مغربی یورپ کا درمیانی دور وسطی 1000 تا 1300

یورپ کی تاریخ میں 474ء میں سقوط روم ( مغربی رومن سلطنت کے باقاعدہ خاتمے ) کے بعد سے اگلے 1000 سال ( 1500ء ) تک عرصے کو دور وسطی کہا جاتا ہے۔ جو تین ضمنی ادوار ( ابتدائی، درمیانی اور آخری) میں تقسیم کیا ہے۔
500ء سے 1000ء تک عرصہ یورپ کا ”ابتدائی دور وسطی“ کہلاتا ہے اس دور میں جرمنک قبائل کے ہاتھوں رومن سلطنت کے انتشار کے بعد تجارت، شہروں اور علوم و فنون کو زوال آ گیا تھا۔ اگرچہ اس دور میں کچھ عرصے کے لیے فرانک بادشاہ ”شارلیمان“ ( 768 تا 714ء ) کے تحت استحکام آ گیا تھا مگر اس کے بعد یورپ کو پھر ( اس بار ”سکینڈے نیویا“ ) قبائل کا حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دور میں رومن کیتھولک چرچ ہی صرف ایک ایسا ادارہ تھا جو مذہب کے ساتھ سیاسی اور سماجی نظم و ضبط قائم کرنے میں بھی اہم کردار کر رہا تھا
اس کے علاوہ اسی دور میں موثر مرکزی اتھارٹی کی مخدوش ہو جانے پر ”فیوڈلزم“ ابھر آیا تھا جو مقامی سطح پر کسی حد تک معاشرتی تحفظ اور استحکام قائم رکھنے کا ایک مفید ادارہ یا بندوبست تھا جبکہ اس کے ساتھ منسلک ”مینیورزم“ معاشی خود انحصاری کا نظام تھا۔ تاہم مجموعی طور پر مغربی یورپ کے حالات مستحکم اور تسلی بخش نہیں تھے۔
اس کے بعد اگلے تین سو سال ( 1000 کے بعد سے 1300 ) تک کا عرصہ ”درمیانی دور وسطی“ کہلاتا ہے۔ 11 ویں صدی کے اخیر میں مغربی یورپ میں استحکام اور بہتری کے کئی آثار ظاہر ہونے لگے تھے۔ 1 میگیار اور وائی کنگز قبائل کے حملے تھم گئے تھے۔ 2 طاقتور امراء اور بادشاہ اپنے علاقوں میں کافی حد تک نظم و ضبط قائم کرنے لگے تھے 3۔ زرعی پیداوار میں اضافہ ہونے لگا تھا۔ 4 خوراک میں اضافہ، وباؤں کا خاتمہ اور فیوڈل لڑائیوں میں کمی، آبادی کے بڑھنے کے باعث بنے۔
5 قصبوں اور شہروں کی آباد کاری، تجارت کا احیاء اور فروغ۔ تاجروں اور اہل حرفہ کے گلیڈز (کونسلز) تشکیل دینے اور یوں درمیانے طبقے کا ظہور اس دور کی معاشی ترقی کی نمایاں علامات تھیں۔ اسی طرح اسپین اور سسلی میں مسلمان اقتدار کے خلاف عسکری کامیابیاں اور 11 ویں صدی کے آخری سالوں ( 1095 ) سے مقدس سرزمین (یروشلم ) پر قبضہ کرنے کے لیے جارحانہ مہمات (صلیبی جنگوں ) کا آغاز مغربی یورپ اور بالخصوص چرچ کی بڑھتی ہوئی طاقت اور خود اعتمادی کے مظہر تھے۔ نیز مغربی یورپ کے شمالی مشرقی سرحدوں پر جرمن قبائل کی فتوحات اور نو آبادیات قائم کرنا لاطینی عیسائیت ( مغربی یورپ) کی ابھرتی طاقت کے ثبوت تھے۔ اس دور میں اصلاحی تحریکوں کے طفیل چرچ اور عام عیسائیوں کے درمیان تعلق مستحکم ہوا جو چرچ اور پاپائیت کے اقتدار میں اضافے کا موجب بنا۔
اسی دور میں معاشی اور مذہبی استحکام کے ساتھ یونیورسٹیوں ( تعلیمی اداروں ) کے قیام اور قدیم یونانی علوم و فنون کی بازیافت سے فلسفہ، علم و ادب اور آرٹ کے شعبوں میں پیشرفت سے علم و تہذیب کے حوالے سے بھی مغربی یورپ رو بہ ترقی تھا۔ یوں لاطینی عیسائیت ( مغربی یورپ) درمیانی قرون وسطی کے دوران سنہرے دور میں داخل ہو گیا تھا۔
یہاں مغربی یورپ کی متذکرہ شعبوں میں پیشرفتوں بالخصوص ”ریاستوں کے قیام اور چرچ کی طاقت اور اثر و رسوخ“ کی تھوڑی سی تفصیل بیان کی جاتی ہے
معاشی ترقی۔ بہتر ٹیکنالوجی اور نئی زمینوں کو قابل کاشت بنائے جانے سے زرعی پیداوار اور خوراک میں زبردست اضافہ ہوا جو آبادی میں اضافہ میں ایک بڑا سبب بنا
شہروں اور تجارت کا احیا:
