شائزوفرینیا کا علاج۔ تاریخی پہلو (5)
جب ہم شائزو فرینیا کے علاج کے بارے میں بدلتے رجحان ’تحقیقات اور سہولتوں کا تاریخ کے آئینے میں مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہم بیسویں صدی میں مختلف ادوار سے گزرے ہیں۔
انیسویں صدی کا ایک وہ دور تھا جب وہ انسان جو اپنی زندگی کے مسائل کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتے تھے ان کی زندگی جہنم بن جاتی تھی۔
انہیں گھروں سے نکال دیا جاتا تھا۔ وہ گلیوں اور بازاروں میں گھومتے پھرتے، درختوں، جانوروں اور پرندوں سے باتیں کرتے تھے۔ سڑکوں کے کناروں اور پارکوں میں سوتے۔ ہفتوں کیا، مہینوں نہ نہاتے اور نہ کپڑے بدلتے۔ بچے انہیں پتھر مارتے۔ نوجوان انہیں دیوانہ کہہ کر ان کا مذاق اڑاتے آخر وہ بھوک، پیاس اور سردی کی تاب نہ لاکر جاں بحق ہو جاتے انہیں لاوارث سمجھ کر یا تو دریا کے سپرد کر دیا جاتا یا ان کی لاش بے گور و کفن سڑتی رہتی۔
لیکن آہستہ آہستہ جب انسانوں کا ضمیر جاگا اور انہیں احساس ہوا کہ یہ لوگ کوئی مجرم نہیں، بیمار ہیں۔ اور انہیں غصے، نفرت، تلخ کلامی اور تمسخر کی بجائے ہمدردی کی ضرورت ہے تو بعض لوگوں نے انہیں کھانا اور کپڑے دیے، ان سے محبت سے بات کی اور ان کی درد بھری کہانی سنی۔ اس دوران اصحاب نظر اور باشعور لوگوں نے محسوس کیا کہ ان لوگوں کا علاج ان کا حق ہے یہ کوئی خیرات نہیں جو ہم انہیں دیتے ہیں یہ ہم سب کی معاشرتی ذمہ داری ہے۔
اسی دوران ماہرین نے یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں ذہنی صحت اور بیماریوں کو بھی جسمانی صحت اور بیماریوں کی طرح سمجھنا چاہیے اور ان کے مسائل پر غور کرنا چاہیے تاکہ ہم ان لوگوں کا جو اس سے متاثر ہوں علاج کرسکیں۔ چنانچہ آہستہ آہستہ طب اور نفسیات کے ماہرین نے اپنی توجہ اس طرف مرکوز کرنی شروع کی اور سائنسی بنیادوں پر اپنے مشاہدات اور تجربوں کو قلم بند کرنا شروع کیا تاکہ ہم ذہنی بیماریوں کی گتھیوں کو سلجھا سکیں۔ یہ ارتقائی سفر کئی مدارج اور ادوار میں طے ہوا۔
پہلا دور 1900 ء سے 1930 تک
اس دور میں مختلف شہروں میں نفسیاتی اسپتال بنائے گئے تاکہ مریضوں کو ایک محفوظ جگہ مہیا کی جا سکے۔ یہ مریضوں کا ہمدردانہ علاج کرنے کی طرف پہلا قدم تھا۔ اس سے اتنا تو ہوا کہ وہ لوگ جو سڑکوں پر بھوکے پیاسے اور بے گھر پھرا کرتے تھے انہیں کھانے کے لیے تین وقت کا کھانا، سونے کے لیے بستر اور پہننے کے لیے کپڑے ملنے لگے۔ شمالی امریکہ میں یہ اسپتال بیشتر شہروں سے باہر بنائے گئے تاکہ بیمار اگر اسپتال سے نکل بھی جائیں تو شہروں کی گنجان آبادی اور ٹریفک سے دور رہیں۔ یہ اسپتال ایسی جگہ بنائے گئے جہاں تازہ ہوا اور فطرتی مناظر کی فراوانی تھی جیسے بعض ممالک میں ٹی بی سینی ٹوریم پہاڑی علاقوں میں بنائے گئے تھے۔
