عمران خان اور دم توڑتی مقبولیت

9 مئی 2023 پاکستان کی تاریخ میں یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیونکہ اس دن ایک عوامی، سیاسی اور مقبول پارٹی نے اینٹی اسٹیبلشمنٹ کے نعرے کی آڑ میں ریاست کے خلاف بغاوت کر ڈالی۔ ریاست کی علامتوں کو آگ میں جھونک دیا گیا اور وجہ لیڈر کی گرفتاری تھی۔ اس دن جو ہوا اس کا سب سے زیادہ نقصان ریاست پاکستان کو ہوا۔ 9 مئی سے پہلے عمران خان اٹیکنگ پوزیشن پر تھے مگر اب وہ اور ان کی پارٹی دفاعی پوزیشن میں آ گئے ہیں وہ الگ بات ہے کہ یہ حقیقت ماننے سے کچھ لوگ انکاری ہے۔
اس احتجاج نے ملک کی بڑی جماعت کی سیاسی تربیت کی حقیقت کے ساتھ ساتھ اس کی مقبولیت پر سے بھی پردے اٹھا دیے۔ سوشل میڈیا کی مقبولیت کے حساب سے دیکھا جائے تو گرفتاری کے بعد ہونے والے احتجاج میں لاکھوں لوگ ہر شہر میں باہر ہونے چاہیے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بظاہر یہ احتجاج سیاسی کارکنوں کا تھا مگر جلاؤ گھیراؤ سے ثابت ہوتا ہے کہ سیاسی کارکن سے زیادہ یہ انتہا پسند لوگ تھے۔ یہ تربیت یافتہ سیاسی کارکن نہیں بلکہ تربیت یافتہ انتہا پسند تھے۔
جناح ہاؤس پر حملے کے بعد وہاں سے چیزیں چوری کی گئی جو چیز اٹھائی جا سکتی تھی وہ اٹھائی گئی اور پھر پورے گھر کو آگ لگادی گئی، یعنی احتجاج کی آڑ میں پہلے لوٹ مار کی کئی گئی اور بابائے قوم سے جڑی یادگاریں جلادی گئی۔ ان سب سیاسی معاملات میں بابائے قوم کی تصویروں اور ان سے منسلک چیزوں کا کیا قصور تھا؟ لوگ کہتے ہیں کہ جلانے والے جاہل لوگ تھے جن کو معلوم نہ تھا لیکن یہ احتجاج جاہلوں کے ہجوم کا نہیں تھا بلکہ اس ہجوم میں پڑھے لکھیں لوگ بھی شامل تھے جنھیں بہت ساری چیزوں کا اندازہ تھا مگر لیڈر کی تربیت نے ان کی آنکھوں میں جہالت کی پٹی باندھ دی تھی۔
عمران خان کی سیاست تضادات کا مجموعہ بن چکی ہے۔ عمران خان صاحب ایک جانب اینٹی اسٹیبلشمنٹ کی رٹ لگاتے ہیں اور دوسری طرف انھی پر دباؤ ڈال کر انھیں مدد کے لئے پکارتے ہیں۔ عمران خان کے پاس سیاسی کارکنان نہیں بلکہ ایک بہت بڑا فین کلب ہے جو قانون، پارلیمنٹ، آئین کو کچھ نہیں مانتا۔ ان کے نزدیک سب سے اوپر خان ہے اور خان کے نعرے آئین، زمان پارک ہی پارلیمنٹ اور خان کا عمل ہی قانون ہے۔
یہ کیا طریقہ ہے کہ ایک گرفتاری پر اتنا تماشا ، اتنا شور شرابا اتنی بدمعاشی۔ عمران خان کے چاہنے والوں کے لئے نہ آئین سپریم ہے اور نہ قانون، بس سب سے سپریم عمران خان ہے۔ خان صاحب کو ان کے چاہنے والوں نے دیوتا مان لیا ہے جو نہ غلطی کر سکتا ہے، جو نہ جیل جاسکتا ہے، جو نہ ہتھکڑی پہن سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو کون سا قانون کون سی عدالت اور کون سی گرفتاری۔ عمران خان کی پارٹی کا ردعمل ایک سیاسی جماعت کا ردعمل ہرگز نہیں تھا بلکہ ایسے فین کلب کا ردعمل تھا جو ایک شدت پسند گروہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔
انسانوں سے غلطیاں ہوتیں ہیں اور ادارے انسان ہی چلاتے ہیں، ادارے کی سب سے بڑی غلطی آپ خود ہیں۔ آپ کیسے وجود میں آئے اور آپ کو کیوں اوپر لایا گیا آپ جانتے ہیں، میں جانتا ہوں اور بہت سارے لوگ جانتے ہیں یہ تو اچھا موقع تھا اپنے بل بوتے پر سیاست کرنے کا۔ اتنی مقبولیت ہونے کے باوجود غلط فیصلوں نے آپ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کا مطلب سیاست کا اختتام نہیں تھا لیکن سیاست کو آپ نے انا کا مسئلہ بنا دیا اور پورے ملک کو حقیقی آزادی کے ڈگڈگی پر نچاتے رہیں اور اس کا بھیانک انجام دیکھ بھی لیا ہے۔
عمران خان اور ان کا فین کلب اس خوش فہمی میں ہے کہ ان کے پاس عوامی طاقت ہے اور اس طاقت کے ذریعے وہ بہت سے اداروں کو کنٹرول کر لیں گے لیکن یہ فقط بھول ہے موجود اتحادی حکومت کے پاس اس سے زیادہ عوام ہے اور اس کا مظاہرہ انھوں نے کر بھی دیا ہے۔ یہ بات سب کو سمجھ لینی چاہیے کہ ہجوم کی طاقت سے فیصلے نہیں ہوتے اور اگر ہوتے بھی ہیں تو وہ دیر پا نہیں ہوتے۔ ہجوم سب کے پاس ہے اور جانثار بھی۔
یہ بات ہر پاکستانی کو سمجھ لینی چاہیے کہ کوئی سیاسی لیڈر اور ادارے کا سربراہ پاکستان سے زیادہ اہم نہیں، کسی سیاسی جماعت کی اس ملک کے مفاد کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں۔ سب سے پہلے پاکستان اور پھر اس کے بعد سیاست اور سیاسی رہنما کی محبت۔ سیاسی رہنما ہو یا پھر کارکنان ان کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ایک دور عروج کا ہوتا ہے اور ایک زوال کا ہوتا ہے لیکن جب عروج ہو تو اس وقت نشہ نہیں ہونا چاہیے اور جب زوال ہو تو اس وقت بہکنا نہیں چاہیے ورنہ بڑا دھچکا لگتا ہے اور سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔

