پارو پگلی مٹی میں کیا ڈھونڈتی ہے؟



ایک دن پارو مجھے یونیورسٹی کی کینٹین میں مل گئی۔ بس اچانک ہی۔ شاید سات آٹھ سال بعد ۔ اب ہم دونوں بچپن کی حدود پار کر چکے تھے۔ میری بارہ تیرہ سال کی عمر تک تو باقاعدہ ان کی امی برقعہ میں لپٹی اپنے تین بچوں کے ساتھ ہمارے گھر آتی رہی تھیں مگر پھر وقت اور بڑھتی مصروفیات کے ساتھ ملنا جلنا منقطع سا ہو گیا۔ لیکن بھئی سب کچھ بھلایا جاسکتا ہے پر پارو کی موٹی کجریلی آنکھیں بھلانا کوئی مذاق نہ تھا۔ پارو والدین کی سب سے بڑی اولاد تھی اور اس سے چھوٹے دو لڑکے۔

مجھے دور سے دیکھ کے پارو میرے قریب آئی۔ ”مون ہو نا؟“ ہم نے اثبات میں سر ہلایا۔ پارو کے اس سوال پہ کو دیکھ کر ہمیں امی کے پیار سے رکھے نام پہ شرم سی آ گئی۔ یہ مائیں بھی عجب کمال کرتی ہیں معمولی صورت والی اولاد کو چاند کا ٹکڑا سمجھتی ہی نہیں بلکہ پکارنے بھی لگتی ہیں۔ پاگل کردینے والا حسن تو پارو کا تھا۔

اسکے لمبی سیاہ بالوں کی چوٹی اور خوبصورت نے اگر ہمارا دل جکڑ لیا تو لڑکوں کا کیا حال ہوتا ہو گا؟ اس نے بتایا وہ اردو میں ایم اے کر رہی ہے۔ ہم نے حسرت سے کہ دلچسپی تو ہمیں بھی ادب سے تھی بلکہ ہے۔ مگر پڑھ سائنس رہے ہیں۔ گھر والوں کی زبردستی سے۔ ویسے اگر ہماری دوستیں اتنی اچھی نہ ہوتیں تو ہم کب کے سائنس کے شعبہ سے بھاگ کھڑے ہوتے۔ وہ دیکھ رہی ہو نا شیطانی ٹولہ، ہمارا گروپ۔ بس ان کے ساتھ ہنستے کھیلتے وقت گزر جاتا ہے۔

اور ان ہی کے ساتھ میں کچھ پڑھ پڑھا کرپاس بھی ہو ہی جاتے ہیں۔ ہم نے اشارے سے چار لڑکیوں کے بے فکرے اور قہقہے بکھرتے گروپ کی جانب اشارہ کیا۔ میرے برعکس وہ بالکل اکیلی تھی۔ اچانک اس کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔ اور دلکش مسکراہٹ کافور۔ اس نے پوچھا، تمھاری ایک بڑی بہن بھی تو تھیں کیا ان کی شادی ہو گئی؟ اتنے سالوں کے وقفہ کے بعد اتفاقیہ ملاقات پہ پہلا سوال میری چوبیس سالہ بہن کی شادی کے متعلق۔ کچھ سمجھ نہیں آیا۔

”نہیں ابھی دو سال پہلے ہی تو ایم ایس سی کیا ہے شادی بھی ہو جائے گی۔“ اس نے کہا ”لیکن وہ تو اب بہت بڑی ہو گئی ہیں۔ ان کی شادی تو ہو جانی چاہیے“ ۔ اس نے چبھتی آنکھوں سے میری جانب مسلسل ایسے دیکھا کہ جیسے وہ مجھے نہیں میرے آرپار کہیں دور دیکھ رہی ہو۔ اپنا جملہ اس نے عدالت کے جج کے دو ٹوک فیصلہ کے انداز میں ادا کیا۔ اور جو اباً ہمارا ہونق اور حیران چہرہ دیکھے بغیر آگے بڑھ گئی۔ میں نے غور کیا کہ یہ سب کہتے ہوئے اس کی دلکشی کہیں غائب ہو گئی۔

