خواتین کو درپیش پہلا مسئلہ انہیں بحیثیت انسان قبول نہ کرنا ہے : شہناز شورو
سرخیاں
یہ دور خاور مانیکاؤں اور چاہت علی خانوں کا ہے
زیادہ تر میلے ٹھیلے اور کانفرنسیں خود نمائش و خود ستائش پر مبنی ہیں
زندگی کی ناقد ہوں، یہ ایک غیر منطقی، بھونڈا مذاق ہے
معروف فکشن نگار، کالم نویس، مدرس اور سماجی مبصر، ڈاکٹر شہناز شورو سے بات چیت
انٹرویو نگار: اقبال خورشید
یہ پندرہ برس پرانی یاد ہے۔ سندھ مدرسۃ الاسلام کالج کی خاموش سیڑھیوں سے کچھ پرے، ایک روشن کمرے میں ایک میز تھی، جس پر ایک وائس ریکارڈر دھرا تھا۔
سہ پہر خاموش تھی۔ ایک انٹرویو جاری تھا۔ شہناز شورو کا انٹرویو۔ وہ مکالمہ روزنامہ ایکسپریس کے صفحات کا حصہ بنا، تو ادبی حلقوں میں زیر بحث آیا، سراہا گیا۔ پھر وہ پی ایچ ڈی کے لیے برطانیہ چلی گئیں، اور وہاں سے کینیڈا منتقل ہو گئیں، مگر سوشل میڈیا کے وسیلے رابطہ رہا۔ ہماری گفت گو میں مشرف عالم ذوقی کا بھی ذکر آتا۔ ذوقی، ایک باکمال فکشن نگار، جو وقت سے پہلے ہمیں چھوڑ کر چلا گیا۔
ڈاکٹر شہناز شورو کا شمار ان روشن خیال قلم کاروں میں ہوتا ہے، جن کے اعتماد نے ان کے افکار کو پر عطا کیے۔ فکشن نگاری ہو، کالم نویسی اور پھر کتابوں پر تبصرے ؛ ان کے مطالعے کی جھلک، ان کے نظریات کا اثر ہمیں واضح نظر آتا ہے۔
ان کا فکشن فقط اس عہد کی عورت کا نوحہ نہیں، اس کا احتجاج بھی ہے۔ ان کی تحریریں سمت نما کا کام کرتی ہیں۔ قلم ان کا سماج کی رفو گری میں مصروف ہے۔ برسوں بعد ان سے گفت گو کی خواہش پھر جاگی، تو ایک انٹرویو کا اہتمام کیا، جو احباب سے شیئر کیا جا رہا ہے۔
اقبال: سماج کے بیش تر شعبوں میں خواتین حاشیے پر ہیں، مگر اردو فکشن میں یہ ایک حد تک مرکز میں دکھائی دیتی ہیں، قرۃ العین حیدر سے زاہدہ حنا تک، کئی بڑے نام ہیں۔ اس جبر میں یہاں خواتین نے اپنی شناخت کیسے بنائی؟
ڈاکٹر شہناز: میں اس خیال متفق نہیں ہوں۔ ادب میں بھی خواتین حاشیے ہی پر ہیں۔ آپ نے جو نام گنوائے ہیں، ان کے علاوہ اردو میں خواتین کے گنتی کے دس مزید اہم نام مل جائیں، تو غنیمت ہے۔ وجوہات بے شمار ہیں، گنوانے بیٹھوں تو جواب بہت طویل ہو جائے گا۔ مثال کے طور پر چولھا ہانڈی اور ان سے منسلک مسائل کے بوجھ نے عورت سے صرف ادب نہیں، بلکہ ہر قسم کا تخلیقی کام کرنے کی آرزو چھین لی ہے۔ ادب میں جو دو نام آپ نے گنوائے ہیں، ان کے علاوہ بھی چند ایک ہیں، جنہوں نے ادب میں واقعی اپنی شناخت منوائی ہے، مگر آپ کی انفرادیت دیکھئے۔ پہلے تو یہ کہ انہیں ادبی حوالے سے تعلیم یافتہ ماحول میسر تھا۔ دوم، ان کے کہنے لکھنے پر بندش یا تو نہیں تھی، یا بہت کم تھی۔ سوم یہ کہ انھوں نے اپنی تخلیقی قوت کو زندہ رکھنے کے لیے بے انتہا محنت کی، جو عام عورت کے بس کی بات نہیں۔
