کیا داتا صاحب ایک ترقی پسند صوفی تھے؟

ہماری زندگی واقعات و مشاہدات کا ایک مجموعہ ہی تو ہے۔ کچھ بامعنی اور کچھ بے معنی، کچھ قابل فہم اور کچھ ورائے فہم۔ کچھ واقعات اور ان کا ربط آسانی سے سمجھ میں آ جاتا ہے اور کچھ کا دیر سے اور کچھ کبھی پلے ہی نہیں پڑتے۔ ہو سکتا ہے اس میں زیادہ قصور میری کم فہمی ہی کا ہو۔ ویسے تو سماجی اور سیاسی موضوعات بھی کوئی کم مشکل نہیں ہوتے مگر روحانی روابط کے وجود اور پیچیدگیوں کی تفہیم کا مرحلہ تو یکسر چکرا کر رکھ دیتا ہے۔ میں ادبی احباب کے حوالہ سے چند واقعات اور مشاہدات آپ سے شیئر کر رہا ہوں یہ سوچ کر کہ شاید آپ کے لیے یہ دل چسپی کا باعث ہوں یا تفہیم کا کوئی در کھولتے ہوں۔
*** ***
میں نے دستک دی تو دروازہ اردو کے معروف اشتراکیت پسند ادیب سمیع آہوجہ صاحب نے کھولا۔ یہ میرے لیے کچھ غیرمتوقع سا تھا کیونکہ لاہور میں پرانی انارکلی کے قریب واقع لاج روڈ پر 33 نمبر کے گھر کے دروازے کی دستک کا جواب تو سعادت سعید صاحب کو دینا چاہیے تھا۔ "آ جاؤ، سعادت سعید کے پینل آ جاؤ اندر۔ تم بھی شریک انتظار ہو جاؤ۔ آہوجہ صاحب نے حلقہ ارباب ذوق کے آنے والے انتخابات میں سعادت سعید صاحب کے ساتھ میرے پینل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا اور مجھے اندر آنے کا راستہ دیا۔
میں ڈرائینگ روم میں داخل ہوا اور سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔ آہوجہ صاحب بائیں طرف کی دیوار کے ساتھ لگے صوفے پر بیٹھ گئے۔
تم جانتے ہو یہ صاحب کہاں گئے ہوں گے؟ صوفے پر بیٹھتے ہی انہوں نے مجھے بغور دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔ ان کے پوچھنے کے انداز میں یہ واضح اشارہ موجود تھا کہ وہ اس سوال کا جواب جانتے ہیں۔
بہرحال میں نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ گزشتہ کئی روز سے میں شام کے بعد یہاں آ رہا ہوں اور ہم مل کر حلقہ کے انتخابات کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں اور اگلے روز اراکین سے رابطے کی تفصیلات طے کرتے ہیں۔
تم جانتے ہو آج کیا دن ہے؟ آہوجہ صاحب نے میری بات مکمل ہونے کے بعد پوچھا تھا۔
جی، جمعرات ہے۔ میں نے جواب دیا۔
تو جمعرات کو پروفیسر صاحب داتا دربار جاتے ہیں شام کو حاضری دینے، سلام کرنے۔ آہوجہ صاحب نے میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے مسکرا کر انکشاف کیا۔
"اوہ، اچھا۔ مجھے اس بات کا علم نہ تھا۔ انہوں نے کبھی ذکر نہیں کیا۔ میں نے کہا
میں تو ایک طویل عرصہ سے جانتا ہوں اسے بھی اور اس کے معمولات کو بھی۔ آہوجہ صاحب کہہ رہے تھے۔ حیران ہوں کہ جب ہمارے روشن خیال، لبرل اور ترقی پسند لوگ بھی روایات اور توہمات میں جکڑے ہوئے ہیں ابھی تک تو حقیقت پسندانہ سائنسی اپروچ کہاں فروغ پائے گی؟
یہ تو اقدار کی بات نہیں؟ اور ہم سے ہر شخص کو اختیار ہونا چاہیے کہ وہ اس ضمن میں اپنی پسند و ناپسند چن سکے؟
میں نے سطحی سی بات کی تھی۔
ترقی کے لیے اشتراکی اقدار اور اصول درکار ہوں گے۔ عقائد کے پرانے سانچے نہیں چلیں گے۔ جنہوں نے انسان کو ذات پات، رنگ و نسل حتیٰ کہ صنفی بنیادوں پر بھی تقسیم کر رکھا ہے۔ کیا ہمارے معاشرے میں ایک بیٹی اپنے باپ یا بھائی سے اپنی نجی ضروریات کو ذکر کر سکتی ہے؟ اپنی ذاتی ضروری اشیا منگوانے کے لیے اسے اپنی ماں یا بہن یا سہیلی سے مدد لینا پڑتی ہے۔
