میرے نا خدا وہی ہیں جو مجھے ڈبو رہے ہیں


میرا پاکستان زرد پتوں کا بن جو میری انجمن ہے اک عجیب بے بسی کے المیہ
سے گزر رہے ہیں ہم
کبھی کبھی یہ سوچ کر بھی
اپنے رنج کم ہوتے کہ اس کٹھن سراب میں
حیات کے عذاب میں، اکیلے ہم نہیں
بہت ہیں لوگ اور بھی
بہت ہیں اپنے ہم سفر جو بے نیاز غم نہیں
اکیلے ایک ہم نہیں

جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہونے جا رہا ہے۔ وہ ناقابل یقین سا ہے۔ ملک میں جنتا نے جو کچھ بھی کیا وہ ایک منحوس خواب کا سا لگ رہا ہے۔ اس ساری صورت حال میں ملکی اداروں کا کردار بہت ہی مشکوک رہا۔ پولیس کا کردار حسب سابق سا تھا۔ اس نے اپنی ہمیشہ من مانی کی اور عوام کے مفادات کو ہمیشہ نظر انداز کیا۔ اس وقت جو لوگ پاکستان کے اقتدار پر قابض ہیں وہ بھان متی کا کنبہ کئی سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے۔ جو ملکی مفادات کو خاطر میں نہیں لا ر ہے۔ ایک طرف ملک شدید مالی بحران سے دوچار ہے۔ دوسری طرف اس سرکار کے اخراجات کا کوئی انت نہیں۔ اس وقت کے وزیر اعظم کا دورہ برطانیہ بھی ان مشکل حالات میں غیر مناسب سا لگا ہے۔ سابق صوبے دار پنجاب حالیہ وزیراعظم جمہوریہ اسلامی پاکستان شہباز شریف المعروف سپر سپیڈ کا دورہ برطانیہ بے مصرف اور بے کار سا لگا ہے۔

برطانیہ کے بزرگ بادشاہ کی تاج پوشی کی تقریب غلام ملکوں کے ساتھ تجدید عہد کی تقریب تھی۔  ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف کے لیے یہ دعوت خاص ایک طرح سے اہم اور خصوصی تھی اور وزیر اعظم اس طرح سے ایک پنتھ کئی کاج والے محاورہ کے کارن کئی معاملات بھگتاتے ر ہے۔ وہ برطانیہ کے بزرگ بادشاہ کے صرف ایک دن کے مہمان تھے۔ باقی ایام میں انہوں نے عوامی رنگ میں زندگی گزارنے کا جتن بھی کیا۔ سب سے اہم کام ان کے نزدیک ”باؤ جی“ سے ملاقات کرنی تھی۔ ان کو باؤ جی المعروف نواز شریف کی ترش گفتگو بھی سننے پڑی۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ تمہارے عسکری دوستوں اور مہربانوں نے اپنے وعدوں کی تکمیل نہیں کی اور نہ ہی تم خصوصی قانون سازی کروا سکے ہو۔ جو میرے لئے کارآمد ثابت ہو سکیں۔

یہ ملاقات خلوص اور الفت سے عاری سی رہی میاں نواز شریف کو یقین دہانی کر وادی گئی کہ آنے والوں دنوں میں قانون کے ذریعے ان کے مطالبات کو پورا کیا جائے گا۔ بزرگ بادشاہ کی تاجپوشی نے شریف برادران کی ملاقات آسان کر دی۔ مگر اس دورہ برطانیہ نے پاکستان کو مزید کنگال کر دیا۔ کیا ضرورت تھی وزیر اعظم پاکستان کو اس چاپلوسی کی۔ پاکستان اس وقت شدید مالی اور معاشی مشکلات سے دوچار ہے اور ہمارے دوست ممالک بھی اس صورت حال سے لاتعلق سے نظر آ رہے ہیں۔ دوسری طرف آئی ایم ایف اور ہمارا خصوصی دوست اور مہربان ملک امریکہ کے تیور بھی بدلے بدلے نظر آ رہے ہیں۔ امریکی بھی اس وقت عمران خان کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ ان کی مجبوری ہے۔ ان کو اندازہ ہے کہ پاکستان میں شفاف انتخابات میں ماضی کے سیاسی اشرافیہ کا جنازہ نکل سکتا ہے۔ اس بار امریکہ بہادر، افواج پاکستان کو بھی نظر انداز کر رہا ہے۔ اگرچہ موجودہ سپاہ سالار امریکی اشیر باد کے بعد ہی چین کی یاترا پر گئے تھے اور چین بھی پاکستان میں سیاسی استحکام چاہتا ہے۔

وزیر اعظم پاکستان کے دورہ برطانیہ میں ان کے ساتھ کابینہ کے اہم رکن خواجہ آصف جو وزیردفاع بھی ہیں وہ لندن میں موج مستی کرتے نظر آئے، وہ لندن کے مہنگے ترین ہوٹل میں قیام پذیر تھے اور ان کے اخراجات سرکار پاکستان ادا کرتی رہی ہے اور جب کہ ملک شدید سیاسی اور معاشی بد حالی کا شکار ہو ایسے میں وزیر دفاع خواجہ آصف کا دورہ برطانیہ کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑتا۔ ہاں ایک بات ضرور ہے بزرگ بادشاہ کی تاج پوشی کے جشن میں پاکستان کیا فوج کے لوگ بھی اپنے وزیر کی ہدایت پر شریک ہوئے تھے اور ان کے اخراجات ایسے میں کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتے۔ برطانیہ نے ابھی تک پاکستان کو مکمل آزاد نہیں کیا۔ ہم ابھی تک کامن ویلتھ کے رکن ہیں مگر رکن ہونے کے ناتے ہمارے ساتھ برطانیہ کا سلوک اچھا نہیں ہے۔ وہ ہمارے تعلقات میں ایک اچھا دوست نہیں ہے، وہ امریکہ کو بھی ہمارے بارے میں اپنی رائے سے مطلع کرتا رہتا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ یورپی یونین کی سیاست میں اپنی علیحدہ حیثیت میں سیاست کرتے نظر آتے ہیں۔

اس وقت پاکستان کی سیاست شدید خلفشار سے دو چار ہے۔ کوئی بھی کسی کو برداشت کرنے کو تیار نہیں اور جو سرکار ہے وہ عوام کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔ دنیا میں پٹرول سستا ہے مگر ہمارے ہاں مہنگا ترین ہے۔ پھر عام اشیا پر پرائس کنٹرول نہیں ہے۔ ہماری سیاسی اشرافیہ اور نوکر شاہی کے گٹھ جوڑ نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ سیاسی اشرافیہ کا قول کچھ ایسا سا ہے۔

لہجے میں شمشیر نکالی، باتوں میں خنجر لے آئے

اس وقت پاکستان میں اہم ادارے آپس میں بھی بدگمانی کا شکار ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ پر نامکمل قومی اسمبلی جس قسم کی تنقید کر رہی ہے اور ممبران جس طریقہ سے اعلیٰ عدلیہ پر رائے زنی کرتے نظر آتے ہیں اس سے اعلیٰ عدلیہ کا وقار بھی مجروح ہو رہا ہے۔ اور آئین کے اصول بھی نظرانداز ہو رہے ہیں۔ بلکہ قومی اسمبلی کے مطالبات نے آئین کو مشکوک کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور حالیہ دنوں میں کابینہ نے جو کردار ادا کیا ہے۔ وہ بڑا معنی خیز سا ہے۔

آخر یہ سب کچھ ہمارے گرد و پیش میں ہو رہا ہے۔ کیا جمہوریت سے اس کا علاج ہو سکے گا اور انتخابات کے جو نتائج ہماری اشرافیہ چاہتی ہے اور وہ اس کے لیے عسکری دوستوں کی معاون بھی ہے اور نوکر شاہی ان کے ساتھ ہے اگر ان کو مطلوبہ نتائج نہ مل سکے تو عوام پر ستم جاری رہے گا۔ اور جمہوریت کا چہرہ بھی مزید مشکوک ہو گا اس وقت جزوقتی وزیر اعلیٰ پنجاب کا کردار بھی بہت حیران کن ہے۔ وہ مکمل کوشش میں ہیں کہ ان کے اقتدار کو دو آم ملے۔ وہ صحافی بھی ہیں اور کئی ٹی وی چینلز کے مالک بھی، وہ سپاہ سالار حافظ صاحب کے خصوصی دوست بھی ہیں اور سیاست میں ان کا نیا روپ بڑا حیران کن ہے۔ ایسے میں ایک خاموش کردار ان کی بہت مدد بھی کر رہا ہے وہی خاموش کردار عمران کے مقدمے میں بھی اہم کردار ہے۔ حال ہی میں انہوں نے بھی ایک ٹی وی چینل بھی خرید لیا ہے اور پاکستان کی سیاست میں پس پردہ اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں ان کی پشت پر سابق صدر آصف علی زرداری کا ساتھ ہے اور وہ ابھی بھی فریقین کے ساتھ کوئی معاہدہ کروانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

ایک طرف سابق وزیر اعظم ملزم ہے اور دوسری طرف قوانین کی تبدیلی نے تمام مجرموں کو ایک جنبش قلم تمام الزامات سے بری کیا جا رہا ہے۔ عدالتوں کا نیا کردار اداروں کے لیے مشکلات کا باعث ہے۔ ہماری نامکمل قومی اسمبلی کا کردار آئین کی روح کے منافی نظر آ رہا ہے۔ ایسے میں متاثرین میں اہم حیثیت عوام کی ہے۔ عوام کے لیے مشکلات ہی مشکلات ہیں۔ وہ ابھی تک اشرافیہ کے وعدوں پر جی رہے ہیں۔ مگر ملک کی خاصی بڑی آبادی نوجوانوں پر ہے۔ ہم ان کے مستقبل کے لیے کچھ نہیں کر رہے اور اس کی وجہ سے ملک میں شدید بے چینی بھی ہے۔ ہماری سرکار کیوں پاکستان کو ایک ناکام ریاست بنانے جا رہی ہے۔ اور حالات ایسے ہیں کے کل کا کوئی اعتبار بھی نہیں کر سکتا۔

وعدوں کا ایک شہر تھا
جس میں گزر رہے تھے دن
آنکھیں کھلیں تو دور تک
پھیلے ہوئے سراب تھے
ایک تھا موسم وفا، جس کی ہمیں تلاش تھی
اپنے نصیب میں مگر، اور ہی کچھ عذاب تھے!

Facebook Comments HS