شائزوفرینیا کا علاج۔ کلینیکل پہلو۔ چھٹی قسط


اب تک ہم شائزوفرینیا کے علاج کے تاریخی پہلو کا مطالعہ کر رہے تھے اب ہم اس کے کلینیکل پہلو کی طرف آتے ہیں جس کا ہماری روزمرہ زندگی میں مریض اور اس کے خاندان کے ساتھ قریبی تعلق ہے۔ اگرچہ ہر ماہر نفسیات اور ہر ہسپتال کا اپنا جداگانہ طریقہ علاج ہوتا ہے لیکن مغرب میں آہستہ آہستہ مختلف روایتیں قریب سے قریب تر آتی جا رہی ہیں اور بعض بنیادی اصولوں پر اتفاق رائے ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے اکثر اسپتالوں اور کلینکس میں ملٹی ڈسپلنری ٹیمیں بن گئی ہیں جن کی وجہ سے مریضوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ کام کرنے والے ڈاکٹر، نرسیں، سائیکالوجسٹ، سوشل ورکر، اوکوپیشنل اور انڈسٹریل تھیرپسٹ جو مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں آپس میں مل بیٹھتے ہیں اور باہمی مشوروں سے طریقہ علاج تجویز کرتے ہیں، اس تبادلہ خیال کی بنیادی قدر یہ ہوتی ہے کہ مریضوں اور ان کے خاندانوں کی ضرورت معالجین کے اپنے نظریات کی نسبت زیادہ اہم ہیں :

ایسی میٹنگز میں یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس مریض کے علاج میں
ادویات
ری ہیبی لیشن
سائیکو تھیرپی
اور ذہنی صحت کی تعلیم

میں سے کون سا عنصر زیادہ اہم ہو گا اور کون سے تھیرپسٹ اس مریض اور اس کے خاندان کے ساتھ کام کریں گے۔ چونکہ یہ ٹیمز باقاعدگی سے ملتی ہیں اس لیے جوں جوں علاج آگے بڑھتا ہے اگر اس میں کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے تو اسے انا کا مسئلہ بنائے بغیر قبول کیا جاتا ہے اکثر اوقات مریض اور اس کے خاندان کے افراد کو بھی اس تبادلہ خیال میں شریک کیا جاتا ہے، تاکہ ان کے جذبات کا بھی احترام کیا جائے اور ایسا طریقہ علاج تجویز کیا جائے جس پر اتفاق رائے ہو کیونکہ ایسے طریقہ علاج کے کامیاب ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

جب میں اپنے طلبا اور طالبات کو ان لوگوں اور خاندانوں کے بارے میں لیکچر دیتا ہوں جو شائزوفرینیا سے متاثر ہوئے ہیں تو سہولت کی خاطر اس علاج کو دس مراحل میں تقسیم کرتا ہوں تاکہ ان کے ذہن میں علاج کا ایک واضح تصور پید ہو سکے اور وہ ہر مرحلے کی اہمیت اور مسائل اور ان کے حل کرنے کے طریقوں سے بخوبی واقف ہو سکیں۔ وہ دس مراحل مندرجہ ذیل ہیں۔

پہلا مرحلہ۔ علاج کی طرف پہلا قدم

شائزوفرینیا کے علاج میں پہلا مرحلہ ان کے ساتھ تھیرپی کا آغاز ہوتا ہے۔ باقی مریض تو خود ماہر نفسیات کی تلاش میں نکلتے ہیں تاکہ اپنی ذہنی پریشانیوں کا علاج کروا سکیں لیکن شائزوفرینیا کے بہت سے مریض خود اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے انہیں خود احساس نہیں ہوتا کہ وہ اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں۔ مریضوں کے رشتہ دار اور دوست تو بہت متفکر ہوتے ہیں لیکن مریض خود اپنی بیماری کی سنگینی سے بے نیاز ہوتے ہیں ایسے حالات میں ماہر نفسیات کے لیے مریض کو یہ احساس دلانا کہ علاج سے اس بیماری میں آفاقے اور صحت یابی کی صورت تو نکل سکتی ہے، بہت اہم ہوتا ہے۔

مجھے اس وقت اپنی ایک مریضہ سوزن یاد آ رہی ہے جسے پولیس یا اس کا بورڈنگ ہوم کا لینڈ لارڈ کئی دفعہ اسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں لائے تھے کیونکہ وہ بیماری کی حالت میں یا تو سڑکوں پر ٹریفک روک دیتی تھی یا بغیر کپڑوں کے گلیوں میں بھاگ نکلتی تھی۔ اس کو اکثر چند دن کے بعد یہ کہہ کر اسپتال داخل کر دیا جاتا تھا کہ وہ۔ ”ڈرامہ کر رہی ہے، بیمار نہیں ہے“ چونکہ اس کی بیماری مرض کی روایتی علامات نہیں تھیں اس لیے اکثر ڈاکٹر نرسیں اس کی صحیح طریقے سے تشخیص نہ کرپائے تھے۔

مجھے اس مریضہ سے ہمدردی تھی اور مجھے یہ محسوس ہوتا تھا کہ اگر وہ جم کر علاج کرائے تو ٹھیک ہو سکتی ہے چنانچہ جب میں نے اس کے علاج کی ذمہ داری قبول کرلی تو میں نے اسے اسپتال میں کئی ہفتے رکھا۔ میں جب بھی اس کے کمرے میں جاتا وہ بت بنی کھڑی ہوتی اور گفتگو میں حصہ نہ لیتی۔ میں دوائیاں پیش کرتا تو وہ لینے سے انکار کر دیتی لیکن میں اس کے انکار کے باوجود اس کی دوائیاں اس کی میز پر رکھ آتا۔ دو ہفتوں کے بعد اس نے باتیں کرنی تو شروع نہ کیں لیکن میرے جانے کے بعد دوائیں کھانے لگی۔ دوائیاں شروع کرنے کے چند دن بعد اس نے ورکشاپ کے پروگراموں میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا اور چند ہی ہفتوں میں اس کی طبعیت کافی بہتر ہو گئی۔

جب مریضہ کو افاقہ ہوا تو اس نے اسپتال سے چھٹی لی اور دوبارہ اسی بورڈنگ ہوم میں چلی گئی جہاں وہ پہلے رہتی تھی۔ بدقسمتی سے چند ہفتوں کے بعد وہ دوبارہ بیمار ہو گئی اور پہلے کی طرح کیٹا ٹونک حالت میں کمرے میں بت بن کر کھڑی رہنے لگی۔ جب لینڈ لارڈ نے اسے اسپتال جانے کو کہا تو اس نے انکار کر دیا۔ اس دن سے پہلے یوں ہوتا تھا کہ لینڈ لارڈ پولیس کو فون کرتا تھا اور وہ اسے ہتھکڑیاں لگا کر زبردستی اسپتال لے آتے تھے جس سے اس کی عزت نفس بہت مجروح ہوتی تھی اور وہ اپنے آپ کو مجرم محسوس کرنے لگتی۔

چنانچہ اس دن میں نے اپنے سوشل ورکر سے مشورہ کیا اور ہم دونوں کار میں بیٹھ کر بورڈنگ چلے گئے، پہلے تو اس نے ہماری بات نہ مانی، لیکن جب میں نے بہت منت سماجت کی تو وہ ہمارے ساتھ چلنے پر راضی ہو گئی۔ یہ واقعہ اس مریضہ کا علاج اور صحت کی طرف پہلا قدم تھا۔ اس واقعہ کو پانچ سال ہو گئے ہیں اور ان پانچ سالوں میں اسے ایک دفعہ بھی اسپتال داخل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ وہ اب شادی شدہ زندگی گزار رہی ہے۔ علاج کا وہ پہلا قدم مریضہ کے لیے ہی نہیں ہمارے لیے بھی ایک مشکل اور اہم قدم تھا۔

دوسرا مرحلہ۔ عزت نفس اور خود اعتمادی

جب مریض علاج کے لیے تیار ہو جائے اور ہم پہلے مرحلے سے خوش اسلوبی سے گزر جائیں تو اس کے بعد ہمیں مریض کی خود اعتمادی پر توجہ مرکوز کرنی پڑتی ہے۔ شائزوفرینیا کے اکثر مریض اپنے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے اور احساس کمتری میں مبتلا ہوتے ہیں چونکہ وہ اپنی ذات پر اعتماد نہیں رکھتے اس لیے ان کے لیے دوسروں پر اعتماد کرنا مشکل ہوتا ہے۔ انہیں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی کی خوشیوں پر ان کا کوئی حق نہیں۔

