اب اچھوت بولے گا


حال ہی میں ایک دوست نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے موہن جو داڑو کی ایسی خوبصورت تصویریں بنائیں جو ہمیں ایسے تصوراتی لمحات میں لے گئیں جہاں خوشیاں قدیم زمانوں کی بارش کی طرح برس رہی تھی۔

بیل گاڑی کو جوت کے میں
”موہن“ کی بازار کو نکلا
ساری بستی سکھ بسی ہے
اک سپنا دھرتی دیکھتی ہے

اچانک آریا ہمارے اوپر حملہ آور ہوئے اور ہماری دھرتی پر قبضہ کر لیا۔ ہم دھرتی واس راکھشس ٹھہرے اور وہ اعلی ذات آقا بن گئے۔ ہم اچھوت اور شودر ہو کر اپنی ہی دھرتی پر دربدر ہو گئے۔ ہماری ذاتیں ہمارے لئے گالی بنا دی گئیں۔ مچھلا، سانسی، بجیر، باگڑی، ماچھی، خاصخیلی، کمبھار، کوری، کولھی، بڑھا، سامی، کبوترا، بھیل، میگھواڑ، اوڈ اور حجام کی ذاتوں پر لطیفے بنائے گئے۔ ان کی تذلیل کی گئی ان کے خلاف ہتک آمیز سلوک کو عام کیا گیا۔

لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ان گالیوں کا تجزیہ کیا جائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ جب بھی حملہ آوروں کی باقیات ہمیں گالی دیں تو ہم ان کو حملہ آور قبضہ گیروں کے ساتھ ملنے والے شجرے کی یاد دلائیں۔ اس کے ساتھ ان کو یہ بھی بتائیں کہ ہم شہر بسانے کا ہنر جانتے ہیں اور تہذیب و ثقافت کے خالق ہیں۔ ہمارے ورثے میں موہن جو دڑو ڈھولا ویرا اور لوتھل جیسے شہر ہیں۔ ہمارے پاس نوہٹو کے آثار ابھی بھی موجود ہیں۔ ہم انہیں یاد دلائیں کہ ہمارے پاس کارونجھر جھیل اور نمک کا رن موجود ہے۔

ہم ہی ہیں جنہوں نے ہاتھ سے پانی پینے والوں کو پیالے بنا کر دیے۔ ہم نے انسان کے ننگے پاؤں کو جوتیاں پہنانا سکھائیں۔ ہم ہی ہیں جنہوں نے انسان کو زلف سنوارنا سکھائی۔ ہم نے انسان کے ننگے بدن کو ڈھانپنا سکھایا۔ ہم نے ہی غاروں اور جنگلوں میں رہنے والے انسانوں کو گھر بنا کر دیے اور ان گھروں کو خوبصورت کھڑکیوں اور دروازوں کے ساتھ آراستہ کیا۔ زمین پر لیٹے ہوئے لوگوں کو چارپائی بنا کر دی۔ انسانوں کو مہذب بنانے والے ہمارے قبیلوں کو وحشی، قاتلوں، خون خواروں اور قبضہ گیروں نے کہا کہ ہم نیچ ہیں۔ ہمیں شودر، کا سبی، نیچ اور ملیچھ کہا گیا۔ انسان کو مہذب بنانے والے قبیلوں سے ان کے گاؤں، شہر اور وطن چھین لئے گئے۔ وہ اپنے ہی وطن میں ایک گالی بن کر رہ گئے۔

آج بھی آریا نسل کی برتری کے حامل لوگ گاؤں اور شہروں میں تہذیبوں کے معمار قبیلوں کے لئے ہتک آمیز جملے کستے رہتے ہیں۔ ہم زنجیروں کی قید سے تو نکل آئے لیکن ان کے لفظوں کی قید کو ہم ابھی تک بھگت رہے ہیں۔

تم تو کوئی کوچڑے ہو!
تم تو کوئی مچھلے ہو۔
یہاں سے دفع ہو جاؤ سانسی۔
اپنے افعال دیکھو، جیسے کوئی سامی ہو!
اوئے! میرے ساتھ ایسے بات کیوں کر رہے ہو، کولھی۔
تم کچی مٹی اٹھانے اور بھوسہ چننے والے نیچ ہو۔
ماچھی کا کتا سوئر کی طرف۔
نصیب کا منہ کالا ہوا کہ ماچھیوں نے بھی بھینسیں پال لیں۔
کڑوا ہو تب بھی تیل ہوتا ہے۔ اچھا ہو تو بھی بھیل بھیل ہی ہوتا ہے۔
چل بے منگن ہار۔

دھرتی کے اصل وارثوں کو یہ اور ایسے کئی جملے روزانہ کی بنیاد پر سننے پڑتے ہیں۔
راجا راکاس بنیں گے۔ گولے گھی پیئیں گے۔

زمیں زاد کی تذلیل اور کسب دشمنی پر مبنی اشعار بھی عام ہیں جن میں کسی مزدور کی خوشحالی پر بھی طنز کی جاتی ہے۔ جب بھی کوئی مزدور پیشہ شخص اپنی محنت مزدوری کے ساتھ نسبتا ’خوشحال ہوتا ہے تو اس کو بھی طنز کے ساتھ نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لیکن اب بولنے کی باری ہماری ہے۔ اب ہم بتائیں گے کہ طنز کے قابل کون ہے؟ تم جو بھوک اور ننگ میں ہمارے خوشحال وطن پر حملہ آور ہوئے۔ یا ہم جو ان کی قبضہ گیر ذہنیت کے باعث اپنے ہی وطن میں بے وطن ہو گئے۔ اب یہ بھی ہم طے کریں گے کہ خاندانی کون ہیں؟ جن کی ذات سننے سے انسان کے ذہن میں آرٹ، کلا، رقص، علم، شرافت اور انسان دوستی کا تصور پیدا ہو یا وہ جن کی ذات سننے سے انسان کے ذہن میں وحشت، نفرت، خون، قبضہ گیری، ظلم اور بربریت کا تصور پیدا ہو۔

وہ دھرتی واس جو بڑے عہدوں پر براجمان ہوئے ہیں ان پر فرض ہے کہ وہ جھوٹے حسب نسب کے ذریعے معتبر بننے والوں کے سامنے زمین اپنے دفتر میں اگر کوئی پٹیل مانو، مل کولھی، دھنجی سانسی، سومجی بھیل، سانون کو چڑو، سارنگ بجیر آئے تو ان کو عزت کے ساتھ اپنے سامنے والی کرسی پر بٹھائیں، انہیں اپنے جیسے کپ میں چائے پلائیں اور انہیں آفس کے دروازے تک الوداع کہنے جائیں۔ اب اس دھرتی کے اصل وارثوں کی اپنے ہی وطن کے اندر جلاوطنی کا اختتام ہونا چاہیے۔ کرسیوں پر براجمان حملہ آوروں اور اچھے منصب پر فائز دھرتی کے اصل وارثوں کے رویے میں واضح فرق ہونا چاہیے۔

اب وہ وقت آ گیا ہے کہ اقتدار کی مسند پر بیٹھے قابض گروہوں کو بتائیں کہ سامی، کبوترا، سانسی، مچھلا، کوچڑا، حجام، کوری، اوڈ، میگھواڑ، کولھی، بھیل، کمبھار، خاصخیلی، بجیر ذات کوئی گالی نہیں بلکہ ہم فخریہ طور پر اپنے نام کے ساتھ یہ ذات لکھتے ہیں۔ اگر ہم تاریخ کے سامنے شرمسار ہوتے تو اپنے نام کے ساتھ اپنی ذات نہ لکھتے۔ ہم اپنی ہزاروں سالوں کی تاریخ اور تہذیب سے شرمندہ نہیں ہیں۔

ایک بات میں نے شدت سے محسوس کی ہے کہ حملہ آوروں کے تسلسل کی وجہ سے ہم نے بھی اپنی ذاتوں کو نفرت کے قابل سمجھا۔ انہوں نے بڑی حکمت عملی کے ساتھ ہمیں ایسی احساس محرومی میں دھکیل دیا کہ ہم نے بھی اپنی ذات کو بدل کر کھکھرانی، سکھرانی، ککرانی بنا دیا۔ ہم نے اپنی ذات کو چھپانے کے لئے اپنے نام سانون، سارنگ، ہمیر، لکھمیر وغیرہ لکھنے کے بجائے حملہ آوروں سے متاثر شدہ نام رکھنا شروع کر دیے۔ ہم جو پاتال کو چھو کر واپس لوٹے ہیں تو اب ہمیں ان ذاتوں، ناموں، رواجوں اور رسموں کو دوبارہ دوام بخشنا چاہیے۔ ہماری نسلیں جنگلوں میں دربدر ہوئیں لیکن انہوں نے اپنے نام، ذات اور وطن سے دستبرداری قبول نہیں کی۔ آج ہم کیسے اپنے اجداد کی جدوجہد سے دستبردار ہو جائیں۔

