لندن میں ماہ پارہ صفدر کی کتاب میرا زمانہ میری کہانی کی تقریب رونمائی


میرا زمانہ میری کہانی پی ٹی وی اور بی بی سی کی نیوز ریڈر ماہ پارہ صفدر کی خود نوشت ہے، جو چند ماہ پہلے بک کارنر جہلم سے شائع ہوئی ہے۔ اس کی تقریب رونمائی ”دھنک لندن“ کے زیر اہتمام 22 مئی بروز اتوار کو لندن کے نواحی علاقہ مورڈن کے ہائی سٹریٹ میں واقع خوبصورت سام ہال میں منعقد ہوئی۔ دھنک لندن کا ایک معروف ادارہ ہے جس کی روح رواں چیف ایڈیٹر روزنامہ دھنک، سیاسی و سماجی شخصیت اور اردو کی ممتاز اور صاحب دیوان شاعرہ سیدہ کوثر نے ماہ پارہ صفدر کی اس خوبصورت کتاب کی تقریب رونمائی کا اہتمام کیا تھا۔ وقت کی پابندی نہ کرنا ہماری پاکستانی کمیونٹی کا شعار بن گیا ہے چاہے وہ کہیں بھی جا کر بس جائیں۔ ساڑھے بارہ بجے مقررہ وقت پر میزبان اور صاحب کتاب تو اپنے اہل خانہ کے ساتھ تقریب میں موجود تھے لیکن مہمانوں کا انتظار تھا جو آہستہ آہستہ پہنچنا شروع ہوئے اور دو گھنٹے کی تاخیر سے اڑھائی بجے تقریب کا آغاز ممکن ہو سکا۔ راقم تقریب میں دس منٹ پہلے پہنچ گیا تھا۔

تقریب شروع ہونے سے پہلے محترمہ شگفتہ نسرین نے خوبصورت لب و لہجہ اور الفاظ میں سیدہ کوثر اور ان کے ادارے دھنک کا تعارف کروایا اور انھیں تقریب کی نظامت سنبھالنے کی دعوت دی۔ یہ تقریب اس لحاظ سے ایک منفرد خصوصیات کی حامل تھی کہ تقریب کی میزبان سیدہ کوثر نے روایات سے انحراف کرتے ہوئے تقریب کا آغاز بڑے مختلف انداز میں کیا۔ سب سے پہلے تو انہوں نے کتاب ”میرا زمانہ میری کہانی“ کو مہمان خصوصی کا درجہ دے کر مہمان خصوصی کی نشست عطا کی۔

اس کے بعد ماہ پارہ صفدر کی بڑی پیاری سی ننھی نواسی کے ہاتھوں کتاب کی رونمائی کرائی۔ کتاب کی رونمائی کے بعد سب سے پہلے ماہ پارہ صفدر کے گیارہ سالہ نواسے عباس رضا نے نانی اماں سے اپنی محبت اور ان کی شفقت کے حوالہ سے انگریزی میں مختصر بات کی جس کے بعد ان کے اکلوتے فرزند کیمبرج یونیورسٹی کے گریجویٹ محمد صفدر نے بڑی نستعلیق اردو میں اپنی والدہ سے محبت، ان کی تربیت، کتاب لکھنے کے دوران ہونے والے دلچسپ واقعات اور کتاب کی تیاری کے مراحل پر بڑی اچھی گفتگو کی۔

یہ بڑی سادہ اور پروقار تقریب تھی۔ سفید رنگ کے تھیم سے مزین تقریب میں ہال کی ہر شے پر سفید رنگ نمایاں تھا۔ اس کی مناسبت سے میزبان بھی سفید دیدہ زیب ساڑھی میں ملبوس تھیں۔ مختصر سے خوبصورت سٹیج کے پیچھے کتاب کے حوالہ سے دھنک کا قد آدم پوسٹر آویزاں تھا جس کے دونوں اطراف دھنک ادارے سے متعلق پوسٹر ایستادہ تھے۔ سٹیج پر صرف تین کرسیاں رکھی گئیں تھیں۔ ایک پر تقریب کی میزبان اور نظامت کے فرائض انجام دینے والی سیدہ کوثر اور دوسری پر صاحب کتاب ماہ پارہ صفدر براجمان تھیں جبکہ تیسری نشست کتاب پر بات کرنے والی شخصیت کے لیے رکھی گئی تھی۔