میری ذاتی کوشش ہوتی ہے کہ مریض کی شخصیت اور زندگی کے ان گوشوں کو تلاش کروں، جن میں وہ دوسروں سے بہتر ہوں اور ان کی خصوصیات میں حوصلہ افزائی کروں جب کوئی شخص کوئی کام اچھے طریقے سے کرتا ہے تو اس کا اعتماد بڑھتا ہے۔

میرا ایک مریض جب صحت مند تھا تو گٹار بجایا کرتا تھا اور نظمیں اور گانے تخلیق کیا کرتا تھا۔ جب وہ بیمار ہوا اور اسپتال داخل ہوا تو ڈاکٹروں اور نرسوں نے اس کی بیماری اور علاج پر تو توجہ مرکوز کی لیکن کسی نے اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو نہ سراہا۔

جب میں نے اس کے علاج کی ذمہ داری قبول کی تو باقی چیزوں کے ساتھ ساتھ میں نے اس کی تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کی اور اسے دوبارہ نظمیں لکھنے کو کہا تو پہلے تو وہ سمجھا کہ میں مذاق کر رہا ہوں لیکن جب اسے احساس ہوا کہ میں سنجیدہ ہوں تو اس نے دوبارہ نظمیں اور گانے لکھنے اور گٹار بجانا شروع کیا۔ کچھ عرصہ بعد اسے ایک موسیقاروں کے گروپ نے دعوت دی اور اب وہ ان کے ساتھ سینئر سیٹیزنز کے گھروں میں جاکر گٹار بجاتا ہے۔ اور بوڑھوں کی تنہائی کے لمحوں میں ان کا جی بہلاتا ہے۔ اس موسیقی کے شوق اور بزرگوں کی خدمت نے اس کی بیماری کی بحالی میں بہت مدد کی ہے اور اسے ازسر نو خود اعتمادی بخشی ہے۔

تیسرا مرحلہ۔ اختیار و ارادہ

شائزوفرینیا کے اکثر مریضوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کی بیماری نے انہیں مجبور، لاچار اور بے بس کر دیا ہے اور ان سے سب اختیار و ارادہ چھین لیا ہے۔ چنانچہ میری خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایک دفعہ پھر اپنی زندگی کے فیصلے کرسکیں اور زندگی کے بعض حصوں میں اپنا اختیار واپس لے سکیں۔ میں مریضوں سے ان کے علاج کے بارے میں مشورے کرتا ہوں۔ میں ان سے پوچھتا ہوں :

اگلے ہفتے انٹرویو کے لیے میرے پاس دو اوقات فارغ ہیں، ایک بدھ کی صبح، ایک جمعہ کی سہ پہر۔ آپ کے لیے کون سا وقت بہتر رہے گا؟

یا آپ نے جو ہیلڈال کی گولیاں کھانی ہیں وہ یا تو آپ دس ملی گرام دن میں تین دفعہ یا دس گرام صبح اور بیس ملی گرام شام کو کھا سکتے ہیں جیسے آپ کو راس آئے۔

یہ باتیں بظاہر بہت سطحی نظر آتی ہیں لیکن ان کے اثرات دوررس ہوتے ہیں۔ مریض محسوس کرتے ہیں کہ ان کا ڈاکٹر ان پر اعتماد کرتا ہے اور ان کی رائے کو اہمیت دیتا ہے۔ یہ وہ بیج ہیں جو مریضوں کی شخصیت میں خود اعتمادی اور عزت نفس کے پودے بوتے ہیں جن پر خود مختاری کے پھل آتے ہیں اور وہ آہستہ آہستہ اپنی زندگی کے بڑے فیصلے بھی کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