زرعی پیداوار میں اضافہ، بیرونی حملوں کے خاتمے، سیاسی استحکام اور بڑھتی آبادی شہروں اور تجارتی سرگرمیوں کے احیاء کے باعث بنے۔ 11 ویں صدی کے آغاز سے یورپی معیشت نے پچھلی صدی کی بدنظمی کے اثرات سے نکل کر نمایاں پیشرفت کر لی۔ اگلی دو صدیوں کے دوران مقامی، علاقائی اور براعظمی تجارت اتنی تیز رفتار ہو گئی تھی کہ بعض مورخین نے اس کو ایک ایسا تجارتی انقلابی دور قرار دیا ہے جو ان کے مطابق قدیم سلطنت روم کے ”دور امن“ ( Pax Romana ) پر سبقت لے گیا تھا 11 ویں صدی کے دوران یورپ بھر میں شہروں اور قصبوں کا پھر سے آباد ہونا اگلی صدی میں تجارتی مراکز ہونے کے ساتھ سماجی۔
معاشی اور ثقافتی حوالے سے بھی اہم ثابت ہوئے۔ خوراک کی پیداوار کے علاوہ نئے مواقع مہیا کرنے کے ذرائع بنے۔ اور مینیورزم (ابتدائی دور وسطی کا جاگیر پر مبنی معاشی نظام ) کی جگہ بہتر نظام لانے میں کردار ادا کیا۔ یہاں تاجروں اور ہنر مندوں پر مبنی ایک نیا طبقہ ( درمیانہ طبقہ) ابھر آیا۔ شہروں کے ان باسیوں کے اقدار اور طرز فکر دیہات کے فیوڈل، زرعی غلاموں اور پادریوں سے مختلف تھے۔ شہروں کے یہ لوگ تنقیدی، فعال اور ترقی پسندانہ سوچ رکھتے تھے۔ یہاں پنپی شہری میڈل کلاس نے بعد کے جدید یورپی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔
ریاستوں کا ظہور:
تجارت کی احیا اور شہروں کی ترقی لاطینی عیسائی دنیا کی بڑھتی قوت کی علامت تھے۔ اس کی طاقت کی ایک اور علامت ابھرتی ریاستوں کا فراہم کردہ نظم و ضبط تھی۔ فیوڈلزم کے تحت یورپ طاقت ور لارڈز کے زیر نگران بہت سارے مقامی خطوں میں منقسم تھا جبکہ چرچ ایک ایسی ”عیسائی دولت مشترکہ“ یا، سلطنت کا خواہاں جو ”ہوپ“ سے رہنمائی لینے والے ایک شہنشاہ کے زیر حکومت یو اس دور میں عالمگیر عیسائی معاشرے کا تصور حقیقت میں ڈھلنا خارج از امکان نہیں تھا۔
مگر دوسری طرف کچھ اور قوتیں یا عوامل یورپ کو مختلف سمت میں کھینچ رہی تھیں۔ بادشاہ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ اہلکاروں کے ذریعے شاہی قانون کے نفاذ، عدالتوں میں مقدمات کے تصفیے اور شاہی ٹیکس وصول کروانے لگے تھے۔ جس سے مقامی لارڈز کا اثر کم ہو گیا۔ اس کے ساتھ بادشاہ اپنے علاقوں کی توسیع کرنے لگے اور بتدریج مرکزی حکومتوں کو مستحکم کرتے گئے۔ عام رعایا اپنی بنیادی وفاداری کا مرکز چرچ اور لارڈز کے بجائے بادشاہ کی ذات کو بنانے لگے۔
انہی پیشرفتوں سے یورپی ریاستوں کی بنیادیں پڑنے لگیں۔ اگرچہ اسی دور میں یورپ کے تمام خطوں نے یکساں طرز نہیں اپنایا۔ کیونکہ ایک طرف اسی زمانے میں اگر انگلینڈ اور فرانس بڑی حد تک متحد ہو گئے تھے تو دوسری طرف جرمنی اور اٹلی کے علاقے لاتعداد آزاد ریاستوں کی صورت میں منقسم رہے۔
انگلینڈ @ 5 ویں صدی عیسوی میں انگلینڈ سے رومنوں کے نکل جانے کے بعد جرمنک قبائل ”اینگلو سیکسن“ نے متعدد چھوٹی راج دھانیاں قائم کر لیں۔ 9 ویں صدی میں ڈانش ( نارتھ میں قبائل کی ایک شاخ ) نے بیشتر ”اینگلو سیکسن“ انگلینڈ فتح کر لیا مگر ”ویسکس“ کی بادشاہت اپنے حکمران البرٹ دی گریٹ ( 871 تا 899 ) کی زیر قیادت محفوظ رہی البرٹ کے جانشینوں نے بتدریج ڈانش سے علاقہ دوبار حاصل کر کے یہاں ”اینگلو سیکسن“ اقتدار دوبارہ بحال کر دیا۔
1066 میں فرانس میں آباد نارمن ( نارتھ مین ) قبائل نے ”اینگلو سیکسن“ کو شکست دے کر انگلینڈ پر قابض ہو گئے۔ ان کے کمانڈر ولیم فاتح ( ڈیوک آف نارمنڈی۔ 1027 تا 1087 ) نے مفتوحہ انگلینڈ پر موثر کنٹرول قائم کرنے کے لے اس کا چھٹا حصہ اپنے لیے رکھ کر بقیہ اپنے امراء میں تقسیم کر لیا۔ یہاں سے انگلینڈ میں ”نارمن دور“ کا آغاز ہوا۔ 1100 میں جب ”ہنری اول“ برسراقتدار آیا تو انگلینڈ میں متضاد قانونی روایات (اینگلو سیکسن قوانین، نارمن کا فیوڈل قانون۔
