حلقہ زنجیر میں زباں
ساٹھ اور ستر کے عشرے میں بائیں بازو کے لوگ صرف ایک مثالی معاشرے کے خواب ہی نہیں دیکھتے تھے اور صرف انقلاب کے رومانس میں ہی مبتلا نہیں تھے بلکہ وہ اپنے نظریات سے بے پناہ وابستگی کے باعث ہر طرح کی تکلیف اٹھانے پر بھی آمادہ رہتے تھے۔ اس کی ایک روشن مثال رمضان اور شاہینہ ہیں۔ پاکستان کے ترقی پسند حلقوں میں ایسے بہت کم لوگ بلکہ ایسے بہت کم مرد ملیں گے جنہوں نے اپنے جیون ساتھی کے انتخاب میں بھی نظریات کو مقدم رکھا ہو ورنہ کامریڈوں کی اکثریت اپنی پرائیویٹ اور پبلک لائف کو الگ الگ ہی رکھتی تھی مگر رمضان اور شاہینہ نے کبھی اس طرح کے دہرے معیارات نہیں رکھے۔
رمضان میمن کی روداد زندگی جو انہوں نے ”حلقۂ زنجیر میں زباں“ کے عنوان سے قلم بند کی ہے، پڑھ کر آپ میری بات سے اتفاق کریں گے۔ سچ پوچھیے تو مختلف ابواب میں انہوں نے جس احترام سے شاہینہ کا ذکر کیا ہے اور جس طرح وہ ان کی رائے کا احترام کرتے دکھائی دیے ہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ صحیح معنوں میں ایک ترقی پسند انسان ہیں اور اگر سب مرد بحیثیت شوہر اپنی شریک زندگی کو اسی طرح برابر کا انسان سمجھنے لگیں تو حقوق نسواں کی تحریک چلانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔
اور شادی کا ادارہ جو ایک بدصورت شکل اختیار کرنے کے بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا جا رہا ہے، وہ بھی تباہ ہونے سے بچ جائے گا۔ اس کتاب سے یہ بھی پتا چلا کہ قیام پاکستان سے سات دن پہلے کراچی کے علاقے میٹھا در کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں پیدا ہونے والے رمضان کے دل میں بغاوت کا بیج ہمارے ناقص نظام تعلیم اور اساتذہ کی جانب سے مولا بخش کے بے دریغ استعمال نے بویا تھا۔ اسی وجہ سے وہ پانچویں جماعت میں ہی اسکول سے بھاگ لئے لیکن آنے والے دنوں میں انہیں کمیونسٹ پارٹی نے ماسکو کے پارٹی اسکول میں تعلیم حاصل کرنے بھیجا وہاں جا کے انہیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔
اس کتاب میں انہوں نے بہت ایمانداری سے سوویت یونین میں پارٹی کی بنیاد پر طبقاتی تقسیم اور دیگر مسائل کا جائزہ لیا ہے۔ وہاں انہیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ وہ سیاست، سماجیات اور معیشت کے بارے میں مغرب کے اعلی ڈگری یافتہ لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں۔ اسکول چھوڑنے کے بعد انہوں نے محنت مزدوری شروع کی۔ اپنے پینٹر استاد کے ساتھ مل کر الیکشن کے بینرز بنانے لگے۔ اس کے بعد لانڈھی کے ایک کارخانے میں مزدوری کی بدولت ان میں صحیح معنوں میں طبقاتی شعور پیدا ہوا۔
اور پھر جانسن اور جانسن میں ملازمت کے دوران یونین بنوانے کی کوششوں کی شکل میں ان کی مزدور جدوجہد کا آغاز ہوا۔ ان کی تربیت ڈاکٹر اعزاز نذیر جیسے رہنماؤں نے کی اور انہیں ترقی پسند ادب سے متعارف کروایا۔ رمضان جب مزدور جدوجہد کا حصہ بنے تو ظاہر ہے تقریروں، ہڑتالوں اور جیل جانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ جیل کی اندرونی صورت حال کا انہوں نے تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ جسے پڑھ کر وہ دور یاد آ جاتا ہے جب پاکستان میں مزدور یونینیں بہت مضبوط ہوا کرتی تھیں۔
اسی دوران ان کا کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے تعارف ہوا جس نے نہ صرف انتظامیہ سے مزدوروں کے حقوق دلوانے میں ان کی جدوجہد میں مدد کی بلکہ ان کے مارکسی فلسفہ، سیاست اور معیشت کے بارے میں شعور بڑھانے کے لئے اسٹڈی سرکل بھی بنایا۔ 1973 میں شاہینہ سے شادی کا قصہ بھی بہت دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک ہی فیکٹری میں کام کرتے اور یونین کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے اور جیسا کہ میں نے اکثر کہا ہے کہ بائیں بازو کے لوگوں میں یہ واحد جوڑا ہے جسے میں نے ہمیشہ خوش و خرم اور دلجمعی سے مزدور جدوجہد اور سیاست میں حصہ لیتے دیکھا باقی لوگ بھی کام کرتے رہے مگر کبھی غصے اور فرسٹریشن کے ساتھ اور کبھی مایوسی اور ناامیدی کے ساتھ لیکن رمضان ہمیشہ پرامید اور پرجوش اور خوش دکھائی دیے۔