اس کی آنکھوں میں اجنبیت اور کچھ وحشی پن عود آیا تھا۔ اس کی شخصیت کی پراسرایت نے لمحہ بھر کے لیے مجھے چونکا دیا۔ شادی پارو کے لیے اتنی اہم ہے کہ وہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرے۔ پر اس وقت میں ایک نمبر کی کھلنڈری، لا ابالی سی لڑکی تھی۔ اگلے لمحہ میں سب بھول بھال کے میں اپنے گروپ کے ساتھ سموسے اور چائے کے مزے لے رہی تھی۔ پارو ایک بار پھر یادوں کی دھول بن کر ذہن سے اڑ چکی تھی۔

پھر وقت نے ایک لمبی جست لی۔ اب میں امریکہ میں مقیم شادی شدہ اور تین بچوں کی ماں تھی۔ ایک دفعہ جب پاکستان جانا ہوا تو امی کے ساتھ کسی رشتے دار کے گھر کونڈوں کی دعوت میں گئی۔ دیکھا پارو کی امی بھی بیٹھی ہوئی ہیں۔ امی کو دیکھ کر پارو کی والدہ کو شدت جذبات نے گویا دبوچ ہی لیا۔ آنسو بہہ نکلے۔ برسوں کی جدائی کا گلہ اور اپنے حالات کا رونا۔ اب وہ ادھیڑ عمر کی نا آسودہ عورت تھیں۔ ان کے دلکش سراپے کی نمکینی کو وقت اور حالات کے سمندر نے نگل لیا تھا۔

انہوں نے بتایا ان کے دو بیٹے تو ٹھیک ٹھاک ہی ہیں۔ شادی شدہ زندگی گزار رہے ہیں۔ شادی تو پارو کی بھی ہو گئی۔ دو بچے ہیں لیکن ”پارو کا دماغ اب ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے دونوں بچے ہم پال رہے ہیں اس کو ہوش ہی کہاں؟ شوہر بھی بھلا اسے سنبھالے یا نوکری کرے؟ سچ پوچھیے باجی، بات تو یہ ہے کہ اس کو پاگل کرنے والے کوئی اور نہیں ہم خود ہیں۔ ہم دونوں میاں بیوی“ ۔ امی حیرانی اور توجہ سے ان کی باتیں سن رہی تھیں۔ ان کی کہانی جو انہوں نے امی کو سنائی میں اپنے الفاظ میں گوش گزار کر رہی ہوں۔

پارو دو بیٹوں کے بعد وہ چودھویں کے چاند کی طرح ہمارے گھر آنگن میں اتری۔ بچپن سے ہر ایک کی نظر اس کے حسن پہ تھی۔ ہر ایک چاہتا کہ یہ خوبصورت پھول اس کے گھر سجے۔ کیا ماموں، کیا چچا اور تایا۔ وہ تو شکر ہے کہ میری کوئی بہن نہ تھی بس اکلوتے بڑے بھائی تھے جنہوں نے ماں باپ کے مرنے کے بعد مجھے پیار سے رکھا۔ میری شادی کی اور میرے میاں کو اپنی کمپنی میں نوکری پہ لگوایا۔ ان کے بڑے احسانات تھے ہم پہ۔ لیکن انہوں نے اس کے بدلے میں مجھ سے کچھ نہ مانگا۔

مانگا تو بس اپنے منجھلے بیٹے رضا کے لیے پارو کا ہاتھ۔ اور وہ بھی بیٹے کا رجحان دیکھتے ہوئے۔ ان کا بیٹا رضا انجینئر بن رہا تھا۔ مگر اسے ادبی کتا ہیں پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ پارو خاموش طبع تھی۔ بولتی کم تھی مگر رضا کو دیکھ کر کھل سی اٹھتی۔ دونوں کے درمیان کتابوں خاص کر شاعری کی کتابوں کا تبادلہ ہوتا۔ اکثر رضا اس کے لیے کتابیں ہی تحفتاً لاتا۔ پارو کبھی منہ سے تو کچھ نہ بولتی تھی مگر اس کا عضو عضو بولتا تھا کہ وہ رضا کو کتنا چاہتی ہے۔

جب سولہ سال کی عمر میں ماموں مامی عید کی مٹھائی اور جوڑا لائے، تو میرے میاں کا شک یقین میں بدل کیا۔ سالے کے احسان تلے تو دبے تھے مکر سالا بہنوئی کے گھر کا کتا ہی تو ٹھہرا۔ مگر بیٹی کی چہرے کی لجاہٹ، ہونٹوں پہ شرمیلی مسکراہٹ اور رشتہ کی معقولیت کی وجہ سے منع کرنے کا کوئی جواز نہ پا سکے۔ دونوں گھروں کے درمیان سادہ سی دعوت میں منگنی کی انگوٹھی پہنانے کی رسم ہو گئی۔ امام ضامن پہنا دیا گیا۔ رضا میاں اکیس برس کے ہی تو تھے ابھی تعلیم مکمل ہونا تھی اور پارو کو بھی تو پڑھنا تھا۔ لہٰذا بھیا نے شادی میں تین سال کا وقفہ مانگا تھا۔