اقبال: عام عورت کے لیے تو یہ واقعی ایک چیلنج ہے۔ ویسے آپ کے نزدیک پاکستانی خواتین کو درپیش بنیادی مسئلہ کیا ہے؟ اور اس کے سدباب کے لیے ہمیں کیا اقدامات کرنے ہوں گے؟
ڈاکٹر شہناز: پاکستانی خواتین کو درپیش مسائل میں پہلا مسئلہ اسے بہ حیثیت انسان قبول نہ کرنا ہے۔ سدباب کے لیے کوئی کچھ نہیں کر سکتا، نہ میں، نہ آپ۔ دنیا میں جہاں جہاں عورت نے اپنے مسائل کو حل ہوتے دیکھا ہے، وہاں ”اسٹیٹ“ اور ”قوانین“ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہی بنیادی شرط ہے۔ جب سٹیٹ کے قوانین مساویانہ ہوں گے، تب ہی عورت رسوم و رواج کی مذہبی اور سماجی زنجیروں سے آزادی حاصل کر کے نہ صرف بہ حیثیت انسان اپنا اظہار کرے گی، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر زندگی کو جینے کے قابل بنا سکے گی۔
اقبال: ادب پر بات کرتے ہیں۔ فکشن آپ کا بنیادی حوالہ، مگر تنقید بھی لکھی اور کالمز کا بھی تجربہ کیا۔ کس صنف میں اپنی آواز کو شناخت کرنے کا موقع ملا؟
ڈاکٹر شہناز: ”فکشن“ میں میرا بنیادی حوالہ افسانہ ہے۔ کوشش کرتی ہوں کہ تنقید یا کالمز میں بھی اپنی رائے یا آواز قاری تک پہنچاؤں۔ مگر میرا خیال ہے کہ ”افسانہ“ لکھتے ہوئے میں زیادہ مربوط ہو کر وہ کچھ لکھ ڈالتی ہوں، جو کہ میرے خیال میں لکھنا ناگزیر ہے۔ افسانہ ہی میری حقیقی آواز ہے۔ اور مجھے لگتا ہے کہ سنجیدہ قاری بھی مجھے افسانے کی بدولت ہی میسر آیا۔
اقبال: اگر آپ کے پاس اختیار ہو، اقتدار ہو، تو سماجی بہتری کے لیے پہلا قدم کون سا اٹھائیں گی؟
ڈاکٹر شہناز: اختیار و اقتدار ہو، تو وہ تمام تر اقدامات اٹھاؤں، جو پاکستان کو ویلفیئر اسٹیٹ بنا سکیں۔ ہر شہر میں ”اپنی مدد آپ“ کے تحت ٹیمیں تشکیل دوں، جو گھر گھر تک رسائی حاصل کریں۔ اور ہر گھر کا ”غیر ضروری“ سامان ان گھروں اور لوگوں تک پہنچائیں، جنہیں اس کی ضرورت ہے۔ مغربی ملکوں کی طرح یہ سلسلہ والنٹیریلی بنیادوں پر چلے گا۔ وزیر اعظم ہوتی، تو اینٹی ہیومنسٹ اور اینٹی فیمنسٹ قوانین کو تبدیل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی۔
اقبال: اردو فکشن نگار کون پسند ہے؟ سندھ دھرتی کا کون سا کہانی کار بھایا؟ بین الاقوامی فکشن نگاروں میں کون اچھا لگا؟