ایسا کیوں ہے؟ مطلب یہ کہ ہم انہیں برابر اور اپنے جیسا نہیں سمجھتے اور انہیں شروع سے بتا دیتے ہیں کہ وہ مختلف ہیں۔ سمیع آہوجہ کہے جا رہے تھے۔
میں نے پھر اپنے سوشیالوجی کے تازہ تازہ سنے لیکچرز اور کتابی حوالوں سے گفتگو میں شرکت کی مگر جس گہرائی اور واضح موقف کی توقع انہیں تھی میں شاید وہ پوری نہ کر سکتا تھا۔ اتنے میں بیرونی دروازہ کھلا اور سعادت سعید صاحب کمرے میں داخل ہوئے۔ :عیلک سلیک ہوئی اور آہوجہ صاحب نے پوچھا
تو حاضری دے آئے؟
وہ چھوڑو یار، یہ بتاؤ کچھ چائے وائے بھی پی یا یونہی بیٹھے ہو؟ میرا خیال ہے پہلے کھانا ہو جائے۔ چائے کا دور بعد میں چلائیں گے۔ میں ابھی بیگم سے پوچھتا ہوں کیا انتظام ہے۔
ہم منتظر تھے کہ شاید آتے ہوئے داتا کا لنگر ہمارے لیے بھی لے آؤ۔ نہیں لائے کیا؟ سمیع آہوجہ صاحب نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔
یار، تم بھی نا۔ بس کچھ بھی کہتے ہو۔ دیکھو، حامد بھی آیا بیٹھا ہے۔ بس ایک منٹ رکو، میں ابھی کھانے کو کچھ لاتا ہوں۔ یہ کہتے ہوئے سعادت سعید صاحب کچن کی طرف بڑھ گئے۔
*** ***
ارے یار، یہ لمبو کا بچہ کہاں رہ گیا؟ کل اس کی فلائٹ سے آسٹریا کے لیے اور وہ ہے کہ ادھر ٹی ہاؤس میں ملنے کا کہہ کر اب تک غائب ہے۔
علی اصغر عباس پاک ٹی ہاؤس کے باہر ریلنگ کے پاس کھڑا بڑبڑا رہا تھا کیونکہ ٹی ہاؤس بند ہو چکا تھا اور ڈاکٹر انور جاوید کا کہیں پتہ نہ تھا۔ اس سے الوداعی ملاقات کا یہی ایک موقع تھا۔
یار، وہ جو کہتے ہیں نا کہ لمبے کی عقل گھٹنوں میں ہوتی ہے، کچھ ایسا غلط بھی نہیں۔ اس نے میرے قد کا جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا۔
دیکھو، میرے قد پر مت جاؤ۔ ڈاکٹر بہرحال مجھ سے لمبا ہے۔ میں نے معصومیت سے کہا تھا اور علی اصغر عباس ہنس دیا تھا۔
ہاں، واقعی وہ ہم سب سے قد آور ہے۔ لیکن خبیث مر کہاں گیا؟ آ جانے دو اسے، خوب خبر لوں گا۔ اس نے شاید اپنے دل کی تسلی کے لیے کہا تھا۔
اتنے میں سیاہ رنگ کی شور مچاتی موٹر سائیکل جانے کس سمت سے نکل کر ریلنگ کے پاس آ رکی تھی اور ڈاکٹر جاوید انور اپنے بال بٹھاتا ہوا ہماری طرف بڑھا تھا۔
اوئے، آ گیا تو ، لمبو۔ یار حد ہوتی ہے وعدہ خلافی کی بھی۔ کب سے کھڑے ہیں یہاں۔ مجھے تو لگا کہ تو ملے بغیر ہی چلا جائے کا آسٹریا۔ اصغر نے اپنا گلہ پیش کر دیا تھا۔
بس یار، کل جانا ہے اور بہت سے کام نمٹانا تھے جلدی جلدی۔ ڈاکٹر نے ہاتھ ملاتے ہوئے پہلا جملہ کہا تھا۔
پر گیا کہاں تھا تو اس وقت؟ کام تو دن میں ہی ہوسکتے ہیں۔ اصغر نے کہا تھا
کہا نا، بہت سے کام تھے۔ کئی جگہ جانا پڑا۔ جاوید نے مختصر جواب دیا تھا۔
یار، ڈاکٹر بتا کیوں نہیں دیتے کہ تم داتا صاحب گئے تھے؟ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا تو جاوید یک دم بوکھلا گیا۔
تجھے کیسے پتہ ہے؟ تو کیا کر رہا تھا وہاں؟ کیوں ایسے ہی۔ جاوید کی جیسے چوری پکڑی گئی تھی۔
میں تو وہاں نہیں گیا مگر یونہی تکا لگایا تھا کو تیر کی طرح لگ گیا۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔
ہاں۔ گیا تھا مگر وہ ثقافتی بات ہے۔ میں دینی طور پر نہیں گیا تھا۔ میں کوئی قدامت پسند نہیں ہوں۔ جاوید اب صفائی دینے لگا تھا
مجھے کیا فرق پڑتا ہے، یار۔ تو ثقافتی طور ہر جائے یا دینی طور پر ۔ تیری مرضی اور خوشی۔ منیر نیازی نے اپنی ایک کتاب کا انتساب نہیں لکھا کیا ’علی ہجویری کے نام‘؟ منیر نیازی قدامت پسند ہے کیا؟ میں نے کہا تھا۔