دوسرا دور 1930 ء سے 1950 ء تک
یہ وہ دور تھا جب مریضوں کے علاج کے لیے کچھ طریقے ایجاد کیے گئے تاکہ اس مرض اور تکلیف میں تخفیف ہو سکے۔ بعض ماہرین کا خیال تھا جو بعد میں غلط ثابت ہوا کہ شائزوفرینیا کے مریضوں کو مرگی کی تکلیف نہیں ہوتی اور مرگی کے مریض کو شائزوفرینیا نہیں ہوتا ہے، اس لیے ان کا خیال تھا کہ اگر شائزوفیرینیا کے مریضوں کو مصنوعی مرگی کے جھٹکے لگیں تو عین ممکن ہے وہ ٹھیک ہوجائیں۔ چنانچہ انہوں نے ایسی ادویہ تلاش کیں جن سے مریض کو جھٹکے لگ سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں جو علاج کافی مقبول ہوا وہ انسولین کے انجکشنوں کا علاج تھا جو انسولین کوما تھراپی کہلاتا تھا۔
اسی دور میں بجلی کے جھٹکوں کے علاج۔ الیکٹرو کنولسیو تھراپی۔ بھی مقبول ہوئی جس میں مریضوں کو انجکشن لگانے اور چند گھنٹے انتظار کرنے کی بجائے انہیں بجلی کے دو تاروں سے کنپٹیوں پر چھوا جاتا تھا جس سے مریض نا صرف کچھ عرصے کے لیے بیہوش ہو جاتے تھے بلکہ ان کے سارے بدن میں تشنج بھی پیدا ہوجاتا تھا۔ اور انہیں جھٹکے لگتے تھے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ علاج دو ڈاکٹروں نے فرانس میں شہر سے باہر سیر کرتے ہوئے سوروں کے قصاب خانوں میں دریافت کیا تھا جہاں قصاب سور کو ذبح کرنے سے پہلے بجلی کے تاروں سے بیہوش کر دیتے تھے تاکہ وہ مزاحمت نہ کریں۔
ان ڈاکٹروں نے ایک طویل عرصے تک اس راز کا انکشاف نہ کیا۔ انہیں ڈر تھا کہ مریض یا ان کے لواحقین اس علاج سے بد دل نہ ہوجائیں، اس علاج کا ایک خطرہ یہ تھا کہ جیسے مرگی کے دوران میں کئی مریضوں کی بازو یا ٹانگوں کی ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں اس طرح بعض مریضوں کی بجلی کے علاج کے دوران ہڈیاں ٹوٹ جاتی تھیں چنانچہ ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ بجلی کے علاج سے پہلے مریض کو کوئی نشہ آور دوا اینستھیزیا دی جائے اور ایسی دوا دی جائے جو پٹھوں کے تشنج میں کمی پیدا کرے تاکہ وہ علاج کے دوران متاثر نہ ہوں۔ ایسی ادویہ اب پوری دنیا میں استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ تحقیق نے ہمیں بتایا ہے کہ بجلی کا علاج شائزوفرینیا کے مریضوں کی نسبت ڈپریشن کے مریضوں کے لیے زیادہ اور شائزوفرینیا کے لیے بہت کم استعمال ہوتا ہے اور انسولین کوما تھراپی تو بالکل ترک کردی گئی ہے۔ ایسے علاجوں کا یہ فائدہ ہوا کہ اسپتال میں داخل مریضوں میں سے کچھ اتنے بہتر ہو گئے کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ سکے اور اپنے خاندانوں کے ساتھ دوبارہ نارمل زندگی گزارنے کے قابل ہوئے۔
تیسرا دور 1950 ء سے 1970 ء تک