اس منگنی نے سارے رشتہ داروں میں ہلچل مچا دی۔ ددھیال کی چہیتی پارو بھلا ننھیال کیوں جائے۔ اور پھر تائی نے تو محرم سے پہلے ہی ماتم برپا کر دیا۔ ”ارے ہم اپنے کمال کے لیے پارو کا ہاتھ مانگنے کے لیے آرہے تھے۔ اس نے کہا تھا کہ شادی کروں گا تو پارو سے۔ ارے بھیا ہمارا تو اکلوتا بیٹا ہے۔ یہ تم نے اچھا نہ کیا۔ ہم حیدرآباد میں ہی تو تھے۔ کوئی دنیا سے تو گزر نہیں گئے تھے۔ جو مشورہ نہ لیا۔ جناب امیر کی قسم میں نے تمھارا خیال بھابی نہیں ماں کی طرح رکھا تھا۔

اماں تو نہ رہی تھیں ہم نے ہی اپنے ہاتھوں سے تمھاری شادی کی۔ تم نے تو ہمارا مان ہی توڑ دیا۔ آج تمھارے بھیا ہوتے تو کیا تم پھر بھی یہی سلوک کرتے؟“ اس بین پہ پارو کے ابا تو گڑگڑا کر معافی مانگنے لگے وہ پچھتا رہے تھے کہ مرحوم بھائی کا بیٹا چھوڑ کے بیوی کے بھائی کے گھر بیٹی بھیجنے کی حماقت کیوں سرزد ہو رہی ہے۔ کتنا احسان فراموش نکلا میں۔

اس منگنی نے ہمارے گھر کا سکون تباہ کر دیا۔ ہر روز ایک جھگڑا رہتا۔ بھیا گھر آتے تو شوہر کی بدمزاجی بڑھ جاتی اور موڈ کچھ اور بگڑ جاتا۔ ظاہر ہے آئے دن کے جھگڑے فساد کا انجام منگنی کا ٹوٹنا ہی تو تھا۔ جو تین سال تک رہی مگر ایک دن منگنی کی انگوٹھیاں لوٹا دی گئیں۔ دو دل ٹوٹ گئے مگر پارو کے ددھیال میں شادیانے بج اٹھے۔ مرحوم بھائی کے اکلوتے بیٹے کمال نے دوبئی میں نوکری شروع کرنے سے پہلے اپنے دل پہ راج کرتی ملکہ پارو کی حسین انگلی میں انگوٹھی پہنا دی۔

وہ ابھی انیس سال کی بھی نہیں ہوئی تھی۔ تین سال رضا کے نام کی مالا جپنے کے بعد اب کمال کی دلہن بننے کی تیاری کیسے دل پہ پتھر رکھ کے کر رہی ہو گی۔ وہ کیا چاہتی ہے بھلا کس نے پوچھنے کی زحمت کی۔ ابا اور اماں تو بس بیٹی کو گیند بنا کے ادھر ادھر پھینک رہے تھے۔ اور وہ گیندے کا پھول بن گئی تھی۔ اپنے جذبات کی مرقد پہ سجنے کے لیے۔ شرم اور خاموشی نے زبان پہ تالے ڈال دیے تو اس نے دل کے کمرہ میں چھپی رضا کی یاد کو بھی مقفل کر دیا۔

عورت دل ایک بار ہی دیتی ہے چاہے وصال ہو یا نہیں۔ لیکن کمال میاں نے بھی دبئی سے پرفیوم اور مختلف تحائف بھیجنے اور اس کا دل جیتنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ رضا کا شوق شاعری کی کتابیں تھیں۔ مگر کمال نے تو ڈپلوما حاصل کرنے کے لیے ہی کبھی کتابیں اٹھائی ہوں گی ۔ لیکن جلد ہی دوبئی کا پیسہ منگیتر پہ لنڈھاتے دیکھ کر تائی کو تاؤ تو آنا ہی تھا۔ بیٹے کا ہر چھ ماہ پہ نوکری کے بعد چند دن چھٹی پہ پہلے اپنے چاچا چاچی کے گھر حاضری دینا۔

