درختوں کے ہاتھ خالی ہیں : اختر حسین جعفری


تین جون انیس سو بانوے کو بدھ کا دن تھا۔ دریائے رائن کے کنارے آباد تاریخی شہر کولون کے راڈربرگ گورٹل پر واقع ریڈیو دوئچے ویلے، دی وائس آف جرمنی کی بلند بالا عمارت کی آٹھویں منزل پر اردو سروس کا عملہ معمول کی مصروفیات میں مگن تھا۔ شام کے پروگرام کے لیے موضوعات کا چناؤ اور ذمہ داریاں تقسیم کر کے کیفے ٹیریا میں ناشتہ کیا گیا تھا۔ جنوب ایشیائی نشریات کے انچارج ڈاکٹر گوئبل گروس کو ”ہیلو“ کہتے ہوئے ہم اپنی اپنی نشستوں پر پہنچ گئے تھے۔

صدر شعبہ سید اعجاز حسین صاحب کے کمرے میں دستیاب اکلوتا کمپیوٹر اب سب کی توجہ کا مرکز تھا کہ سبھی کو باری باری اپنے موضوع کے مواد کے لیے اس کی مدد درکار تھی۔ پاکستان سے روزنامہ امروز اور جو کچھ رسالے بذریعہ ڈاک آتے تھے ان کی خبریں ہفتہ پرانی ہوتی تھیں۔ جنگ لندن کولون کے مرکزی ریلوے سٹیشن کے ایک بک سٹال پر آتا تھا جس کے حصول کے لیے شہر کا ڈاؤن ٹاؤن گزر کر تاریخی کیتھڈرل (ڈوم) کے پہلو میں واقع سٹیشن کی یاترا لازم تھی۔

دن کی گہما گہمی میں اچانک ہی یہ خبر موصول ہوئی کہ اردو کے عہد ساز نظم گو اختر حسین جعفری صاحب پاکستان میں انتقال کر گئے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ ماحول کی گہما گہمی ایک دم دم توڑ گئی ہے اور اس کی جگہ اداسی کی چادر سی پھیلتی جاتی ہے۔ شاہ صاحب، اشرف انصاری صاحب، علی اصغر مداح، شہناز حسین، امجد علی سبھی بڑے معنی خیز انداز میں میری طرف دیکھ رہے تھے کیونکہ ان کے نزدیک فکر و حرف سے محبت کے باعث میرا جعفری صاحب سے براہ راست رشتہ بنتا ہے۔ ادھر میرا معاملہ یہ ہے کہ دکھ کی خبر مجھے اور بھی خاموش کر دیتی ہے۔ مجھے کچھ وقت لگتا ہے غم کی لہروں کو عبور کرنے میں۔ ہر لحاظ سے سست پیراک ہوں۔

میں نے ان سب سے نظریں چرا کر اپنی بائیں جانب دھوپ سے روشن کھڑکی کے پار نگاہیں جما دیں۔ نیچے رنگ برنگی کاروں سے بھری پارکنگ سے ادھر سڑک کے دونوں طرف گھنے درخت لہلہا رہے تھے۔

درختوں کے ہاتھ تو آج خالی ہونے چاہئیں۔ ”میں بے ساختہ بڑبڑایا تھا۔“

کسی نے سنا یا نہیں۔ مجھے معلوم نہیں لیکن میرے خیال کے اوراق پر جعفری صاحب کی اس دلآویز کے مصرعے اجاگر ہونے لگے تھے جو انھوں نے ایذرا پاونڈ کی رحلت پر کہی تھی:

تجھ کو کس پھول کا کفن ہم دیں
تو جدا ایسے موسموں میں ہوا
جب درختوں کے ہاتھ خالی ہیں
انتظار بہار بھی کرتے
دامن چاک سے اگر اپنے
کوئی پیمان پھول کا ہوتا
آ تجھے تیرے سبز لفظوں میں
دفن کر دیں کہ تیرے فن جیسی
دہر میں کوئی نو بہار نہیں

جعفری صاحب کی نظم مجھے کسی اور ہی موسم میں لے گئی تھی۔ کسی اور عہد کے افق پر نمودار ہوتی 1993 کی ایک شام جب میں لاہور کی ٹولنٹن مارکیٹ میں واقع کبانا ریستوران میں سینیئر تخلیق کاروں خالد احمد، نجیب احمد اور شہزاد صاحب کے ساتھ میں ٹولنٹن مارکیٹ میں واقع کبانا ریستوران میں بیٹھا تھا۔ باتوں کا رخ نئی نظم کی جانب مڑا اور چائے آنے تک اردو نظم کے محسنوں نظیر اکبر آبادی، مولانا محمد حسین آزاد کی انجمن پنجاب کے تحت ”نظمیہ“ مشاعروں کی بنیاد، الطاف حسین حالی، اسماعیل میرٹھی، اکبر الہ آبادی، چکبست، اقبال اور جوش تک بات ہو چکی تھی۔ چائے آئی تو ان میں سب سے چھوٹا ہونے کے ناتے اسے بنانے اور پیش کرنے کی ذمہ داری مجھے تفویض ہوئی جبکہ استادان گرامی جدید اردو نظم کے فروغ میں ترقی پسند تحریک اور حلقہ ارباب ذوق کے ادبی پلیٹ فارمز کے کردار پر بات کرنے لگے۔

