سول سپریمیسی کے لیے شفاف انتخابات کے سوا کوئی راستہ نہیں : عاصم اللہ بخش

سرخیاں :
خدشہ ہے کہ سانحات کا سلسلہ ابھی تھما نہیں
ابن انشاء کی شاعری کا حزن دل کے بہت قریب ہے، عالمی ادب میں ٹالسٹائی نے متاثر کیا
ہم حادثہ سے کچھ سیکھنے کے بجائے سینہ کوبی کرتے ہیں، پھر اگلا ”حادثہ“ کر ڈالتے ہیں
معروف کالم نگار، سماجی مبصر اور معالج، ڈاکٹر عاصم اللہ بخش سے گپ شپ
انٹرویو نگار: اقبال خورشید
یوں تو ان کا اصل شعبہ طب ہے، لیکن قلم ان کا نشتر بن جائے، تو کتنے ہی گنجلک سیاسی و سماجی مسائل کی گتھیاں سلجھا دیتا ہے۔ اور اسی نشتر سے کئی بار وہ پڑھنے والے کو ایسا گدگداتے ہیں کہ کب گمبھیرتا کی چٹان میں مسکراہٹ کی دراڑ نمودار ہوئی، خبر ہی نہیں ہوتی۔
ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کا شمار ہر دل عزیز شخصیات میں ہوتا ہے۔ گو اپنے ہم عصروں سے کم لکھا، مگر الفاظ میں ایسی تاثیر رکھ دی کہ خیالات نے ہزاروں تک رسائی پائی۔ فیس بک پر بارہا یہ دیکھا گیا ہے کہ کسی مشاق ذہن کا تراشا ہوا فقرہ ہی کیوں نہ ہو، اس کے نیچے ایک کمنٹ پر لائکس اور ری ایکشنز اس پوسٹ سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اور اکثر ایسا کمنٹ ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کا ہی ہوتا ہے۔ اختصار، سلیقہ اظہار اور واضح نکتہ نظر کی وجہ سے ان کی تحریر میں ایسی روانی پیدا کی ہے کہ ماننے یا رد کرنے سے پہلے ہی ان کی رائے دماغ یا دل تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔
ان کی دوا میں بھی قدرت نے شفا رکھی ہے۔ بہ طور ڈاکٹر خاصا مصروف ہیں، مگر احباب کے لیے وقت نکال ہی لیتے ہیں۔ ہمارے لیے بھی کچھ وقت نکالا، اور مختصر ہی سہی، ہمارے سوالات کے جواب عنایت کیے، لیجیے، پیش خدمت ہیں۔
اقبال: ہم ستر سال سے سن رہے ہیں کہ پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے، آپ کو ریاست کا مستقبل کیا دکھائی دیتا ہے؟
ڈاکٹر عاصم: صاحبان بست و کشاد دانش مندی سے کام نہ لیں تو ملکی حالات میں ”نزاکت“ آ کر رہتی ہے۔ ہمارے ہاں بھی کم و بیش یہی سلسلہ چل رہا ہے۔ ہم حادثہ سے کچھ سیکھنے کے بجائے بس سینہ کوبی کرتے ہیں، پھر ایک نئے عزم سے اگلا ”حادثہ“ کر ڈالتے ہیں۔ مثلاً، آج آدھا ملک گنوانے کے بعد ہم کہتے ہیں کہ بس ایک اجلاس ہی تو بلانا تھا قومی اسمبلی کا، اس میں کیا مسئلہ تھا؟ ہائے ہائے فیصلہ سازوں کی کوتاہ بینی دیکھیے، ایک اجلاس کی خاطر ملک توڑ دیا۔ مجھے خدشہ ہے کہ سانحات کا سلسلہ ابھی تھما نہیں۔ آج سے ایک دہائی بعد کہیں بیٹھا کوئی یہ نہ کہہ رہا ہو، ایک الیکشن ہی تو کروانے تھے، وہ بھی نہ کروائے گئے، اور ملک کے حالات اس نہج تک آ پہنچے کہ خانی جنگی کی تلوار سر پہ لٹکنے لگی۔