چرچ قانون، اور شہروں کے تاجروں کے بنائے گئے کمرشل قوانین) ملکی اتحاد کی راہ میں رکاوٹیں تھیں۔ ”ہنری اول“ اور ”ہنری دوم ( 1154 تا 1189 ) کے ادوار میں بتدریج“ کامن لا ”متشکل ہوا۔ جس کے نفاذ نے قومی اتحاد کو مستحکم کیا۔ یہی“ کامن لا ”انگریزی قانونی نظام کی بنیاد ہے۔ مستحکم قانونی اور عدالتی نظام کے ساتھ موثر مالی انتظام بھی ملک کے استحکام کا باعث بنا۔
کنگ جان ( 1199 تا 1216 ) کے دور میں ”میگناکارٹا“ کے دستاویز سے انگلینڈ کی تاریخ میں ایک اہم قدم اٹھایا گیا۔ یہ بنیادی حقوق اور آزادیوں کے حوالے سے انگلستان کا بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر چہ یہ امراء کا بادشاہ کی طرف سے اپنے حقوق کی خلاف ورزی کے ضمن میں تھا۔ مگر اس کے بعض اصول ایسے تھے جن کا وسیع تشریح یا اطلاق ممکن تھا۔ اور بعد کی صدیوں ان کی تشریحات کی بنیاد پر بادشاہ کے اختیارات محدود کر دیے گئے۔
ولیم نے ”اینگلو سیکسن“ انگلینڈ کی یہ جرمنک روایت برقرار رکھی کہ بادشاہ ملک کے اہم افراد کے مشوروں کو مدنظر رکھے۔ 10 ویں صدی میں یہ تسلیم شدہ دستور بن گیا بڑے کونسل ”میں شریک مشیروں۔ کے بغیر بادشاہ کوئی بڑا فیصلہ نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ چھوٹے امراء اور شہری معززین سے بھی بادشاہ کا مشورہ لینے کی روایت بھی پڑ گئی۔ یہ دو گروپ بعد میں ہاؤس آف لارڈز (امراء اور بشپ پر مشتمل) اور ہاؤس آف کامنز ( نائیٹس اور نے طبقے کے نمائندوں پر مشتمل) کہلائے جانے لگے۔ یوں انگلش پارلیمنٹ متشکل ہوئی۔ اور 14 ویں صدی کے اخیر میں یہ حکومت کا مستقل ادارہ بنا۔
زمانہ وسطی میں انگلستان ایک مرکزی متحدہ ریاست بن گیا۔ تاہم اس میں بادشاہ کو لامحدود اختیارات حاصل نہ تھے اور نہ وہ قانون سے بالاتر تھے۔ عوام کے حقوق ”کامن لا ء اور میگنا کارٹا“ میں موجود بعض اصولوں اور پارلیمنٹ کی طاقت سے محفوظ کرائے گئے۔
فرانس شارلیمان کے بعد 150 سال تک اس کی سلطنت کا مغربی حصہ ( موجودہ فرانس) ایک طرف اس کے جانشینوں کے مابین خانہ جنگی ”وائی کنگز“ اور عرب مسلمانوں کے حملوں کا شکار رہا اور دوسری طرف طاقتور لارڈز بھی اقتدار کی کشمکش میں باہمی برسرپیکار تھے۔ تاہم انہوں نے 987ء میں پیرس کے ایک ڈیوک ”ہگ کپٹ“ کو بادشاہ بنایا۔ جو مستحکم شاہی سلسلہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اسی سلسلے کے ایک بادشاہ ”لوئس ششم“ ( 1108 تا 1137 ) کے دور سے شاہی اقتدار بتدریج مستحکم ہونے لگا۔
فلپ آگسٹس ( 1180 تا 1223 ) نے اپنے دور میں فرانس میں شاہی اقتدار کے ساتھ علاقے میں بھی اضافہ کیا۔
اسی طرح لوئس نہم ( 1226 تا 1270 ) نے اپنے بعض اقدامات سے شاہی اقتدار کو مزید مستحکم کیا اور اس کے جانشینوں نے شاہی طاقت کے ساتھ علاقائی اضافہ کرنا بھی جاری رکھا۔ دور وسطی کے اخیر تک فرانس نہ صرف ایک متحدہ ریاست بن گیا تھا بلکہ اتنا طاقت ور ہو گیا تھا کہ 14 ویں صدی کے ابتدا میں اس کا بادشاہ فلپ چہارم ( 1285 تا 1314 ) نے پوپ ”بونیفس ہشتم“ کو اغوا کر کے کچھ عرصہ قیدی بنا لیا۔ رہائی کے ایک ماہ بعد پوپ کا انتقال ہو گیا۔
شارلیمان سلطنت کے انتشار کے بعد جرمن علاقے کئی بڑے بڑے ڈچیڑ ( Duchees ) میں تقسیم ہو گئیں جرمنک روایات کے مطابق ”ڈیوکس“ نے اپنا ایک بادشاہ منتخب کر لیا مگر وہ کچھ زیادہ اقتدار نہیں رکھتا تھا۔ تاہم جب اوٹو اول دی گریٹ ( 936 تا 973 ) بادشاہ بنا تو اس نے جرمن ”بشپوں“ اور ”آرچ بشپوں“ سے اتحاد کر لیا جو اس کو عسکری اور تربیت یافتہ منتظمین فراہم کر سکتے تھے۔
