شاہد احمد دہلوی کے گنجینہ گوہر
”گنجینہ گوہر“ شاہد احمد دہلوی کے خاکوں کا مجموعہ ہے۔ جس میں انھوں نے اپنے عہد کی منتخب شخصیات کے خاکے لکھے ہیں۔ شاہد احمد دہلوی نے ادبا کے کارناموں کا تذکرہ کیا ہے۔ مولوی نذیر احمد کے بارے میں لکھتے ہیں کہ انھوں نے قرآن مجید کا ترجمہ کیا۔ ترجمہ مکمل ہونے کے بعد ایک نابینا جید عالم کو نظر ثانی کے لیے بھیجا گیا۔ اس میں ڈھائی سال لگ گئے لیکن تب تک اسے شائع نہ کیا جب تک اس کی طرف سے اطمینان نہ کر لیا۔
میر ناصر علی، سر سید کے نظریات کے مخالف تھے۔ انھوں نے نیچریوں کے خلاف اس دھڑلے سے مضامین لکھے کہ ان کی دھوم مچ گئی۔ وہ خود فارسی اور انگریزی کے بڑے عالم تھے۔ شعر کا موقعے پر استعمال ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا۔ استاد بیخود دہلوی نے دیوان غالب کی شرح بھی لکھی۔ اشعار کا مفہوم بڑی عمدگی سے بیان کیا۔ شعر گوئی اور زبان سیکھنے کے شوق میں حیدر آباد جا کر چھ مہینے استاد کے پاس رہے۔ شاہد احمد دہلوی نے جمیل جالبی کی خدمات کا اعتراف بھی کیا ہے۔ کہ وہ اردو ادب کے ایک بڑے نقاد گزرے ہیں۔ انھوں نے طبع زاد مضامین لکھے اور تراجم بھی کیے۔
”گنجینہ گوہر“ کی نمایاں اور بنیادی خوبی یہ ہے کہ اس میں شاہد احمد دہلوی نے جن شخصیات کا تذکرہ کیا ہے ان کی حلیہ نگاری کو بڑی عمدگی سے پیش کیا۔ حلیہ نگاری اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ اس شخص کی تصویر ابھر کے سامنے آنے کا گماں ہوتا ہے۔ ان کے پاس اشخاص کے حلیے بیان کرنے کا فن خوب تھا۔ یوں لگتا ہے کہ ان کے ہاتھ میں قلم کی بجائے کوئی کیمرہ ہو اور وہ ان کی حقیقی تصویر لے رہے ہوں۔ حلیہ نگاری کے فن میں اختصار کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔
مثلاً میر ناصر علی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا انھیں بزرگ ہی دیکھا۔ شاہد احمد دہلوی نے جن اشخاص کے حلیے بیان کیے وہ اپنی جگہ منفرد اور نمایاں ہیں۔ البتہ اگر کوئی خامی نظر آتی ہے تو وہ یہ کہ انھوں نے تمام اشخاص کی حلیہ نگاری میں دو باتوں کا ذکر ضرور کیا ہے : کہ ستواں ناک اور کشادہ پیشانی۔
شاہد احمد دہلوی نے جن اشخاص کا تذکرہ کیا ہے ظاہر ہے وہ ان کے نزدیک اپنے عہد کے منتخب ترین لوگ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے مجموعے کا نام ”گنجینہ گوہر“ رکھا، یعنی ”موتیوں کا خزانہ“ ۔ لیکن ان کے ہاں ہمیں جا بجا اس بات پر افسوس نظر آتا ہے کہ زمانے نے ان بڑی شخصیات کے ساتھ بھی کس طرح ستم ظریفی روا رکھی۔ اور زمانہ ہمیشہ ان کی قدر کرنے سے قاصر رہا۔ اس ضمن میں انھوں نے میرا جی اور سعادت حسن منٹو کا ذکر بطور خاص کیا ہے۔
انھیں اس بات پر افسوس ہے کہ میرا جی جیسا بڑا انسان بھی زمانے کی ستم ظریفی کا شکار ہوا۔ اردو افسانہ نگاری کی روایت میں سعادت حسن منٹو ایک نمایاں نام ہے۔ انھوں نے اردو ادب کو وہ سرمایہ دیا جس کی کہیں نظیر نہیں ملتی۔ لیکن انھیں فحش کہا گیا۔ ان پر مقدمے چلائے گئے۔ منٹو جب پاکستان آئے تو یہاں کی بنجر ادبی زمین سے روزی کمانا ان کے لیے بے حد مشکل تھا۔ اس لیے انھوں نے روزانہ کی بنیاد پر ایک دو افسانے لکھے۔ لیکن انھیں لتاڑنے میں کسی نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ چاہے وہ افسانے کے قاری ہوں، دو کوڑی میں ان کی افسانے خریدنے والے ناشر ہوں یا ان پر مقدمے چلانے والے نام نہاد پرہیز گار۔
شاہد احمد دہلوی نے ”گنجینہ گوہر“ میں سادہ اور عام فہم اسلوب بیان اختیار کیا۔ انھوں نے ہر قسم کی مشکل پسندی سے اجتناب کیا۔ صنائع، بدائع، روز مرہ، محاورے، تشبیہات اور تمثیلات کا استعمال بڑی عمدگی سے کیا ہے۔ علاوہ ازیں منظر نامے اور مکالمے بھی موقع محل کے مطابق ہیں۔ شاہد احمد دہلوی نے ایک عمدہ نثر تخلیق کی۔ اور بیسویں صدی کی اردو نثر میں ایک اہم اضافہ کیا۔


