مولانا عبد الخالق ابابکی مرحوم: بلوچستان میں علم و ادب کا روشن مینار

مولانا عبد الخالق ابابکی مستونگ کے شہر سلطان کاریز میں مولا بخش عالیزئی کے ہاں 1952 کو پیدا ہوئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے سلسلہ نسب ملنے کی وجہ سے ان کے قبیلے کو ابابکی، صدیقی اور قریشی بھی کہا جاتا ہے۔ مولانا ابابکی نے 8 سال کی عمر میں حضرت مولانا عبداللہ سے مدرسہ شمس العلوم صدیق آباد میں قرآن، حدیث، فقہ، علم الصرف اور علم النحو سیکھنا شروع کیا۔ تعلیم و تعلم کے ساتھ ساتھ وفا روڈ کوئٹہ پر مکینک کا کام اور ڈرائیونگ بھی سیکھی۔ 1974 میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے اور حصول رزق حلال کے لیے 1974 سے 1979 تک ٹرک چلاتے رہے۔ بعد میں اپنڈکس آپریشن کرنے کی وجہ سے 1980 میں مولوی فضل الرحمان صاحب کے مدرسہ اشرفیہ میں معلم تعینات ہوئے اور مدرسے کی تمام ذمے داریاں بعد میں مولانا ابابکی کو سونپی گئیں۔ یہ دینی مدرسہ آج تک فعال ہے۔
مولانا ابابکی نے مطلع العلوم کوئٹہ میں طالب علمی کے زمانے میں تقریر و تحریر اور شعر و شاعری شروع کی۔ حافظ حسین احمد شرودی ان کی حوصلہ افزائی کرتے اور انھیں ادیب کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ ایلم اخبار میں اپنی براہوی نظمیں شائع کرتے اور آہستہ آہستہ ڈاکٹر عبد الرزاق صاحب، پروفیسر عزیز مینگل صاحب، ڈاکٹر حمید شاہوانی صاحب، پروفیسر عبداللہ جمالدینی صاحب، پروفیسر نادر قمبرانی صاحب، پروفیسر شرافت عباس صاحب اور دیگر براہوی ادب کے علما سے تعلقات پیدا ہو گئے۔
1989 میں چلتن ادبی دیوان کا ڈائریکٹر اور 1990 میں اسی دیوان کے صدر منتخب ہو گئے۔ ”شیر بانز“ لکھنے پر تاج محمد تاجل ایوارڈ سے بھی نوازے گئے۔ آماچ ادبی دیوان مستونگ کے بانی ہیں اور بیک وقت چھے زبانوں (براہوی، فارسی، اردو، پشتو، سندھی اور عربی) میں مشق سخن کرتے رہے۔ 60 سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں۔ اردو زبان میں ان کا مشہور شعری مجموعہ ”کوس رحیل“ ہے، جو قلات پریس سے 1999 میں شائع ہوا۔ اس کے علاوہ ذلیل دنیا، بہترین وظائف، اتحاد المدارس، باب القرآن، ڈرائیوروں کا ہمسفر، رموزات عشق، اویسیت اور پاس انفاس، شجرہ سلسلہ عالیہ اویسیہ، دنیا کی حقیقت اسلام کی نظر میں اور فضیلت جمعہ و دیگر اسلامی اور تاریخی کتابیں اردو نثر میں لکھی ہیں۔ ”درالک“ براہوی زبان میں لکھی گئی غیر منقوط شاعری ہے۔ تصوف، وظائف، عملیات، مرثیہ نگاری، فضائلیات، قواعد نگاری، ترانے اور سوانح نگاری ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔
مولانا ابابکی کا شمار مستونگ کے بڑے کہنہ مشق اور بہترین ادبا میں ہوتا ہے۔ ضلع مستونگ کی سرزمین ہمیشہ سے ادب اور شعر و سخن کے لیے موزوں رہی ہے۔ راقم الحروف (فضل تنہا غرشین) نے خود متعدد بار مستونگ کی ادبی نشستوں میں شرکت کی ہے اور مولانا عبد الخالق ابابکی کے فن اور شخصیت پر ڈاکٹر خالد محمود خٹک کی نگرانی میں ایک جامع تحقیقی مقالہ بھی لکھا ہے۔ مولانا ابابکی کے دست راست منصور حیات براہوی اور ایلم مولانا محمود ابابکی نے مولانا ابابکی کے ادبی جہاد کو مکتبہ مولانا عبدالخالق ابابکی مستونگ کے نام سے جاری رکھا ہوا ہے۔
