شہناز احد کی کتاب: مسافتوں کی دھول
کراچی آرٹس کونسل میں ڈاکٹر شیر شاہ سید پہ تالیف میری کتاب ”دل چارہ گر“ کی تقریب رونمائی تھی۔ شیرشاہ نے تقریب میں اپنے متعلق پڑھنے کے لیے جن چند ناموں کا انتخاب کیا ان میں شہناز احد کا نام سرفہرست تھا۔ جب میں نے شہناز کی لگی لپٹی رکھے بغیر سچائی سے لکھی تقریر سنی تو مجھے اندازہ ہوا کہ جو کچھ انہوں نے کہا وہ تو کوئی اور لکھ ہی نہیں سکتا تھا ما سوا اس کے جو شیرشاہ کو بہت گہرائی سے جانتا اور دل کے بہت قریب ہو۔
اس دن شہناز نے اپنی کتاب ”مسافتوں کی دھول“ اپنی دستخط کے ساتھ مجھے دی۔ شاید شیر شاہ کی دوست ہونے کے حوالے سے۔ لیکن اب وہ میری بھی دوست ہیں۔ اور میرے لیے اچھے لوگوں سے دوستی خواہ کتنی ہی نئی کیوں نہ ہو، پرانی شراب کی طرح کافر بن جاتی ہے۔ چھوڑی ہی نہیں جاتی۔ تاہم ان کی کتاب پہ کچھ لکھنا دوستی کا نہیں بلکہ ایک سچی، بیباک اور دردمند قلم کار کی تحریر پہ گفتگو کا حق ادا کرنا ہے۔
دراصل شہناز کے اہم نام سے کم شناسی خود میری کم علمی کا ثبوت ہے۔ جب میں نے جامعہ کراچی میں قدم رکھا وہ اس وقت صحافت کے نووارد دمکتے ستارے کی مانند ترقی پسند رسالے ”معیار“ سے منسلک تھیں۔ یہ رسالہ حق گوئی کا امین اور آدرشوں پہ یقین رکھنے والے صحافیوں کا مکین تھا۔ شہناز نے یہاں 1975ء سے کام شروع کیا اور آتے ہی اپنی صلاحیتوں کی دھوم مچا دی۔
شہناز پوری توانائی سے صحافتی کام پہ یقین رکھتیں۔ حق و انصاف کے غاصب اور آمر ضیا الحق، کے دور میں ان کی بھوک ہڑتال نے آزادی صحافت کی تحریک میں جان ڈالی۔ سوشل ایکٹیوسٹ مہناز رحمن نے انہیں ”صحافت کی آئرن لیڈی“ قرار دیا۔ بظاہر سخت لیکن اندر سے انتہائی نرم دل شہناز نے جن سماجی، سیاسی اور اقتصادی مسائل کو اپنی کتاب میں دل کی گہرائیوں سے قلمبند کیا وہ محض ایک بہت باشعور، دردمند اور بہادر صحافی ہی لکھ سکتا ہے۔
یہ کتاب کووڈ کی وبا کے دوران لکھی گئی۔ اس وقت کائنات کی طاقتور ترین مخلوق کوایک حقیر کرونا وائرس نے بے بس اور ہراساں کیا ہوا تھا۔ جب گھروں میں موت کی آہٹ سے بھی ہراساں ہو کر اپنوں کے لیے بھی دروازے بند کرنے کا وقت تھا۔ اس وقت شہناز نے اپنی یادوں کے مقفل در کھولنے اور اپنی زندگی کی مسافت کی دھول جھاڑ کر اپنے تجربات کو رقم کرنے کا فیصلہ کیا۔
اپنے مضمون ”سفاک کرونا“ سے ابتدا کرتے ہوئے وہ اپنے ساتھ قاری کو اپنے صحافتی تجربات اور ذاتی محسوسات کی گھاٹیوں میں اتارتی ہوئی مضمون ”نیفرولوجی یتیم ہو گئی“ پہ کتاب کا اختتام کرتی ہیں۔ اس بیچ انہوں نے ہماری ملاقات بوسیدہ اور بوژوا نظام کے ڈسے تباہ حال عوام کے مسائل سے کروائی، جس کو لکھنے کے لیے ہی نہیں پڑھنے کے لیے بھی انسانیت سے دردمندی اور محبت کا حوصلہ چاہیے۔
پاکستان کے ملکی حالات نے ہم سب کو بے حس بنا دیا ہے جو نفسیات کی رو سے اپنے آپ کو اسٹرس اور ڈپریشن سے دفاع کا مدافعتی عمل ہے۔ ایک ڈھال ہے۔ لیکن اپنے حالات سے نپٹنے کے لیے اس کو ٹوٹنا ضروری ہے۔ شہناز کے قلم نے اس ڈھال کو بہت کامیاب سے توڑا ہے اور ہمیں معاشرے کی سچی تصویر دکھا کر سوچنے اور سوال کرنے پہ مجبور کیا ہے۔ جو سماج میں تبدیلی کا سب سے اہم اور بنیادی عمل ہے۔
