کور کمانڈر ہاؤس تک آسان رسائی کیسے؟
9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن تھا، یہ قومی سانحہ ہے، اس پر پاکستان کی پوری قوم آبدیدہ ہے، دل دکھے ہوئے ہیں۔ سوچی سمجھی سازش ہو یا بیرونی سازش۔ اس سانحہ کا وقوع پذیر ہونا اس ملک کی عزت کو داغدار کر گیا۔ کیوں اتنی تسلی سے ان شر پسند عناصر کو اس حساس بلڈنگ کے اندر داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی اجازت دی گئی۔ لوگ ویڈیوز بنا کر اپڈیٹ کرتے رہے۔ دنیا پاکستان کا تماشا دیکھتی رہی۔ کیا اس ملک میں اتنی لاقانونیت ہے کہ ہر شخص جو دل چاہے گا کرتا رہے گا؟
کیوں اتنی دیر یہ تماشا دیکھا گیا؟ کہاں تھی ہماری پولیس؟ کیوں فوراً اس معاملے کو روکا نہیں گیا؟ اب جو افسران ایک ایک نوجوان کو شناختی کارڈ سے پہچان کر پکڑنے نکلے ہیں وہ اس وقت کہاں تھے؟ اس تمام معاملے کے بعد جو پولیس افسر ٹی وی پر جگہ جگہ آ کر اپنے ہونے والے نقصان کے بارے میں رو رہا ہے وہ اس وقت کہاں تھا؟
پاکستان ایک وقت نازک دور سے گزر رہا ہے۔ کیا یہ ان حفاظتی اداروں کی ذمہ داری نہیں تھی کہ اس پاکیزہ بلڈنگ کے تقدس کا احترام رکھا جاتا فوراً سے پہلے ان لوگوں پر قابو پایا جاتا یا ساری پولیس کی ذمہ داری زمان پارک ہی کی تھی۔
اتنے پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں اتنے اہم مقام پر اتنا بڑا قومی نقصان کر کے لوگ کیسے دندناتے رہے؟ یہ کوئی بم دھماکہ نہیں تھا کہ جو اچانک ہو گیا کتنے گھنٹے لوگ وہاں تسلی سے ہر چیز جلاتے لوٹ مار کرتے رہے۔ یہ ایک شرمندگی بھرا تھپڑ ہے حکومت وقت اور قانون کے علم بردار محافظوں کے لیے۔ اب ہمارے ملک کا تمسخر اڑا رہے ہیں دشمن ممالک کے وہ تمام چینلز جو ہماری پولیس اور آرمی سے خوفزدہ تھے۔ ہم تو اپنے ہی ملک میں عام شہریوں سے خود کو نہ بچا سکے۔ یہ وہ اہم سوالات ہیں جن کا جواب طلب کرنا ہر اس عام شہری کا حق ہے جو ٹیکسز کی صورت میں ایک بھاری رقم ادا کرتا ہے حکومت کو اپنی اور اپنے ملک کی سالمیت کے لئے۔
کتنا آسان ہے اس ملک میں کچھ بھی کر جانا۔ سننے میں ایک سادہ سی بات ہے مگر یہ اتنی بھی سادہ نہیں ایسا لگ رہا ہے کہ جو دیکھ رہا ہے اصل میں وہ دکھایا جا رہا ہے۔ اس ملک کی گندی سیاست کی لپیٹ میں پہلے کھلے عام قتل پھر گالم گلوچ اور غیر اخلاقی ویڈیوز کا لیک ہونا ’اس ملک میں کسی کی بہن بیٹی محفوظ نہیں یہ سب ہماری سیاست کے وہ گھٹیا ہتھکنڈے ہیں جس سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔
میں کیسے مان لوں کہ اس ملک میں عوام کور کمانڈر ہاؤس میں بڑی آرام سے داخل ہوئے توڑ پھوڑ کی مال غنیمت لوٹا اور دندناتے ہوئے واپس چلے گئے۔ جب یہ قافلہ کورکمانڈر ہاؤس کی طرف چلا تو راستے میں کوئی پولیس اہلکار نہیں تھا جو مداخلت کرتا؟ کہاں تھی ہماری پولیس؟ کیا پورے پاکستان کی پولیس صرف ایک دہشتگرد عمران خان کی نگرانی میں لگی ہوئی تھی۔ کیا ہمارے شہداء کے اثاثوں کی حفاظت پولیس کے ذمہ نہیں تھی؟
میرا سوال ہے آئی جی پنجاب سے جو جگہ جگہ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر آ کر بیان دے رہے ہیں کہ یہ نقصان ہو گیا وہ نقصان ہو گیا کیا وہ یہ بھی وضاحت کریں گے کہ یہ نقصان ہوا کیوں؟ یہ تو عوام تھے۔ اگر خدا نخواستہ کوئی غیر ملکی سازش کے تحت ہمارے ملک میں داخل ہو جائے تو ہماری سیکورٹی کے یہی حالات رہیں گے۔ یہ توڑ پھوڑ اور یہ نقصان عوام کے پیسے سے دوبارہ بھر دیا جائے گا۔ مگر اس سوال کا جواب ڈھونڈنا ہو گا۔
اس ملک میں شرپسندی کی فضا ہمیں مل کر ختم کرنی ہوگی کیونکہ یہ ملک ہے تو ہم ہے۔ شرپسندی اور خود غرضی سے نکل کر ہمیں اپنے ملک اور اپنی نوجوان نسل کے بارے میں سوچنا ہے۔
ورنہ ایک ایسا فتنہ قوم جنم لے گی جس کو اپنے حال یا مستقبل کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی۔
پچھتائیں گے اک روز کڑی دھوپ پڑی تو
جو لوگ محبت کے شجر کاٹ رہے ہیں
اس ملک میں نوجوان نسل اتنی گمراہ کیوں ہے؟ کیوں یہ عوام اپنے ملک کے سپاہیوں اور پاکستان کا دفاع کرنے والے اداروں سے بیزار ہو رہی ہے؟ کیوں یہ نسل بھروسا نہیں کرتی ان اداروں پر جو بنے ہیں آپ کا بھروسا جیتنے کے لئے ہے؟ کیوں خود ساختہ قانون سازی چاہتی ہے یہ نئی نسل؟
میری اس توڑ پھوڑ میں ملوث شرپسند پاکستانیوں سے سوال ہے کے کیا اپنے گھروں کو توڑ کر بھی کبھی سکون ملا ہے کسی کو؟ ان جوانوں کی طاقت اور ہمت اپنی بربادی کی خبریں کیوں سنا رہی ہے؟ جس دین کے علم بردار ہو کیا اس کی تعلیمات یہ سکھاتی ہے؟ کسی بھی تنظیم یا گروہ کی سازش میں میرے ملک کے بیٹے بیٹیاں کیوں استعمال ہو رہے ہیں؟
کیوں نفرت بڑھتی جا رہی ہیں؟ میرے ملک کی فضاؤں میں دہشت گردش کا ناسور کیوں پنپ رہا ہے؟ کیوں آزادی کے نام پر غلامی کا زہر پلایا جا رہا ہے اس نسل کو کس راہ پر لگایا جا رہا ہے۔ حقیقی آزادی حاصل کرنے کے مزاج اور ہوتے ہیں اپنے اثاثے اور فخر کو فنا نہیں کیا جاتا۔ بلکہ یہ ہمارا فخر ہے۔ مضبوط قومیں اپنے فخر کو دل سے لگا کر ان کی حفاظت کیا کرتی ہیں کیونکہ ملک پاکستان کی شان ہیں پاکستان زندہ باد۔