سیدہ کوثر بڑے خوبصورت الفاظ میں کتاب پر بات کرنے والی شخصیت کا تعارف کرواتے ہوئے انھیں سٹیج پر نشست سنبھالنے کی دعوت دیتیں۔ تقریب کے باقاعدہ آغاز کے بعد کتاب پر بات کرنے اور اس سے اقتباس پڑھنے کے لیے اردو ریڈیو کے منفرد لب و لہجہ کے مالک یوسف ابراہیم نے کتاب سے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلقہ خبروں کے متعلق واقعات اپنی خوبصورت آواز اور پرسوز لب و لہجے میں پڑھ کر سنائے۔ ان واقعات کو یاد کر کے ماہ پارہ پہلے اداس اور پھر آب دیدہ ہو گئیں۔

حاضرین کے چہروں پر بھی اداسی چھا گئی۔ یوسف ابراہیم کے بعد راقم کو بات کرنے کی دعوت دی گئی۔ راقم نے کتاب پر ایک جامع تبصرہ لکھا تھا جو ہم سب ڈاٹ کام پر چھپا جس کو پانچ ہزار سے زائد قارئین نے پڑھا اور اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ وقت کی نزاکت کے پیش نظر راقم نے مضمون منتخب حصے جن میں کتاب کی سب جہتیں بیان کی گئی تھیں، پڑھ کر سنائے جسے حاضرین نے بہت سراہا۔

ماہ پارہ جی کی دوست اور ان کی برسوں کی ساتھی ساجدہ ہمایوں نے کتاب پر ایک انتہائی جامع مضمون لکھا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا ماہ پارہ کے ساتھ بچپن اور ریڈیو کا ساتھ ہے، ان کا ذکر بھی اس کتاب میں موجود ہے۔ انہوں نے ماہ پارہ جی کے ساتھ اپنے گزرے ہوئے وقت کو یاد کرتے ہوئے کتاب میں لکھی ہوئی بہت سی باتوں کی تصدیق بھی کی۔ انھوں نے اس دوران بہت سی غیر متعلقہ باتیں بھی کیں۔ مضمون کی طوالت اور غیر متعلقہ باتوں اور ان کے انداز بیاں کی وجہ سے حاضرین کی اکثریت بور ہونا شروع ہو گئی تھی۔ بہر حال انھوں نے اپنا مضمون مکمل کر ہی لیا۔

ان کے بعد ڈاکٹر غلام مرتضی کی باری آئی۔ سیدہ کوثر نے ان کا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ سینئر میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔ ہمہ جہت شخصیت ہونے کے علاوہ بہت اچھے شاعر ہیں اور عدیم تخلص کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بڑے خوبصورت تشبیہات اور استعاروں کے ساتھ انتہائی شاعرانہ انداز میں منظوم طریقے سے اپنے مضمون کا آغاز کیا۔ ان کے خاندان کے ماہ پارہ جی کی فیملی سے دیرینہ تعلقات ہیں۔ انھوں نے ماہ پارہ کی شخصیت کے مختلف پہلوں پر بات کی، ان کے بچوں کے بارے میں بتایا۔ انھیں محفل میں گفتگو کا ڈھنگ آتا ہے ان کی باتوں سے سبھی اہل محفل بہت محظوظ ہوئے۔ ان کے اختتامی اشعار کو سب نے بہت پسند کیا اور پرزور تالیوں بجا کر اس کا اظہار بھی کیا۔

ماہ پارہ کے شوہر نامدار سید صفدر ہمدانی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ ریڈیو کے مشہور براڈ کاسٹر سید مصطفے علی ہمدانی کے فرزند ہیں۔ مشہور شاعر فارغ بخاری کے بھانجے ہیں اور خود بھی ریڈیو کے پروڈیوسر اور ایک منفرد اسلوب کے شاعر اور مرثیہ گو ہیں۔ انہوں نے اپنے خاندان کا تعارف بڑے اچھے انداز میں کرایا۔ اپنے بارے میں انھوں نے بتایا کہ وہ روایت پسند نہیں بلکہ ہمیشہ روایات کے باغی رہے ہیں۔ ان کے سچ بولنے کی وجہ سے اکثر محفلوں میں انھیں بلایا نہیں جاتا۔