اس دور میں شائزوفرینیا کے علاج میں ایک انقلاب آیا۔ اس دور میں دو ایسے پہلو سامنے آئے جو اس سے پہلے نظر انداز کیے گئے تھے۔
پہلا پہلو۔ ادویہ
اس دور میں ایسی ادویہ دریافت کی گئیں جن سے مرض کے عوارض کو کنٹرول کرنا ممکن ہوا، اس سلسلے کی پہلی دوا لارگیکٹل تھی جو کلورپرومازین بھی کہلاتی ہے۔ ماہرین نے دریافت کیا کہ یہ دوا ناصرف مسکن ہے بلکہ شائزوفرینیا کی بنیادی خرابی جسے ہم سائیکوس کا نام دیتے ہیں ان کو بھی کنٹرول کرتی ہے اس لیے اپنی خصوصیت میں اینٹی سائیکوٹک ہے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس دوائی کی طرف ہماری توجہ کسی ماہر امراض نسواں نے دلوائی اور بتایا کہ وہ عورتیں جن کا حمل کے دوران بلڈ پریشر بہت بڑھ جاتا ہے اور وہ ٹوکسیمیا کا شکار ہوجاتی ہیں، جس میں بچے ضائع ہو جانے کا خطرہ بڑھ جانے کا خطرہ ہوتا ہے، ان کو جو ادویہ لیٹک کاکٹیل کے نام سے دی جاتی ہیں، تاکہ مریضہ کا بلڈ پریشر نیچے آ جائے ان میں ایک دوا کلور پرومازین بھی تھی جو مریضہ کا بلڈ پریشر کم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اعصاب کو بھی سکون پہنچاتی تھی چنانچہ اس دوا کو ذہنی مریضوں میں استعمال کیا جانے لگا اور اس دوا نے ذہنی بیماریوں کے علاج میں ایسا ہی انقلاب برپا کیا جتنا پینسلین نے میڈیسن میں کیا ہے۔ جدید ادویہ میں سیروکویل اور زائپریسا بھی شامل ہیں۔
کلورپرومازین کی دریافت کے بعد درجنوں ادویہ دریافت ہوئی ہیں جو مختلف مریضوں کی بیماری کے علاج کے لیے استعمال ہوئی ہیں، ان میں :
سٹیلازین
ہیلڈال
تھائرایڈازین (میلارل)
سرفہرست ہیں اور مختلف ناموں سے دنیا کے مختلف ممالک میں استعمال ہوتی ہیں۔
چونکہ مندرجہ بالا ادویہ دن میں تین یا چار دفعہ استعمال کرنی پڑتی ہیں اس لیے اب ایسی ادویہ دریافت ہوئی ہیں جو انجکشن کے طور پردی جا سکتی ہیں جسے مریض ہر دو ، تین یا چار ہفتوں کے بعد استعمال کر سکتا ہے، یہ ادویہ تیل کے محلول میں تیار ہوتی ہیں اور جسم کے پٹھوں میں محفوظ رہتی ہیں اور ہر روز دوا کی تھوڑی سی مقدار خون میں شامل ہوجاتی ہے۔ ان ادویہ نے مرض کے علاج کو کافی آسان بنا دیا ہے اور دنیا بھر میں لاکھوں مریض اس سے استفادہ کرتے ہیں ان انجیکشنوں میں مندرجہ ذیل زیادہ مقبول ہیں۔
امیپ (ہفتے میں ایک دفعہ)
موڈیٹن (دو ہفتے میں ایک دفعہ)
موڈیکیٹ
پی پورٹل (تین ہفتے میں ایک دفعہ)
لونگ ایکٹنگ ایل اے ہیل ڈال (چار ہفتے میں ایک دفعہ) )
:
چونکہ مختلف مریضوں کی بیماری مختلف ہوتی ہے اس لیے اس کا ڈاکٹر یا ماہر نفسیات یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اس کے لیے سب سے زیادہ مفید انجکشن کون سا رہے گا۔
اس طریقہ علاج سے یہ سب ممکن ہوا ہے کہ وہ مریض جو برس ہا برس اسپتالوں میں رہے، اب واپس اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں، اور ان میں سے بہت سے ایک کامیاب اور فعال زندگی گزار رہے ہیں۔
