جمہوریت اور وطن عزیز کے موجودہ حالات

کہا جاتا ہے نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر سرمایہ بہترین اور کارآمد ہو تو ترقی ہوتی ہے اور اگر اس کا سرمایہ ردی، بے کار اور فضول ہو تو ساری محنت ضائع چلی جاتی ہے۔ اسی طرح نوجوان مثبت، کار آمد اور نتیجہ خیز امور میں مشغول ہوں تو قوم ترقی کرتی ہے ورنہ اس قوم کو وقت ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں ملتا۔
دور کیوں جائیں! وطن عزیز برصغیر پاک و ہند کی آزادی کی جدوجہد بھی نوجوانوں نے ہی لڑی۔ شاملی کے محاذ پر انگریز سے جنگ کرنے یا نہ کرنے کے معاملہ پر علماء کا اکٹھ ہوا، کچھ کا خیال تھا کہ ہم انتہائی بے سر و سامانی کے عالم میں ہیں۔ جنگ کے لیے مطلوبہ قوت ہمارے پاس نہیں ہے، اس لیے ہمیں جنگ نہیں کرنی چاہیے۔ اس دوران بیس سالہ نوجوان محمد قاسم نانوتوی اٹھا اور کہا ”کیا ہمارے پاس اتنے وسائل بھی نہیں جتنے بدر کے لوگوں کے پاس تھے؟
“ بس اتنی سی بات پر سارے لوگ متفق ہو گئے کہ جنگ ہونی چاہیے۔ مجموعی نتیجہ تو اس جنگ کا مسلمانوں کے حق میں نہ نکلا کہ اس کے بہت سے اسباب و عوامل تھے لیکن وقتی طور پر اس چھوٹی سی جماعت نے شاملی کا علاقہ اپنے ہاتھ میں کر لیا۔ جب مسلمان جنگ کے میدان میں انگریزوں سے نہ جیت سکے تو علامہ محمد اقبال، قائد اعظم محمد علی جناح، نواب بہادر یار جنگ اور ان جیسے نوجوانوں نے سیاست کے میدان میں انگریز کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ اور وطن عزیز وجود میں آ گیا۔
آج پاکستان ’ملائیشیا‘ ترکی ’بنگلہ دیش اور بہت سے دیگر مسلمان ممالک میں جمہوری نظام رائج ہے۔ پاکستان میں انتخابات کے ذریعے عوام اپنے نمائندگان کو چنتے ہیں اور انتخابی عمل کے ذریعے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کو منتخب کیا جاتا ہے۔
پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان تھے باقی ممالک جمہوری نظام میں پروان چڑھے ترقی کی جب کہ کبھی تو ڈکٹیٹر شپ نے آ کر مادر ملت کو غدار قرار دیا اور کبھی جمہوریت اور اقتدار کے لیے دو لخت ہوتا چلا گیا۔ پھر کسی ڈکٹیٹر نے اقتدار پر قبضہ کیا تو بھٹو جیسے لیڈر کو پھانسی چڑھا دیا گیا۔ ایک طرف تو آج تک کسی وزیر اعظم کو مدت نہیں پوری کرنے دی گئی۔ دوسری طرف ہم بچپن سے یہ سنتے آ رہے ہیں کہ ملک نازک حالات سے گزر رہا ہے۔
حکومت بے نظیر شہید کی تھی، یا اقتدار پر براجمان نواز شریف تھے یا ڈکٹیٹر پرویز مشرف، حاکم زرداری تھے ہو یا عمران، یا پھر آج مکسچر پی ڈی ایم حکومت میں وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان شہباز شریف ہوں۔ ملک کی حالت نہ بدل سکی ہر وقت یہ جملہ کانوں سے ٹکرا کر دماغ تک اترتا چلا گیا ملک نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔ لیکن لگتا یہ ہی ہے کہ اب ملک واقعی نازک موڑ سے گزر رہا ہے میں نے کبھی ایسے حالات اپنی زندگی میں نہیں دیکھے پاکستان میں اس وقت بڑی سیاسی جماعتوں کی تعداد تقریباً بیس کے قریب ہے سب کے رہ نماؤں کو مختلف الزامات میں کئی دفعہ گرفتار کیا گیا۔
90 روز سے بھی زائد بغیر کسی عدالتی کارروائی کے حبس بے جا میں رکھا گیا۔ لیکن کبھی ایسے حالات نہیں دیکھے۔ جیسے حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں گرفتاری کے بعد دیکھنے میں آئے۔ پر امن احتجاج تو ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہوتا ہے لیکن اس جمہوری حق کو جس طرح پر تشدد واقعات میں تبدیل کیا گیا۔ اس کی بد ترین مثال شاید پوری پاکستانی تاریخ میں نہیں ملتی قومی سلامتی کے اداروں پاکستان آرمی کے جنرل ہیڈکوارٹر پر باقاعدہ حملہ اور لاہور کور کمانڈر کے گھر پر باقاعدہ پلاننگ کر کے تھوڑ پھوڑ جلاؤ گھیراؤ خانہ جنگی کی طرف ملک کو دھکیلنے کی ایک ناکام کوشش تھی ایسے کڑے حالات میں افواج پاکستان میں بہترین پروفیشنل صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا تقریباً چوبیس گھنٹے گزرنے کے بعد پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے وارننگ جاری کی، کہ اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔
لیکن بالآخر یہ نوجوان کون تھے ان کو اس نہج تک کس نے پہنچایا۔ کہ یہ ملک دشمنی تک اتر آئے۔ در اصل یہ نوجوان جنونیت، شخصیت پرستی اور غلامی کی اعلیٰ مثال ہیں۔ لیڈر کے لیے پر امن احتجاج کی حد تک تو لیڈر کے ساتھ محبت کہلاتی ہے لیکن حالیہ تمام واقعات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس جنونی ٹولے کو ملک کی سلامتی سے زیادہ شخصیت پرستی ہو چکی ہے۔