وہ ڈاکٹر جو روایتی سکول میں پروان چڑھتے ہیں بعض دفعہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کا کام مریضوں کو احکام دینا ہے اور مریضوں کا کام ان پر عمل کرنا ہے لیکن جو ڈاکٹر انسان دوستی کا جدید طرز تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ مریض اور ڈاکٹر کے رشتے میں ایک جمہوری فضا، علاج کی کامیابی میں ممدو ثابت ہوتی ہے، زندگی بہر حال مریض کی ہوتی ہے اور وہی اپنی زندگی اور بیماری کی صلیب اٹھائے ہوتا ہے، اور وہ صلیب بہت بھاری ہوتی ہے اس لیے ہمدردی کا رویہ حاکمانہ رویے سے زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے اور مریض کے دل میں احترام کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔

چوتھا مرحلہ۔ خصوصی تضادات

ایک دفعہ جب مریض اور تھیرپسٹ میں اعتماد اور ہمدردی کی فضا پیدا ہوجاتی ہے تو پھر یہ ممکن ہوتا ہے کہ تھیرپسٹ مریض کے ان خصوصی نفسیاتی تضادات کی طرف توجہ دے جن کو وہ ایک مدت سے دوسروں سے نہیں بلکہ اپنی ذات سے چھپائے پھرتا ہے اور ان تضادات کی وجہ سے مختلف توہمات اور نفسیاتی عوارض کا شکار ہوجاتا ہے۔

ہر مریض تھیرپی میں چند عمومی اور چند خصوصی تضادات لے کر آتا ہے اور تھیرپسٹ سے امید رکھتا ہے کہ وہ ان کو حل کرنے میں اس کی مدد کرے گا۔ تھیرپسٹ جتنا تجربہ کار اور ہمدرد ہو گا ان تضادات اور مسائل کے حل ہونے کے امکانات اتنے ہی درخشاں ہوں گے۔

میں اکثر اوقات اس بات پر حیران ہوتا ہوں کہ شائزوفرینیا کے مریض اپنا ذہنی توازن کھوتے ہیں اور توہمات کا شکار ہوتے ہیں تو ان میں سے اکثر کا تعلق یا تو مذہب سے ہوتا ہے یا جنس سے، مرد، اس واہمہ میں گرفتار ہو جاتے ہیں کہ یا تووہ عیسیٰ ہیں یا ہومو سیکشوئل۔

عورتیں اس واہمہ میں گرفتار ہوجاتی ہیں کہ یا تو وہ مریم ہیں یا ایک طوائف۔

میں بعض دفعہ محسوس کرتا ہوں کہ ہمارے مریض ان بچوں کی طرح ہوتے ہیں جن میں یہ جرات ہوتی ہے کہ وہ کہہ سکیں کہ

”بادشاہ ننگا ہے“
اس لیے وہ ہماری توجہ ان تضادات کی طرف مبذول کراتے ہیں جو معاشرے کی دکھتی رگ ہوتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے مذہبی اور جنسی تضادات ہیں جن کا ہم مجموعی طور پر کوئی حل تلاش نہیں کرسکے۔ اس لیے ہم ایک منافقت اور خود فریبی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ صحت مند لوگ چونکہ معاشرے کا بھرم رکھتے ہیں اس لیے ماحول کے تضادات دیکھ کر خاموش رہتے ہیں لیکن وہ شخص جو ذہنی توازن کھو بیٹھتا ہے وہ ایک لحاظ سے ایسا سچ کہنے کی جرات رکھتا ہے جو عام لوگوں کو نصیب نہیں ہوتی شاید اسی لیے آر ڈیلینگ کہا کرتے تھے کہ ذہنی مریض وہ بصیرتیں رکھتے ہیں جو دوسروں کو نصیب نہیں ہوتیں۔

