کہ چھید میں نے کیا تھا خود اپنی ناؤ میں


طاقت، دولت اور شہرت کا خمار انسان میں تکبر، ضد، انانیت اور ہٹ دھرمی پیدا کرتا ہے۔ اقتدار اور مقبولیت مل تو جاتے ہیں مگر ان کو سنبھالنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ جہاں دیدہ، زیرک اور باصلاحیت لوگوں کا کام ہوتا ہے۔ کائنات میں کوئی چیز ایسی نہیں جو دائمی ہو ’سب نے بالآخر فنا ہی ہونا ہے۔

بادی النظر میں تحریک انصاف پر اس وقت نزع کا عالم طاری ہے۔ 9 مئی کے واقعات نے پی ٹی آئی کا شیرازہ بکھیر دیا ہے۔ کھلاڑیوں کی وکٹیں ایسے گر رہی ہیں جیسے خزاں کے موسم کی طرح سوکھے پتے۔ پوری پارٹی اور پارٹی رہنما زیر عتاب ہیں مگر خان صاحب کا اقتدار کا نشہ اتر ہی نہیں رہا۔ تحریک انصاف کی حکومت ختم ہوئی تو عمران خان کے مطابق ان کی حکومت کے خاتمہ کی وجہ امریکی سازش اور امریکہ کو Absolutely Not کہنا تھا۔ ایک کاغذ کا ٹکڑا لہراتے ہوئے وہ کہتے رہے ”کیا ہم غلام ہیں“ ۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں ووٹرز اور سپورٹرز نے ”Absolutely Not“ اور ”کیا ہم غلام ہیں“ کے نعرے لگاتے نظر آتے۔ اپنی گاڑیوں پر یہی نعرے لکھوا کر پاکستان کو امریکہ کی غلامی سے حقیقی آزادی کی طرف لے جانے کے لیے شب و روز ایک کرتے دکھائی دیتے۔

یہ نعرے ہر سو گونجنے لگے تو خان صاحب نے پینترا بدلا کہ سازش امریکہ نے نہیں بلکہ جنرل باجوہ نے تیار کی۔ امریکہ کو لابسٹ کے ذریعے یہ یقین دلایا جانے لگا کہ وہ امریکہ مخالف نہیں۔ امریکہ کے خلاف بیانیہ غلط فہمی کی بناء پر تھا۔ اب جھولی پھیلا کر عمران خان امریکی خاتون رکن کانگریس میکسین مور واٹرز سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں آپ کی جانب سے ہمارے حق میں آواز بلند ہو، آپ اگر امریکہ سے ہمارے لئے آواز اٹھائیں گے تو اس کے اثرات ہوں گے ۔ 99 فیصد پاکستانی میرے ساتھ ہیں، پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے، مجھے گولیاں ماری گئیں اور تاریخ کا بدترین ریاستی جبر ہم پر ہو رہا ہے۔

ایک سال تک فوجی قیادت پر عمران خان ظاہری طور پر دباؤ اور درپردہ، منتیں کرتے رہے کہ موجودہ حکومت کو چلتا کریں، الیکشن کرائیں اور مجھے دوبارہ حکومت میں لائیں۔

عمران خان جب تک ”سیم پیج“ پر تھے تو بہت خوش تھے مگر جب سیم پیج کا خاتمہ ہوا ہے ’توان پر جنونی کیفیت طاری ہو گئی۔ عمران خان اور مقتدر حلقوں کے مابین تناؤ کی کہانی بہت طویل ہے۔ عمران خان کو مسلسل غلط فیصلے کرنے سے روکنے کی کوشش کی جاتی رہی مگر وہ اپنی انا کے خول سے باہر نکلنے کے بجائے ضد پر اڑے رہے۔ آئیے ان کے ان تمام غلطیوں کا جائزہ لیں جن کے باعث ملک و قوم کو آج ان مشکل حالات کا سامنا ہے۔ اور عمران خان اپنے ہی سونامی میں ڈوب رہے ہیں۔

1۔ اکتوبر 2011 ء کو مینار پاکستان پر کامیاب جلسے کے بعد اپنے نظریاتی اور دیرینہ ساتھیوں پر انحصار کرنے کے بجائے سیاسی مفادات کے تحت آنے والوں کو ٹکٹ دیے تاکہ وہ جلد از جلد عنان اقتدار سنبھال سکیں۔

2۔ اقتدار مل جانے کے بعد نیا پاکستان بنانے کے بجائے ساری توانائیاں نقش کہن مٹانے یعنی اپنے سیاسی مخالفین کی سرکوبی پر لگا دیں۔ عاجزی و انکساری کے بجائے ان کی خودپسندی، نخوت و تکبر میں مزید اضافہ ہو گیا۔

3۔ تحریک انصاف کے بانی ارکان جیسے جسٹس وجیہہ الدین، جہانگیر ترین جیسے مخلص لوگوں کو کارنر کر دیا گیا، اور چھاتہ برداروں کو تحریک انصاف کا ترجمان بنا دیا گیا۔

4۔ اکتوبر 2021 ء میں جنرل باجوہ نے ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو تبدیل کرنا چاہا۔ آئی ایس پی آر نے نئی تعیناتی کا اعلان بھی کر دیا مگر عمران خان نے دو ماہ تک نوٹیفکیشن جاری ہی نہیں کیا۔