ماں سے ملنے سے پہلے تحائف چاچا چاچی اور اداس حسن میں لپٹی خاموش طبع منگیتر کو دینا اور پھر ماں کی طرف حیدرآباد کی راہ لینا کمال کی محنت کو راس نہ آیا ”اے بیٹے تمھاری بچی کچی چیزوں کے لیے ہم رہ گئے ہیں۔ ابھی تو شادی نہیں ہوئی تو پارو اور ان کے گھر والوں نے پورا حق جتانا شروع کر دیا۔ بعد میں اللہ معلوم کیا ہو گا۔“ ماں بیٹے کو جتاتی رہتیں۔ بیٹے کے گھر بسانے سے پہلے گھر کے ٹوٹنے کا سامان کرنے لگیں۔ آئے دن کی تلخیوں کے بعد اس رشتے میں بھی دراڑیں پڑنے لگیں۔

اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ایک بار کمال میاں عید کی چھٹیوں کے لیے پاکستان آئے تو سیدھے حیدرآباد ہی پہنچے۔ وہاں پہنچنے کے کچھ دن بعد کمال کا فون آیا۔ مرجھائے سے لہجہ میں تھوڑی سی بات کی۔ پہلے چاچا سے اور پھر مجھ سے۔ پارو سے تو پہلے بھی آنکھوں میں باتیں ہوتی تھیں۔ شرم حیا لحاظ پارو میں ہی نہیں کمال میں بھی کمال کا تھا۔ ویسے بھی فون پڑوس والے گھر پہ آتا تھا۔ کھل کے بات کیا ہوتی۔

وہاں سے تین ماہ پہلے فون پہ طے کیا تھا کہ پارو کا عید کا جوڑا دینے رمضان کی اٹھائیس کو آئیں گے۔ رمضان کی اٹھائیس تاریخ کو گھر میں طرح طرح کے پکوان کی تیاری ہو رہی تھی۔ دعوتی کھانے، دہی بڑے چھولے، پھلکیاں اور وہی سب کچھ کا اہتمام جو رمضان میں ہوتا ہے۔ لیکن اس دن افطار کا سائرن بج گیا اذانیں گونجنے لگیں مگر انتظار کی گھڑیاں نہ ختم ہوئیں۔ ادھر ان کے گھر سے فون اگر آتا بھی تو کہاں۔ ہمارے گھر فون نہ تھا۔ پارو کے ابا نے پڑوس سے فون کیا۔ اور منہ لٹکائے واپس آ گئے۔ انہوں نے بتایا بھابی نے آنے سے معذرت کرلی تھی اور رشتہ سے انکار بھی۔

پارو اس بات سے بے خبر تھی۔ فطرتا شرمیلی تھی۔ جب کافی دیر ہو گئی تو بس ایک سوال پوچھا ”امی کیا تائی اماں لوگ نہیں آئیں گے؟“ میں نے ایک لمحہ اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اس کی خوبصورت آنکھوں میں سوالات کا خاموش سیلاب امنڈ رہا تھا۔ میرا کلیجہ کٹ گیا۔ بس یہی کہا ”نہیں بیٹا۔ وہ لوگ اب نہیں آئیں گے۔ تم جاؤ کھانا کھا لو۔“ پارو نے اس دن کے بعد سے کوئی اور سوال نہ پوچھا۔ بعد میں پتا تو چل ہی گیا تھا کہ منگنی ٹوٹ گئی۔ اس کو چپ لگ گئی۔ مگر کبھی اس موضوع پہ بات نہ کی۔

پارو نے بی اے کے بعد کراچی یونیورسٹی میں ایم اے میں داخلہ لے لیا۔ کورس کی کتابوں میں گم چپ چاپ اس کے وجود میں لپٹا ایک گہرا سناٹا تھا جو مجھے چپکے چپکے کھا رہا تھا۔ ایک شدید گہرا احساس کہ ہم دونوں کی لڑائیوں میں اس کی دو منگنیاں ٹوٹیں۔ اب ہمیں کسی اور رشتے کا انتظار تھا۔ جو ددھیال کا ہو نہ ننھیال کا ۔ اپنی غلطیوں کا سوچ کے جو ندامت ہوتی اس کے نتیجہ میں الزام تراشی اور مزید لڑائیاں جاری رہتیں۔ اب باوجود پارو کی خوبصورتی اور جوانی کے اس کے رشتے آنے بند ہو گئے۔

