آصف فرخی: اردو سندھی ادب کا بندھن


( 2 جون 2023 کو معروف افسانہ نویس اور مترجم جناب آصف فرخی کی یاد میں آرٹس کونسل کراچی کی لائبریری میں کانفرنس کے دوران مختصر گفتگو)

میں یہاں کوئی ”پدرم سلطان بود“ کہنے نہیں بلکہ آصف فرخی صاحب کی یاد میں حلقہ ارباب کے ساتھ لفظوں کی خاموشی میں ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں چونکہ ان کی وفات کے سال میں ان سے دو چار مرتبہ فون پر بات ہوئی اور کووڈ کے بعد ملاقات کا طے پایا تھا مگر وبا کم ہونے کے فوری بعد ان کی اچانک وفات پر بڑا دکھ ہوا اور وبا کی وجہ سے صرف ان کے چھوٹے بھائی سے فون پر تعزیت ہو سکی اور آج ہی کے دن دو سال پہلے فیس بک پر ان کی اچانک وفات پر لکھی ہوئی پوسٹ دوبارہ نظر آئی تو میں سیدھا یہاں کراچی آرٹس کونسل لائبریری چلا آیا جہان ان کی یاد میں ایک کانفرنس رکھی گئی ہے۔ تحلیل نفسی کے ماہر سگمنڈ فرائڈ نے کہا when a person is dead everyone comes to respect him as though he has accomplished a great task

لیکن فرائیڈ کے کچھ مریض ادیب، شاعر اور فنکار بھی تھے جو بڑے کام کے لوگ ہوتے ہیں۔ جن کا اپنی، فرد اور اپنے سماج کی نبض پر ہاتھ ہوتا ہے اور تحلیل نفسی کے اصل ماہر! وہ میرے ولد (شیخ ایاز) کی شاعری کے مترجم اور قریبی ادبی ساتھی تھے اور ان کی ملاقاتیں یہاں تشریف فرما ان کے سندھی ادیب اور شاعر دوست شاہ محمد پیرزادہ زیادہ بتا سکتے ہیں کہ میں ان برسوں میں ملک سے باہر تھا اور فرخی میرے بھی دوست تھے جو ان کے وفات کے بعد اور میرے پانچ سال امریکہ میں اسکالرشپ پر واپسی کے بعد سال 97ء میں دوست بنے، جب کراچی پریس کلب میں والد شیخ ایاز پر ایک بڑا تعزیتی ریفرنس ہوا اور پھر کچھ برسوں تک وقتاً فوقتاً ان سے فون پر ادب کے حوالے سے بات چیت ہوتی رہتی تھی۔ اس بیچ ان کا شیخ ایاز کے انتخاب کا انگریزی ترجمہ جو انہوں نے اپنے دوست شاہ محمد پیرزادہ کی ساتھ مل کر کیا اور آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے The storm’s call for prayers کے عنوان شایع کیا۔ یہاں میں کچھ یاد دلاتا چلوں کہ اس سے پہلے 1986ء میں لاہور کے مشہور ہفتہ وار انگریزی جریدے Viewpoint میں نے اپنے والد کو چھوٹا سا تحفہ دینے کی کوشش کی اور ایاز صاحب کی کچھ نثری نظموں کا انگریزی ترجمہ چھپوا دیا جو انہیں بہت پسند آیا اور انھوں نے اپنی اتم کتھا میں اس کا بخوبی ذکر کیا ہے۔ سال 2002ء میں شاہ عبداللطیف یونیورسٹی، خیرپور سندھ میں قائم کی ہوئی شیخ ایاز چئیر کی طرف سے شیخ ایاز قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا اور آصف فرخی کو مدعو کیا گیا اور انہیں شیخ ایاز ایوارڈ دیا گیا۔ سال 2007ء میں مجھے حکومت سندھ نے شعبہ ثقافت و سیاحت میں ڈیپوٹیشن پر بطور ڈی جی متعین کیا تو ان کو پھر ایک بار پھر شیخ ایاز ایوارڈ دیا گیا۔

