میں کون ہوں اے ہم نفسو 12 : رئیس امروہوی کا قتل
میرے گزرے وقت کی یادوں کے سفر میں اتنے لوگوں کے شریک ہونے کی مجھے قطعی امید نہیں تھی۔ یہ نصف صدی کا قصہ تھا دو چار برس کی بات نہیں۔ لیکن اس کہانی نے صرف میرے ہم عصر احباب کو ہی اسیر نہیں کیا۔ اس میں عہد نو کے نمایندہ احباب بھی شامل ہیں۔ میں سب کا شکر گزار ہوں۔
ان واقعات کو میں نے کسی ڈائری سے لیا تو وہ صرف میری یاداشت تھی۔ یادوں کو دہراتے ہوئے میں نے کہانی کے حوالے کو پیش نظر رکھا۔ کسی کی نجی زندگی کی خامی کو موضوع سخن نہیں بنایا۔ کچھ قارئین نے ایسے سوالات کیے جو میرے ہم عصروں کی ذات پر الزام کی طرح تھے۔ میں خود مجموعہ نقائص کسی پر کیا انگلی اٹھاؤں۔ ایک دوسرے کے عیوب کی پردہ پوشی ہی میرے نزدیک بھی مستحسن عمل ہے۔
ایک بار پھر میں لوٹ کر 129 گارڈن ایسٹ جاتا ہوں جو امروہہ کے چار بھائیوں کو کلیم میں ملنے والی مشترکہ ملکیت تھی۔ میرے اسلام آباد لوٹ آنے سے پہلے ہی یہ انتہائی قیمتی جائیداد فروخت ہو کے بھائیوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ مجھے بالکل معلوم نہیں کہ کس کے حصے میں کیا آیا۔ باتیں کرنے والوں نے تو جون ایلیا کو بھی کروڑ پتی بنا دیا تھا لیکن حقیقت یہی ہے کہ ان کا انتقال ایک عزیز کے گھر میں ہوا تو ان کی فیملی ساتھ نہیں تھی۔ جس شخص کو اپنا ہوش نہ ہو وہ وہ زر و مال کیا جانے۔ کہتے ہیں عیار لوگوں نے ان کے پاس کچھ نہیں چھوڑا تھا۔
ان بھائیوں میں سب سے بڑے رئیس امروہوی تھے جو بیک وقت شاعر، کالم نویس، صحافی، نفسیاتی عامل اور سیاست داں وغیرہ سبھی کچھ تھے چنانچہ ان کی ذات مختلف حوالوں سے متنازعہ بھی رہی۔ انجام کار وہ قتل ہوئے اور ہم نے قومی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے آج تک ان کا نام ان درجنوں شہدا میں لکھ رکھا ہے جن کے قاتل بالآخر یوم جزا و سزا پر سامنے لائیے جائیں گے۔
رئیس صاحب سے میرا ذاتی تعلق عام کراچی والوں سے کچھ زیادہ تھا۔ کبھی وہ صبح ”عالمی ڈائجسٹ“ کے دفتر میں آ بیٹھتے تھے۔ ان کے بیٹھنے کا بھی اپنا انداز تھا۔ دونوں ٹانگیں سمیٹ کر کرسی کے اوپر اور ہاتھ گھٹنوں کے گرد۔ اپنا تازہ ”جنگ“ میں شایع ہونے والا قطعہ سنا کے پوچھتے ”کیسا رہا میاں“ اور ان کی نظر مجھ پر ٹھہر جاتی
میں سعادت مندی سے کہتا ”لاجواب حسب معمول“
میرا خیال تھا کہ وہ نہاتے بہت کم تھے اور پاجامہ کرتا بھی مہینے میں ایک بار مجبوراً بدلتے ہوں گے۔ چنانچہ دروازے کی طرف سے جو ہوا آتی تھی اس میں عجیب ناگوار مہک ہوتی تھی۔ وہ اردو بولنے والے مہاجرین کے حقوق کی نمایندگی کرنے والوں کے سرخیل تھے اور اس کے بعد امروہہ والوں کے ترجمان
ان کے قطعات رائے عامہ پر بہت اثر ڈالتے تھے۔ اس کا بد ترین مظاہرہ میں نے 1974 میں دیکھا جب سندھ اسمبلی نے ثانوی سطح تک سندھی زبان کی تعلیم کو لازمی قرار دیا۔ اس کے خلاف ”جنگ“ کے احتجاجی قطعہ کا ایک مصرعہ ہیڈ لائن بنا لیا گیا۔ ؎ ”اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے“ ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صبح سے ہی احتجاجی جلسے جلوس اور ہنگامے شروع ہو گئے مظاہرین مشتعل ہوئے تو پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ نوبت فائرنگ تک پہنچی اور چار نوجوان ہلاک ہوئے۔ ان کا جنازہ اٹھنے سے پہلے شہر بند ہو چکا تھا اور فضا سخت آتش فشاں تھی۔ اس وقت لالو کھیت دس نمبر پر ٹرنک بازار کے پیچھے وسیع میدان خالی پڑا تھا۔ نوجوانوں کی وہاں تدفین کا فیصلہ ہوا۔
آج تقریباً نصف صدی بعد آپ وہاں سے گزرتے عوامی ٹریفک کے بہاؤ میں سے کسی بھی عالم فاضل کو روک کر پوچھیں کہ ”شہدائے اردو کا مزار کہاں ہے“ تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ایک بھی جواب نہ دے پائے گا۔ ٹرنک بازار کی رونق اور وسعت میں چار شہدائے اردو کی قبریں گم ہو گئی ہیں۔
جب دوچار دن بعد رئیس صاحب سے ملاقات ہوئی تو میری ان کی بحث نہیں تلخ کلامی ہوئی کہ ”جب آپ انگریزی، فارسی اور عربی پڑھتے ہیں تو سندھی میں کون سا گناہ تھا جو ہماری قدیم ترین تہذیبی زبان ہے“ ۔ میں نے چار گھروں کے چراغ بجھانے کا ذمہ دار ان کے قطعہ کو دیا۔ اس وقت تقی صاحب اور بیرسٹر خالد اسحاق بھی میرے ہمنوا تھے چنانچہ رئیس صاحب اٹھ کر چلے گئے۔
وہ ہپناٹزم بھی سکھاتے تھے اور اس کلاس کا آغاز شمع بینی سے ہوتا تھا۔ غالباً اس موضوع پر ان کی کتاب بھی ہے۔ وہ تحلیل نفسی پر بھی کالم لکھتے تھے۔ اس میں کوئی سند تو ظاہر ہے ان کے پاس نہیں تھی۔ شاید علوم قدیم کی کچھ کتابوں سے اکتساب کیا ہو گا۔ میرا ان تمام پر اسرار علوم، اوکلٹ سائنسز، پر کبھی اعتبار نہیں تھا اور نہ ہے۔ نفسیاتی مسائل پر ان کے کالم میں روحانی تجربات، خوابوں کی تعبیر اور جنسی مسائل تک سب کچھ آتا تھا۔ مجھے یہ سب بہت عجیب لگتا تھا لیکن معاشرے میں پر اسراریت کے علمبردار شاید اکثریت میں ہیں چنانچہ مزارات، تعویذ گنڈے، کالے عمل وغیرہ کا بزنس خوب چلتا ہے میں ان کے شاگردوں کو دیکھتا تھا تو وہ سب مجھے نارمل لوگ نہیں لگتے تھے۔ ان میں کبھی کبھی خواتین بھی ہوتی تھیں۔ رئیس امروہوی نے قالین بافی سکھانے کا سلسلہ بھی شروع کیا تھا اور غالباً وہ ایران کے لئے بھرتی بھی کرتے تھے لیکن اس موضوع پران سے بات کبھی نہیں ہوئی۔
ان کے ایک پرانے وقتوں کے دوست بہزاد لکھنوی تھے جن کی سر گزشت ’عالمی ڈائجسٹ‘ میں ”حکیم بڈھن کی سر گزشت“ کے عنوان سے کبھی کبھی شایع ہوتی تھی۔ اس میں وہ عہد شباب کی سر مستیوں کا احوال بڑی بے باکی سے بڑے دلچسپ پیرائے میں سناتے تھے اور لوگ پسند بھی کرتے تھے۔ ایک واردات ”کالو بھنگن“ کے نام سے تھی جو مجھے اسکیچ کے ساتھ موصول ہوئی تھی لیکن اب نہ جانے کہاں پڑی ہے۔ دکھا نہیں سکتا۔ عالمی ڈائجسٹ بند ہو گیا۔ میں مختلف رسالوں میں لکھتا رہا اور 2005 میں واپس راولپنڈی چلا گیا۔ ایک سال بعد واپس آیا تو کراچی میں سخی حسن پر اپنی بڑی بیٹی کے مکان میں قیام کیا۔ وہیں چوک پر ایک عالی شان مزار دیکھا جس پر لکھا تھا ”مزار مبارک عاشق رسول ﷺ حضرت بہزاد لکھنوی“ تو سخت حیرانی ہوئی۔ لیکن اللہ جب چاہے کسی کو بھی ہدایت کی روشنی دے سکتا ہے۔ ایک بار مجھے امریکا سے ان کے ایک بیٹے کا فون موصول ہوا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا اس کے والد کے مجموعہ کلام کا کوئی نسخہ میرے پاس ہے۔ میرے پاس تھا لیکن گم ہو گیا تھا۔ اسی سے معلوم ہوا کہ چھوٹا بھائی مزار کا مجاور ہے۔ واللہ اعلم۔
اس تمام تفصیل سے رئیس امروہوی کی ہمہ جہت شخصیت کے کچھ پراسرار پہلو سامنے آتے ہیں۔ لیکن انتہائی پر اسرار معملہ ان کا قتل تھا۔ مجھے معلوم ہوا تھا کہ انہوں نے اورنگی میں ”رئیس آباد نمبر ون“ کے نام سے اسی گز کے پلاٹس پر غریبوں کے لیے ایک تعمیراتی منصوبہ شروع کیا ہے۔ ان کا داماد ”نیشنل کنسٹرکشن کمپنی“ کا مالک تھا جس کا بورڈ ان کے گھر پر لگا ہوا تھا لیکن میرا کبھی اسے ملنا تو درکنار ادھر جانا نہیں ہوا۔ کچھ عرصہ بعد ”رئیس آباد نمبر دو“ کا افتتاح بھی معمول کا واقعہ تھا کیونکہ اورنگی میں جائز سے زیادہ ناجائز تعمیرات کا زور تھا۔ خود مجھے دس نمبر اورنگی پر چار سو گز برائے نام قیمت پر مل رہے تھے اور میں اپنی فیملی اور والدین کے ساتھ اسے دیکھنے بھی گیا تھا لیکن مجھے فکر تھی کہ کسی قانونی کارروائی کے بغیر قبضہ کیسے بر قرار رہے گا۔ یہ ذمے داری ”پیپلز میڈیکل سٹور“ کے مالک نے لے لی جس کے نام کی وہاں بڑی دہشت تھی۔ اس کے باوجود ہم نے سودا نہیں کیا کہ ہمارا وہاں مکان بنا کے رہنا ممکن ہی نہیں تھا
اورنگی کے علاقے میں رئیس آباد 1 ور 2 کے چھوٹے رہائشی پلاٹ فروخت ہو گئے تو رئیس امروہوی نے بڑے پلاٹوں والی تیسری ”ڈی لکس سکیم“ کا اعلان کیا۔ مجھے قطعی علم نہیں تھا کہ ان کی قیمت کیا ہے اور بکنگ کی رفتار کیا ہے۔ میری نہ دلچسپی تھی اور نہ کسی سے رابطہ تھا۔ وہ تو کچھ عرصے بعد کسی محفل میں فخریہ ذکر کیا کہ میں عالمی ڈائجسٹ میں مدیر خصوصی ہوں تو ایک شخص نے پوچھا ”وہی جو رئیس امروہوی کے بھائی نکالتے ہیں؟ کیا نام ہے۔ جون ایلیا۔“
میرے اقرار پر اس نے کہا ”رئیس امروہوی سے تو ملتے ہوں گے اپ؟“
”روز۔ مجھ پر بہت مہربان ہیں“ میں نے شیخی ماری۔
”اچھا تو میرا ایک کام کرا دیں۔ میں نے رئیس آباد کے پلاٹ کی پوری ادائیگی کر دی ہے لیکن مجھے قبضہ نہیں مل رہا ہے۔ دھکے کھا رہا ہوں“ اور تب مجھے پتا چلا کہ رئیس آباد کے پلاٹس بھی کراچی لینڈ قبضہ مافیا کی طرح حاصل کیے گئے اور مروجہ طریقہ واردات کے مطابق لوگوں سے پیسے بھی پورے لے لیے گئے؛ لیز یا لینڈ ریکارڈ میں قبضہ کہاں سے دیا جاتا۔ قبضہ کہاں سے دیا جاتا۔ میں نے بھی زاہدہ کی طرح رئیس صاحب کے معاملات سے یکسر علیحدگی اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ بعد میں جو لوگ مجھے وسیلہ سمجھ کے فریاد لائیے میں نے ان سے صاف کہا کہ میں صرف عالمی ڈائجسٹ میں کہانیاں لکھتا ہوں۔ رئیس امروہوی سے کوئی تعلق نہیں۔
اب یاد نہیں کہ اس صورت حالات کے ساتھ کتنا وقت گزرا لیکن یقیناً لوگ اپنے پیسے کی واپسی یا پلاٹ کی الاٹمنٹ ہر قیمت پر چاہتے تھے۔ ایک روز میں عالمی ڈائجسٹ کے ایک کمرے میں اکیلا بیٹھا کچھ لکھ رہا تھا کہ دو افراد موٹر سائیکل پر اندر آئے۔ رئیس امروہوی کے گھر کا راستہ بغلی گلی میں تھا لیکن میں نے ان کو واپس نہیں کیا جیسے زاہدہ امدادی سامان لانے والوں کو بھی ناگواری سے واپس کر دیتی تھی کہ ان کا راستہ گلی میں ہے۔ دونوں موٹر سائیکل والے بیچ کے میدان جیسے صحن میں سے گزر کے آگے چلے گئے۔ میں کام کرتا رہا اور وقت گزرنے کا اندازہ نہ ہوا کہ فائر کی آواز کتنی دیر بعد آئی۔
لیکن نہ جانے کیسے میری چھٹی حس نے مجھے خبردار کر دیا کہ خیریت نہیں اور مجھے جائے واردات سے غائب ہو جانا چاہیے ورنہ گواہی میں پھنس جاؤں گا۔ واردات کے لیے حالات کی موافقت ایک دم میرے ذہن میں آ گئی کہ یہ ہو سکتا ہے۔ ضروری نہیں لیکن یہ ناممکن بھی نہیں۔ بس ایک منٹ میں اٹھ کر میں نے کمرہ لاک کیا۔ دروازے کے سامنے کھڑی اپنی ہونڈا 70 کو کک لگائی اور بھاگ گیا۔ میری رہائش وہیں گارڈن روڈ آفیسرز کوارٹر نمبر ڈی 175 میں تھی جو مشکل سے دس منٹ کا راستہ تھا۔
میں کچھ خوفزدہ تھا کیونکہ ابھی کچھ بھی کنفرم نہیں ہوا تھا لیکن میں محتاط تھا۔ اس حد تک کہ نہ میں نے صورت سے پریشانی ظاہر ہونے دی نہ بیوی سے کوئی بات کی۔ یہ میری فطرت ہے کہ حادثہ ہو یا ایمرجنسی میں زیادہ پرسکون ہوجاتا ہوں کہ اب معاملات کو مجھے ہی سنبھالنا ہے۔ واقعات اگلے دن خبروں کی صورت سامنے آ گئے۔ یہ فیملی ایشو تھا کہ ”موت“ کو کس طرح سامنے لایا جائے کہ ریس امروہوی کا امیج خراب نہ ہو۔ اور یہ کام انہوں نے باہمی اشتراک سے باہمی مفاد میں کیا۔ یہاں پبلک میں ہونے والے ہر قتل کا سراغ بھی یوم سزا پر چھوڑ دینے کا چلن ہے۔
اس راز پر بھی اب سے دس سال قبل تک میں نے ایک حرف نہیں کہا تھا۔ دس گیارہ سال قبل میں نے فیس بک پر آئی ڈی بنائی تو میری اولیں فرینڈ سویڈن کی ایک بیوہ پاکستانی خاتون نفیس نگہت تھیں جو عرصہ تیس چالیس سال سے وہاں آباد ہیں۔ وہ تہذیب و شائستگی کا مرقع ادبی ذوق کی حامل خاتون رشتے میں رئیس امروہوی کی بھتیجی تھیں۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے مجھ سے پوچھ یا کہ کیا آپ کو رئیس امروہوی کی اچانک موت کا سبب معلوم ہے۔ تو میں نے ان کو یہ سب بتایا تھا۔ نہیں معلوم انہوں نے کس حد تک اعتبار کیا لیکن وہ میرا اپنے خاندانی بزرگ کی طرح احترام کرتی تھیں
ہر شریف آدمی کی طرح میں بھی بزدل ہوں اور اپنی عزت اور زندگی کو اپنی فیملی کی ضرورت سمجھتا ہوں لیکن آج یہ سب لکھتے ہوئے میں خود کو اتنا غیر محفوظ نہیں سمجھتا۔ اور یہ ویسے بھی میرے خیال کے سوا کیا ہے۔ یہ کون سا چشم دید گواہ کا بیان حلفی ہے