اس سے آگے کچھ کہنے سے دل ڈرتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ذاتی بقا کے بجائے ملکی بقا کا سوچیں۔ حادثوں، المیوں اور طوائف الملوکی کا دور پیچھے چھوڑ کر آگے کی جانب بڑھیں۔
بس ایک کام کرنا ہے، الیکشن پراسیس کو مضبوط، فعال اور قابل بھروسا رکھیں۔ وہ عوام جو کسی کو والہانہ انداز میں کرسی پر بٹھا سکتے ہیں، وہ اسے وہاں سے اسے کھینچ کر اتار بھی سکتے ہیں۔ جمہور پر بھروسا رکھیں، وہ نہ بھولتے ہیں نہ معاف کرتے ہیں۔
اقبال: مستقبل میں کسے مسند اقتدار پر دیکھ رہے ہیں؟ عمران خان، بلاول یا مریم؟
ڈاکٹر عاصم: میری رائے میں ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ الیکشن سے متعلق سارا پراسیس اس قدر قابل شفاف ہو کہ سب اسے تسلیم کریں، خواہ کوئی بھی فاتح ہو۔ یہ بنیادی شرط ہے۔ یہاں سے بات آگے بڑھے گی۔ اگر سیاست میں اقدار کی گنجائش پیدا کرنا ہے اور سیاسی عمل کو با مقصد بنانا ہے، سول سپریمیسی قائم کرنا ہے، ملک کو دائروں کے بجائے سیدھی سمت لے کر چلنا ہے تو شفاف انتخابات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ یہ نہیں، تو پھر سب میوزیکل چیئرز کا کھیل ہے۔ جو چاہے آئے اور جو چاہے جائے۔ نہ آنے اور جانے والوں کے پاؤں کا چکر ختم ہو گا، اور نہ ہی اس ملک اور اس کے عوام کی قسمت کا چکر۔
اقبال: زندگی گزارنے کا وہ اصول، وہ ”مانترا“ جو ہمیشہ پیش نظر رہا؟
ڈاکٹر عاصم: : کل کا، بھلا کل کی خیر۔ جو بہتری آپ کسی کے لیے کر سکتے ہیں اس میں کسی دیگر خیال کو حائل نہ ہونے دیں۔ افراد کے درمیان خیر خواہی کا تعلق دیگر ہر تفریق سے بالاتر ہے۔
اقبال: آپ کی تحریروں کا ایک زمانہ دیوانہ، کیا کبھی انھیں کتابی شکل دینے کا خیال آیا؟
ڈاکٹر عاصم: میرے نزدیک تحریر محض الفاظ کا نام نہیں۔ اس میں جوہر اور خیال بنیادی عناصر ہوتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب کتاب لکھوں تو مندرجہ بالا دونوں عناصر اس کمیت و کیفیت میں ضرور موجود ہوں کہ اسے پڑھتے وقت قاری کو وقت کے ضیاع کا احساس دامن گیر نہ ہو۔
اقبال: طب اور سوشل میڈیا پر تبصرے، دونوں میں توازن کیسے قائم رہتا ہے؟
ڈاکٹر عاصم: دراصل زمانہ طالب علمی سے ”پڑھائی لکھائی“ کی مجبوری کے ساتھ مطالعہ کا شوق بھی تھا۔ اسکول و کالج میگزین سے بھی مختلف موضوعات پر مضامین لکھنے کے حوالہ سے وابستگی رہی، اس لیے کچھ ادبی حس بھی کہیں نا کہیں پنپتی رہی۔ چناں چہ کبھی لگا نہیں کہ یہ دو مختلف یا کسی طور متضاد کام ہیں۔
اقبال: مطالعاتی سفر کے بارے میں کچھ بتائیں، پسندیدہ شاعر کون ہے؟ ملکی اور عالمی ادب میں کون سا فکشن نگار پسند آیا؟
