قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم پیچھے سے غائب ہیں


االلہ پاک نے تین بار میاں نواز شریف کو پاکستان جیسے اہم اسلامی ملک کی سربراہی کا موقع دیا۔ تینوں بار میاں نواز شریف پر بھونڈے الزامات لگا کر اقتدار سے ہٹایا گیا۔ میاں نواز شریف پر آج تک جتنے بھی الزامات لگائے گئے عدالتوں میں ایک بھی ثابت نہ ہو سکا۔ پانامہ جیسا انٹرنیشنل کرپشن کیس ڈال کر اقامہ جیسے مضحکہ خیز الزام پر انہیں سیاست سے آؤٹ کر دیا گیا۔

اسٹبلشمنٹ دو طرح سے سیاسی پارٹیوں کو نتھ ڈالتی ہے، ایک اس پارٹی کی اعلی قیادت کو ڈائریکٹ کنٹرول کر کے جس میں قیادت کو سبق سیکھانا یا سیاست سے نا اہل کرنا ہوتا ہے۔ دوسرا، مطلوبہ سیاسی پارٹی کے رہنماؤں پر الزامات لگا کر انہیں جیلوں میں ڈالنا یا انتخابات میں دخل اندازی کر کے ان کی ہار کو یقینی بنانا۔ اسٹبلشمنٹ نے تو نواز شریف کے ساتھ جو کرنا تھا وہ کر دیا، لیکن قیادت کے پیار کی وجہ سے اور جو اسٹبلشمنٹ کی آڑ میں پارٹی کے اندر سے خودغرض سیاستدان جو نقصان پار ٹی کو پہنچاتے ہیں وہ ناقابل تلافی ہوتا ہے۔ ان دونوں اہم پوائنٹس کی وضاحت ہی میرا آج کا موضوع ہے۔ پہلا پوائنٹ قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی یا تنازعات ہیں۔ اس پر میں اتنا ہی کہوں گا کہ قیادت جانے اور اسٹبلشمنٹ جانے۔

پارٹی کے اندر کے خودغرض سیاستدان وہ ناسور ہے جس کی وجہ سے نون لیگ جیسی سیاسی پارٹیاں جو تین تین بار حکمرانی کر چکی ہوتی ہیں اپنے ہی اندر مفاد پرست ٹولوں کی جہ سے ایک صوبے کی پارٹی بن جاتی ہیں جس کی واضح مثال پاکستان پیپلز پارٹی ہے جو ذوالفقار علی بھٹو شہید کے دور میں پنجاب کی سب سے بڑی پارٹی تھی لیکن آج پی پی پی کا پنجاب میں کوئی ٹکٹ لینے کو تیار نہیں ہوتا۔ کیا میاں نواز شریف اور ان کے مخلص سیاسی ساتھی یہ چاہتے ہیں کہ مسلم لیگ نون کا بھی پیپلز پارٹی جیسا حال ہو؟ نہیں! تو پھر میاں نواز شریف کو اپنی پارٹی کا 1999سے اب تک پارٹی کو ری ویو کرنا ہو گا۔

میاں نواز شریف کے نوازنے کا انداز بھی بادشاہوں جیسا ہے۔ ان کے خاندان پر اگر کوئی تھوڑا سا بھی احسان کر دے تو اس پورے گھر پر ٹکٹوں کی بارش ہو جاتی ہے۔ پارٹی کو کتنا نقصان پہنچتا ہے یہ سوچے بغیر میاں صاحب نوازنے اور پیار بانٹنے سے ہاتھ نہیں کھینچتے۔