دوسرا پہلو۔ سائیکو تھیراپی:
جہاں اس دور میں ادویہ نے انقلاب پیدا کیا وہیں مختلف ماہرین نے مریضوں اور ان کے خاندانوں کی نفسیاتی ضروریات پر بھی توجہ دی اور انہیں احساس ہوا کہ ادویہ بیماری کی علامات کو تو کنٹرول کر دیتی ہیں لیکن مریض کی انا، شخصیت اور عزت نفس کے چرکوں کو مندمل نہیں کرتیں اس لیے انہیں اور ان کے اہل خانہ کو ایسے علاج کی ضرورت ہے جس سے ماضی کے زخم مندمل ہو سکیں۔ ماہرین نے یہ بھی جان لیا کہ اس علاج میں کسی ایک فریق کو مورد الزام ٹھہرانا چاہیے وہ مریض ہو یا اس کے والدین یا رشتہ دار، علاج کی کامیابی کے لیے اچھا شگون ثابت نہیں ہوتا۔
اس لیے ان کے علاج کا مقصد ماضی کو ٹٹولنا نہیں ہوتا بلکہ حال اور مستقبل کو بہتر بنانا ہوتا ہے اور اگر انہیں احساس ہوا کہ مریض اور اس کے خاندان کے درمیان غصہ، تلخی، یا نفرت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ علاج کے باوجود ایک چھت کے نیچے نہیں رہ سکتے تو پھر مریض کے لیے متبادل رہائش کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اس طرز علاج کی وجہ سے مختلف شہروں میں مختلف بورڈنگ ہوم معرض وجود میں آئے، جہاں مریضوں کی رہائش اور علاج کی سہولتیں میسر تھیں۔
چوتھا دور 1970 ء سے اب تک
1970 ء کے بعد شائزوفرینیا کے علاج میں بہت سے ایسے اقدامات اٹھائے گئے جن سے مریضوں اور ان کے خاندانوں کے لیے علاج کی سہولتیں باآسانی میسر آنے لگیں اور علاج کا مقصد صرف مرض کو ٹھیک کرنا ہی نہ تھا بلکہ ان کا طرز زندگی بھی بہتر بنانا تھا اور یہ قدم نہایت اہمیت کا حامل تھا۔ اس سلسلے میں پوری مغربی دنیا میں مندرجہ ذیل اقدامات اٹھائے گئے۔
1۔ جنرل اسپتالوں میں نفسیاتی وارڈ:
چونکہ نفسیاتی ہسپتال شہر سے بہت دور بنائے گئے تھے۔ اس لیے جب کوئی مریض وہاں داخل ہوتا تھا تو وہ اپنے گھر والوں اور دوستوں سے بہت دور ہوجاتا تھا اور نفسیاتی اسپتال چونکہ پاگل خانے بھی کہلاتے تھے اس لیے مریضوں کو وہاں داخل ہونے میں بھی شرم آتی تھی۔ اور عوام میں ان کے خلاف ایک خاص قسم کا تعصب بھی تھا، اس لیے حکومت اور اصحاب اختیار نے فیصلہ کیا کہ جنرل اسپتالوں میں میڈیسن، سرجری، امراض نسواں اور کئی دیگر وارڈ بنائے جاتے تھے ان میں ایک نفسیاتی وارڈ بھی بنایا جائے تاکہ ذہنی مریضوں کا باقی مریضوں کے ساتھ ساتھ علاج کیا جائے اور جسمانی اور ذہنی بیماریوں کے درمیان جو خلیج حائل ہے اسے کم کیا جائے۔ جنرل اسپتال چونکہ شہروں کے اندر بنائے جاتے تھے اس لیے مریض اسپتال میں داخل ہونے کے باوجود اپنے خاندان سے دور نہیں ہوتا تھا۔
ب۔ آؤٹ پیشنٹ کلینک