5۔ فروری 2022 ء میں تحریک عدم اعتماد کی باتیں سامنے آئیں تو خان صاحب نے شوکت ترین کے مشورے سے سیاسی مفادات کے لیے آئی ایم ایف معاہدے کو پس پشت ڈالتے ہوئے پٹرول، ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں کم کر دیں۔ یہ معاہدہ توڑنا قومی مفاد کے خلاف اور معیشت کے لیے زہر قاتل تھا۔ 62

6۔ اقتدار سے محرومی کے بعد عمران خان نے سب کچھ نیست و نابود کرنے کی ٹھان لی۔ حکومت ختم ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ سب کچھ ختم ہو گیا۔ اپنی اننگز کا انتظار کرنے کے بجائے توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کی آتش گل سے چمن ہی جلا ڈالا۔

7۔ مارچ 2022 ء میں عدم اعتماد کی تحریک کے بعد عمران خان نے سائفر اور امریکی سازش کا بیانیہ تراشا۔ انہیں سمجھایا گیا کہ ایسے بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری رکھا تو خارجہ محاذ پر ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا مگر خان صاحب نے الزامات کی آندھی کو مزید تیز کر دیا۔

8۔ شہباز شریف مئی 2022 ء کے آخری ہفتے میں استعفیٰ دینے لگے تھے۔ خان جی نے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے 25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان سے پہلے انہیں تلقین کی گئی کہ لانگ مارچ سے گریز کریں مگر انہوں نے اپنی مرضی کی۔

9۔ مئی کے لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد خان صاحب شدید غصے میں آ گئے اور باجوہ صاحب کے خلاف محاذ کھول لیا۔ انہیں غدار، میر جعفر، میر صادق اور امریکہ کا آلہ کار تک کہا۔ خان صاحب نے نیوٹرل ہونے کو طعنہ بنا دیا اس بیانیے کے باعث خلیج بڑھتی چلی گئی۔

10۔ ارشد شریف کے اندوہناک قتل کے بعد پی ٹی آئی نے کھل کر اداروں پر بے جا الزامات لگائے اور سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلوائے۔ اسی موقع پر تاریخ میں پہلی بار ڈی جی آئی ایس آئی نے پریس کانفرنس کی اور اداروں کے خلاف چلنے والی منظم منفی مہم کو بے نقاب کی۔

11۔ تمام حربے ناکام ہونے پر خان صاحب کہنے لگے کہ پی ڈی ایم حکومت اپنی کرپشن بچانے کے لیے اپنی مرضی کا چیف لگانا چاہتی ہے۔ یہ تعیناتی رکوانے کے لیے دوبارہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ وہ جہاں تقریر کرتے ’اداروں کو متنازع بناتے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ نئی تعیناتی کا معاملہ اگلی حکومت کے قیام تک کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔

12۔ لانگ مارچ جاری تھا کہ عمران خان کے قافلے پر فائرنگ ہوئی تو اس کے بعد پی ٹی آئی کے چیئرمین نے ایف آئی آر کی آڑ میں ایک حاضر سروس سینئر افسر کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ انہیں بار بار متنبہ کیا گیا مگر وہ نہ مانے۔

13۔ وفاقی حکومت ختم کرنے کے سارے حربے ناکام ہو گئے تو عمران خان نے 26 نومبر 2022 ء کو راولپنڈی کے جلسے میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اپنی حکومتیں ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ مقتدر حلقوں نے انہیں ایسا کرنے سے باز رہنے کے لیے کہا مگر وہ نہ مانے۔

14۔ عمران خان کو کرپشن کے الزامات پر نیب نے گرفتار کیا تو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ملک بھر میں فسادات شروع کر دیے۔ جلاؤ گھیراؤ کیا گیا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا، عسکری تنصیبات پر حملے کیے گئے، کورکمانڈر ہاؤس لاہور کو جلا دیا گیا، سرکاری اور نجی گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔ عمران خان تو دو دن بعد ہی رہا ہو گئے مگر انہوں نے دس دن بعد اس واقعے کی مذمت اس انداز میں کی کہ الزامات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

9 مئی پاک فوج کے لئے 9 / 11 کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو 9 مئی کے منصوبہ ساز تھے، جنہوں نے اشتعال دلایا اور جنہوں نے فوجی تنصیبات، عمارتوں اور یادگاروں پر حملے کیے ان سب کو پکڑا جا رہا ہے۔ ان کے لئے معافی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اب خان صاحب اپنی مدد کے لئے امریکہ کی منتیں کر رہے ہیں۔

اس سارے معاملے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عمران خان سے مقبولیت سنبھالی نہیں گئی۔ وہ شہرت کے خمار میں ایک کے بعد ایک غلطی کرتے رہے اور منزل اقتدار سے دور ہوتے چلے گئے۔ تبدیلی کا وہ ٹائی ٹینک جو بڑے کروفر اور شان سے عازم سفر ہوا تھا اور ناقابل شکست دکھائی دیتا تھا، آج کسی بوسیدہ ناؤ کی طرح ڈوب رہا ہے۔ ناز مظفر آبادی نے کہا تھا

میں ڈوبنے کا گلہ ناخدا سے کیا کرتا
کہ چھید میں نے کیا تھا خود اپنی ناؤ میں

Facebook Comments HS