ڈاکٹر شہناز: بہت سارے۔ سب سے پسندیدہ راجندر سنگھ بیدی ہے۔ اس کے علاوہ منٹو، کرشن چندر، زاہدہ حنا، طاہرہ اقبال، محمد الیاس، ڈاکٹر انوار احمد، ناص عباس نیر، علی اکبر ناطق، اور مشرف عالم ذوقی۔ اور اب اس لسٹ میں اقبال خورشید اور کاشف رضا کا نام بھی شامل کرنا چاہتی ہوں۔ سندھی میں جمال ابڑو کی کہانیاں اور آغا سلیم کے ناول۔ بین الاقوامی ادیبوں میں، کازو ایشی گورو، میلان کنڈیرا، پاؤلو کوئیلہو۔
اقبال: عام خیال ہے کہ سوشل میڈیا سے ہمارے ادب اور ادیبوں کو فائدے سے زیادہ نقصان پہنچا، آپ کی اس بابت کیا رائے ہے؟
ڈاکٹر شہناز: سوشل میڈیا ایک کھلا میدان ہے۔ اس میں ہر عام و خاص، ہر موضوع پر خود کو حرف آخر سمجھتا اور کہتا ہے۔ بحث برائے بحث بھی کرتا ہے تو صحت مند گفت و شنید بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ جینوئن ادبا کا کام کل بھی زندہ تھا اور آج بھی زندہ ہے، اور رہے گا۔ مگر سوشل میڈیا کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ اس نے بتوں کو زمیں بوس کیا اور نظریات یا چیزیں زیادہ واضح ہو کر سامنے آئیں۔ بدقسمتی سے یہ دور خاور مانیکاؤں، عمران خانوں اور چاہت علی خانوں کا ہے۔ تو اسی میں رہ کر جینوئن رائٹر کو اپنی پہچان بنانی ہوگی۔ لہٰذا میرے خیال میں سوشل میڈیا نے، ادب یا ادیبوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا، بلکہ فائدہ دیا ہے۔ ان کی ریڈر شپ بڑھائی ہے۔
اقبال: کتاب مہنگی، ادیب بے نام، ادب کا مستقبل کیا دکھائی دے رہا ہے؟
ڈاکٹر شہناز: اس پوری کائنات کا نظم و ضبط، ارتقا، ازل و ابد سب کچھ ”ادب“ ہے۔ ہر لفظ، ہر سوچ، ہر خیال، ادب ہے۔ ماضی، حال، مستقبل سب کچھ ادب ہے۔ ادب کی دنیا ہمارے اندازے، قیاس و استقرار سے کہیں بڑی ہے۔ جب تک اس کائنات میں حیات ہے، ادب ہے۔ کہانی اور نظم زندگی سے مشروط ہیں۔ بڑا ادیب کبھی بے نام نہیں رہے گا۔ بڑا ادب اپنی جگہ ضرور بنائے گا، خواہ دنیا میں کہیں بھی لکھا جائے۔ ادب کا مستقبل درخشاں ہے۔ اور اب تو تراجم ادب کو ایک نئی زندگی دے رہے ہیں۔
اقبال: کیا میلے ٹھیلے، ادبی کانفرنسیں فروغ فن میں کوئی کردار ادا کر رہی ہیں؟
ڈاکٹر شہناز: زیادہ تر میلے ٹھیلے اور ادبی کانفرنسیں خود نمائش و خود ستائش پر مبنی ہیں۔ ان سے فی الحال تو کوئی کار خیر کی امید نہیں۔
اقبال: ہمارا ادیب، ہمارا قلم کار سماج میں بے معنی کیوں ہو گیا؟ کیوں اب فیض اور جالب جیسے کردار سامنے نہیں آتے؟
