وہ مظلوم نہیں، بس تھکی ہوئی ہے

”خوش قسمت ہو تم، تمھارا شوہر باہر کماتا ہے“ یہ جملہ اکثر ان عورتوں کو سننے کو ملتا ہے جن کے شوہر بیرونِ ملک کام کے لیے گئے ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ جملہ حسد سے لبریز تعریفی لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی کہانی اکثر دکھ، تنہائی اور ذہنی اذیت سے بھری ہوتی ہے، خاص طور پر جب عورت سسرال کے گھر میں اپنے بچوں سمیت رہتی ہے۔ سسرال میں رہنے کا فیصلہ اکثر مالی مجبوری یا سماجی دباؤ

Read more

آواز گمشدہ اور خواجہ سرا

  اکثر درد ناک کہانیاں خود جیتی جاگتی مثالیں ہیں۔ اپنی آپ بیتیاں اس زمین پر رقم کر کے چلی جاتی ہیں جیسا کہ ”میں گھر کا خرچ چلا رہی ہوں مگر مجھے گھر والوں نے گھر سے نکال دیا ہے۔ میں ساری رات دروازہ بجاتی رہی مگر بھائی نے دروازہ نہیں کھولا“ چلیں یہ زندہ مثالیں تو آپ کہہ لیں کہ جہالت میں ڈوبے ہوئے لوگوں کے رویوں کی ہیں جو وہ خواجہ سراؤں کے ساتھ غلط کرتے ہیں

Read more