برمنگھم میں پنجابی، پوٹھوہاری اور پہاڑی زبان و ادب کا میلہ


چند دن پہلے برطانیہ کی ادبی تنظیم ”جاگ“ کے بینر تلے برمنگھم میں ہونے والے پنجابی اور پہاڑی زبان و ادب کے میلے میں شرکت کا موقع ملا۔ اس میلے کا اہتمام ادبی تنظیم جاگ نے 13 مئی 2023 ء کو ساؤتھ اینڈ سٹی کالج سوہو روڈ کیمپس اور ہینڈز ورتھ لائبریری برمنگھم میں کیا تھا۔ سوہو روڈ سکھ اکثریتی آبادی کا علاقہ ہے۔ میلے میں شرکت کے لیے بیس پاؤنڈ کا ٹکٹ ہونے کے باوجود علم و ادب اور اپنی ماں بولی سے محبت کرنے والوں کی کثیر تعداد نے اس میلے میں شرکت کی۔

نوجوان بچوں اور بچیوں کی اپنی علاقائی زبانوں میں دلچسپی دیکھ کر انتہائی مسرت ہوئی۔ برطانیہ میں ہماری تنظیموں کے پروگرام میں اکثر وقت کی پابندی کا خیال نہیں رکھا جاتا لیکن اس میلے میں شرکت کے لیے جب دس بجے میں کالج کے باہر پہنچا تو خیر مقدمی کے بینر تلے کالج کے گیٹ پرایک نوجوان سردار شورن جیت سنگھ میلے میں آنے والوں کا استقبال کرنے کے لیے موجود پا کر خوشی ہوئی۔ مین گیٹ کے سامنے ہی خیر مقدمی ڈیسک پر دو تین جوان بچیاں میلہ میں آنے والوں کو جی آیاں نوں کہتے ہوئے ان کے ٹکٹ چیک کر کے فہرست میں ان کا نام دیکھ کر جاگ کی طرف سے پروگرام کی مکمل کٹ دے کر ان کے ہاتھوں پر جاگ کی مہر ثبت کرر ہی تھیں۔

جنہوں نے میلے میں شرکت کے لیے پیشگی ٹکٹ نہیں لیے تھے ان کو موقع پر ٹکٹ خریدنے کر دینے کا انتظام بھی ان بچیوں نے سنبھالا ہوا تھا۔ میلے کی میزبان خوبصورت اور متحرک خاتون کویتا بھنوٹ چہرے پر مسکراہٹ سجائے سب کو خوش آمدید کہنے کے علاوہ ان کی مختلف کمروں تک جانے میں راہ نمائی بھی کر رہیں تھی، ہر بات کا مسکرا کر جواب دینے والی کویتا کو میلے کے اختتام تک میں نے صبح کی طرح ہشاش بشاش اور متحرک پایا۔

ساؤتھ اینڈ سٹی کالج سوہو روڈ کے انتہائی صاف ستھرے اور خوبصورتی سے سجے سجائے کمروں کو دیکھ کر اس کالج میں پڑھنے والے طلبا و طالبات پر رشک آیا۔ طہارت خانوں سمیت کینٹین میں صفائی کا اعلی معیار دیکھنے میں آیا۔ طہارت خانوں اور کالج کی کسی بھی دیوار پر کہیں بھی کوئی نازیبا تحریر نظر نہیں آئی۔

میلے میں ساڑھے دس بجے سے شام آٹھ بجے تک متعدد مذاکرے اور لیکچرز ایک اور ڈیڑھ گھنٹے کے دورانیہ پر مشتمل تھے۔ میلے کے آغاز پر ساڑھے دس بجے تین جگہوں پر پنجابی شاعری میں خواتین کو مناسب مقام نہ دینے، پنجابی شاعری اور موسیقی میں جذبات کا اظہار اور میاں محمد بخش کی تصنیف سیف الملوک کا انگریزی زبان میں ترجمہ کرنے کی کوششوں پر افتتاحی پروگرام اکٹھے شروع ہونے تھے۔ میاں محمد بخش کی تصنیف پر پروگرام میں مجھے زیادہ دلچسپی تھی۔

برمنگھم کی ادبی و علمی شخصیت ڈاکٹر کرامت اقبال نے بھی یہاں ملنے کا عندیہ دیا تھا اس لیے میں نے اس پروگرام میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا۔ میلے کی روح رواں کویتا سے میرا تعارف ہوا تو مجھے اپنی معیت میں اس مذاکرے والے کمرے میں لے گئیں اور پہلی قطار میں ایک کرسی پر بٹھا دیا۔ ڈاکٹر کرامت سے ملاقات پر انہیں اپنی کتاب مکتب عشق پیش کی تو انہوں نے بدلے میں دو کتابوں کا تحفہ دیا۔ اس مذاکرے کا مقصد نبیلہ احمد کی سربراہی میں اویس حسین اور مدیحہ احمد نے سیف الملوک کو انگریزی زبان میں ترجمہ کرنے کا جو بیڑا اٹھایا ہے، اس سے لوگوں کو آگاہ کرنا تھا۔

میرپور کے نواح سے تعلق رکھنے والے متحرک صحافی اور ٹی وی اینکر شمس الرحمن اور پہاڑی زبان کے منفرد مصنف و ناول نگار علی عدالت سے بھی اس مذاکرے میں ملاقات ہوئی۔ مذاکرے کا افتتاح کرتے ہوئے کویتا نے بھرپور شرکت پر سامعین کا شکریہ ادا کیا اور انھیں سوال و جواب کے ذریعے مذاکرے کا حصہ بننے کی درخواست کی۔ مذاکرے کے باقاعدہ آغاز سے پہلے آکسفورڈ سے آئی ہوئی ممتاز ادبی شخصیت اور گلوکارہ نزہت عباس نے بابا فرید کا کلام کوک فریدا گا کر سنایا۔

اس کے بعد نبیلہ احمد، اویس حسین اور مدیحہ احمد نے باری باری پاکستان میں اپنی سیف الملوک سے وابستگی کی یادوں کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے سیف الملوک کو انگریزی زبان میں ترجمہ کرنے کے لیے اپنی کوششوں سے سامعین کو آگاہ کیا۔ پوری ٹیم نے سیف الملوک کو جاننے کے لیے اپنے پاکستان کے سفر کے بارے میں بتایا اور سکرین پر سلائیڈوں کی مدد سے کتاب کے ترجمہ شدہ کچھ حصے دکھائے۔ بعد میں نزہت عباس نے اپنی مدھر آواز میں سیف الملوک کے اشعار گا کر ایک سماں باندھ دیا جس پر سامعین نے تالیاں بجا کر انھیں داد دی۔

سوال و جواب میں حاضرین نے نبیلہ احمد اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو سراہا۔ راقم کے ایک سوال کہ سیف الملوک کے اشعار کے صحیح معنی جاننے کے لیے دیہاتی روایات سے واقفیت بہت ضروری ہے، کے جواب میں نبیلہ احمد کا کہنا تھا یہ ان کی پہلی کاوش ہے اور وہ کوشش کریں گے کہ ترجمہ معیاری ہو۔ انھیں پاکستان میں سیف الملوک اچھی طرح سمجھنے والوں کی راہ نمائی حاصل ہے۔ ہم آغاز ہم کر رہے ہیں اور ہم دوسروں کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہ بھی سامنے آئیں تا کہ میاں محمد بخش جیسے درویش صفت صوفی شاعر کے تصوف پر افکار و خیالات سے مغرب والے بھی آگاہ ہوں۔ اپنی نوجوان نسل کو اپنی زبان، ادب اور ثقافت کی ترویج و ترقی کے لیے کام کرتے ہوئے دیکھ کر انتہائی خوشی اور اطمینان کا احساس ہوا کہ ہماری نئی نسل اپنے ورثہ اور ثقافت کر اجاگر کرنے کے لیے کو شاں ہے۔

”برطانیہ میں ہجرت کر کے آنے والے پنجابی زبان کے لکھاریوں“ ۔ ”زبان، شناخت اور اس سے تعلق۔“ ”اپنی زبان کو کلاس روم تک لائیے“ ”صوفیانہ ادب کی تاریخی اہمیت“ ، ”پنجابی موسیقی میں اپنی ذات کی تلاش“ ، ”اپنی زبان کو اپنی کلاس روم میں لائیے“ ۔ ”صوفی ادب کی تاریخی اہمیت“ ، ”پنجابی موسیقی میں اپنی ذات کی تلاش“ ، ”مائے سانوں کھیڈن دے پر اپنے تجربات“ ، ”بچوں کے لیے پنجابی گیت اور کہانیاں“ ، ”اپنی بولی اپنی پہچان“ ، پہاڑی بیٹھک اور گپ شپ کے علاوہ صاحباں بولتی ہے اور کالا ڈوریا کے نام سے موسیقی کے پروگرام اس میلہ کا حصہ تھے۔

اس میلہ پروگرام میں بزرگوں اور جوانوں سمیت خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ میلے میں ہر طرف رنگین آنچلوں کی بہار نظر آ رہی تھی۔ برمنگھم میں بڑی تعداد میں آباد میرپور اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے پہاڑی اور پوٹھوہاری بولنے والے افراد میلے میں کہیں نظر نہیں آئے۔ پاکستانی نژاد برطانوی مصنف اور ناول نگار پروفیسر طارق حسین سے دوسری دفعہ خوشگوار ملاقات اس میلہ میں ہوئی۔ جب انہوں نے میرا نام لے کر میرا حال پوچھا تو میں ان کی یاداشت پر دنگ رہ گیا کیوں کہ ہماری ایک سرسری سی پہلی ملاقات پچھلے سال ایک مشاعرے میں ہوئی تھی۔