ایک سناٹا سا طاری تھا۔ جیسے کوئی بندش ہے اس کے رشتے میں۔ جادو کر دیا ہو کسی نے کہ جو دیکھنے آتے وہ چپ سادھ لیتے۔ پارو کی خاموشی اور اس کا تاثر سے عاری بے رونق چہرہ شاید انہیں نہ بھاتا ہو۔ پارو بھی کچھ عجیب ہو گئی تھی۔ کبھی بے جا غصہ کرتی تو کبھی مکمل چپ اختیار کر لیتی۔ اسی ذہنی حالت میں اس کا ایم اے اردو تو ہو گیا لیکن رشتہ نہ ہوا۔

پھر جب ذکی میاں کا رشتہ آیا تو رشتے کرانے والی نے کہا تھا کہ لڑکے کا کوئی آگے پیچھے نہیں۔ ماں باپ مر چکے ہیں۔ جلد شادی کرنا چاہتا ہے۔ سرکاری نوکری ہے۔ بس رشتہ پکا ہی سمجھو۔ ایسا ہی ہوا۔ بس خاموشی سے پارو اپنے سے بارہ سال بڑے ذکی میاں کو بیاہ دی گئیں۔ برابر کا مکان خالی تھا۔ دونوں میاں بیوی وہیں رہتے اور اس کی خبر گیری کرتے رہتے۔ ہم نے اس کی ذہنی حالت کا ذکی میاں کو نہیں بتایا تھا۔ سوچا تھا شادی کے بعد مرجھائی سی پارو پھول کی طرح کھل اٹھے گی۔

لیکن اندازہ ہوا کہ ذہنی حالت تو بہتر ہونے کے بجائے بدتر ہو رہی ہے۔ کبھی بے تکان بولنا، غصہ اور چیخ و پکار تو کبھی مکمل سناٹا۔ گھر کے کام کاج بھی کبھی کیے تو کبھی نہیں۔ پھر ایک سال میں بچہ بھی ہو گیا لیکن نہ ڈاکٹر نے توجہ دی اور نہ ہی اس کی حالت پورے طور ذکی میاں سمجھے۔ ہم دونوں میاں بیوی خدا سے گڑ گڑا کے اس کی صحت کی دعائیں مانگتے اور منتیں مانتے رہے۔ لاکھ اس کی ذہنی حالت کو چھپایا لیکن لوگ سن گن لے ہی لیتے ہیں۔

کسی نے کہا اس پہ اثر ہو گیا ہے فلاں عامل کے پاس جاؤ۔ کسی نے کہا فلاں وظیفہ پڑھ لو۔ غرض جو کچھ بھی کوئی کہتا ہم پورا کرتے مگر ذہنی امراض کے ہسپتال جانے کی ہمت نہ پڑتی۔ ذہن قبول ہی نہیں کرتا۔ نہیں میری ایم اے پاس، ذہین پارو پاگل نہیں ہے وہ تو بس حساس بہت ہے۔ لیکن پھر جب دوسرا بچہ ہوا اور اسکی کیفیت بدتر ہونے لگی تو دل پہ پتھر رکھ کر پارو کو دماغی ہسپتال علاج کے لئے لے گئی۔ وہ نہ بچہ سنبھال پاتی تھی اور نہ ہی اپنی دوائیں بھی لے پاتی۔

کبھی ہنستی تو کبھی چیخ و پکار کرتی ہے۔ ذرا آنکھ بچے تو دروازہ کھول کے گھر کے باہر نکل جاتی اور مٹی میں محویت سے کچھ تلاش کرتی ہے۔ کبھی اپنی انگلیوں سے مٹی کو ہٹاتی تو کبھی کسی درخت سے ٹوٹی لکڑی سے زمین کو کریدتی۔ اکثر لوگ مذاقاً یہ بھی کہتے ہیں، ”پارو کو ڈھونڈنا ہو تو باہر جا کر دیکھو وہ مٹی میں کچھ ڈھونڈ رہی ہو گی۔ میں پوچھتی ہوں“ پارو میری جان مٹی میں کیا ڈھونڈتی رہتی ہو؟ ”تو وہ خالی خالی آنکھوں سے ایسے دیکھتی ہے جیسے پوچھ رہی ہو۔“ کیا آپ کو نہیں پتہ آپ نے ہی تو میرا خزانہ کہیں کھو دیا ہے بس اسی کو ڈھونڈ رہی ہوں۔ ”

Facebook Comments HS