میں کون ہوں اے ہم نفسو، 10: فحاشی کے ایک عدالتی کیس میں سزا
فحاشی ایک نقطہ نظر ہے۔ انفرادی۔ یہی وجہ ہے اس کی قانونی یا ادبی تعریف پر اتفاق رائے کبھی ممکن نہ ہوا۔ اردو کی ادبی تاریخ میں یہ الزام سب سے پہلے ایک عورت عصمت چغتائی پر اس کے افسانے ”لحاف“ کی وجہ سے عاید ہوا لیکن جو شہرت منٹو کے افسانے ”ٹھنڈا گوشت“ کے عدالتی مقدمے کو حاصل ہوئی وہ لازوال ہو گئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ”پریم شاستر“ اور ”کوک شاستر“ جیسی کتابوں کو اخلاق کے پنڈتوں نے مصلحت اور ضرورت کا لیبل لگا کے بخش دیا
ڈائجسٹوں میں رومانس کے نام پر ”نظریہ ضرورت“ کے تحت بہت کچھ لکھا گیا جو نہ لکھا جاتا تو کہانی کے بیان میں کوئی فرق نہ پڑتا لیکن ہر مصنف اپنی حد خود متعین کرتا ہے اور پڑھنے والے بھی درگزر کرتے ہیں ؎ بقول غالب
ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
لیکن ”عوامی ڈائجسٹ“ کا ایک معاملہ عدالتی مقدمہ بن گیا اور کراچی کے ’ایس ڈی ایم‘ کی عدالت سے بدنام زمانہ ”پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس“ کے تحت رائٹر، پرنٹر اور پبلشر کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے۔ یہ ایسا ڈریکونین لا تھا جس کے تحت بڑے بڑے عزت دار صحافیوں، ادیبوں اور سیاست دانوں کو مجمع عام میں ٹکٹکی پر باندھ کے کوڑے مارے گئے اور باقی اس کی دہشت سے روپوش ہوئے یا جلا وطنی میں چلے گئے۔
یہ ہماری قومی تاریخ کا ایک الگ شرمناک باب ہے۔
عوامی ڈائجسٹ کا مالک و مدیر شمیم نوید تھا۔ ایک انتہائی نستعلیق اور شریف شاعر جو کسی حد تک اپنے زنانہ اطوار کے باعث حلقہ احباب میں وجہ تمسخر تھا۔ وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ لالو کھیت نمبر 10 کے ایک مکان کی دوسری منزل پر مقیم تھا۔ میں اپنی بیوی کے ساتھ ایک بار اس کے گھر بھی جا چکا تھا اور اس کے اصرار پر ایک دو کہانیاں اشاعت کے لئے بھی دے چکا تھا لیکن یہ حقیقت ہے کہ میں نے کوئی قسط پڑھنا تو کیا وہ رسالہ کبھی کھول کے دیکھا نہیں تھا۔
مجھے سب رسالے مفت ملتے تھے اور ایک اصول کے تحت میں اس شمارے کی پانچ اعزازی کاپیاں لیتا تھا جس میں میری کہانی ہو۔ یہ سب رسالے خاندان میں تقسیم ہو جاتے تھے۔ یہاں تک کہ اس شمارے کی ایک کاپی رجسٹرڈ پوسٹ سے میرے مرحوم چھوٹے بھائی کو تربیلا ڈیم اور پھر چشمہ ڈیم جاتی تھی جہاں وہ ایگزیکٹو انجینئیر تھا۔ بھابی خود پڑھنے کے بعد ان رسالوں کو ترتیب وار نمبر لگا کے اور کور چڑھا کے الماری میں رکھتی تھی اور اس سے دوسرے پڑھنے والے یہ رسالے ایک ہفتہ میں پڑھ کر واپس کرنے کے وعدے پر لے جاتے تھے۔ ایک ہفتہ بعد بھابی کا فون آ جاتا تھا کہ رسالہ واپس نہیں آیا۔ اس کی الماریاں رسالوں سے بھر گئی تھیں اور بھابی کی دور دور تک گڈول بنی ہوئی تھی۔ افسران اعلا اور ان کی بیگمات میں بھی مفت پڑھنے والے بہت تھے۔
کچھ اس کی جان کھاتے تھے ”یہ چوہدری دلاور کیا واقعی مارا گیا۔ ذرا معلوم کرو نا۔ تم نے کہا تھا دونوں بھائی یک جان دو قالب ہیں“
بھابی کہتی ”ویسے تو میرے کزن بھی ہیں لیکن وہ مجھے بھی کہاں بتائیں گے۔ اور پھر کیوں پوچھوں میں۔ ذرا انتظار کرو نا“
ایسا ہی میری بیٹیوں کے ساتھ کراچی کے اپوا کالج میں ہوتا تھا، وہ صبح گاڑی سے اترتیں اور لڑکیاں دوڑتی آتیں ”صبا صبا۔ تمہیں تو پتا ہو گا۔ یہ دلاور سچ مچ مارا گیا؟“
