آواز گمشدہ اور خواجہ سرا
اکثر درد ناک کہانیاں خود جیتی جاگتی مثالیں ہیں۔ اپنی آپ بیتیاں اس زمین پر رقم کر کے چلی جاتی ہیں جیسا کہ ”میں گھر کا خرچ چلا رہی ہوں مگر مجھے گھر والوں نے گھر سے نکال دیا ہے۔ میں ساری رات دروازہ بجاتی رہی مگر بھائی نے دروازہ نہیں کھولا“ چلیں یہ زندہ مثالیں تو آپ کہہ لیں کہ جہالت میں ڈوبے ہوئے لوگوں کے رویوں کی ہیں جو وہ خواجہ سراؤں کے ساتھ غلط کرتے ہیں مگر یہی تو معاشرہ ہے ہمارا، یہی تو ہمارا عکس ہے۔
چلیں خیر میں چند مزید مثالیں آپ کو اس معاشرے کے تعلیم یافتہ اور بقول ان کے بہتر ین طبقے کے لوگوں کی بیان کرتی ہوں ”میں یونیورسٹی بزنس پڑھ رہی تھی میرے پیچھے ایک پروفیسر پڑ گئے ان کو مجھ سے چڑ تھی، انہیں مجھے دیکھ کر کوفت ہوتی تھی اور انہوں نے مجھے فیل کر دیا بلاوجہ اور پھر سمر لگا کر میں نے ڈگری مکمل کی“
”میں ڈاکٹر بننے کی تعلیم حاصل کر رہی تھی انہوں نے خود مجھے داخلہ لے کر دیا تھا۔ میرے والد نے مجھے سیکنڈ ائر میں گھر سے نکال دیا جب انہیں معلوم ہوا کہ میں خواجہ سرا ہوں جب کہ ان کے پاس اتنی استطاعت تھی کہ میرے لیے معاشرے سے لڑ سکتے تھے۔ میں نے بہت منت کی کہ مجھے گھر میں رہنے دیں مگر انہوں نے میری ایک نہ سنی۔ اب بھی وہ لمحے سوچ کے میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اب میں ہسپتال میں ڈاکٹروں سے خواجہ سرا کی پیچیدگیوں کے بارے میں سوال کرتی ہوں تو وہ سرے سے لاعلم ہوتے ہیں وہ ہمارے مسئلوں کو سرے سے ہی نہیں جانتے۔ “
یہ ہے ہماری تہذیب۔ یہ ہے ہمارا عکس بطور معاشرہ یہ عکس ہمیں احساس دلاتے ہیں کہ ہم اندھے اور بہرے بن کر جینا پسند کرتے ہیں اور جب کوئی اپنے حق کے لیے اٹھتا ہے تو وہ آوازیں ہمارے دماغوں کو ہلا دیتی ہیں۔
ہم لوگ جانے اتنے عجیب کیوں ہیں کہ جب ہم خواجہ سراؤں یا معذور افراد کی حقیقتیں سنتے ہیں تو ترس کھانے تک کے لیے تیار رہتے ہیں مگر جیسے ہی ہم ان کے حقوق کی آواز سنتے ہیں تو ہم اپنے کانوں میں روئی ڈال دیتے ہیں ہم انسان کو برابر سمجھنے سے یکساں طور پر عاری ہو جاتے ہیں یہ سب کب سے ہو رہا ہے معلوم نہیں، کب سے یہ چیز انسان کو جینس میں منتقل ہونا شروع ہوئی ہے کہ مختلف کو ہرگز قبول نہیں کرنا ہے۔ ثقافت کی بات کی جائے تو ایک انسان کو ناچ دکھا کر، دوسرے انسان کے نفس کی تسکین کر کے ہی اپنا پیٹ کی بھوک مٹا سکتا ہے اور یہ طریقہ صرف ایک خواجہ سرا کے طور پر جائز ہے۔
وہ اس کے لیے حلال ہے مگر وہی انسان کپڑا روٹی مکان کے لیے انہیں انسانوں سے ان کی طرح مزدوری کرنے سے کمانے کا کہے تو یہ ہماری تہذیب ثقافت کے خلاف ہے۔ ویسے عام انسان کے مطابق محبت انسان کا حق ہے محبت بس ہوجاتی ہے محبت تو خدا دلوں میں ڈالتا ہے مگر جو خواجہ سرا اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں تک سے پیار نہیں کر سکتے اور کسی نامحرم سے تو توبہ توبہ ہرگز نہیں۔ یہ ترازو آخر بنائی کس نے ہے؟ اس کی وضاحت ثقافت دے گی، مذہب، تہذیب یا تاریخ کہ اگر کوئی خواجہ سرا پیدا ہو تو اس کو خواجہ سرا بناؤ، ناچ گانا سکھاؤ۔ ان سب باتوں کے جوابات ڈھونڈنا شاید اس لیے مشکل ہے کہ پاکستانی ثقافت میں یہ سب زیادتیاں اتنی رچ بس گئی ہیں کہ ہم ان کو زیادتی تصور بھی نہیں کرتے۔



Too good.. proud of you <3