راولپنڈی کے سیاسی حلقوں میں میاں صاحب کی اسی عادت سے پارٹی کو درپیش نقصانات پر اکثر بحث ہوتی رہتی ہے۔ میاں نواز شریف سے محبت اور پارٹی سے مخلص کارکنان نعرے لگاتے لگاتے بوڑھے ہو چکے ہیں۔ سڑکوں پر پولیس کی مار کھائیں تو کارکنان، عدالتوں میں میاں نواز شریف اور مریم نواز کی پیشی پر حاضر ہوں تو کارکنان، سب سے بڑھ کر پی ٹی آئی جیسے فتنے کے سامنے نون لیگ کا دفاع کریں تو کارکنان، اپنا وقت پارٹی کو دیں اور جب نوازنے کی باری آئے تو پنڈی کے صرف مخصوص گھرانے قیادت کی آنکھوں کے تارے بنتے ہیں جہاں سینیٹر، ایم این اے، ایم پی اے، پارٹی کے بڑے عہدے اور حالیہ تنظیم سازی سے لے کر بلدیاتی نمائندگی میں بھی وہی گھرانے ہی میاں نواز شریف کی محبت اور پیار کے حقدار ٹھہرتے ہیں۔

راولپنڈی کیونکہ حساس شہر ہے اور پنڈی میں کسی بھی سیاسی پارٹی کی جیت کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ یہاں ہر سیاسی ایکٹیویٹی کو اہم سمجھا جاتا ہے چاہے چوہدری نثار علی خان چوہدری تنویر کے گھر تعزیت کے لئے ہی جائیں تو خبر بن جاتی ہے۔ یہاں تک کہ چوہدری تنویر اور محمد حنیف عباسی کے آگے یا پیچھے کھڑے ہونے پر کہا جاتا ہے کہ جب میاں نواز شریف کی حکومت ہو تو چوہدری تنویر احمد کے پیچھے حنیف عباسی کھڑے ہوتے ہیں اور اب جبکہ میاں شہباز شریف وزیر اعظم ہیں تو سیاسی تقریبات میں حنیف عباسی کے پیچھے چوہدری تنویر کھڑے ہوتے ہیں۔ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ کون جانے آنے والے دنوں میں یہ دونوں کس کے پیچھے کھڑے دکھائی دیں گے۔

ایک تاثر عام ہے کیونکہ مقامی قیادت کا کوئی نعم البدل نہیں اس لئے ان ہی کو ٹکٹ دیے جاتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔ نعم البدل پیدا کرنے کی نیت ہی نہیں اسی وجہ سے کسی مخلص اور محنتی کارکن کو اس لئے آگے نہیں آنے دیا جاتا کہیں وہ قیادت کی نظروں میں نہ آ جائے۔ مثلا، مریم نواز عرصہ دراز سے عدالتوں میں پیش ہوتی رہیں ان کے آگے پیچھے مخلص کارکنان کا ہی رش دیکھا جاتا رہا لیکن جب مریم نواز کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت ملی تو اس دن ان کارکنان سے نعرے لگانے کا حق بھی چھین لیا گیا، ثبوت کے طور پر مقامی قائد کے نعرے لگانے کا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر آج بھی موجود ہے جس میں موصوف مریم نواز کے کان کے قریب زور زور سے نعرے لگاتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

کیا نون لیگ والے نواز شریف کی وہ بات بھول گئے جب ایک جلسے میں نعرہ لگتا ہے قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ میاں صاحب بڑے دکھ بھرے انداز میں لیکن اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیتے ہیں ہاں میں 1999 میں نکلا تھا لیکن جب پیچھے مڑ کے دیکھا تو پیچھے کوئی نہیں تھا۔ میاں نواز شریف کی یہ بات، کیا ان ایم این ایز، ایم پی ایز، ان وزراء ان مشیروں اور اس مراعات یافتہ طبقے کے منہ پر طمانچہ نہیں جو میاں نواز شریف کے نام پر عیاشیاں کرتے رہے میاں صاحب کی حکومتوں میں وزارتیں لیں سہولیات لیں اور اپنی پوری پوری فیملی کو زمین سے اٹھا کر آسماں کی بلندیوں پر پہنچایا، لیکن جب قائد نے انہیں پکارا تو چند ایک کے علاوہ سب غائب ہوچکے تھے۔ کسی نے مقدمات کا بہانا بنایا کسی نے نیب کے ڈر سے بولنا چھوڑ دیا اور کسی نے اسٹبلشمنٹ کا نام لے کر کنارہ کشی اختیار کر لی۔ عملی طور پر نواز شریف کو چھوڑ دیا، نہیں چھوڑا تو سیاست کو نہیں چھوڑا۔