بلوچستان اردو ادب میں ”کوس رحیل“ ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ کوس رحیل میں حب الوطنی، علم کی اہمیت، حقیقت بندگی، بے ثباتی دنیا، حکمت اسلام، دانش مذہب اور انجام ظلم جیسے حیات کے کائنات کے جملہ اہم موضوعات کو بہ زبان شعر بیان کیا ہے۔ جاوید اختر کے مطابق کوس رحیل نے زوال انسان اور تنزل مسلمان کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ مولانا ابابکی سرداری اور نوابی نظام استحصال کے سخت مخالف تھے۔ ان کی نظم ”قرب قیامت“ سرداری نظام کے خلاف ایک احتجاج سے کم نہیں :
یا رب تیرے در پر صبح و شام بہ دعا ہوں
نوابوں کی فتن سے تو غریبوں کو نجات دو
کہ دہقان بے کس غریبوں پہ اکثر
سرداروں اور نوابوں کی بیداد دیکھو
مولانا بنیادی طور پر بلوچستانی تھے۔ محمد حسین عنقا، یوسف عزیز مگسی اور عطا شاد سے متاثر تھے۔ وہ ایک ترقی پسند شاعر تھے۔ ان کی نظمیں نواب، میرا وطن، علم، متکبر عالم سے، عشق، حضرت انسان جنات سے اور کل کے غلام آج کے امام مشہور ترقی پسند نظمیں ہیں۔ مولانا کے اسلوب علامہ اقبال کے اسلوب سے مماثلت رکھتے ہیں۔ وہ اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں : ”شعرا میں حافظ شیرازی، شیخ سعدی اور اکثر علامہ اقبال سے متاثر اس لیے ہوں کہ علامہ صاحب کی شاعری آفاقی و عرشی ہے، فرشی نہیں۔ دریا کو کوزے میں بند کرنا یہی معنی رکھتا ہے۔“
وہ علاقائی زبانوں کی ترقی چاہتے تھے۔ اکادمی ماہنامہ، مئی 2010 میں لکھتے ہیں کہ علاقائی زبانوں کے فروغ سے پاکستان مستحکم اور متحد ہو سکتا ہے۔ ان کے کلام میں فارسی تراکیب، سوالیہ و تکلمانہ شعری انداز، قرآنی آیات اور تضمینی اشعار شامل ہیں۔ مولانا ابابکی کی شاعری کا مقصد انسان کو اپنے منصب، وقار اور ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا ہے۔ ان کو مسلمانوں کی غفلت خوابی پر افسوس ہے۔ ان کی شاعری عناصر خمسہ کی یاد دلاتی ہے۔
مولانا ابابکی کی طرح محب وطن، تخلیقی اور ادیب علما پاکستان میں بالعموم اور بلوچستان میں بالخصوص نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہمارے ملک اور ہمارے صوبے کو تخلیقی اور ادیب علما چاہیے جو ملک و صوبے کی تعمیر و ترقی میں تعمیری کردار ادا کر سکیں، جو علم کی روشنی پھیلا سکیں، جو لسانی امتیازات کو جڑ سے نکال سکیں اور سب سے بڑھ کر عصری تقاضوں سے ہم آہنگ طلبہ پیدا کرسکیں۔ ہمارے صوبے کے ہر دینی عالم کو چاہیے کہ وہ مولانا ابابکی سے زندگی گزارنے کے گر سیکھ لیں۔
مولانا کی اردو شاعری میں قواعد اور عروض کی کچھ خفیف خامیاں پائی جاتی ہیں مگر ان کی مجموعی شعری ذوق اور نثری کاوش نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اوج کمال پر پہنچایا ہے۔ بیک وقت چھے زبانوں میں مشق سخن کرنے والا یہ شاعر، ادیب اور دینی عالم 23 اپریل 2017 کو اس دار فانی سے ہمیشہ کے لیے کوچ کر کے چلے گئے۔
نہ چھیڑو پھر کبھی ساقی نہ چھیڑو
نہیں مے خانے کا مجھ کو غرض اور
مرض ایسا لگا ہے، لا علاج ہوں
دوا ہے اور، مگر میرا مرض اور
جہاں میں اب مجھے رہنا ہے مشکل
ہے منزل تک رسائی کا فرض اور