951 میں اس نے اپنا اثر جتانے کے لیے شمالی آٹلی پر حملہ کر دیا۔ پھر 10 سال بعد 961 میں پوپ کی حفاظت کے لیے وہاں پھر جاکر ”پوپ“ کے مخالفین کے خلاف اقدامات کیے۔ 962 میں پوپ نے شارلیمان کے طرز پر روم کے شہنشاہ کے طور پر تاج پوشی کی ( بعد میں یہ خطاب مقدس رومی شہنشاہ میں تبدیل کیا گیا)
جرمن سلطنت کے اس احیاء سے دور وسطی کی جرمنی کی تاریخ آٹلی اور پاپائیت سے جڑ گئی۔
اوٹو ”اور اس کے جانشینوں کی خواہش یہ تھی کہ آٹلی (جو شارلیمان کی سلطنت کا حصہ تھا ) اور پوپ دونوں کو زیر تسلط لائے۔ یوں مقدس رومن سلطنت شہنشاہ اور پوپ کے درمیان رسہ کشی کا میدان بن گئی۔ پوپ نے شہنشاہ کے حریف جرمن ڈیوکس ( Dukes) اور آٹلی کے شہروں سے اتحاد کر لیا۔ پاپائیت اور آٹلی کی سیاسی معاملات میں جرمن مداخلت ہی بنیادی سبب رہا جس کے باعث جرمن علاقے دور وسطی میں متحد نہ ہو سکے۔
نمائندوں اداروں کا ظہور
جدید دور کی طرف درمیانی وسطی دور کی ایک اہم پیشرفت نمائندہ اداروں کا قیام ہے۔ 12 ویں صدی کے اخیر میں اسپین کی لایون ( Lyon) بادشاہت میں نمائندہ اسمبلیوں سے اس کا آغاز ہوتا ہے۔ 13 ویں صدی میں اسپین کی کئی دوسری ریاستوں کے علاوہ اسکینیڈانیوا انگلستان، اور جرمنی کے کئی علاقائی ریاستوں مقدس رومن سلطنت میں اور 14 ویں صدی میں فرانس اور ہالینڈ میں پارلیمنٹ قائم ہوئے۔ ٹیکس کے نفاذ، اور کئی اہم قوانین کے سلسلے میں اپنے ممالک میں قائم پارلیمنٹ سے مشورہ لینے کے اصولوں کو بادشاہوں نے عمومی طور پر تسلیم کیا۔ نمائندہ پارلیمنٹ کا ابھرنا مغربی تہذیب کی ایک منفرد خصوصیت تھی۔
پاپائیت کا اقتدار یا تسلط
چرچ نے ابتدائی قرون وسطی میں مغربی تہذیب اور معاشرے کے بقا کے لیے اہم رول ادا کیا تھا تاہم اسی دور میں ”وائی کنگز“ کے ہاتھوں لوٹ مار سے چرچ بھی متاثر ہوا، تھا۔ پادریوں کی علمی سطح گر گئی تھی اور ان میں بدعنوانی بڑھ گئی تھی۔ درمیانے دور وسطی میں معاشی احیاء اور بڑھتے ہوئے سیاسی استحکام کے ساتھ مذہبی پہلو یا چرچ کی حالت بھی بہتر اور مستحکم ہو گئی۔ عام لوگوں کی چرچ سے وابستگی بڑھ گئی۔ چرچ کے اندر اصلاحی تحریکوں سے پاپائیت کی طاقت اور اثر میں اضافہ ہوا
اگرچہ 11 ویں صدی کی وسط ( 1054 ) میں کئی اسباب (نظریاتی، سیاسی، نسلی اور لسانی) کے بنا مشرق (قسطنطنیہ کے بازنطینی سلطنت) اور مغرب ( مغربی یورپ) کے کلیساؤں کے درمیان اختلاف کے باعث مشرقی کلیسا رومن کیتھولک چرچ سے الگ ہو گیا۔ کلیسا کی اس تقسیم کو ”نفاق عظیم“ کہا جاتا ہے۔ قسطنطنیہ کے حکمرانوں نے ”پوپ“ کے اثر سے آزاد الگ کلیسائی نظام ”یونانی آرتھوڈاکس“ کے نام سے قائم کر لی۔ جبکہ مغربی یورپ میں ”رومن کیتھولک چرچ ’پاپائے اعظم کے تحت رہا۔ (عیسائی چرچ کی اہم تاریخ بیشتر“ پوپ‘ کے تحت رومن کیتھولک چرچ سے متعلق ہے )
اسی دور میں ”پوپ“ کے زیر ہدایت مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگیں ( 1095 تا 91 12 ) شروع کی گئیں جو مغربی عیسائی دنیا کو کچھ عرصہ متحد کرنے کا باعث ہوئیں۔ چرچ نے عیسائی معاشرے کو الہی (مذہبی) معیار کے مطابق زندگی گزارنے۔ اداروں اور تمدن کو عیسائی طرز پر ڈھالنے کی بھرپور کوششیں کیں اسی دور میں مذہب مختلف اسباب کے بنا، مغربی معاشرے کے ہر پہلو پر چھایا رہا جس کی وجہ سے اس درمیانی دور وسطی کو ”عقیدے کا دور“ بھی کہا جاتا ہے۔ مذہب سے عقیدت کے باعث یورپ بھر میں نئے طرز تعمیر ( گوتھک ) کی سینکڑوں ”بڑے بڑے کیتھیڈرل“ ( گرجا گھر ) بنائے گئے
پوپ گریگری ہفتم کے چرچ اصلاحات
