کیا پاکستان میں آڈیو لیکس کے لئے اسرائیلی ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے؟
گزشتہ سال اکتوبر میں خاکسار کا ایک کالم بعنوان ’آڈیو لیکس: کیا یہ سلسلہ پاکستان کو تباہی کی طرف لے جائے گا‘ شائع ہوا تھا۔ اس وقت آڈیو لیکس کا سلسلہ بہت محدود پیمانے پر شروع ہوا تھا۔ اب تک یہ سلسلہ بدستور روز بروز ترقی کر رہا ہے۔ اگر کسی جج کی کوئی گفتگو نہیں مل سکتی تو ان کی ساس صاحبہ یا صاحبزادے کی آڈیو نشر کر کے تماشا لگایا جاتا ہے۔ اسی طرح عمران خان صاحب اور ان کی جماعت کے وابستہ سیاستدانوں کی فون پر گفتگو ریکارڈ کر کے اسے نشر کیا جاتا ہے اور ان کے مخالفین مختلف چینلز کے پروگراموں میں ہنس ہنس کر اس آڈیو لیک کا حوالہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا آپ نے سنا نہیں کہ وہ اس گفتگو میں کیا کہہ رہا تھا۔ بہت سے تجزیہ نگار معنی خیز انداز میں یہ کہہ رہے ہیں کہ آخر پاکستان میں کون سا گروہ اتنا مضبوط ہے کہ اس کے پاس اس قسم کی ٹیکنالوجی ہو جو کہ فون پر کی جانے والی گفتگو کو ریکارڈ کر لے۔ لیکن کیا فقط اتنا تجزیہ کافی ہے؟
اس کالم میں اس دعوے کی نہ تصدیق کی جائے گی اور نہ تردید لیکن کیا ضروری ہے کہ ایسا ہی ہو؟ کیا کسی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ ان تمام آڈیو لیکس کی لگامیں ایسے ہاتھوں میں ہیں جو کہ پاکستان کے اندر موجود ہیں۔ کیا آج سے قبل کسی واقعہ کی تحقیقات کے نتیجہ میں ایسے کوئی شواہد سامنے آئے ہیں کہ ملک سے باہر کچھ ہاتھوں نے پاکستان کے سیاسی قائدین کے فونوں کی جاسوسی کی ہو؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے سب سے پہلے یہ جائزہ لینا پڑے گا کہ دنیا میں ایسی جاسوسی کے لئے کون سی تیکنیک سے سب سے زیادہ موثر سمجھی جاتی ہے۔ موجودہ دور میں اس غرض کے لئے اسرائیل کی سائبر کمپنی این ایس او کا بنایا ہوا سسٹم پیگاسس بہت کار آمد سمجھا جاتا ہے۔ اس کمپنی کے بانی اسرائیل کے سابق انٹیلی جنس افسر تھے۔ یہ نظام موبائل فونوں اور دوسرے آلات میں جاسوسی کرنے اور گفتگو سننے پیغامات پڑھنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعہ کسی شخص کے پاس ورڈ کا حصول بھی کیا جا سکتا ہے۔ اور واٹس اپ پر بھی جاسوسی کی جا سکتی ہے۔ یہ جاسوسی نظام 2011 میں تیار ہو چکا تھا لیکن اس کا بھانڈا 2016 میں اس وقت پھوٹا جب انسانی حقوق کی آواز اٹھانے والے ایک شخص احمد منصور کے سمارٹ فون پر اس کے ذریعہ جاسوسی کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔
بہت سے ممالک کی حکومتوں نے اس نظام کو اسرائیل کی کمپنی سے خرید کر اپنے مخالفین یا مشتبہ افراد کی جاسوسی کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز نے یہ الزام لگایا تھا کہ بھارت میں نریندر مودی صاحب کی حکومت نے اسے اپنے مخالفین کی جاسوسی کے لئے استعمال کیا ہے۔ بھارتی حکومت نے اس کی تردید کر دی لیکن ایسے گول مول الفاظ میں کہ اس سے شکوک میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ لیکن سائنسی تجزیہ سے معلوم ہوا کہ بھارت میں بoت سے سیاسی لیڈروں، صحافیوں، سکالرز کے فونوں کو اس کے ذریعہ نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایک خاتون نے بھارت کے چیف جسٹس صاحب پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا۔ اس کے اور اس کے رشتہ داروں کے گیارہ فونوں پر اس نظام سے طبع آزمائی کی گئی تھی۔
ویسے تو گزشتہ کئی دہائیوں سے عرب ممالک کے لیڈر اسرائیل کے خلاف لمبی لمبی تقریریں کرتے رہے ہیں لیکن جب اپنے مخالفین کی جاسوسی کرنے کی خواہش نے دل میں کروٹ لی تو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اپنے ملک کے شہریوں اور عراق اور مصر جیسے برادر اسلامی ممالک کے لیڈروں کی جاسوسی کرنے کے لئے اسرائیلی کمپنی پر ڈالروں کی برسات کردی۔ اور اس کا نشانہ بننے والوں میں ان ممالک کی کابینہ کے کئی وزراء بھی شامل تھے۔