اب ن۔ م۔ راشد، میرا جی، فیض، اختر الایمان، سردار جعفری، مختار صدیقی، یوسف ظفر، قیوم نظر، احمد ندیم قاسمی، ساقی فاروقی، حبیب جالب، عارف عبدالمتین، اختر حسین جعفری، وزیر آغا، تصدق حسین خالد، مبارک احمد، افضال احمد سید، احمد ہمیش، عزیز حامد مدنی، رئیس فروغ، انور سن رائے، سلیم احمد، ثروت حسین اور جانے کتنے ہی اور اہم نظم گو شعرا اور ان کی نظمیں اس غیررسمی گفتگو میں زیر بحث آئیں۔ ان کے عہد، ان کے اسلوب، ان کی فکر اور موضوعات پر بات ہوئی۔ ایک بات جو میرے لیے نئی تھی وہ نظم آزاد کے مصرعوں کو لکھنے کا ڈھنگ تھا یعنی لائن بریک کہاں اور کیسے ہوگی! شہزاد صاحب کا کہنا تھا کہ اس التزام کا لحاظ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس سے ایک تو ایک فنی تقاضا پورا ہوجاتا ہے اور دوسرے یہ کہ نظم پڑھنے اور سننے کے ساتھ ساتھ دیکھنے کی شے بھی بن جاتی ہے۔

”دیکھنے کی شے“
بات کچھ پلے نہ پڑی۔ میں نے چائے کا کپ پکڑاتے ہوئے سوالیہ نظروں سے خالد احمد کی طرف دیکھا
”English, please!“

انہوں نے ارد گرد کو خاطر میں لائے بغیر اپنا مخصوص قہقہہ بلند کیا۔ پھر بولے
سچ سچ بتاؤ تم نے اب تک کتنی جدید نظمیں دیکھی ہیں؟
میں نے سوچتے ہوئے کہا کہ جن شعرا کا ذکر آپ ابھی کر رہے تھے اکثر و بیشتر کی نظمیں دیکھی ہیں میں نے۔
بولے : ”یہ ہوہی نہیں سکتا۔ تم نے پڑھی ہوں گی مگر میں شرط لگاتا ہوں کہ دیکھی نہیں ہیں“ ۔
اس پر میری حیرت کا اندازہ آپ بھی کر سکتے ہیں۔
میری حیرت سے چند لمحے لطف اندوز ہونے کے بعد گویا ہوئے
میری بات سنو، اب سے تم نے نظمیں پڑھنی ہی نہیں دیکھنی بھی ہیں۔ ”

تمھیں ورق پر نظم کی ایک صورت دکھائی دے گی۔ اچھی نظم میں مصرعوں کی ترتیب اور ان کا اندراج ایسے انداز میں کیا جاتا ہے گویا نظم نہیں لکھی گئی بلکہ الفاظ کی مدد سے کوئی مجسمہ تراشا گیا ہے۔ اس انداز سے دیکھو گے تو تمھیں شہزاد صاحب کی بات اردو ہی میں سمجھ آ جائے گی ”۔

چناں چہ میں نے اختر حسین جعفری صاحب کی نظموں کو بھی اسی انداز سے ازسر نو دیکھنا اور پڑھنا شروع کر دیا۔ موضوعات و ہئیت اور اسلوب کے ساتھ ساتھ ان کے ہاں موجود تلازماتی نظام، تلمیحات کے استعمال اور زبان کے حسن کا ایسا اسیر ہوا کہ اب تک رہائی ممکن نہیں ہوئی۔ شاید دل رہائی چاہتا بھی نہیں۔

جعفری صاحب کی نظموں کا مطالعہ کرنے کے دوران میں ان دنوں ایک نظم ہو گئی جو میں نے انہی کی نذر گزار دی۔ کیوں نہ آپ کی خدمت میں بھی پیش کردوں؟ :

سفر کی شاخ پر
(جناب اختر حسین جعفری کے لیے )
سفر کی شاخ پر کھلی تھیں ملگجی بشارتیں
کشاد حرف ذات سے، سوادزخم خواب تک
سفید جھاڑیوں میں تھیں شفق کی خشک بیریاں
کہ جگنوؤں نے روشنی کا پیرہن اتار کر
قدیم آسماں کے دائروں میں دفن کر دیا
نواح جاں میں سرمئی سی بادلوں کی ڈھیریاں
فراز برف زار سے نشیب ماہتاب تک
غروب شام رفتگاں کی جل بجھی وصیتیں
ہجوم رنگ میں گھرے، اڑے اڑے جواب تک
پس غبار آئنہ کوئی سوال رہ گیا
کہیں بس ایک عکس رنج اندمال رہ گیا۔
…………………..