”یار حنا مجھے تو رات نیند نہیں آئی۔ تمہیں کچھ معلوم ہے۔“
وہ بڑے رعب سے کہتی ”ہاں معلوم ہے مگر میں ہرگز نہیں بتاؤں گی یہ ٹاپ سیکرٹ۔ رشوت لے کر غور کر سکتی ہوں“ لیکن کینٹین میں کھا پی کر وہ صاف مکر جاتی تھی ”مجھے کیا معلوم۔ میں شکاری نہیں پڑھتی“ اور پھر مار کھاتی تھیں تو مجھے واپس گھر آ کے سب ہنس ہنس کے بتاتی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں کو سب پتا ہوتا تھا۔ وہ روز کی کہانی روز پڑھتی تھیں
معذرت کہ میں پرانے انجن کی طرح پٹری سے اتر گیا۔
مجھے ایک دن شمیم نوید کا پیغام ملا کہ میں اس سے ملاقات کروں لیکن وہ گھر میں نہیں ہے بلکہ میں فلاں جگہ آ جاؤں۔ پیغام کی پراسراریت کے باوجود میں فلاں جگہ پہنچا تو شمیم نوید کا کوئی پتا نشان نہیں۔ میں کچھ حیران ہی تھا کہ وہ ایک گلی میں سے نمودار ہو اور مجھے ایک گھر میں لے گیا۔ وہ وہاں پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے ڈر سے روپوش تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ ”عوامی ڈائجسٹ“ میں میری ایک سلسلہ وار کہانی کو حکومت نے فحش قرار دے کر پرنٹر پبلشر اور مصنف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں اور ایس ڈی ایم کی عدالت میں سماعت کی تاریخ بھی مقرر ہو چکی ہے۔ فیصلہ خلاف آیا تو چھ ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے ”
میں بھی پریشان ہو گیا۔ وہ لڑکیوں جیسا شرمیلا اور کچھ زنانہ اطوار والا جوان آدمی تھا جو مردانہ گالی سن کے لال ہوجاتا تھا اس نے اتنی فحش کہانی کیسے لکھ دی کہ پکڑ میں آ گیا؟ معمولی فحاشی پر گرفت ہوتی تو سارے اندر بیٹھے ہوتے۔ میں نے پوچھا ”ایسا کیا سین لکھ مارا تھا یار“
”تو اس کو چھوڑ۔ جا کے مل بندر روڈ والے شیخ شوکت علی اینڈ سنز سے۔ مجھے لالو کھیت تھانے والوں کی مہربانی سے فرار کی مہلت مل گئی۔ وہ سب گرفتار ہو گئے اور اب ضمانت کرا کے آئے ہیں انہوں نے مجھے بلایا تھا۔ میں نہیں گیا چنانچہ وہ سخت طیش میں ہیں“
”تو گیا کیوں نہیں تھا۔ انہیں مروا دیا۔“
”ابے یار وہ مجھے پکڑوا دیتے اور خود بچ جاتے۔ پیسے والے لوگ ہیں“
”میں کیا کہوں گا ان سے۔“ میں پریشان ہو گیا
”ان کو یقین دلا دینا کہ میں پیشی پر ضرور آؤں گا۔ مجھ سے وہ فون پر بات کرنے کو تیار نہیں“
”بھائی وہ مجھے بند کرا دیں گے کہ اس کا حامی آیا ہے۔ پھر میں کیا کروں گا“
”ابے اب ایسی اندھی بھی نہیں چل رہی کہ زید کی جگہ بکر کو پھانسی لگا دیں۔ اور تیرا نام ہے۔“
قصہ مختصر۔ میں چلا گیا لیکن بندوبست پکا کر گیا۔ میرا ایک بھائی اخبار جہاں میں تھا اور ایک بیٹا ”عوام“ میں نذیر لغاری کے ساتھ نیوز ایڈیٹر۔ میں لاقانونیت سے محفوظ تھا۔ لیکن میں بندر روڈ پر شیخ شوکت علی کے شو روم گیا اور اندر ان کے آفس میں پہنچا تو شمیم نوید کا نام سنتے ہی ان کا فیوز اڑ گیا۔ انہوں نے مجھ سے بھی بات کرنے سے انکار کر دیا ”وہ بزدل خود کیوں نہیں آیا؟ ہمیں گرفتار کرا دیا۔ ہماری عزت خاک میں ملا دی۔ ہم قرآن کے پرانے ناشر۔ ہماری شہر میں عزت تھی۔ آپ جائیں“
میں زبردستی بیٹھ گیا ”میں احمد اقبال ہوں اس کی طرف سے معافی مانگتا ہوں۔ جو ہوا غلط ہوا“
خوش قسمتی سے ایک میرا قدر داں نکل آیا ”سوری اقبال صاحب۔ بیٹھیے، آپ جانتے نہیں کہ اس شخص نے ہمیں کتنا رسوا کیا“
