کامریڈ حیدر بخش جتوئی: عظیم وطن دوست کسان رہنما

کامریڈ حیدر بخش جتوئی ایک عظیم سندھ کے ساتھ ساتھ مزدور اور کسان دوست رہنما تھے۔ جس کی رگ رگ میں سندھ کے غریبوں ہاریوں کا درد تھا۔ ان کی دھڑکنوں میں سندھ سے محبت خون کی طرح دؤڑتی تھی، ان کی سانسوں میں مزدورں اور کسانوں کے حقوق کا درد شامل تھا۔ سندھ کے کسانوں سے محبت میں ان کا دل درد کا دریا تھا۔ انہوں نے ہاریوں اور ان کے حقوق کے لیے آخری دم تک لڑتے انگریز سامراج اور جاگیرداروں کے سامنے مزاحمت کا پہاڑ بن کر ڈٹا رہا۔ کامریڈ ایک سندھی زبان کے اعلی پائے کے شاعر اور ادیب بھی تھے۔
کامریڈ حیدر بخش 7 اکتوبر 1901ء کو سندھ کے چھوٹے سے گاؤں، ’بکھو دیرو‘ ضلع لاڑکانہ میں ایک غریب شخص الھداد جتوئی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم 1911ء میں حاصل کی اور اس وقت کے سات درجے یعنی سندھی فائنل کا امتحان امتیازی حیثیت میں پاس کیا۔ 31 اکتوبر 1918ء کو لاڑکانہ کے مدرسۃ الاسلام سے میٹرک کیا۔ 1927ء میں ڈی جے سندھ کالج کراچی میں سے بے اے آنرز کیا۔
حصول تعلیم کے بعد کامریڈ نے عملی زندگی میں قدم رکھا۔ 1931ء میں بدین شہر میں مختیار کار مقرر ہوئے۔ بطور مختیار کار کامریڈ نے ڈگھڑی، ڈوکری، گھوٹکی، میہڑ اور جیکب آباد میں خدمات سرانجام دیں۔ 1943ء سے 1944ء تک اسپیشل ریکوری افسر کوآپریٹو سوسائٹیز رہے۔ بعد میں ڈپٹی کلکٹر مقرر ہوئے۔ 1944ء میں حر مجاہدین کے خلاف قائم کی گئی اسپیشل ملٹری کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔ مگر اس عہدے پر تقرری کے بعد ان کے دل میں انگریز سرکار کے خلاف نفرت پیدا ہوئی۔ انہوں نے حروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس کے علاوہ نوکری کے دوران کامریڈ نے ہاری یا کسانوں کے ساتھ زمینداروں کے مظالم اور ناانصافیوں کو شدت سے محسوس کیا تو انہوں نے ڈپٹی کلکٹر کے عہدے سے 1945ء میں استعفیٰ دے دیا۔
وہ ادب کے علاوہ مقامی ہاریوں اور عام لوگوں کی بھلائی کے لیے سرگرم عمل ہو گئے۔ کامریڈ کا ویسے بھی شروع سے ہی ترقی پسند تحریکوں اور روشن خیال حلقے سے تعلق چلا آیا تھا۔ کامریڈ ترقی پسند اور انقلابی شاعر اور ادیب تھے۔ ان کی شاعری کا مرکزی خیال سندھ، کے عام آدمی اور کسانوں کے مسائل اور ان پر ہونے والے مظالم اور نا انصافیوں کے عناصر موجود ہیں۔ انہوں نے کسانوں میں شعوری قوت اور ہمت پیدا کرنے کے لیے عملی طور پر جدوجہد کی۔ کامریڈ نے کسانوں کے مسائل کی نسبت سے جاگیرداروں اور وڈیروں کے خلاف مزاحمت کی تحریک شروع کی تو جاگیردار ان کے خلاف ہو گئے۔ اس حد تک کہ انگریزوں کے خلاف لکھنے لگے تو ان پر الحاد اور ملک دشمنی کے الزامات لگا کر ان کی شاعری کی کتابوں اور تحریروں پر پابندی عائد کر دی گئی۔

1930ء میں جیٹھ مل پرسرام، شیخ عبدالمجید سندھی، جمشید مہتا اور جی ایم سید نے سندھ ہاری کمیٹی قائم کی تھی۔ کامریڈ نے 1947ء میں استعفیٰ دے کر اس ہاری کمیٹی میں شمولیت اختیار کی اور پہلے جنرل سیکرٹری چنے گئے۔ جلد ہی اس کے صدر منتخب ہونے اور زندگی کے آخری دم تک صدر رہے۔ کامریڈ جتوئی سندھ ہاری کمیٹی کے متحرک رہنما کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی کے سرگرم رکن رہے۔ الیکشن لڑے مگر جاگیرداروں کے عتاب کا شکار بنے اور الیکشن میں ناکام رہے۔ اس کے باوجود وہ اپنے مقصد اور اپنی منزل کی حاصلات کے لیے متحرک رہے۔ کامریڈ کو اسکندر مرزا اور ایوب خان کے دور میں مراعات کی پیشکش کی گئی مگر اپنے مقاصد، سوچ اور عمل میں اس سچے رہنما نے مراعات ٹھکرا دیں۔ سندھ کے لوگوں نے ان کی جدوجہد اور اعلیٰ آدرش اور خدمات کی اعتراف میں بابائے سندھ کا لقب دیا۔
بابائے سندھ حیدر بخش جتوئی کی مندرجہ ذیل شایع ہونے والی کتابیں مشہور ہیں :
( 1 ) تحفۃ سندھ (شاعری۔ 1930 )
( 2 ) آزادی ائیں قوم (شاعری۔ 1943 )
( 3 ) سندھ اسمبلی الیکشن پٹیشن (نثر، انگریزی: 1950 )
( 4 ) ہاری کہانیوں (نثر: 1950 )
( 5 ) بل ثو امینڈ سندھ ٹیننسی ائکٹ (نثر، انگریزی : 1950 )
( 6 ) اپیل ٹو سٹیزنس آف پاکستان (نثر، انگریزی: 1951 )
( 7 ) ہاری انقلاب (نثر: 1953 )
( 8 ) ہاری گیت ( 1951 )
( 9 ) کمدار جا کارناما (ڈراما: 1953 )
( 10 ) ڈیموکریسی اینڈ ڈکثیٹرشپ ان پاکستان۔ چار حصے (نثر، انگریزی : 1955 )
( 11 ) ڈیموکریسی اینڈ جسٹس آف چیف جسٹس (نثر، انگریزی: 1956 )
( 12 ) انجسٹ لئنڈ اسیسمینٹ ریٹس (نثر، انگریز: 1957 )
( 13 ) سندھی لئنگئیج اسٹے ان کراچی آر ناٹ (انگریزی: 1957 )
( 14 ) لئنڈس ان سندھ، ہو شڈ اون دیم؟ (انگریزی: 1957 )
( 15 ) ون یونٹ ائیں ڈیموکریسی (انگریزی: 1962 )
( 16 ) ڈسپوزل آف اویکیو پراپرٹی (انگریزی: 1957 )
سندھ کے یہ عظیم رہنما 21 مئی 1970ء کو وفات پا گئے۔