گزشتہ کتنے ہی برسوں کی طرح اس بار بھی اوائل جون میں ایک اہم نظم گو کو کھونے کے رنج کا عکس گہرا ہونا چاہیے تھا مگر اس بار احساس کے موسم میں اداسی سے زیادہ طمانیت کی خوشبو رواں دواں ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب کے درختوں کے ہاتھ خالی نہیں۔ کیونکہ میرے سامنے اختر حسین جعفری صاحب کے فن و شخصیت پر انگریزی کتاب

Akhtar Hussain Jafri: Life & Legacy
کسی ان چھوئے تخلیقی گلاب کی طرح کھلی ہوئی ہے۔ یہ شان دار کتاب
ہمارے دو بہت پیارے اور محترم تخلیق کار اور دانش ور دوستوں

ڈاکٹر خالد سہیل اور امیر حسین جعفری صاحب نے مل کر تالیف کی ہے۔ یہ کتاب سرورق سے پس ورق تک تخلیقی، تحقیقی اور دل چسپ مواد سے معمور ہے۔ پہلے باب میں جعفری صاحب کے بارے میں ڈاکٹر خالد سہیل کا پرمغز مقالہ درج ہے جس میں انہوں نے جعفری صاحب کی زندگی، ان کی شخصیت اور شاعری پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے انہیں ایک جدید ترقی پسند شاعر قرار دیا ہے۔

دوسرا باب امیر حسین جعفری کے دو اردو انٹرویوز کے انگریزی تراجم پر مشتمل ہے۔ خالد سہیل کے ساتھ ان انٹرویوز میں امیر ان ذاتی اور خانگی، سیاسی، سماجی اور معاشی احوال کو بھرپور انداز میں پیش کرتے ہیں جنہوں نے جعفری صاحب کی تخلیقی زندگی کو کسی نہ کسی انداز میں اور کسی نہ کسی سطح پر متاثر کیا۔

تیسرا اور چوتھا باب سید حیدر صاحب اور خالد سہیل صاحب کے ادبی خطوط کے تبادلے پر مشتمل ہیں۔ یہ مکتوبات ایک دل چسپ اور فکر انگیز مکالمہ کو جنم دیتے ہیں۔ سید حیدر صاحب جعفری صاحب کی نظم کے حوالہ سے جدید اردو نظم کے تفہیمی چیلنجز پر بات کرتے ہیں اور خالد سہیل انہیں مختلف حوالوں سے یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ تخلیق پرت دار ہوتی ہے اس لیے اس کی تفہیم قاری کی ذہنی استعداد کے مطابق ہی ہوتی ہے۔ سید حیدر صاحب خالد سہیل کے دلائل کو سراہتے ضرور ہیں تاہم جدید نظم کی تفہیم کے ضمن میں اپنے تحفظات سے دستبردار ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ یہ ایک اہم اور دیانت دارانہ تبادلہ خیال ہے جس کو اس کتاب میں محفوظ کر کے ادبی تاریخ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

پانچواں اور آخری باب جعفری صاحب کی 23 منتخب اردو نظموں کے انگریزی تراجم پر مشتمل ہے۔ یہ تراجم ممتاز ادیب، شاعر اور مترجم محمد سلیم الرحمٰن صاحب نے بہت خوب صورت اور تخلیقی انداز میں کیے ہیں۔

شاید آپ کے علم میں ہو کہ جعفری صاحب کی کچھ نظموں کو چند سال قبل ہلڈے یاقوب نے جرمن زبان میں بھی منتقل کیا تھا۔ کاش وہ تراجم بھی اس کتاب میں شامل ہوتے۔

مبارک باد دینا چاہتا ہوں ڈاکٹر خالد سہیل صاحب اور امیر حسین جعفری صاحب کو ان کی اس شان دار تالیف پر کہ جس کی اشد ضرورت تھی۔ کاش اردو ادب کو انگریزی اور دیگر زبانوں میں ڈھالنے کی کوششیں تیز تر ہو سکیں کہ عالمی ادبی دنیا جدید اردو شاعری سے بھرپور اور موثر انداز میں آشنا ہو سکے۔

Facebook Comments HS