وہ مریض جو اسپتال سے فارغ ہو جاتے تھے یا جنہیں اسپتال میں داخلے کی ضرورت ہی نہ تھی لیکن علاج کی ضرورت تھی، ان کے لیے کلینک کھولے گئے تاکہ وہ اپنے ڈاکٹر، نرس اور ماہر نفسیات سے مل سکیں اور علاج کروا سکیں۔ ایسے کلینک ہر علاقے میں بنائے گئے اور اس طرح مریضوں کو اور بھی کم فاصلہ طے کرنا پڑتا۔ ایسے کلینکوں کا ماحول بھی زیادہ خوشگوار بنایا گیا ہے تاکہ مریض زیادہ پریشان نہ ہوں اور اپنے علاج میں زیادہ فعال کردار ادا کرسکیں۔
ج۔ پبلک ہیلتھ اور ہوم کیئر کے شعبے :
اگرچہ پبلک ہیلتھ اور ہوم کیئر کے شعبے کافی عرصے سے معرض وجود میں آچکے تھے لیکن ان کی نرسیں ان مریضوں کا گھروں میں خیال رکھتی تھیں، جنہیں جسمانی بیماریاں تھیں۔ وہ گھروں میں جاکر شوگر کے مریضوں کو انسولین کے ٹیکے لگاتی تھیں، سرجری کے بعد مرہم پٹی کرنے جاتی تھیں اور کسی عورت کے ہاں بچہ ہوتا تو اس کا خیال کرنے جاتی تھیں، لیکن آہستہ آہستہ ان نرسوں میں سے چند ایک کو یہ ٹریننگ بھی دی گئی کہ وہ ذہنی مریض جو اس قابل نہیں کہ اسپتال یا کلینک جاکر اپنا علاج کروا سکیں اور ٹیکے لگوا سکیں انہیں وہی علاج گھروں میں میسر آنا چاہیے، چنانچہ اب وہ نرسیں باقاعدگی سے ان مریضوں کے گھروں میں جاتی ہیں اور انہیں موڈیکیٹ کے ٹیکے یا جو بھی ٹیکے مریض استعمال کر رہے ہوں، لگاتی ہیں اور اس طرح مریضوں کی صحت بہتر رہتی ہے اور اس سے خاندان والوں میں ڈھارس رہتی ہے۔
د۔ری ہیبی لیٹیشن کا شعبہ
ماہرین نفسیات نے محسوس کیا کہ وہ مریض جو برس ہا برس تک مرض سے متاثر رہے ہیں اور اسپتال میں داخل رہے ہیں وہ بہت سی روز مرہ کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے قابل نہیں رہے چونکہ اسپتال میں تمام کام نرسیں کرتی تھیں، اس لیے انہیں کچھ نہ کرنا پڑتا تھا، اب جب کہ ادویہ سے ان کی بیماری تو بہتر ہو رہی تھی لیکن وہ معاشرے میں اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل نہیں تھے، چنانچہ مریضوں کو ایک ذمہ داری اور خود مختاری کی زندگی کے لیے تیار کرنے کے لیے بہت سے شعبے وجود میں آئے جن میں :
Operational Therapy
Industrial Therapy
Recreational Therapy
کے شعبے سر فہرست ہیں۔ ان معالجوں کا یہ کام ہے کہ وہ مریضوں کو :
کھانا پکانا
کپڑے دھونا
بازار سے خریداری کرنا
بس میں سفر کرنا
بینک میں پیسے جمع کرانا، چیک لکھنا
مناسب کپڑے پہننا
ملازمت کے لیے انٹرویو دینا
اپنے کمرے اور گھر کا خیال رکھنا
باقی لوگوں سے مل جل کر رہنا
فارغ وقت کو اچھے طریقے سے صرف کرنا
وہ تمام چیزیں سکھائیں جو صحت مند لوگ خودبخود کرتے ہیں۔ اس قسم کی تھیراپی کا یہ فائدہ ہوا کہ وہ سینکڑوں مریض جو برس ہا برس سے اسپتالوں میں رہنے کے عاد ی ہو گئے تھے اب اس قابل ہو گئے ہیں کہ انہیں اسپتالوں سے رخصت کر دیا جائے، وہ اپنے اپنے کلینک کے ڈاکٹراؤ نرس او اگر ضرورت پڑے تو پبلک ہیلتھ نرس سے علاج کروا سکیں۔