جہاں تک بات ہے نعم البدل کی تو راولپنڈی کے نون لیگی لیاقت باغ کی تاریخی افطاری جو سجاد خان نے لندن سے آنے والے میاں نواز شریف کے دیرینہ ساتھی ناصر محمود بٹ کے اعزاز میں دی وہ کبھی نہیں بھولیں گے۔ ناصر محمود بٹ ایک بار پھر لندن سے میاں نواز شریف سے نئی ہدایات لے کر راولپنڈی آ چکے ہیں جن کا نون لیگی کارکنان نے ایک بار پھر شاندار استقبال کر کے بتا یا کہ جو میاں نواز شریف کے ساتھ ہے کارکنان اس کے ساتھ ہیں۔

میاں صاحب نے ناصر بٹ کو کون سی ہدایات دے کر رخصت کیا ہے؟ بقول ناصر محمود بٹ کے آنے والے دنوں میں جب ان ہدایات پر کام شروع ہو گا تو سب خود ہی جان جائیں گے۔ یہاں ذہن میں چند سوالات ابھرتے ہیں کہ کیا ناصر محمود بٹ کو پنڈی میں پی پی 16 کے کسی ایک مقامی رہنما کا نعم البدل بنا کر بھیجا گیا ہے یا نون لیگ راولپنڈی کی سیاسی طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے بھیجا گیا ہے یا آنے والے دنوں میں طاقت کے پلڑے کا جھکاو جس کسی ایک نون لیگی کے حصے میں آئے گا کیا وہ شخصیت ناصر محمود بٹ تو نہیں؟

اس کا جواب شاید اس وقت ناصر محمود بٹ بھی نہ دیں۔ ہو سکتا ہے پیر کو ہونے والی ناصر محمود بٹ کی پریس کانفرنس میں راولپنڈی کے نون لیگی کارکنان کو کچھ نیا سننے کومل جائے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ میاں نواز شریف نے پاکستان کے بہت سے شہروں سمیت راولپنڈی میں بھی نون لیگ کی شکست کو کامیابی میں بدلنے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے اپنے اس ارادے کو میاں نواز شریف کیسے پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں یہ آنے والے انتخابات میں نون لیگ کے ٹکٹوں کی تقسیم سے ہی واضح ہو پائے گا۔

آنے والے انتخابات میں نون لیگی قیادت اچھے اور برے امیدوار کو پہچاننے میں غلطی نہ کرے۔ سب جانتے ہیں کہ ووٹ صرف میاں نواز شریف کا ہی ہے جس کا عملی مظاہرہ پنڈی کی سیاست کے دو نام ہیں ایک چوہدری نثار علی خان جو میاں صاحب سے الگ ہوئے تو ان کا سیاسی بت پاش پاش ہو گیا اور جب میاں صاحب نے نون لیگ کے ایک عام کارکن ملک شکیل اعوان کو ٹکٹ دیا تو اس نے سیاسی جن شیخ رشید کو چاروں شانے چت کر دیا۔ آج بھی پنڈی میں اپنی حرکات اور خودپسندی کے مارے درجنوں چوہدری نثار اور ن لیگ سے وابستگی اور نواز شریف سے محبت کرنے والے ملک شکیل اعوان جیسے سینکڑوں کارکنان اس امید اور انتظار میں ہیں کہ شاید قیادت کی نظر انتخاب ان پر پڑ جائے۔

Facebook Comments HS