کچھ سال بعد آصف فرخی فلسطینی شاعری پر ایک مجموعہ لائے جو خود ان کے والدین کی ہجرت کی ظاہر ہے ذہنی اور جسمانی تکالیف کا پیش خیمہ اور منعکس شعور تھا جو فلسطینیوں کے ساتھ پوری دنیا میں ہجرت کرنے والوں میں ایک مخصوص ذہن بن گیا ہے اور فرخی نے اپنے ایک خط میں حیدرآباد کے ایک ہوٹل میں قیام کی دوران اس وقت شہر میں اچانک کچھ لسانی فساد کی پھوٹ پڑنے کی وجہ سے محصوری میں شاید حیدرآباد کے معروف افسانہ نگار ڈاکٹر حسن منظر کو مخاطب ہو کر مستقبل کے فسادات کا اندیشہ اور اس کے نتائج کا غالباً تشویشناک موازنہ کیا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اردو ادب کا سندھی کے ساتھ ایک مضبوط تعلق bondage پیدا کرنے کی کوشش کی جو اس سے پہلے شیخ ایاز نے شروع کی، اور لکھا کہ ”دنیا کا ہر ادب امر بیل کی طرح ہے اگر اس کی جڑیں اپنے دھرتی اور لوگوں میں نہیں ہیں“ ان کے ساتھ معرف ترقی پسند شاعرہ اور دانشور فہمیدہ ریاض نے ان کے اردو تراجم کر کے اس تعلق کو اور بڑھایا اور فرخی بھی تخلیق کار کی جڑیں اپنی دھرتی اور لوگوں میں ہونے کے قائل ہو گئے اور سندھی زبان کے ادب کو اردو اور انگریزی میں ترجمہ کیا جہاں انہوں نے کافی عالمی ادب کو بھی ساتھ ساتھ لیا۔ آصف اسلم فرخی ایک اردو لکھاری کی حیثیت میں سندھ کے نوجوان ادبی حلقوں میں کافی زیادہ پہچانے جاتے ہیں۔

فرخی صاحب پر یہاں بالترتیب ان کے موضوعات پر تفصیل سے بیان کیا گیا اور یقیناً وہ نظریاتی طور پر اپنے diction میں ایک وجودی existentialist لگتے ہیں اور مظہریت، ترقی پسندی اور سماجی حقیقت کو انھوں نے اپنی تخلیقات میں existential choice بنایا۔

آصف فرخی سے بعد میں ہر سال کراچی لٹریچر فیسٹیول جن کے وہ امینہ سید (آکسفورڈ یونیورسٹی پریس) کے ساتھ بانی تھے ملاقات ہوتی رہی جو بعد میں پاکستان ادبی فیسٹیول کے نام میں تبدیل ہو گیا جبکہ ان سارے برسوں کے دوران ملک میں دہشت گردی کے حالات کی وجہ سے اتنے سارے لوگوں کا اکٹھے ہونا بہت دشوار تھا۔

کووڈ سے پہلے ان سے آخری بہت پرجوش ملاقات اسی آرٹس کونسل میں ایک پروگرام ”شیخ ایاز کا کلام بزبان بہترین صداکار ضیا محی الدین صاحب“ میں ہوئی جہاں انھوں نے اپنا اچھا خاصا مضمون ”شیخ ایاز بطور ایک مترجم“ مجھے دیکھ دیکھ کر پڑھا۔ شاید شیخ ایاز صاحب نے اپنے کلام کا خود بھی اردو میں ترجمہ کیا ہے علاوہ ان کے اردو زبان میں شاعری کے دو مجموعوں کی وجہ سے یا وہ مجھے کچھ ایسا لگا کی جیسے وہ مجھے کچھ نشان دہی کرا رہے تھے! بس کچھ اس وجہ سے زیادہ ان سے میں تفصیلی ملاقات کرنا چاہتا تھا جو پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ سندھی میں کہاوت ہے ”موت اور ملاقات پوچھ کر نہیں آتے اور جانے والے خود کو اور اپنے قریب لوگوں کو بہت یاد کرتے ہیں اور یاد بھی کرواتے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ آج کل پوری دنیا میں سنجیدہ ادب پڑھنے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے اور ہمارے یہاں تو بقول انیسویں صدی کے مشہور حاضر جواب انگریزی لکھاری آسکر وائلڈ nobody reads the literature and journalism is unreadable

آج کل ہمارے ملک میں تو صحافت سب سے زیادہ پڑھی جا رہی ہے اور ادب میں چند نام بشمول آصف فرخی۔

Facebook Comments HS