ہ۔ تعلیم (Education)
جوں جوں مریض اسپتالوں میں کم اور اپنے خاندانوں کے ساتھ دوبارہ رہنے لگنے ہیں، ماہرین کو یہ احساس ہوا کہ مریض کے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی مرض اور مریض کے ساتھ رہنے کی تعلیم ضروری ہے۔ اس لیے اب ایسے کورسز پڑھائے جاتے ہیں جس میں مریض کے احباب شامل ہوتے ہیں اور انہیں مرض کے بارے میں تعلیم دی جاتی ہے تا کہ اگر مریض یا اس کا خاندان نفسیاتی بحران کا شکار ہو جائے تو اس کا کس طرح خیال رکھا جائے۔
ایسی تعلیم سے معاشرے میں نفسیاتی امراض کے بارے میں اجتماعی شعور بھی بلند ہو رہا ہے اور نفسیاتی بیماریوں کے بارے میں ایک ہمدردانہ رویہ بھی پنپ رہا ہے جس کی ہر معاشرے کو اشد ضرورت ہے۔
و۔ سائیکو تھیراپی
ماہرین میں آہستہ آہستہ اس بات کا شعور پیدا ہوا ہے کہ شائزوفرینیا کے علاج میں صرف ادویہ، اور تعلیم ہی کافی نہیں بلکہ مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کے رجحانات بدلنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ منفی ماحول کی بجائے ایک مثبت ماحول تیار کرسکیں اور ایک دوسرے پر تنقید کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی تعریف بھی کرسکیں اور غصے، نفرت اور تلخی کے جذبات کی بجائے عفو و درگزر، محبت اور مل جل کر رہنے کے جذبات پیدا کرسکیں اور یہ چیزیں سائیکو تھیرپی سے پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
وہ تھیرپسٹ جو سائیکو تھیرپی سے علاج کرتے ہیں وہ بھی اسے مختلف طریقوں سے استعمال کرتے ہیں، بعض انفرادی تھیرپی پر زور دیتے ہیں۔ جس میں صرف ایک فرد کا علاج ہوتا ہے بعض تھیرپسٹ فییلی تھراپی اختیار کرتے ہیں اور پورے خاندان کا علاج کرنے پر اصرار کرتے ہیں اور بعض گروپ تھرپی کو زیادہ مفید سمجھتے ہیں اور مختلف لوگوں کو چاہے وہ مریض ہوں یا ان کے رشتہ دار علاج کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ چونکہ گروپ کے مختلف ممبر ایک ہی کشتی میں سوار ہوتے ہیں اس لیے وہ معالج سے ہی نہیں ایک دوسرے سے بھی سیکھتے ہیں۔
ز۔ مل جل کر کام کرنے کا ماحول:
پچھلی دو تین دہائیوں میں جو تبدیلی شائزوفرینیا کے علاج کے لیے سب سے اچھا شگون بنی ہے وہ یہ ہے کہ مختلف مکاتب فکر اور نقطۂ نظر کے معالجوں نے مل جل کر کام کرنا شروع کر دیا ہے اور اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر وہ سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں تاکہ یہ فیصلہ کرسکیں کہ ہمیں اجتماعی طور پر کیا اقدامات اٹھانے چاہئیں جن سے شائزوفرینیا کے مریضوں اور ان کے خاندانوں کو بہتر علاج مہیا ہو سکے تاکہ وہ ایک بہتر زندگی گزار سکیں۔ (جاری ہے )