پہلا بولا ”ہم نے اسے ادیب اور شاعر سمجھ کے اس پر اؑعتماد کیا۔ اس کا پرچا ہمارے پریس میں چھپتا رہا۔ ہم نے کبھی کھول کے نہیں دیکھا۔ اور اس نے کیا لکھا؟ توبہ توبہ، شریف آدمی پڑھ نہیں سکتا“
”میں نے بھی نہیں پڑھا۔ صرف اس کی طرف سے یقین دہانی کرانے آیا ہوں کہ وہ کل عدالت میں ضرور پیش ہو جائے گا۔ میری ذمے داری“
”وہ نہ آیا تو ہماری ضمانت منسوخ اور ہم جیل میں۔ وہاں سے اپیل کرتے رہیں گے۔ پہلی بار بھی وہ بھاگ گیا ور ہم پکڑے گئے تھے“
”ضمانت وہ بھی کرا سکتا تھا۔“
”بالکل جو ہوا سب غلط تھا اس بے وقوف کو معاف کر دیں ایک بار“ میں نے کہا۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ آپ نیک نام ہی نہیں مالدار بھی ہیں۔ آپ کی ضمانت تو پولیس نے گھر آ کے لی ہوگی۔ وہ لالو کھیت کا رہنے والا بے حیثیت آدمی۔
اگلے دن کچہری جا کے دیکھا تو کوئی ایس ڈی ایم علی حیدر زیدی۔ دوسرے ملزم۔ شیخ شوکت علی کا وکیل حاضر۔ شمیم نوید پھر غائب۔ میرا دل بیٹھ گیا کہ آج وہ نہ آیا تو میں اندر لیکن اچانک ایک برقعہ پوش خاتون میرے ساتھ آ بیٹھی۔ میں نے اس کی بیوی کا برقعہ پہچان لیا یہ شمیم نوید تھا۔ جب اس نے برقعہ اتار دیا تو میں نے پوچھا کہ اس کا وکیل کون ہے؟
”وکیل کیا جانیں ادب میں فحاشی کو۔ میں خود اپنا دفاع کروں گا“
میں نے تب تک وہ ادب پارہ نہیں دیکھا تھا جس پر سرکار برہم تھی، میں خاموش ہو گیا۔ جب اسے اپنی صفائی میں بولنے کا موقعہ ملا تو شمیم نوید نے ادب میں فحاشی کی تعریف اور تاریخ سے شروع کیا۔ ڈی ایچ لارنس کی ”لیڈی چیٹرلیز لور“ سے شروع کر کے منٹو کے ”ٹھنڈا گوشت“ کے مقدمے تک پہنچا۔ اچانک مجسٹریٹ نے روک دیا ”مسٹر شمیم نوید۔ مجھے یہ سب مت پڑھائیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ میں قرۃالعین حیدر کے ادبی خاندان کا فرد ہوں اور وہ رشتے میں میری پھوپھی ہیں“
میں حیران رہ گیا۔ ایک کتاب کا انتساب قرۃالعین نے اپنے چار بھانجوں بھتیجوں کے نام کیا تھا جو بیک وقت سی ایس ایس کے امتحان میں کامیاب ہوئے تھے۔ کتاب کا نام اس وقت مجھے یاد نہیں۔
مجسٹریٹ نے کہا ”میں ایک صورت میں آپ کو با عزت بری کر دوں گا۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ جو آپ نے لکھا فحش نہیں ہے، تو آپ اپنے گھر کی کسی خاتون کو یہاں بلا لیں اور جو لکھا ہے بلند آواز سے پڑھ کر اسے سنا دیں۔ عدالت میں نہ سہی میرے چیمبر میں سہی۔ ورنہ چھ ماہ کی قید بامشقت پکی“
شمیم نوید کی حالت غیر ہو گئی۔ لگتا تھا وہ بیہوش ہو کے گر جائیے گا۔ جج نے عدالت پندرہ منٹ کے لئے ملتوی کی تو میں نے شمیم نوید کو بہت گالیاں دیں کہ سالے غیر مشروط معافی مانگ اور خود کو عدالت کے رحم وکرم پر چھوڑ دے ورنہ بیٹے چھ ماہ چکی پیسنے جا۔ بات اس کی سمجھ میں کیسے نہ آتی۔ پھر کارروائی شروع ہوئی تو شمیم نوید نے ہاتھ جوڑ دیے۔
جج نے اس کی معافی قبول کرتے ہوئے کہا ”شمیم نوید صاحب میں آپ کو باعزت طور پر رہا نہیں کروں گا۔ آپ شاعر ہیں اس لئے محض علامتی سزا دے رہا ہوں۔ ڈھائی سو روپے جرمانہ“
نہ شمیم نوید رہا نہ اس کا ”عوامی ڈائجسٹ“ یہ سوال رہ گیا کہ وہ فحاشی کا شہکار کیا تھا؟
یہ ایک نامرد وڈیرے کی کہانی تھی جس نے اپنے حرم کی خواتین کے لئے خوفناک تربیت یافتہ کتے پال رکھے تھے۔ یہ بھی ناگزیر تھا تو میں نے بتا دیا۔