پانچواں مرحلہ۔ حدود کا تعین

جب ہم شائزوفرینیا کے مریضوں کا خیال رکھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ علاج کے مختلف مدارج پر ان کی ضرورت بدلتی رہتی ہے۔ اس لیے ان ضرورتوں کو پورا کرنا ایک معالج کے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔ اکثر اوقات معالج والدین کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اور مریض بچوں کی متوازن نگہداشت کے لیے دونوں والدین کا ہونا ضروری ہے۔ اسی لیے اکثر اوقات میں اپنے ساتھ ایک نرس این ہینڈرسن یا بے ٹی ڈیوس کو شریک کر لیتا ہوں تاکہ ہم ان مریضوں کا بہتر طریقے سے خیال رکھ سکیں۔ اس طرح مریض جو عموماً بچپن میں اپنے فطری والدین کی مہربانی اور نظر التفات سے محروم رہے ہوتے ہیں دو ہمدرد تھیرپسٹ پاکر کچھ اعتماد حاصل کرتے ہیں۔

لیکن جیسے بچے بعض دفعہ اپنے والدین کی پابندیوں کے خلاف بغاوت کرتے ہیں چاہے ان کے پیچھے والدین کی کتنی ہی نیک نیتی کارفرما کیوں نہ ہو، اسی طرح مریض بھی تھیرپسٹ کے مشوروں کو چیلنج کرتے ہیں اس لیے جس طرح والدین اور بچوں کے درمیاں ایسے مکالمے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں کھل کر گفتگو ہو اسی طرح میری بھی خواہش ہوتی ہے کہ میں مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ صاف گوئی سے مذاکرات کروں تاکہ بعد میں غلط فہمی کے امکانات کم ہوں۔

میں علاج کے شروع میں ہی مریض سے اس کے خاندان والوں کے سامنے کہہ دیتا ہوں کہ علاج کے دوران میری تین توقعات ہیں۔ میری تجویز ہے کہ وہ:

ادویہ کا باقاعدہ استعمال کرے
ان پروگراموں میں حصہ لے جو علاج میں شامل ہیں

آپے سے باہر نہ ہو (نہ تو خودکشی کا اقدام کرے اور نہ ہی کسی دوست یا رشتہ دار سے ہاتھا پائی اور لڑائی جھگڑا کرے )

میں مریض سے واضح طور پر کہتا ہوں کہ اگر وہ اپنے گھر رہ کر یہ توقعات پوری نہیں کر سکتا تو وہ اپنی رضامندی سے اسپتال میں داخل ہو سکتا ہے ورنہ ان توقعات کو پورا نہ کرنے کی صورت میں ہمیں اسے اس کی مرضی کے خلاف اسپتال میں داخل کرنا پڑے گا۔ میں مریض سے کہتا ہوں کہ ہمارا مقصد اس کا علاج ہے تاکہ وہ ایک صحت مند زندگی گزار سکے۔ اگر یہ مقصد اسپتال میں داخل ہوئے بغیر پورا ہو سکتا ہے تو وہ سب کے لیے خوش قسمتی کی بات ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو ہمیں اسپتال کے اسٹاف کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں۔

میں انٹرویو کے دوران مریض کے خاندان والوں کے سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ انہیں ادویہ ”اسپتال“ اسٹاف اور پروگراموں کے بارے جتنی زیادہ معلومات مل سکیں بہت ہیں۔ اب ہم نے کچھ پمفلٹ اور کتابچے بھی چھپوائے ہیں جو ہم مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو دیتے ہیں۔ اس طرح وہ ذہنی بیماریوں اور ان کے علاج کے بارے میں اتنی معلومات حاصل کرلیتے ہیں کہ مریض کے علاج میں تعاون کرسکیں۔

چھٹا مرحلہ۔ اسپتال میں داخلہ

اگر مریض کی حالت اتنی ابتر ہو جائے کہ اس کا گھر میں خیال نہ رکھا جا سکے اور اس کا علاج رشتہ داروں پر ذہنی بوجھ بن جائے تو مریض کا اسپتال میں داخلہ ناگزیر ہوجاتا ہے۔ میری حتی الامکان یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ فیصلہ مریض کی مرضی کے ساتھ کیا جائے تاکہ ہمیں اس کا تعاون حاصل ہو، لیکن اگر مریض نہ مانے اور ہمیں یہ احساس ہو کہ مریض کی مرضی کی وجہ سے یا تو اس کی اپنی یا کسی اور کی جان خطرے میں ہے تو ڈاکٹروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کینیڈا کے ذہنی صحت کے قانون) پر عمل کرتے پر عمل کرتے ہوئے مریض کو اسپتال میں داخل کریں، تاکہ مریض کا ایک محفوظ ماحول میں علاج ہو سکے۔