صاحباں بولتی ہے میں روپندر کور نے اپنی شاعری کی کتاب روح سے صاحباں، سسی، ہیر اور سوہنی کے قصوں کے استعاروں سے لکھی گئی مختلف نظمیں پڑھ کر سنائیں۔ وہ ان دنوں پنجابی میوزک اور شاعری پر تحقیقی کام کر رہی ہیں۔ برمنگھم کی پنجابی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی ابھرتی ہوئی گلوکارہ وائبز بھاٹیہ نے روپندر کور کی نظموں میں ہیر، سوہنی، سسی اور صاحباں کے حوالے سے ان کے متعلقہ پنجابی گیت گٹار کے ساتھ گا کر سامعین سے داد وصول کی۔ دھیمے لہجے میں گائے ہوئے گیتوں کو سامعین نے بہت پسند کیا۔ پنجاب کے دیہاتی پس منظر کے مطابق خوبصورتی سے سجی فرشی نشست کی اس محفل میں خواتین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام کے اختتام پر اس میں شریک خواتین نے خود بہت سے گیت گائے۔

ڈاکٹر کرامت اقبال برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو تعلیم اور زبان کے حوالہ سے درپیش مشکلات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ برطانیہ میں تعلیم اور زبان پر ان کی تحقیق پر ایک مذاکرہ بھی اس میلہ کا حصہ تھا۔ مذاکرہ کی میزبان فرح نذیر کے بہت سے سوالات کا جواب انہوں نے تفصیل سے دیا۔ انہوں نے اپنی کمیونٹی کو برطانیہ میں تعلیم اور زبان کے حوالہ سے درپیش مشکلات پر اپنے تجربات کی روشنی میں بات کی۔ انہوں نے بچپن، جوانی اور 1947 کی پاک و ہند کی تقسیم کی بہت سی یادوں سے سامعین کو روشناس کرایا۔

ان کی باتوں میں سچائی اور اتنی گہرائی تھی کہ ایک گھنٹہ گزرنے کا پتہ بھی نہیں چلا۔ اویس حسین کی میرپور کی کمیونٹی کی نسبی شاخت پر گفتگو بڑی حد تک حقیقت پر مبنی تھی۔ ہینڈزورتھ لائبریری میں پہاڑی زبان کی بیٹھک میں گپ شپ جے کے ٹی وی پر شمس الرحمن کی میزبانی میں پروین خان اور راجدھانی سے تعلق رکھنے والے ممتاز پہاڑی ناول نگار علی عدالت کی گفتگو بڑی مدلل اور پرمغز تھی۔ پوٹھوہاری اور پنجابی گیتوں کا پروگرام کالا ڈور یا بس ایویں ہی تھا۔

عابدہ خان کی گلوکاری اتنی اچھی نہیں تھی دوسرے بہت سی خواتین مل کر اور اپنا اپنا گا کر کچھ اچھا سماں نہیں باندھ سکیں۔ ایسے پروگرام کے لیے تیاری اور شرکا میں ہم آہنگی بہت ضروری ہوتی ہے، جس کا فقدان نظر آیا۔ میلے کا اختتامی مشاعرہ بھی بس ٹھیک ہی تھا جس کا جو جی چاہا وہ سناتا رہا لیکن نبیلہ احمد کی نظم نانی ناں گراں ایک خاصے کی چیز تھی۔ بہرحال مجموعی طور پر کافی بہتر تھا۔

مڈ لینڈ میں برطانیہ کے دوسرے بڑے شہر برمنگھم میں بسنے والے پنجابی، پوٹھوہاری اور پہاڑی زبان کے چاہنے والوں کے لیے ان کی زبانوں اور ادب پر اتنا اچھا اور منظم میلہ منعقد کرنے پر میلے کی منتظم نوجوان خواتین کویتا بھنوٹ، فرح نذیر، عائشہ اختر اور چرن کور مبارک باد اور داد کی مستحق ہیں۔ انہوں نے اپنی نئی نسل میں اس میلے کے ذریعے اپنی زبان و ادب سے واقفیت اور پیار کی لگن پیدا کرنے کی بہترین کاوش کی۔ اس میلے کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی زبان کی ترویج و ترقی کے لیے ان جوان خواتین سے اور پروگراموں کی بھی توقع کی جا سکتی ہے۔

Facebook Comments HS