یہ نعمت دوسروں کو نصیب نہیں ہوئی۔ میں تو واقعی رمضان اور شاہینہ کو ایک مثالی لیفٹسٹ جوڑا مانتی ہوں۔ جب ان کا پہلوٹھی کا بیٹا شاہینہ کی گود میں زندگی کی آخری سانسیں لے رہا تھا تو رمضان کورنگی میں پارٹی میٹنگ میں شریک تھے، اطلاع ملنے پر جب وہ گھر پہنچے تو ان کے ہاتھ میں سرخ جھنڈا تھا۔ اور تب پارٹی کے ارکان ہی خاندان والوں کی طرح آپ کا ساتھ دیتے تھے۔ کتاب کا چھٹا باب 1973 کے آئینی سمجھوتے کے بارے میں ہے۔
غوث بخش بزنجو کی گورنری کے دوران کمیونسٹ پارٹی کے ساتھی کوئٹہ میں سرگرم تھے۔ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری امام علی نازش اور جام ساقی گورنر ہاؤس میں روپوشی اختیار کرتے تھے۔ اسی باب میں پنڈی کے جلسہ عام میں فائرنگ اور اجمل خٹک کے کابل چلے جانے کے جذباتی فیصلے کا بھی ذکر ہے۔ آئین کے حوالے سے پارٹی کے کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے اور غلطیوں کا اعتراف بھی کیا گیا ہے۔ نئی نسل کو تو اندازہ بھی نہیں ہو گا کہ کیسے لوگ انقلاب لانے کے لئے پارٹی کے کل وقتی کارکن بنتے تھے، کیسے روپوشی کی زندگی گزارتے تھے۔
بہت سے لوگوں نے اپنی سوانح عمری لکھی ہے لیکن رمضان میمن کی یہ خود نوشت اس لئے منفرد ہے کہ انہوں نے بائیں بازو کی سیاست کو زندگی کی طرح بسر کیا ہے۔ مزدوروں کے حقوق کے لئے نعرے تو ہم سب نے لگائے لیکن رمضان نے تو بچپن سے مزدوری کی اور مزدوری کرتے ہوئے ہی وہ ٹریڈ یونین رہنما اور کمیونسٹ ہارٹی کا حصہ بن گئے۔ اس لئے ان کی آپ بیتی کمیونسٹ پارٹی کی جگ بیتی بھی ہے لیکن یہاں اس کی تفصیل میں جانا ممکن نہیں۔ سندھ کو صوفیوں کی دھرتی کہا جاتا ہے، ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ اس بات کو تاریخ کا گم گشتہ حوالہ سمجھیں لیکن جب جام ساقی نے کمیونسٹ پارٹی سے استعفی دیا تو رمضان سمیت ایک وسیع عوامی پارٹی بنانے کے موقف کے حامی ان سے جڑ گئے اور انہوں نے جمہوری تحریک (جت) شروع کی۔
اس زمانے میں سندھ میں مولویوں اور صوفیوں کا جھگڑا ہو رہا تھا۔ کوٹری کے علاقے میں جامع مسجد کے مولویوں نے صوفیوں کے پلاٹ پر قبضہ کر لیا تھا۔ صوفیوں کے رہنما فقیر جانن چن جام ساقی کے دوست تھے۔ ان کا انٹرویو عوامی آواز میں شائع ہوا اور لوگوں کو صوفیوں کے فلسفے کے بارے میں جاننے میں مدد ملی۔ صوفیوں کو ان کا پلاٹ واپس ملنے کے بعد فقیر جانن چن گوشۂ گمنامی میں چلے گئے۔ کمیونسٹوں نے صوفیوں کا ساتھ دیا تھا۔
یہ واقعہ کمیونسٹوں کے امن مارچ کے دوران پیش آیا تھا۔ جو سندھ میں ضیا دور میں ڈاکوؤں کے راج کے خلاف کیا گیا۔ اس مارچ کے بعد ہی بے نظیر بھٹو نے جام ساقی کو ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی گو یہ دعوت مسترد کر دی گئی مگر اس کے بعد یہ لوگ تذبذب کا شکار ہی رہے۔ کتاب کے آخر میں انہوں نے پاکستان کی سیاست میں خواتین کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے مائی بختاور، فاطمہ جناح، بے نظیر بھٹو، عاصمہ جہانگیر، مائی جوڑی اور انجمن مزارعین کی خواتین کی جد و جہد کو سراہا ہے۔
قصہ مختصر، رمضان اور شاہینہ اسی قافلے کا حصہ تھے جو امن، انصاف اور مساوات پر مبنی معاشرے کا خواب آنکھوں میں سجائے رواں دواں تھا۔ اور اب وہ پائیدار سماجی ترقی کے ساتھ ماحولیاتی تباہی کا مقابلہ کرنے کے لئے بھی کمر بستہ ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ رمضان میمن نے یہ تاریخی روداد قلم بند کر کے تاریخ، سیاسیات اور پولیٹیکل اکانومی کے طلبہ پر احسان کیا ہے۔ یہ کتاب سیاسیات کے نصاب میں ریفرنس میٹیریل کے طور پر شامل کی جانی چاہیے۔