جب میں کسی مریض کو اس کی مرضی کے بغیر اسپتال میں داخل کرتا ہوں تو واضح طور پر کہتا ہوں کہ وہ قدم اس کے علاج کے لیے اٹھایا جا رہا ہے اور جونہی اس کی طبعیت بہتر ہوگی اور وہ اسپتال کے باہر زندگی گزارنے کے قابل ہو گا اور اپنی روزمرہ زندگی اور علاج کی ذمہ داریاں اٹھا سکے گا ہم اسے اسپتال سے چھٹی دے دیں گے۔

نفسیاتی اسپتال میں داخلہ ہر مریض کے لیے ایک تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے لیکن جب پورا خاندان بحران کا شکار ہوتو ہمیں ایسے اقدام اٹھانے پڑتے ہیں جو عام حالات میں بعید از قیاس ہوتے ہیں۔

ساتواں مرحلہ۔ گھر سے رخصتی

شائزوفرینیا کے مریضوں کے علاج میں ایک اہم موڑ اس وقت آتا ہے جب وہ اپنا گھر چھوڑ کر کہیں اور رہنے کی خواہش کا اظہار یا فیصلہ کرتے ہیں۔ بعض دفعہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے خاندان کے مختلف افراد کو پریشانی اور غصے کے منفی جذبات بھی اتنی شدت سے جوڑے رکھتے ہیں جتنا کہ خلوص اور محبت جیسے مثبت جذبات۔

بعض دفعہ ہمیں مریض کے رشتہ داروں کو قائل کرنا پڑتا ہے کہ مریض اتنا صحت مند ہو گیا ہے کہ وہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ ہر صورت میں خاندان کے لوگوں اور مریضوں دونوں کو اسی مرحلے میں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر مریض ایسے کسی بورڈنگ ہوم میں رہنا چاہتا ہو کہ جس میں اور بھی نفسیاتی مریض رہ رہے ہوں اور جن کی نگہبانی نرسیں یا سوشل ورکر کر رہے ہوں تو یہ دشوار مرحلہ قدرے آسان ہوجاتا ہے۔ ایسے حالات میں میں مریض، اس کے خاندان کے افراد اور بورڈنگ ہوم کے ذمہ دار لوگوں کو میٹنگ کے لیے بلاتا ہوں اور ہم اس نقل مکانی کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ اس طرح جانبین کو اپنے اپنے مسائل کے اظہار کا موقع ملتا ہے اور جب ہم متفقہ طور پر کسی فیصلے پر پہنچتے ہیں تو اس پر سب کا تعاون حاصل کرنا آسان ہوتا ہے۔

بعض دفعہ یہ نقل مکانی عارضی ثابت ہوتی ہے اور چند ہفتوں یا مہینوں کے بعد یا تو مریض یا اس کے خاندان والے ایک دوسرے کی جدائی برداشت نہیں کر سکتے اور مریض واپس اپنے خاندان کے پاس چلا جاتا ہے۔ میرے خیال میں معالج کی ذمہ داری ہے کہ مریض اور اس کے خاندان کی ہر مرحلے پر ان کے فیصلوں میں مدد کرے اور ان کے فیصلوں کا احترام کرے۔

آٹھواں مرحلہ۔ جذباتی اور رومانوی رشتے

جب مریض اپنے خاندانوں سے علیحدہ ہو جاتے ہیں تو یا وہ اکیلے رہنا شروع کرتے ہیں یا کسی بورڈنگ ہوم میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اس مرحلے کے بعد وہ اپنے خاندان سے باہر کی دنیا میں جذباتی اور رومانوی تعلق استوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مریض تھیرپی کے دوران جو خود اعتمادی حاصل کرتے ہیں وہ ان کے بہت کام آتی ہے۔

وہ مریضہ جس کا میں نے پہلے ذکر کیا تھا جسے پولیس اسپتال لایا کرتی تھی جب وہ بہتر ہو گئی تو اس کی ایک شائزوفرینیا کے مریض کے ساتھ دوستی ہو گئی اور کچھ عرصے کے بعد دونوں نے شادی کرلی۔