ڈاکٹر شہناز: یہ سب سے اہم سوال ہے۔ اس پر بہت کچھ کہنے کا جی چاہتا ہے۔ ایک تو معاشرے نے اپنی ترجیح بدل لی ہے۔ بلکہ معاشرے کی ترجیح بدل ڈالی گئی ہے۔ ورنہ ہم تو وہ ہیں، جو سوال کا جواب بھی شعر میں دیتے تھے۔ دوسرا مسئلہ شہرت کا ہے۔ شہرت کا جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے اور ایسے کرداروں نے ادب کو خودنمائی کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ ہمارے اس سطحی سماجی ڈھانچے میں ادبی کمٹمنٹ کو مذاق بنا دیا گیا ہے۔ ادب کی ترقی و ترجیح کے لیے تعلیمی ادارے تک کام نہیں کر رہے۔ باقی ادارے جو اس ضمن میں بنائے گئے تھے، وہ انجمن ستائش باہمی کا کام کر رہے ہیں۔ ہر دور کے اپنے تقاضے اور ترجیحات ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے آج کی ترجیح پیسہ ہے۔ سب کچھ پیسے کو ہی سمجھ لیا گیا ہے۔ شاعر و ادیب بنائے نہیں جاتے، البتہ ان کے لیے ایک خاص فضا ضروری ہے، جو آج کے دور میں، ہمارے سماج میں عنقا ہے۔
اقبال: ایک کتاب، جو متعدد بار پڑھی، اور آج بھی پڑھنے کی آرزو ہے؟ ایک شاعر، جس کا دیوان آج بھی ساتھ رکھتی ہوں؟
ڈاکٹر شہناز: شاید کوئی کتاب ایک سے زائد بار نہیں پڑھی۔ ہاں البتہ اس کے چیدہ چیدہ حصے ضرور پڑھے ہیں۔ اور ایسی کئی کتابیں ہیں۔ نسخہ ہائے وفا سدا ساتھ رہتی ہے اور ایک بار تو ائرپورٹ پر چھوڑ آئی تھی جس کا آج تک افسوس ہوتا ہے، کیوں کہ اس نسخے میں میں نے کئی اشعار و مصرعوں پر چھوٹے چھوٹے نوٹ بھی لکھے تھے۔
اقبال: اداکاروں میں کس کا کام اچھا لگا؟ کس ہدایت کار کو سراہتی ہیں؟
ڈاکٹر شہناز: ہندوستانی اداکار اور فلمیں پسند ہیں۔ راج کپور، امیتابھ بچن، سنجیو کمار بہت اچھے لگتے ہیں۔ ریکھا اور مادھوری کا حسن لاجواب۔ یش چوپڑا کی فلمیں غضب۔ راج کمار ہیرانی، سنجے لیلیٰ بھنسالی، روہت سیٹھی بھی ہالی ووڈ میں اچھے لگے۔ جیمز کیمرون کی ہدایت کاری، جونی ڈیپ، لیونارڈی کیپریو، ایڈی مرفی، میل گبسن اور مورگن فری مین کی اداکاری لاجواب۔
اقبال: اگر دوبارہ زندگی ملی، تو یہی کردار، اظہار کے لیے یہی زبان چنیں گی؟
ڈاکٹر شہناز: میں زندگی کی ناقد ہوں۔ یہ ایک بھونڈا مذاق ہے۔ اس کی کوئی تک کوئی لاجک نہیں ہے۔ یہ انسان کے ساتھ ایک بے ہودہ مذاق ہے۔ یہ ایک ایسا امتحان ہے، جہاں طالب علم کو نہ نصاب دیا گیا نہ وقت۔ نہ اس کی رائے پوچھی گئی، نہ تو اس راستے کا بتایا گیا، جہاں سے وہ آیا ہے۔ لہٰذا میں دوبارہ زندگی ملنے کی خواہش نہیں کرتی، بلکہ میں تو انسانوں کو پیدا کرنے کے بھی خلاف ہوں۔