10 ویں صدی تک چرچ مغربی یورپ میں وسیع جاگیر ( اٹلی کی ایک تہائی اور دوسرے ممالک میں بھی کافی جائیداد) کا مالک تھا۔ مگر لاطینی عیسائی ممالک میں پاپائیت کی سیاسی قائدانہ حیثیت تا حال ثانوی تھی ”پاپائیت“ اشرافیہ طبقے کی رشہ دوانیوں کا شکار تھا۔ اسی صورت حال میں پوپ بھی سازشوں کا حصہ بنتے رہے۔ ”پاپائیت“ کہ اتھارٹی کی کمزوری کا ایک سبب مقامی لارڈز بھی تھے جو سیاسی بنیادوں پر ’بشپ ”اور‘ پادری“ مقرر کرتے تھے۔ نتیجتاً چرچ کے نچلے درجے کے عہدیداروں کے ہاں معیاری نظم و ضبط کا فقدان رہا تھا۔ مگر اسی دور میں ”چرچ“ اندرونی اصلاحات کے باعث اپنے وقت کا بالادست طاقت بن گیا
پاپائیت کی طاقت کا بڑا محرک فرانس اور جرمنی کے مانٹیسری میں اصلاحی تحریکوں کا ظہور بنا۔ 910 کلونی ( بارگنڈی فرانس) میں قائم کردہ مانٹیسری کے بانی ڈیوک ”اکیوٹائن“ مانٹیسری نظام کو کسی لارڈ کے بجائے صرف پوپ کے تحت رکھنے کا علمبردار تھا۔ اس کے نمونے پر یورپ میں دوسری مانٹسیریز قائم ہو گئیں۔ کلونی چرچ اصلاح کا مرکز بن گیا۔ مصلحین چرچ کی تطہیر اور اس کو بادشاہوں اور لارڈز کی مداخلت سے آزاد کرنا ضروری سمجھتے تھے۔
اس ضمن میں انہوں نے 1059 میں پہلا اقدام اس اعلامیہ سے کیا کہ اب کے بعد پوپ کا چناؤ بادشاہ اور امراء کے بجائے کارڈنیل (اہم بشپ) کریں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے۔ 1 پادریوں کی شادی 2 سیمونی (چرچ عہدوں کی خرید و فروخت) اور 3۔ اینویسیچر ( دنیاوی منصب داروں کے ہاتھوں چرچ عہدیداروں کی تقرری) پر پابندی لگا دی۔ 1073 میں ان اصلاح پسندوں کے صف اول کا لیڈر ہائیڈل برانڈ ”گریگری ہفتم“ کے نام سے پوپ بنا۔ جس نے اصلاحی تحریک کے مقاصد پر بڑے جوش اور ولولے سے عمل کرنا شروع کیا۔
اینویسیچر کا معاملہ پر جرمن بادشاہ ہنری چہارم ”اور“ گریگری ہفتم ”کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا۔ جو بالآخر ہنری چہارم کا 1077 میں ہتک آمیز انداز میں معافی پانے سے وقتی طور پر تو ختم ہوا۔ ہنری چہارم نے معافی تو مانگ لی مگر اپنی ہتک کو نہیں بھلایا جرمن واپس آ کر اپنے خلاف“ پوپ گریگری ”کی مدد کرنے والے لارڈز کو سزا دینے کے علاوہ پادریوں کا اجلاس بلا کر“ گریگری ہفتم ”کو معطل اور اس کی جگہ نئے پوپ کی تقرری کروا دی۔ گریگری ہفتم صورت اٹلی سے جلاوطن ہو کر 1085 میں فوت ہو گیا۔
گریگری ہفتم اور ہنری چہارم کے درمیان یہ ٹکراؤ
یورپ کی سیاسی تاریخ کا رخ تبدیل کرنے میں ایک بڑا سبب بنا۔ پاپائیت اور شہنشاہوں کے درمیان اینویسیچر کا مسئلہ موجود رہا۔ 1122 میں جرمنی شہر ”ورمز“ میں چرچ اور شہنشاہ ہنری پنجم کے نمائندوں کے درمیان یہ سمجھوتا ہوا کہ اینویسیچر (مذہبی عہدیداروں کی تقرری) صرف چرچ کرے گا جبکہ ان کو متعلقہ زمین (جاگیر) عطا کرنا شہنشاہ کا اختیار ہو گا۔
”گریگری ہفتم“ اور اس کے بعد آنے والے ”پوپ“ کئی حوالوں سے بادشاہ سے زیادہ اختیارات کے مالک ہو گئے۔ اگرچہ اسی دور میں پاپائیت اور بادشاہوں۔ (جرمنی کے فریڈریک اول باربروسہ ( 1152 تا 1190 ) کا 1176 میں پوپ الیگزینڈر سوم ( 1159 تا 1181 ) کے ساتھ تصادم اور پوپ انوسینٹ سوم ( 1198 تا 1216 ) کا فرانس کے فلپ آگسٹس ( 1180 تا 1223 ) اور انگلینڈ کے کنگ جان ( 1199 تا 1216 ) کے ساتھ تناؤ اور کشمکش رہی مگر اس میں برتری پاپائیت کو حاصل رہی
پوپ Excommunication ( فرد کا عیسائی برادری سے اخراج ) اور Interdict ( ایک علاقے اور وہاں کے تمام افراد کو بتسیمہ دینے، شادی اور تجہیز و تدفین سے متعلق مذہبی رسومات سے انکار ) جیسے فتووں سے عوام اور بادشاہوں کو زیر اطاعت رکھ سکتے تھے۔ اسی دور میں چرچ کے ادارہ کی حیثیت بادشاہت جیسی ہو گئی تھی۔ پوپ اپنے مرکز ”روم“ سے اپنے مشیروں اور سفیروں، کے ذریعے اپنے فتووں کا، موثر نفاذ کراتا تھا۔ روم سے باہر چرچ کے اختیارات متعلقہ بشپوں کے پاس تھے۔ جو اپنی کلیسائی عدالتیں تھیں میں شادی، طلاق، وراثت، وقف، بدعت وغیرہ سے متعلق معاملات مذہبی قانون کے رو سے طے کرتے تھے۔ یوں مغرب کے عیسائی بڑی حد تک ”چرچ قوانین“ کے ماتحت تھے۔
اس کے علاوہ چرچ کو ہر عیسائی گھرانے سے سالانہ آمدنی کا دسواں حصہ بطور مذہبی ٹیکس وصول کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ جن کا ایک چوتھائی فلاحی کاموں ( بیماروں، ، غریبوں، یتیموں اور مساکینوں ) پر خرچ کرتا تھا۔ اسی دور میں چرچ نے سینکڑوں ہسپتال قائم کرنے کے ساتھ کافی فلاحی کیے
بدعتیوں ( منحرفین) کے خلاف اقدامات
اگرچہ دور وسطی میں مذہبی آزادی کا تصور محال تھا۔ تاہم مذہب میں بڑے پیمانے پر پھیلی دلچسپی اور کئی دوسرے عوامل کے باعث بعض افراد، مذہبی مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنے لگے جس کے نتیجے میں وہ چرچ کے کچھ روایتی تعلیمات اور چرچ سے وابستہ افراد کی مادہ پرستانہ طرز عمل کے ناقد رہے۔ ان میں اکثر کا منشاء بغاوت نہیں بلکہ چرج کی اصلاح تھی۔
چونکہ چرچ خود کو الہی عقیدے کا واحد اجارہ دار اور نگران سمجھتا تھا اس لیے ایسی طرز فکر رکھنے والوں کو اہل کلیسا نے بدعتی یا منحرفین قرار دیا اور ان کو سختی سے دبانے پر تل گئے۔
ان بدعتی کہلائے جانے والے فرقوں یا، مکاتیب فکر میں ایک اہم والڈینیشئن اور دوسرا کیتاری (Catharis) تھے۔
والڈیشئین (Waldesian) اس مکتب فکر کا بانی یونس ( جنونی فرانس کا ایک شہر ) کا مال دار تاجر ”پیٹر والڈو“ تھا۔ جس نے 1173 میں ایک روحانی تجربے کے زیر اثر اپنی تمام دولت غریبوں میں تقسیم کر کے مذہبی مبلغ بن گیا۔ وہ مذہبی رسومات اور تعلیمات کو صرف بائبل کی اساس پر رکھنے کا قائل تھا۔ اہل کلیسا کی دنیا داری اور غیر مذہبی طرز زندگی، معافی ناموں کی فروخت اور کئی دوسرے مروجہ رسومات کا سخت خلاف تھا۔ وہ حضرت عیسی علیہ سلام جیسی سادگی اپنانے پر مصر تھا۔
اس کا موقف تھا کہ خدا ہر جگہ دعا سنتا ہے اور ہر عیسائی فرد ( مرد اور خواتین ) مذہب کی تبلیغ کر سکتا ہے۔ اپنے انہی خیالات کے بنا چرچ نے اگر چہ 1184 میں اس کو عیسائیت سے نکال دیا تاہم اس کا مکتب فکر کو ختم نہیں کیا جا سکا اور اس کے پیروکاروں کو 16 ویں صدی کے پروٹسٹنٹ اصلاحی تحریک کے پیشروؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
کیتاری (Catharis) اس دور کے بدعتی گردانے جانے والے مکتب فکر میں یہ سب سے ریڈیکل تھا۔ جو مختلف عقائد کا مرقع تھا۔ بلغاریہ کے مبلغین کے ذریعے یہ اٹلی اور جنوبی فرانس کے ان خطوں میں اس کو زیادہ پذیرائی ملی جہاں پادریوں کی دنیا داری کے خلاف عناد زیادہ تھا،
اس فرقے کے عقائد کیتھولک چرچ سے بہت مختلف تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ خیر اور شر کے درمیان ایک ازلی کشمکش جاری ہے جس میں وہ حضرت عیسی علیہ سلام اور بائبل کی تعلیمات کو خیر اور یہودی بائبل کے خدا کو شر کے نمائندہ سمجھتے تھے۔ وہ حضرت عیسی علیہ سلام کو خدا نہیں بلکہ فرشتہ مانتے تھے۔ مادی دنیا کو شر سمجھتے تھے۔ جائیداد اور شادی کے خلاف تھے۔ ان کے صف اول اور خاص پیروکار جنس کے ساتھ گوشت، انڈے، دودھ اور پنیر تک کھانے سے پرہیز کرنے کے پابند تھے۔ ان کے مطابق نجات خالص سبزی خوری اور جنس سے سخت پرہیز اور پاک دامنی ( تجرد) ہی سے مل سکتی ہے۔
ان کا مرکز Toulous (جنوبی فرانس) میں تھا۔ جب ان کے پیروکاروں کو پرامن طریقے سے اپنے عقائد ترک کرنے کی کوشش کامیاب نہ ہوئی تو اس وقت کے پوپ ”انوسینٹ“ کے حکم کے تحت 1208 تا 1229 تک جنگ میں بے دردی سے کچل کر ختم کر دیا گیا۔
طاقت سے کچلنے کے علاوہ اس کے دوسرے ہتھیار راسخ العقیدہ اور درویش صفت مبلغین کے دو منظم گروہ تھے جو کسی لالچ اور کروفر سے بے نیاز قریہ قریہ گھوم کر چرچ کی تعلیمات کے پرچار سے بدعتیوں کو واپس راہ راست پر لاتے تھے۔
ان میں ایک سلسلہ ”فرانسسکی“ اور دوسرا ”ڈومینکین“ تھا۔ چرچ ان کا پشت پناہ تھا
1۔ فرانسسکی: یہ سلسلہ اٹلی کے مال دار تاجر اسیسی آف فرانسس ”نے قائم کیا تھا۔ یہ دولت کے خلاف اور عیسائی سادگی کے پرچارک تھے۔ اس کے کارکن راہبوں کے بجائے بھیک مانگ کر مختلف علاقوں میں بائبل کی تعلیم کا پرچار کرتے تھے۔ سادہ زندگی اور تمام مخلوقات سے محبت اور نیک برتاؤ فرانسیسیوں کے بنیادی اصول تھے۔ ان کے کارکن مشرقی یورپ، شمالی افریقہ، مشرق قریب اور چین تک تبلیغ کے لیے جاتے رہے۔ بائیل کی انسان دوست تعلیمات اور بے لوث فلاحی کاموں سے کافی مفید کردار ادا کر نے اور سادہ طرز زندگی کے باعث اس سلسلے کو بہت احترام حاصل تھا۔ بعد میں یہ سلسلہ دو گروپوں میں تقسیم ہو گیا۔ 14 ویں صدی کے اوائل میں اس کے سپر یچول (Spiritual) گروپ کو کافی مظالم حتی کہ بعض افراد کو زندہ بھی جلایا گیا مگر وہ اپنے تصورات پر قائم رہے۔
2۔ ڈومینیکن: درویش بھائی چارے کے اس دوسرے سلسلہ کو اسپین کے سینٹ ”ڈو مینگ“ نے 1216 میں قائم کیا تھا۔ وہ جنوبی فرانس میں ”کیتاری“ بدعتیوں کے خلاف خلاف پرچار کرنے کے ساتھ ان کا زیادہ زور مذہبی مطالعے کی اہمیت پر تھا۔
ابتدائی دور میں یہ دونوں سلسلے اپنے خلوص اور سادگی کے بنا کافی اہمیت اور احترام رکھتے تھے (مگر وقت کے ساتھ بعد کے پیروکار دولت کی لالچ میں پڑ کر ان سلسلوں کے مخلص بانیوں کے اعلی مقصد سے ہٹ گئے ) ۔
مذکورہ تنظیموں یا سلسلوں کے علاوہ بدعتیوں یا منخرفین کے خلاف چرچ کا ایک اہم ہھتیار 1225 سے قائم ”ایکویزیشن“ کا محکمہ تھا۔ جس سے وابستہ کارکنوں کا کام یورپ میں بدعتیوں کو تلاش کر کے سخت سزا دینا تھا۔ مجموعی طور پر اس درمیانے قرون وسطی میں چرچ اپنے مربوط قانون اور تنظیم کے باعث مغربی یورپ میں بالخصوص پوپ ”انوسینٹ سوم“ ( 1198 تا 1206 ) دور میں مذہبی، سیاسی اور معاشرتی سطح پر سب سے با اثر اور بالادست طاقت تھی۔ سلطنت کے جرمن شہنشاہ فریڈرک دوم ”نے“ انوسینٹ سوم ”کے بعد آنے والے پوپوں کے ساتھ برابری جتانے کے لیے سرگرم رہا تاہم 1250 میں فریڈریک کے بعد مقدس سلطنت اپنی طاقت بازیاب نہ کر سکی
علوم و فنون: بادشاہتوں کا حکومتی اثر بڑھنے کے ساتھ قانون اور حکومت کے مالی انتظام کے لیے پڑھے لکھے اور تربیت یافتہ ملازمین کی ضرورت کے تحت تعلیم کی اہمیت بڑھ گئی۔ یوں مغربی یورپ میں پہلی بار یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں آیا۔ 12 صدی عیسوی کے اخیر میں پیرس اور بولوگنا ( اٹلی) کے بعد آکسفورڈ اور انگلینڈ وغیرہ میں یونیورسٹیاں قائم ہوئیں۔ تعلیم کے اس احیا سے مغربی یورپ میں قدیم یونانی علوم سے دلچسپی پیدا ہو گئی۔
یورپ کو ان سے آگاہی عیسائی سکالرز کا مسلم سسلی اور بالخصوص اسپین کے شہر ”ٹولیڈو“ کے کتب خانوں سے استفادہ کرنے کے علاوہ صلیبی جنگوں کے دوران بازنطینی دنیا اور مسلم مشرق وسطی کے علمی مراکز (بغداد اور قسطنطنیہ سے روابط ہونے قائم ہونے پر ہوئی جہاں عربی اور قدیم یونانی علمی و تہذیبی ورثہ (جس میں ارسطو، اور مسلمان سکالرز ”ابن حزن“ اور ’ابن رشد ”کی تصنیفات بھی شامل تھے ) محفوظ تھا۔ مغربی سکالرون نے ان کا عربی سے لاطینی میں ترجمے کرائے۔