ایسے مریضوں کو جو ساری عمر محرومی اور تنہائی کی زندگی گزارتے رہے ہوں عشق میں گرفتار ہوتے اور محبت بھری باتیں کرتے دیکھنا، ایک معجزے سے کم نہیں، جو آج سے پچاس سال پیشتر ممکن نہ تھا۔ مجھے جب کوئی شائزوفرینیا کا مریض اپنی شادی کی خبر دیتا ہے تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔

نواں مرحلہ۔ ملازمت کی تلاش

بہت سے مریض علاج سے بہتر ہونے کے باوجود ایک فل ٹائم ملازمت کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اس لیے انہیں مخصوص مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ مختلف اسپتالوں میں ایسے پروگرام تیار کیے گئے ہیں جن میں مریضوں کو ملازمت کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

ویسے تو کینیڈا کی حکومت نے، جو ایک ویلفیئر اسٹیٹ ہے، یہ انتظام کر رکھا ہے کہ ان مریضوں کو جو تلاش معاش نہیں کر سکتے، مالی امداد کی جائے تاکہ ان کی رہائش، کپڑے اور کھانے کا انتظام کیا جا سکے لیکن اب وہ اس مشورے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کہ ملک کے مختلف اداروں پر قانونی طور پر پابندی لگائی جائے کہ وہ اپنی ملازمتوں میں چند فیصد ملازمتیں ان لوگوں کے لیے وقف کر دیں جو جسمانی یا ذہنی طور پر معذور اور بیمار ہوں تاکہ ویلفیئر حاصل کرنے سے ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو، اس پالیسی کے پیچھے یہ نقطہ نظر کارفرما ہے کہ اگر ایک ملازمت ٹائپنگ کی ہے اور ایک شخص ٹانگوں سے معذور ہے اور وہیل چیئر استعمال کرتا ہے تو اس کے ہاتھوں اور ذہن کو تو متاثر نہیں کرتا اور وہ ٹائپنگ بڑی خوش اسلوبی سے کر سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ملازمت ٹرکوں سے سامان اتارنے اور چڑھانے کی ہے تو ایک ذہنی مریض جو جسمانی طور پر طاقتور ہے اور کام کر سکتا ہے تو اسے وہ ملازمت کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

کینیڈا اور دیگر ممالک میں ان دنوں مریضوں کے حقوق اور ان کی معاشرے میں عزت کی زندگی گزارنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

دسواں مرحلہ۔ خودمختار زندگی

شائزوفرینیا کے مریضوں کے علاج کا آخری مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی ایسے مقام تک پہنچنے میں مدد کی جائے جہاں وہ ایک صحت مند خوشحال اور خودمختار زندگی گزار سکیں۔ اور کسی کے محتاج نہ ہوں۔ میرے بہت سے مریض صحت مند ہو کر ملازمتیں کر رہے ہیں۔ بعض نے شادیاں کرلی ہیں۔ اور خوشحال ازدواجی زندگیاں گزار رہے ہیں۔

جوں جوں علاج کی سہولتیں اور بہتر مواقع فراہم ہوتے جا رہے ہیں اور انفرادی اور اجتماعی کوشش بار آور ہو رہی ہیں۔ ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو اپنی بیماری کے باوجود ایک کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔

بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ آج بھی افریقہ، ایشیاء اور مشرق وسطیٰ کے حالات بہت مختلف ہیں اور مریضوں اور خاندانوں کی اکثریت علاج کی سہولتوں سے محروم ہے۔ میں ذاتی طور پر پرامید ہوں کہ جوں جوں ہمارا اجتماعی شعور بیدار ہو گا، عوام و خواص میں ذہنی صحت اور بیماری کا علم بڑھے گا اور ہمارا رویہ مریضوں کے بارے ہمدردانہ ہو گا اتنی ہی مریضوں کی زندگی بہتر ہوگی۔

مجھے یہ بھی امید ہے کہ سائنس، طب اور نفسیات میں جو تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، اگلے پچاس برس میں کچھ اور انقلاب آئیں گے اور ہم مریضوں کی بہتر خدمات کرسکیں گے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail