کھنبھرو کی قدیم درسگاہ اور کتب خانہ
جنوب مشرقی سندھ کے علاقے میں ویسے تو درجنوں ایسی درسگاہیں اور مکتب ابھی تک موجود ہیں جہاں گزشتہ دو سے ڈھائی صدیوں سے درس و تدریس کا کام مسلسل جاری ہے لیکن تاریخی شہر عمرکوٹ سے 30 کلومیٹر شمال میں ناراویلی کی بیراج ایراضی اور اچھڑو تھر کے صحرا کے سنگم پر کھنبھرو اور ڈڈر نامی نیلے پانی اور سرسبز کناروں والی جڑواں جھیلوں کے درمیاں ریت کے جزیرہ نما سفید ٹیلے پر واقع گاؤں پیر محمد ولہاری میں ایک ایسی درسگاہ واقع تھی جس کو مشہور برطانوی محقق و مورخ ایچ ٹی سورلے نے لندن شہر کی اس وقت کی یونیورسٹیوں کے برابر کا درجہ دیا ہے!
ایچ ٹی سورلے انڈین سول سروس کے ایک افسر تھے انہوں نے اپنی اس کتاب ”شاہ عبداللطیف آف بھٹ“ میں سندھی زباں کے عظیم شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری اور ان کی زندگی پر لکھتے ہوئے اس وقت کے سندھ کے تعلیمی، سماجی اور معاشی حالات کا بھی احاطہ کیا ہے۔ ان کے مطابق سندھ میں سیہون، مٹیاری، پاٹ، کھہژا اور کھنبھرو کی درسگاہوں کا تعلیمی، تربیتی، تحقیقی اور انتظامی امور دیکھا جائے تو وہ لندن شہر کی جامعات سے کسی طور پر بھی کم نہیں ہیں!
مشہور بیوروکریٹ ہاشم لغاری تحریک آزادی کے نامور رہنما اور قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھی بئریسٹر غلام محمد بھرگڑی کی شخصیت اور خدمات پر کتاب میں لکھتے ہیں ”بئریسٹر غلام محمد کے والد رئیس ولی محمد خاں بھرگڑی نے کھنبھرو کی درسگاہ سے تعلیم حاصل کی تھی اور بعد میں تالپور دور میں تھر کے علاقے چھاچھرو کے“ کاردار ”مقرر ہوئے تھے، آج کے تحصیلدار کو تالپور دور میں کاردار کہتے تھے۔ ہاشم لغاری اپنی تصنیف میں مزید لکھتے ہیں کہ کھنبھرو کی درسگاہ اس وقت بہت بڑی درسگاہ تھی جس کو ٹالپوروں اور ان سے پہلے کلہوڑہ دور کی حکومتوں کی طرف سے کوئی مالی معاونت نہیں کی جاتی تھی، درسگاہ اپنی مدد آپ کے اصول پر چلتی تھی لیکن درسگاہ سے جاری اسناد کو حکومتوں کی طرف سے تسلیم کیا جاتا تھا اور ان اسناد کی بنیاد پر اعلی ’سرکاری عہدے اور نوکریاں دی جاتی تھیں۔
خلیفہ محمد امین پلی نامی محقق نے 1957 ع میں اس درسگاہ والے گاؤں کا دورہ کیا ہے جبکہ نامور محقق ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نے ان سے 20 سال بعد 1976 ع میں اس درسگاہ والے گاؤں کا دورہ کیا اور گاؤں کے بزرگوں سے ملاقاتیں بھی کی ہیں، دونوں حضرات نے اپنے اپنے دورہ والے سال کے دوران سندھی ادبی بورڈ کے سہ ماہی جریدے مہران میں تفصیلی مضامین لکھے ہیں، ان کے مطابق 1935 ع میں درسگاہ کے مہتمم میاں احمد ولہاری کے نوجوانی میں انتقال کے بعد ان کے دوسرے بھائی اس صدمے سے دوچار ہو کر بہت ملول رہنے لگے تھے، اس سوگ میں درسگاہ جیسے بند ہوئی تو دوبارہ کبھی کھل نہ سکی۔ امین پلی کے مطابق درسگاہ کے کتب خانے میں ہزاروں کتابیں اور نایاب قلمی نسخے تھے جو درسگاہ کے مہتممین کے دوست و احباب اٹھا کر لے گئے، کچھ کتابیں ڈاکٹر محمد عمر داؤد پوتہ کسی لائبریری میں محفوظ رکھنے کے لیے لے گئے تھے۔
نامور محقق ڈاکٹر نبی بخش بلوچ لکھتے ہیں کہ انہوں نے اس تاریخی درسگاہ کا دورہ کیا تب تک درسگاہ بند ہوئے 40 سال گزر چکے تھے اس وقت اس کی عمارت کا زیادہ تر حصہ کھنڈر میں تبدیل ہو چکا تھا لیکن کتب خانے کی دو منزلہ عمارت اور جلد سازی کے کمرے بہت خستہ حال میں تب بھی موجود تھے، کتب خانے میں اس وقت تک جو نایاب کتابیں اور قلمی نسخے رہ گئے تھے وہ دیمک کی نظر ہو چکے تھے، ڈاکٹر بلوچ لکھتے ہیں کہ ان کے ایک سرسری تخمینے کے مطابق اس کتب خانے مین کم سے کم 10 ہزار کتابیں اور 2 ہزار قلمی نسخے ضرور رہے ہوں گے ۔