ان کے سچ بولنے کی وجہ سے لوگ انھیں بے شرح اور بدتمیز سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو بصیرت رکھتے ہیں انھیں ہم دیوانہ کہتے ہیں۔ ہم جھوٹ بولتے ہیں اس لیے اللہ نے ہم پرسے ہاتھ اٹھا لیا ہے۔ 1975 ء میں ماہ پارہ سے شادی ان کی پسند اور گھر والوں کی مرضی سے ہوئی تھی۔ انہوں نے ماہ پارہ جی کی شخصیت کے حوالہ سے بڑی دلچسپ اور کھری کھری باتیں کرتے ہوئے کہا کہ وہ بڑے تیکھے مزاج کی خاتون ہیں۔ وہ ایک بہت اچھی بیوی ہیں لیکن میں اتنا اچھا شوہر نہیں ہوں۔ اپنی حیات میں میرے جیسے شخص سے گزارہ کر کے ماہ پارہ نے ایک کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ اپنی خانگی زندگی کی بہت سی دلچسپ باتیں انھوں نے بتائیں۔ کتاب پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جو کچھ ماہ پارہ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے وہ سب کچھ سچ ہے اور یہی حقیقت ہے۔

صفدر ہمدانی کے بعد سیدہ کوثر نے ماہ پارہ صفدر کا مختصر تعارف پیش کیا اور انھیں کتاب پر بات چیت کرنے کی دعوت دی۔ ماہ پارہ صفدر نے سب سے پہلے تقریب میں شرکت کرنے پر شرکا محفل کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اتنی پروقار تقریب منعقد کرنے پر دھنک لندن کی روح رواں سیدہ کوثر اور دھنک کی پوری ٹیم کی انھوں نے تعریف کی۔ اپنے ابتدائی دور کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے فخر سے بتایا کہ ان کی والدہ نے ان کی اور بہنوں کی پڑھائی کے لیے اپنے جہیز کے برتن تک فروخت کر دیے تھے۔

ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی اور انگلینڈ میں بی بی سی پر اپنے گزرے ہوئے وقت کے بہت سے دلچسپ واقعات حاضرین کو سنائے۔ 1977 ء کے الیکشن میں اپوزیشن جمہوری اتحاد اور حکومت کی خبروں کے چیدہ چیدہ واقعات سنائے۔ ضیا الحق کے مارشل لاء کے دوران ٹی وی پر خواتین پر سختیوں اور پابندیوں پر بات کی۔ کتاب کی تیاری کے مراحل پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے بڑے دکھ سے کہا کہ انھیں آج اس تقریب میں اپنے والدین کی کمی بہت زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔

ہم والدین کی محبتیں کبھی نہیں لوٹا سکتے۔ سوال و جواب کے سلسلے کے دوران فیمنزم پر بات کرتے کہا کہ گھر کا یونٹ ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے۔ گھر میں ماں اور بیوی آج بھی جاگتی ہے لیکن اب یہ تہذیب برباد کر دی گئی ہے۔ انھوں نے بی بی سی پر پیش کیے جانے والے پروگراموں میں پاکستان سے شادی کر کے لائی جانے والی بچیوں پر ہونے والے ظلم و جبر پر تفصیل سے بات کی۔

تقریب کے اختتام پر دھنک لندن کی طرف سے ماہ پارہ کو کتاب اور تقریب کے حوالہ سے ایک خوبصورت شیلڈ سیدہ کوثر نے پیش کی۔ ماہ پارہ صفدر اور سیدہ کوثر کے خاندان اور حاضرین کی موجودگی میں تقریب کا کتاب کے ٹائٹل سے مزین خوبصورت اور لذیذ کیک کاٹا گیا۔ اس دوران کتاب خریدنے والے اصحاب ماہ پارہ جی سے کتاب پر دستخط بھی کرواتے رہے۔ اس پروقار اور خوبصورت تقریب میں لندن شہر کی صحافتی، ادبی، سیاسی اور سماجی شخصیات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جن میں مشتاق لاشاری، میجر ریٹائرڈ حسن محمد، رضا علی سید، راجہ شیراز خان، GPKSC کے چیئرمین راجہ سکندر خان، نادیہ جعفری، روز نیوز کی نمائندہ مونا بیگ، ممتاز صحافی صغیر بھٹی اور ساج بٹ شامل ہیں۔ دھنک لندن کے بینر تلے لندن شہر میں ہونے والی یہ منفرد تقریب سالوں یاد رکھی جائے گی۔

Facebook Comments HS