ایسا نہیں ہے کہ ننگرپارکر کی بازار میں پولکو اور پڑو پہن کر گھومنے والی کولھن کا لباس، وطن، ذات اور نام کسی معجزے کے نتیجے میں بچ گئے ہیں لیکن اس کے پیچھے پینتیس سو سال تک اذیت ناک دربدری کے باوجود ثابت قدم رہنے والے افراد کی قربانیوں کی لمبی داستان موجود ہے۔ اس لئے اپنا حسب نسب کسی حملہ آور کے ساتھ جوڑنے کے بجائے اپنے وطن سے جوڑ کر رکھیں۔ اس دھرتی کی اولاد ہونا قابل فخر بات ہے۔ گالی تو وہ شجرہ ہے جو کسی نادر خان سے ملتا ہو۔ کسی ترخان سے ملتا ہو۔ کسی پورچوگیزی کے ساتھ ملتا ہو۔ کسی آریے کے ساتھ ملتا ہو۔ یا کسی ارغون کے ساتھ ملتا ہو۔ قابل نفرت وہ جھونپڑی نہیں جس میں کوئی مزدور رہتا ہے، قابل تشویش تو وہ محل ہے جس پر آج بھی سر، خان بہادر، خانصاحب جیسے القاب چسپاں ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ایسے القابات کن لوگوں کو ملتے رہے ہیں۔ یہ جو جاگیریں بانٹی گئی ہیں ان میں سے ہر پانچ ایکڑ کے پیچھے ہمارے سر اور تن ہیں کیوں کہ انگریزوں نے ہر باغی کے سر کی قیمت پانچ ایکڑ رقبہ مقرر کی تھی۔

اب حساب لگائیں کہ ان ہزاروں ایکڑ کے پیچھے ہمارے کتنے سر ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ زمیں زادوں کے گوٹھ کہاں ہیں اور پیشہ ور قاتل اور دلال کہاں بستے ہیں۔ ہمارے جاننے کا موسم تھر اور تھر پارکر کی بارشوں کی طرح بہت تند ہے۔ ہمارے جاننے کا عمل کولھی کے رائسوڑے کی مانند روایت میں کھبا ہوا ہے۔ اب سندھ کے بیٹے اپنے گیتوں اور ناچ کی طاقت کے ساتھ وطن کی وارثی واپس لے رہے ہی۔ وہ دن دور نہیں جب ہم انتخابات کے دن غلاموں کی طرح قطار بنا کر اپنا آٰقا منتخب کرنے کے بجائے اپنی دھرتی کے خود وارث بنیں گے اور خان بہادروں، خان صاحبوں اور سروں کی اولادوں کی دستاریں ہوا میں پھڑپھڑا رہی ہوں گی۔

میں سچ کہتا ہوں کہ سندھ ہمارے گوٹھوں سے شروع ہوتا ہے جہاں مور ہمارے ساتھ رہتے ہیں اور ہمارا اور ہرن کا بچہ ایک ہی سمے میں اپنی بھیل ماں کا دودھ پیتا ہے۔ جہاں کلا ہے۔ جہاں ناٹک شروع ہوتا ہے۔ ہماری گلیاں ناٹک گھر ہیں۔ ہم آج بھی شہوں کوں رقص اور ناٹک سکھا سکتے ہیں۔ ہمارے گوٹھوں نے بندوق کی گولی نہیں دیکھی۔ ہمارے بچوں اور ہرنوں کے جسم میں بندوق کی گولی مت بجھاؤ۔

ایک قاتل کے اختیار اور کلاکار کے اختیار میں فرق واضح ہونا چاہیے۔ حملہ آور تلوار کو قتل کے لئے گھماتا ہے لیکن وہی تلواریں جب منگن ہاروں کے ہاتھ میں ہوں تو وہ ان کو ساز بنا دیتے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے اگر دریائے سندھ ملاحوں کے ہاتھ میں ہو تو وہ اسی طرح خشک ہو گا۔ نہیں وہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا جاکر سمندر میں گرے گا۔ کیوں کہ یہ ملاح ہی جانتا ہے کہ اس میٹھے پانی کا سمندر میں گرنا کتنا اہم ہے۔ کیا ملاحوں کے بس میں ہوتا تو منچھر جھیل اس طرح سوکھ جاتی۔ بالکل نہیں۔

حالات کی ستم ظریفی یہ ہے کہ حملہ آوروں کے ہاتھوں جن لوگوں کے شہر غرق ہوئے وہ آج تک خانہ بدوش ہیں۔ ان دھرتی کے وارثوں کے لئے اس زمین پر قبر جتنی زمین بھی نہیں۔ وہ نالوں، روڈوں، کینالوں کے گندے کناروں پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس دھرتی کے دانش وروں نے بھی ان دھرتی واسیوں کو بھلا دیا ہے۔ اے سندھ کے دانش ور! کہیں تمہارا ان سے ڈی این اے ہی نہ ملتا ہو۔ ہمیں اپنے بچوں کے لیے صاف اور میٹھا پانی چاہیے، اسکول اور ناٹک گھر چاہیں۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اس دھرتی کو سجا دیں گے۔

Facebook Comments HS