چلو، چھوڑو۔ اب چلو انارکلی۔ مل کر الوداعی چائے پی جائے۔ اصغر نے قدم اٹھاتے ہوئے کہا تھا۔
*** ***
لو، یہ باب پڑھو ’ملامتی صوفیا پر ۔ میرا اپنے صاحب سے ماہانہ ڈانٹ کھانے کا وقت ہو گیا۔ بس ابھی آیا۔ ۔
خالد احمد صاحب نے کتاب کھول کر مجھے تھماتے ہوئے کہا تھا اور اپنے کمرے سے باہر نکل گئے۔
اب داتا گنج بخش علی ہجویری کی تصنیف کشف المحجوب کا اردو ترجمہ میرے ہاتھوں میں تھا۔ مترجم کا نام تھا: مولانا فضل الدین گوہر۔ مجھے پہچاننے میں دیر نہ لگی۔ یہ والد صاحب یزدانی جالندھری کے دیرینہ شاعر دوست ایف۔ ڈی۔ گوہر صاحب ہیں۔ میں نے انہیں کتنی ہی بار ماہنامہ ’محفل‘ کے دفتر میں دیکھا تھا گپ لگاتے اور شاعری سنتے سناتے ہوئے طفیل ہوشیار پوری صاحب، والد صاحب اور شرقی بن شائق صاحب کے ساتھ۔ گوہر صاحب واپڈا میں ملازمت کرتے تھے اور دفتر سے چھٹی ہونے پر سیدھا رسالہ ’محفل‘ کا رخ کرتے تھے جہاں شام ڈھلے تک شعری محفل بپا رہتی۔ گوہر صاحب کلین شیو تھے اور دین یا تصوف کے بارے میں ان سے کبھی کوئی بات نہ سنی تھی۔ پھر ایک روز والد صاحب نے برسبیل تذکرہ فرمایا کہ گوہر صاحب کشف المحجوب کا اردو ترجمہ کر رہے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں پہلے سے موجود تراجم معیاری نہیں۔ میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ خالد احمد لوٹ آئے۔
ہاں، تو کیسا لگا؟ کیا کہتے ہو؟ آتے ہی مجھ سے گویا ہوئے۔
میں تو ابھی مصنف کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ ویسے آپ کو کیا ضرورت آن پڑی ملامتی صوفیا کو جاننے کی؟ میں نے ان سے سوال کر لیا تھا۔
یار، ایوب خاور کے آنے والے شعری مجموعہ کا دیباچہ لکھنا ہے اور مجھے محسوس ہوتا ہے وہ پورا ملامتی صوفی ہے۔ بس، حوالے کے لیے دیکھ رہا تھا یہ کتاب۔ خالد صاحب بولے تھے۔
تم کیا سمجھے؟ انہوں نے مجھ سے استفسار کیا۔
کچھ خاص سمجھ نہیں آئی۔میں نے اپنی کم فہمی کا اعتراف کرنے میں دیر نہ کی اور کتاب خالد صاحب کو لوٹا دی۔
*** ***
میرا احساس اور مشاہدہ تو یہی ہے کہ صوفی شعرا ہمارے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے یعنی ترقی پسند بلکہ لادینی دوستوں کو بھی ہمیشہ پسند رہے ہیں۔ وہ بابا فرید ہوں یا شاہ حسین، شاہ لطیف بھٹائی ہوں یا رحمان بابا یا پھر بلھے شاہ سبھی کا عارفانہ کلام ترقی پسند دوستوں کو مرغوب رہا۔ شاید اس لیے کہ ان کی شاعری میں انسانوں کے درمیان بھید بھاؤ روا رکھنے والی طرز فکر و عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ مساوات اور باہم محبت اور بھائی چارہ کا سبق دیا گیا ہے۔
علامہ اقبال کا اپنی نظم میں انھیں سید ہجویر، مخدوم امم کہنا بھی کچھ سمجھ میں آتا ہے مگر لاہور میں رہتے ہوئے میں نے اپنے بعض ترقی پسند خیالات کے محترم بزرگوں اور ہم عصروں کو حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری سے خاص انسیت رکھنے والا پایا۔ میں اس کی وجہ نہیں جانتا لیکن سوچتا ہوں ضرور کوئی خاص بات ہوگی اس ربط خاطر میں۔ میں تو بس چند چشم دید واقعات یا مشاہدات رقم کرنا چاہتا تھا۔ کسی بھی تبصرے کے بغیر۔ یہ سوچ کر کہ شاید آپ اس ربط کی توضیح کرسکیں۔
بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے میرے ان احباب کا داتا صاحب علی ہجویری صاحب سے تعلق خاطر کا پس پردہ کہیں یہ احساس تو کارفرما نہیں کہ داتا صاحب ایک ترقی پسند صوفی تھے؟