اب اس پہلو کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا کبھی ایسے کوئی شواہد سامنے آئے ہیں کہ کسی پاکستانی لیڈر کے فون پر پیگاسس کی تیکنیک کے ذریعہ جاسوسی کی گئی ہو۔ برطانوی جریدے گارڈین نے 19 دسمبر 2019 کو یہ رپورٹ شائع کی تھی کہ دو درجن کے قریب نمایاں پاکستانیوں کے فونوں پر اس نظام کے تحت جاسوسی کی گئی تھی اور ان میں ایک فون وزیر اعظم عمران خان صاحب کے زیر استعمال بھی تھا۔ اور اسی رپورٹ میں لکھا تھا کہ ایک لیبارٹری کے تجزیہ کے مطابق بھارت سے اس سسٹم کو استعمال کرنے والے ایک صرف ایک شخص نے بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان، ہانگ کانگ اور برازیل کے بہت سے فونوں پر جاسوسی کی تھی۔
واشنگٹن پوسٹ نے 20 جولائی 2021 کی اشاعت میں یہ رپورٹ شائع کی تھی کہ ان کی تحقیقات کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان صاحب کے زیر استعمال ایک فون پر بھی اس سسٹم سے جاسوسی کی گئی تھی۔ اور جس گروپ میں ان کا نمبر شامل تھا، اسی گروپ میں بہت سے بھارتی شہریوں کے فون نمبر بھی شامل تھے۔ اور الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق صرف بھارت میں ایک ہزار کے قریب فونوں پر اس سسٹم سے جاسوسی کی گئی۔ بہر کیف اس وقت عمران خان صاحب کی حکومت نے عمران خان صاحب کے فون پر جا سوسی کرنے کے معاملہ پر اقوام متحدہ سے شکایت بھی کی تھی۔
آج کل جو ہر روز نت نئی آڈیو لیکس منظر عام پر آ رہی ہیں، اس پس منظر میں کئی تشویشناک سوالات جنم لیتے ہیں۔ آج کل بہت سے تجزیہ نگار صرف اس موضوع پر نمک مرچ لگا کر تبصرے کر رہے ہیں کہ منظر عام پر آنے والی آڈیو میں کس نے کیا کہا؟ لیکن اس بات کا تجزیہ کوئی نہیں کر رہا کہ اس کام کے لئے کون سی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی تھی؟ سب اسی مفروضے پر گفتگو کر رہے ہیں کہ یہ کسی پاکستانی ادارے یا گروہ کی کارستانی ہے۔ اگر ایسا ہے تو بھی یہ غیر قانونی اور قابل مذمت ہے۔
لیکن اب سمارٹ فون اور دوسرے آلات پہلے کی نسبت زیادہ محفوظ ہیں اور اس قسم کی وسیع جاسوسی کے لئے جدید اور مہنگی ٹیکنالوجی درکار ہوتی ہے وہ ٹیکنالوجی کہاں سے آئی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ یہ ان آڈیو لیکس کی پشت پر پاکستان سے باہر کوئی اور ہاتھ کارفرما ہے؟ جو اپنی من پسند آڈیو سوشل میڈیا پر سپلائی کر رہا ہے۔ بہت سے محققین کی رائے ہے کہ بھارت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دوسرے ممالک کے شہریوں کے خلاف یہ سسٹم استعمال کرتے رہے ہیں۔
اس تسلی کی کیا وجہ ہے کہ کوئی بیرونی ہاتھ پاکستان میں یہ کھیل نہیں چلا رہا ہے۔ لیکن یہ سوچے بغیر ہم واہ واہ کیے جا رہے ہیں۔ اگر آج تحریک انصاف کے لیڈروں اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے رشتہ داروں پر اس کا استعمال کیا جا رہا ہے تو کل کو یہی ترکیب مسلم لیگ نون یا پیپلز پارٹی کے خلاف بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ اور پھر ملک کی عسکری قیادت بھی اس کی زد میں آ سکتی ہے۔
اس پس منظر میں مناسب ہو گا کہ جن فونوں پر گفتگو منظر عام پر لائی گئی ہے ان کا فرانزک تجزیہ کرایا جائے اور اب کئی ادارے یہ کام کر رہے ہیں۔ تا کہ کم از کم یہ تو معلوم ہو سکے کہ اس نام نہاد کارنامے کے لئے کون سی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ اس کے بعد ہی کوئی تجزیہ کیا جا سکتا ہے کہ اس کی پشت پر کون سا ہاتھ کارفرما ہے؟ اگر اس کی پشت پر کوئی بیرونی ہاتھ کارفرما ہے تو یہ چیز کسی وقت ملک کے لئے شدید خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے
’آڈیو لیکس: کیا یہ سلسلہ پاکستان کو تباہی کی طرف لے جائے گا‘