ایچ ٹی سورلے اور ہاشم لغاری کی کتابوں، خلیفہ محمد امین پلی اور ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کے علاوہ ڈاکٹر محمد ابراہیم سندھی، خلیل کھوسو، الھبچایو مشتاق آریسر اور ڈاکٹر محمد اشرف سموں نے اس درسگاہ اور اس کے مہتممین ولہاری خاندان کے جید علمائے کرام اور بزرگان کے متعلق سندھی ادبی بورڈ کے جریدے سہ ماہی مہران میں تحقیقی مضامین لکھے ہیں جبکہ نوجوان لکھاری اے ڈی کمبھر اور راقم الحروف نے سندھی روزنامہ کاوش میں بھی کئی مضامین لکھے ہیں، ان مضامین کے مطالعے، سندھ کی تاریخ کے مختلف کتابوں اور مقامی لوگوں میں اس درسگاہ کے متعلق سینہ بہ سینہ چلنے والی کہانیوں کے مطابق سندھ میں سماں قبیلے کی سلطنت ( 1351۔1524 ع) کے دوران سندھ علم، ادب و دانش کا گہوارا تھا۔
ان کے دارالحکومت ٹھٹھہ شہر میں درجنوں درسگاہیں تھیں جو جامعات کا درجہ رکھتی تھیں جہاں مشرق وسطی ’سے بھی طلبہ تعلیم کی پیاس بجھانے آتے تھے، اس گاؤں میں درسگاہ قائم کرنے والے بزرگوں کے اباء و اجداد کا تعلق بھی ٹھٹھہ کی ان جامعات میں مختلف علوم و فنون کی درس و تدریس سے منسک علماء سے تھا۔ آخری سماں سلطان جام فیروز کے زمانے میں ارغونوں نے ٹھٹھہ پر قبضہ کر لیا اور قتل عام شروع کیا تو ٹھٹھہ کے مکینوں نے شہر چھوڑ کر سندھ کے مختلف علاقوں میں سکونت اختیار کی، کئی لوگ گجرات اور راجستھان کی طرف بھی ہجرت کر کے چلے گئے ان میں سے سماں قبیلے کی ایک ذیلی شاخ ”برند سماں“ سے تعلق رکھنے والا یہ خاندان ٹنڈوالہیار کے قریب ”ولہار“ نامی علاقے میں آباد ہوا، اور اسی نسبت سے ”ولہاری“ کہلانے لگا، کچھ روایات کے مطابق ولہار سے پہلے یہ خاندان کچھ عرصے کے لیے جنوبی سندھ کے ایک قصبہ ملاکاتیار میں بھی جا بسا تھا، ملاکاتیار اور ولہار میں ان کے بزرگوں کے مزارات موجود ہیں۔
جیسا کہ ان کا پیشہ درس و تدریس تھا، ان کے خاندان کے بزرگوں کو ”میاں“ کا خطاب ملا ہوا تھا، انہوں نے ولہار میں بھی درسگاہ قائم کی جہاں دور دراز کے علاقوں سے طلبہ تعلیم حاصل کرنے کی خاطر آتے اور فارغ التحصیل ہو کر واپس اپنے اپنے علاقوں میں لوٹ کر جاتے تو وہاں ان علمائے کرام کے عمل و دانش کی تعریفیں کرتے، ان کی تعریفوں سے متاثر ہو کر عمرکوٹ کے اس علاقے کے سید اور پلی برادری کے تعلیم میں گہری دلچسپی رکھنے والے لوگوں کو خیال آیا کہ اس خاندان سے گزارش کی جائے کہ ان میں سے کچھ لوگ یہاں آ کر درسگاہ قائم کریں تاکہ یہاں کے لوگ بھی دینی و دنیوی تعلیم حاصل کر سکیں، کہا جاتا ہے ان کی خواہش کے مطابق وہ لوگ ولہار سے ہجرت کر کے پہلے نارا کنال کے دائیں کنارے پر واقع گاؤں غلام نبی شاہ میں آباد ہوئے اور وہاں درسگاہ بھی قائم کی لیکن کچھ عرصے کے بعد وہاں سے 3 سے 4 کلومیٹر مشرق میں نارا کنال کے بائیں طرف موجودہ گاؤں میں جاکر آباد ہوئے اور وہیں یہ درسگاہ قائم کی۔
درسگاہ میں اس وقت کے مروج تمام دینی خواہ دنیوی علوم پڑھائے جاتے تھے، مسلمانوں کے ساتھ ہندو طلبہ بھی یہاں تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں۔
ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کے خیال میں 1935 ع میں ہمیشہ کے لیے بند ہونے والی یہ درسگاہ ڈھائی سے تین صدیوں تک قائم رہی ہوگی! اس لحاظ سے یہ مغلیہ دور میں قائم ہونے والی درسگاہ ہے جو سندھ میں کلہوڑہ، ٹالپور اور انگریز دور کے دوران بھی قائم رہ کر تعلیم کی آبیاری کرتی رہی ہے۔
یہاں سے مختلف ادوار میں فارغ التحصیل ہونے والے کئی علمائے کرام کا تعلق راجستھان اور گجرات سے بھی رہا ہے۔ الھبچایو مشتاق آریسر لکھتے ہیں کہ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کی دستار بندی کی سالانہ تقریب ہوتی تھی جس میں دور دراز سے علما کو بلایا جاتا تھا، اس کے دوران مشاعرے بھی ہوتے تھے جہاں فارسی، عربی اور سندھی شعر پیش کیے جاتے تھے۔

