیریز اور ویڈیوز ہنسی خوشی دیکھ لیتے ہیں۔ فلم کے نئی نسل پر اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کا اثر مثبت ہے یا منفی یہ کنٹرول ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ آج کی نسل بہت زیادہ فلم دیکھتی ہے اس کا سادہ سا ثبوت یوٹیوب کی ویڈیوز کی ویورشپ سے لگایا جاسکتا ہے۔

نوجوان ان فلموں کے کرداروں اور رویوں سے بے حد متاثر ہوتے ہیں اور انہیں اپنی زندگی میں اپنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ فلم انسانی زندگی کے اندر چھپے گہرے اور بے بیان جذبات کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہے۔ جدید تحقیق اور نفسیات نے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان دیکھنے سے جلدی سمجھتا اور سیکھتا ہے۔ فلم کے میڈیم کو تعلیم کے ساتھ جوڑنے کا ایک بہترین فائدہ یہ ہے کہ ہم جہاں نئی نسل کو تفریحی فراہم کر سکیں گے وہاں ان کی بہتر تعلیم و تربیت کا سامان بھی ہو سکتا ہے۔

آج کل فلمیں میڈیا پروڈکٹس کا ایک اہم حصہ ہیں جنہیں لوگ بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ کئی معاشروں میں فلم کو انفرادی اور سماجی تبدیلی کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جا تا ہے، جو سامعین کے نقطۂ نظر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جو اور سامعین کے سماجی مسائل کے بارے میں رویوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس وقت انسان اور معاشرے پر فلموں کے اثرات کی نوعیت کا سوال نفسیاتی سائنس میں ایک اہم اور بڑا سوال ہے۔ ایک مطالعہ کے مطابق لوگوں کے عقائد، آراء، دقیانوسی تصورات اور رویوں پر فلموں کے اثر کو ظاہر کرتا ہے۔ فلمیں صنفی اور نسلی تصورات پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہیں اور لوگوں کے بعض گروہوں کے ذریعے رویوں کو تبدیل بھی کر سکتی ہیں اور مختلف مسائل پر نئی تشکیل شدہ رائے بھی پیدا کر سکتی ہیں۔ اس لئے آج کل برانڈ ایمبسٹدر اور حقیقی رول ماڈلز کو پروڈکٹ کی تشہیر کے لئے ترجیح دی جاتی ہے۔

تعلیم اور سماجی مسائل کے بارے میں شعور اور آگہی کے لئے فلم ایک بہترین انتخاب ہے۔ بدلتے وقت اور حالات کے پیش نظر فلم تعلیم و تربیت اور آگہی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ فلمیں معاشروں کو کیسے متاثر کرتی ہیں؟

جیسا میں نے اوپر بیان کیا ان دنوں موبائل فون وافر مقدار میں استعمال ہوتے ہیں۔ اب لوگ پہلے سے کہیں زیادہ ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ اس کی وجہ سے فلم انڈسٹری جدید معاشرے کے سب سے زیادہ با اثر شعبوں میں سے ایک ہے۔ کامیڈی شوز ہمیں ہنساتے ہیں، نفسیاتی تھرلرز دنیا کو نئے زاویے سے دیکھنے میں ہماری مدد کرتے ہیں، اور تاریخی فلمیں یہ سمجھنے میں ہماری مدد کرتی ہیں کہ ہم بطور عوام کہاں سے آئے ہیں اور ہمارا تاریخی پس منظر کیا تھا۔ ہر ویڈیو اور ہر فلم معاشرے کی عکاسی کر سکتی ہے اور رائے بدل سکتی ہے۔

آڈیو ویژول کی طاقت کو پوری تاریخ میں سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی طاقت ہے جس نے انقلابات کو بھی جنم دیا ہے۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی بڑھتی جا رہی ہے، سیاسی اور معاشی رہنماؤں نے سنیما کو لوگوں کے نقطہ ء نظر کو تبدیل کرنے اور تشکیل دینے میں یا تو اپنے فائدے کے لیے یا لوگوں کے فائدے کے لیے استعمال کیا ہے۔ معیاری تراجم بھی ان دنوں ہر ایک کے لیے آسانی سے دستیاب ہیں، جو فلم سازوں کے لیے اپنی مادری زبان میں دنیا کے کونے کونے سے اپنے سامعین تک پہنچنے میں آسانی فراہم کرتے ہیں۔

ایک اچھی فلم ناظرین کو کئی طریقوں سے تفریح، تعلیم اور حوصلہ افزائی و رہنمائی فراہم کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر لوگوں پر گانے کے اثرات کے بارے میں سوچیں جو ہمیں سوچنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ یہ گانے ہمیں ہمدرد بنا سکتے ہیں۔ یہ ہمیں دوسروں کی مدد کرنے اور انسانیت کے لیے بھلائی کرنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔

دوسری طرف رومانی فلمیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ محبت کیوں اہم ہے اور اس کے لیے جذبات کیوں ضروری ہیں یہ ہمیں رلاتے ہیں اور ہماری اپنی رومانوی داستان پر ہمیں ہنسانے کا موقع دیتے ہیں۔ کرائم اور ایکشن فلمیں ہمیں مجرمانہ سرگرمیوں، دہشت گردی اور جنگ کے خطرات سے بھی خبردار کرتی ہیں۔

کچھ معاملات میں، فلمیں ان لوگوں میں ہمدردی کا احساس بھی بیدار کر سکتی ہیں جنہوں نے خود کبھی جنگ کا تجربہ نہیں کیا ہے۔ وہ جنگ زدہ ممالک میں رہنے والے اپنے جیسے انسانوں کے لیے درد محسوس کرنے میں ہماری مدد کر سکتے ہیں حالانکہ کہ ہم خود وہاں کبھی نہیں گئے۔ فلم ہمیں معاشرے کے ان پہلوؤں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے جن کو ہم اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ میں اپنی کئی ٹریننگ سیشنز اور لیکچررز میں پرسنل ڈویلپمنٹ، بزنس، ٹیچر ٹریننگ، سماجی و سیاسی تحریکوں پر مبنی پاکستانی، ہندوستانی اور انگریزی فلموں کے حوالے دیتا ہوں۔ میں اکثر جب نوجوانوں سے سوال کرتا ہوں کہ انہوں نے کسی موضوع پر کوئی کتاب پڑھی ہے تو جواب آتا ہے نہیں، پھر میں پوچھتا ہوں کہ آپ نے اس موضوع پر کوئی اچھی اور معیاری فلم دیکھی ہے؟ تو جواب آتا ہے سر اس بارے تو ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ کوئی فلم دستیاب ہے۔

واقعی ہی پاکستان میں ادب، سماج، تاریخ اور پیشہ ورانہ زندگی پر مبنی فلموں کے بارے میں لوگوں کو علم ہی نہیں ہے۔ یہ فلمیں آپ کی زندگی کو کس قدر رونق بخش سکتی ہیں اس کا اندازہ آپ کو ہو گیا تو آپ اس تفریحی کو ایک عملی اور ادبی سفر کی شکل دے دیں گے۔ میرے پاس فلموں کی ایک طویل فہرست ہے جو ہماری ذاتی، پیشہ ورانہ اور سماجی و ادبی زندگی کے سفر کوپر رونق بنا سکتی ہیں۔ نوجوانوں کو فلم کے معیاری اور ادبی ذوق سے متعارف کروائیں تاکہ وہ معاشرے کا کار آمد حصہ بن سکیں۔

اس کی اہم عام اور سادہ مثال قائداعظم کی زندگی ہے۔ ہماری نوجوان نسل نے ان کی زندگی کے بارے میں شاید کبھی کوئی کتاب اور تحریر پڑھی ہو جو ان کی جدوجہد اور خدمات سے آگاہ کر سکے لیکن اس کے لئے قائداعظم کی زندگی پر مبنی فلم ”جناح“ ایک بہترین ذریعہ ہو سکتی ہے جو نئی نسل کے لئے تفریحی اور علم کا سبب بھی ہو اور اپنی شناخت سے بھی آگاہ رکھے۔ یہ تو صرف ایک مثال ہے یہاں تو ادبی فلموں کا ایک جہاں آباد ہے۔ ذرا اس میں داخل ہو کر تو دیکھیں، یہ جدید علم کا بہترین میڈیم ہے۔

Facebook Comments HS