وطن عزیز کے ساتھ اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو گا کہ جہاں 60 سے 70 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں اور وہ جس شخص کو مسیحا اور کاروبار کی فیکٹری سمجھ رہے ہیں وہ چار سال اقتدار میں رہ کر ان نوجوانوں کے لیے ملک کو کوئی سی پیک جیسا پروجیکٹ تو نہ دے سکا بلکہ اس کو بھی کھڈے لائن لگوانے میں کسر نہ چھوڑی، بیس سے زائد بیانیے بنائے کبھی سائفر آیا تو کبھی باجوہ میر جعفر بنا۔ نوجوان نسل اس شخص کی جنونیت میں وطن عزیز کے لیے بھی، اپنے لیے بھی اور اپنے خاندان کے لیے بھی مشکلات کھڑی کر رہے ہیں۔ پوری دنیا میں نوجوان نسل ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے مثبت اقدامات کرتی ہے لیکن ہمارے ہاں نوجوان ملک کو مزید مستحکم کرنے کی بجائے قانون اپنے ہاتھ میں لینا پسند کرتے ہیں
خدارا ایسے اقدامات نہ کریں جن سے اس ملک کے باسیوں اور عام لوگوں کے شب و روز ان پر تنگ ہوتے جائیں۔ غریب کی مشقت کو دیکھیں، اس کے دکھ درد کرب و الم اور احساس محرومی کی دستک کو سننے کی کوشش کریں۔ جب آپ ملک جام کر دیں گے تو غریب مزدور کا چولہا جو پہلے ہی مانند پڑھ چکا ہے مکمل بجھ جائے گا۔
پوری دنیا کی نظریں اس وقت پاکستان پر جمی ہوئی ہیں قانونی راستہ اختیار کریں۔ یہاں سیشن کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک نظام موجود ہے۔ قانونی چارہ جوئی کریں۔ اپنی صلاحیتوں کو مثبت کاموں کے ذریعے انقلاب لانے میں استعمال کریں۔
تاریخ گواہ ہے کہ ہر انقلاب میں نوجوان طبقے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ نوجوانوں میں کام کرنے کا جذبہ اور انقلاب لانے کی امنگ ہوتی ہے۔ یہ مضبوط عزم اور بلند حوصلہ ہوتے ہیں۔ ان کی رگوں میں گرم خون اور سمندر کی سی طغیانی ہوتی ہے۔ ان کی قابلیت و ذہنی صلاحیتیں انھیں حالات کا رخ موڑ دینے، مشکلات جھیلنے کے لئے ابھارتی رہتی ہیں۔ اس لیے کوشش کریں کہ سب سے پہلے اپنے آپ سے شروع کریں۔ اپنے آپ کو مضبوط کردار، با اخلاق رویے اور خوب سیرتی کا نمونہ بنائیں۔
تہذیبی و روایاتی اور مذہبی و معاشرتی روایات کا خیال رکھتے ہوئے سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر اپنا نکتہ نظر پیش کریں۔ لوگوں کو حق اور سچ کی جانب راغب کریں۔ سیاسی مخالفین کے ساتھ بیٹھ کر ترقی کے کاموں کے لیے مشورہ کریں۔ ان کی رائے کو اہمیت دیں۔ آپ ایک چھوٹی سی کوشش کر کے دیکھ لیں۔ اس کوشش سے آپ کو ہر دور میں فائدہ ہو گا، خدانخواستہ جب آپ کسی ایسے ماحول میں موجود ہوں، جہاں سخت گفتگو ہو رہی ہو جو آپ کی برداشت کی حد توڑنے والی ہو۔
وہاں آپ تھوڑی دیر کے لیے ایک ٹھنڈی سانس لیں اور سخت لہجے میں جواب دینے کی بجائے انتہائی نرمی سے اپنی بات کا آغاز کریں۔ اپنی باتوں میں ایسی خوشبو پیدا کریں جو آپ کے جانے کے بعد بھی محسوس ہو۔ آپ کی گفتگو کی چاشنی ایسی ہو کہ اختلاف رائے کو جھگڑے کی طرف لے جانے والی باتیں محبت میں بدل جائیں۔ انسان کی زندگی میں جوانی ایسا مرحلہ ہوتا ہے جس میں وہ زیادہ تر جذبات میں آ کر فیصلے کر دیتا ہے جس کا ازالہ وہ بعد میں نہیں کر پاتا۔
انسان کے ارادے، جذبے اور توانائی اپنے عروج پہ ہوتے ہیں۔ اگر ان جذبوں اور توانائی سے قوم و ملک فائدہ نہ اٹھا سکیں تو یہ بہت بڑا نقصان ہے۔ اگر ہم اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو پاکستان کی آبادی کا تقریباً 60 فیصد سے زائد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان وہ ہیں جو صلاحیتوں سے بھرپور ہیں۔ جن کے عزائم بلند ہیں۔ جو مایوس نہیں ہیں اور جن کو اپنے ملک سے محبت ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ وطن عزیز کی باگ ڈور نوجوان سنبھالیں۔ لیکن اس سے پہلے اپنے سامنے ایک واضح خاکہ اور منصوبہ بندی رکھیں کہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے کیسے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اگر تمام سیاسی جماعتوں کے نوجوان پختہ عزم کر لیں اور مشترکہ جدوجہد کریں تو وہ وقت دور نہیں جب وطن عزیز ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں کھڑا ہو گا۔