جس کے باعث مغربی یورپ فلسفہ آرٹ اور ادب کے شعبوں میں ایک نیا طرز فکر سے آگاہ ہوا۔ یونانی فلسفہ اپنی عقلیت کے بنا اگر چہ ایک طرف بہت متاثر کن تھا تو دوسری طرف اس کا بائبل کی بعض تعلیمات سے ٹکراؤ کا مسئلہ آ سکتا تھا۔ اس دور کے مذہبی مفکرین نے یونانی عقلیت کی بنیاد پر عیسائی تعلیمات کو ایک جامعہ فلسفے کی صورت میں متشکل کیا۔ اس سے ”علم الکلام“ (عقل یعنی فلسفہ اور نقل یعنی مذہبی تعلیمات کو باہمی اہم آہنگ کرنے کا طریقہ کار ) کی ابتدا ہوئی۔
اس دور میں علم الکلام کے میدان میں سب سے اہم نام پیرس یونیورسٹی کا استاد اطالوی ”تھامس اکیونس“ ( 1225 تا 1274 ) ہے جس نے 21 جلدوں پر مشتمل اپنی کتاب ”سوما تھیالوجیہ“ میں خدا اور کائنات کے متعلق 631 فلسفیانہ سوالات کے جوابات عقل اور منطق سے دینے کی کوشش کی ہے۔
سائنس: اس دور میں اگر چہ سائنس میں کچھ خاص پیشرفت تو نہیں ہوئی تاہم ارسطو کی نیچرل اور تجرباتی طرز پر بعض علمی افراد نے نیچر کا مشاہدہ کرنے پر توجہ دی۔ اس حوالے سے ایک بڑا نام آکسفورڈ یونیورسٹی کا استاد البرٹ 1175 تا 1253 ) ہے اور دوسرا تھامس ایکونس کا استاد ”البرٹ دی گریٹ“ ( 1206 تا 1280 ) ہے جس نے جیالوجی، کیمسٹری، باٹنی اور زوالوجی پر مضامین لکھے۔ جبکہ سب سے اہم راجر بیکن ( 1214 تا 1294 ) ہے۔ اسی دور کے مذکورہ شخصیات کی بعض سائنسی تصورات اگلے صدیوں میں کسی حد تک سائنسی انقلاب کے رہنما بنے
ادب: درمیانی قرون وسطی چونکہ بنیادی طور عقیدے ( مذہب ) کا دور تھا۔ اس لیے بیشتر لاطینی شاعری مذہبی گیتوں اور ڈرامے حضرت عیسی علیہ سلام اور عیسائی ولیوں پر مبنی ہیں۔
اس دور میں لاطینی کے علاوہ مقامی زبانوں میں ادب کی نشو و نماء ہوئی جس رزمیہ شاعری کے ساتھ حسن و محبت سے متعلق گیت، اپنے وقت کے اعلی معاشرتی اقدار اور طنز و مزاح پر مبنی شاعرانہ کلام بھی تخلیق کیا گیا
اس دور کی سب سے عظیم ادبی شخصیت فلورنس ( اٹلی ) کا ”دانتے الیگیری“ ( 1265 تا 1321 ) ہے۔ اگرچہ اس نے لاطینی کے علاوہ اپنی مادری زبان اطالوی میں کافی بھی کچھ لکھا ہے تاہم اس کی کلاسک شہکار طویل تمثیلی نظم ”ڈیوائن کامیڈی“ ہے جس میں ”دانتے“ نے ذہنی سفر یا تخیل کے ذریعے عیسائی تعلیمات کے مطابق دوزخ، اعراف اور جنت کا حال اور منظر کشی انتہائی فنکارانہ انداز میں کی ہے
آرٹ: فن تعمیر کے شعبے میں رومنکیو طرز کے بعد سب سے اہم نئے طرز (گوتھک) پر تعمیر کیے گئے سینکڑوں منفرد اور پر عظمت گرجا گھر ہیں جو اس دور میں مذہب کے ساتھ عیسائیوں کی بے پناہ عقیدت کے ثبوت بھی ہیں
مختصر یہ کہ درمیانی دور وسطی ( 1000 تا 1300 ) معاشی، سیاسی، انتظامی، مذہبی علمی و ادبی اور سماجی لحاظ سے پچھلے دور ( ابتدائی دور وسطی ) کے مقابلے میں کافی بہتر اور مستحکم تھا۔ اگرچہ اس کے بعد کی دو صدیوں ( آخری دور وسطی ) کے دوران مغربی یورپ قدرتی آفات ( قحط اور وبائیں ) طویل جنگوں اور بغاوتوں اور مذہبی اختلافات وغیرہ کے باعث زیادہ تر مشکلات، ! انتشار اور مایوسی سے دوچار رہا۔ تاہم درمیانی دور وسطی کی بعض پیشرفتیں اور واقعات ( مستحکم بادشاہتوں اور نمائندہ اداروں کا قیام، درمیانے شہری طبقے کا ظہور اور یونیورسٹیوں کا قیام۔ چرچ اصلاحات، صلیبی جنگیں، یونانی علوم و فنون کا فروغ وغیرہ ) نے کئی حوالوں سے حالات اور طرز فکر پر مختلف اثرات ڈالے یورپ کو جدید دور لانے میں ان کا اہم حصہ رہا ہے