ڈاکٹر عاصم: میرے پسندیدہ شاعر ابن انشاء ہیں۔ ابن انشاء کی شاعری میں پایا جانے والا حزن مجھے اپنے دل کے بہت قریب محسوس ہوتا ہے۔ یہ روایتی شاعری سے بہت مختلف ہے۔ نوحہ یا شکوہ نہیں ہے۔ نہ ذاتی محرومی یا ناکامی کا مرثیہ ہے۔ یہ تو بس ایک کسک ہے، جس قدر طبیعت گداز ہو اس کی آنچ محسوس کرتے جائیے۔
ملکی ادب میں محترم انتظار حسین بڑا نام ہیں۔ ان کی تحریر قاری کو ساتھ ساتھ لیے اس ماحول میں بھی با آسانی چلی جاتی ہے جو ماحول اور دنیا بسا اوقات قاری کے لیے نا مانوس ہو سکتے ہیں۔ بقول شخصے، ان چارٹرڈ فرنٹیئرز۔ عالمی ادب میں مجھے لیو ٹالسٹائی کی انسانی نفسیات اور جذبات پر گرفت نے بہت متاثر کی۔
اقبال: وہ کون سی کتاب ہے، جسے بار بار پڑھنے کی آرزو ہے؟
ڈاکٹر عاصم: ادراک زوال امت، از راشد شاذ صاحب۔ دو حصوں پر مشتمل اس کتاب کا مطالعہ بطور مسلمان ہم پر یہ واضح کرتا ہے کہ ہماری ترقی معکوس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے فروغ کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا اور دین میں اصول کو پس پشت ڈال دیا۔ یہ قاری کے لیے بہت حیران کن اور نہایت تکلیف دہ آگاہی ہوتی ہے۔
اقبال: آپ کے قلم نے بہتوں کو متاثر کیا، خود کس کالم نگار، کس ادیب سے متاثر ہیں؟
ڈاکٹر عاصم: کالم نگار، ابن انشاء، اظہار الحق، خورشید ندیم۔ ادیب، انتظار حسین، احمد ندیم قاسمی اور ممتاز مفتی۔
اقبال: اگر آپ کے پاس اقتدار ہو، اختیار تو پاکستان کے کس مسئلے کی جانب ترجیحی بنیادوں پر توجہ دیں گے؟
ڈاکٹر عاصم: تربیت، ڈسپلن اور خود انحصاری۔ محنت، ٹھہراؤ اور تسلسل کے بغیر کامیابی کی منزل کبھی حاصل نہیں ہو سکتی اور یہ اوصاف تربیت و ڈسپلن کے بغیر پیدا ہونا ممکن نہیں۔
اقبال: کیا ایسی صبح کا تصور کر سکتے ہیں، جب بیدار ہوں، اور خبر ملے کہ کتابیں ناپید ہو چکی ہیں؟
ڈاکٹر عاصم: کتاب تو روز قیامت بھی موجود ہو گی۔ اس لیے یہی نہیں، اس کے بعد کی صدی بھی کتاب ہی کی صدی ہو گی اور اس کے بعد کی بھی!
اقبال: کچھ سوشل میڈیا مفکر یا اکاؤنٹس، جنھیں نوجوانوں کو فالو کرنے کا مشورہ دیں گے؟
ڈاکٹر عاصم: ریاض علی خٹک صاحب، ثناء اللہ خان احسن صاحب، نیر تاباں صاحبہ، عامر ہاشم خاکوانی صاحب، خطیب احمد صاحب، وسی بابا، فرنود عالم صاحب۔
اقبال: عام خیال ہے کہ آج ادیب، کالم نگار بے معنی ہو گئے ہیں، اب وہ رائے عامہ کے نمایندے نہیں، کیا اس خیال سے متفق ہیں؟
ڈاکٹر عاصم: مجھے لگتا ہے تخیل اور ندرت ادیب کو متعلق یا غیر متعلق بناتے ہیں۔ یہ دونوں مکمل توجہ اور اخلاص کے متقاضی ہوتے ہیں۔ شاید اس میں کچھ کمی آتی جا رہی ہے۔ لیکن یہ اتار چڑھاؤ کوئی انوکھی بات نہیں۔ یہ ایک سائیکلیکل رجحان ہے، جو کبھی رسد اور کبھی طلب و رسد سے خود کو بہتر کرتا رہتا ہے۔