اپنی صحافتی زندگی کی روئداد میں شہناز نے مختلف موضوعات پہ لکھا ہے۔ حقیر کرونا وائرس سے ہونے والی اموات سے لے کر ”سنا ہے کل رات مر گیا میں“ میں فولاد صفت اور جرات مند صحافی احفاظ الرحمن کی حق پہ لڑنے اور امر ہو جانے والی عہد ساز زندگی کے اختتام پہ اپنا خراج عقیدت۔
انہوں نے کل 51 مضامین اپریل 2020ء سے لے کر 2022ء کے دورانیے میں لکھے۔ جن کو پڑھتے ہوئے آپ کو احساس ہوتا ہے کہ شہناز نے کتنے سادگی اور سچائی سے اپنی ذاتی زندگی کے سفر میں اپنے پڑھنے والوں کو شریک کیا ہے۔
ان کی تحریر سے پتا چلتا ہے کہ کیوں انہوں نے صحافت سے عشق کے باوجود اپنی چھ سالہ بیٹی کے گردے کی بیماری میں انتقال کے بعد اپنے آپ کو کڈنی کے علاج سے متعلق اداروں کے لیے اپنے کو وقف کر دیا۔ اکلوتی بیٹی کی موت نے انہیں لوگوں کی حیات اور بقا سے کچھ اس طرح نتھی کیا کہ وہ اسپتال کی ہو گئیں۔ مگر صحافت ان کا پہلا عشق تھا جو کبھی جدا نہیں ہوتا، ہمیشہ زندگی کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ لہٰذا وہ قلم سے ناتا کبھی نہ توڑ سکیں۔ جس کا ثبوت یہ کتاب ہے۔ اس مختصر مضمون میں ان کے تمام مضامین پہ بات مشکل ہی نہیں ناممکن ہے لیکن میں ان کے انداز تحریر اور موضوعات کا ذکر ضرور کرنا چاہوں گی۔
ان کی تحریر کا اہم خاصا مختصر پیرائے میں مکمل بات کرنا ہے۔ جو پڑھنے والے کو اس موڑ پہ چھوڑ دیتا ہے کہ وہ دکھ محسوس ہی نہیں کرتا ہے بلکہ اس سے اگلی منزل یعنی عملاً اس کے مداوا کی خواہش کرتا ہے۔ کم الفاظ میں جامع مضمون رقم کرنا ان کا ایک اہم ہنر ہے۔
دوسری بات ان کا سادہ اور رواں انداز تحریر ہے۔ وہ دقیق الفاظ اور علامتی انداز کے بجائے سادگی سے لکھی عبارت پہ یقین رکھتی ہیں تاکہ بات خواص اور عوام دونوں تک پہنچے۔ ویسے بھی عموماً المیے عوام سے جڑے ہیں خواص سے کہاں۔
”مالکان کا کچھ نہیں بگڑتا“ میں انہوں نے صنعتی علاقوں میں فیکٹریوں اور ملوں ہونے والے سانحات کے سبب غریب مزدوروں کی اندوہناک اموات پہ بے حسی کے رویہ پہ احتجاج کیا ہے۔ اس وقت شہناز اخبار میں ملازمت کرتی تھیں۔ انہوں نے قانون کے اندھے پن، مالکان کی بے حسی اور مرنے والوں کے گھروں میں ہونے والے فاقوں کا بہت درد مندی سے لکھا ہے۔
اپنے سماجی مسائل پہ مبنی مضامین میں انہوں نے کبھی حکام بالا کی نا انصافی کو للکارا تو کبھی عوام کے بے حس رویوں کو چیلنج کیا۔ لیکن ان لوگوں کو خراج تحسین بھی پیش کیا جن کی خوبیوں کی وہ معترف تھیں۔ مثلاً شین فرخ، طارق عزیز، احفاظ الرحمن، اور ڈاکٹر جعفر نقوی جن کی موت نے نیفرولوجی کے شعبہ کو یتیم کر دیا۔ اور جن سے تعلق کا سبب شہناز کا ذاتی المیہ تھا۔
شہناز نے جانے کتنی ہمت سے اپنی بیٹی عائشہ پہ مضمون ”تار عنکبوت“ لکھا ہو گا جو چھ برس کی عمر میں دنیا سے منہ موڑ گئی۔ تین دہائیاں گزر گئیں ”لیکن میرے اندر تو سب کچھ کل کی طرح زندہ ہے۔ ایسا لگتا ہے پردہ ہلے گا اور وہ ابھی پیچھے سے آ کر میری ٹانگوں سے لپٹ جائے گی اور بھاؤ کی آواز نکال کر کہے گی ماما کو ڈرا دیا۔“
اس کتاب کو پڑھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے بہادری سے اپنی بیماری سے لڑتے ہوئے ہار جانے والی عائشہ کی ماں کتنی بہادر ہے جس نے اپنے شدید المیہ کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت بناتے ہوئے کتنی جرات سے قلم کا جہاد کرتے ہوئے اتنی خوبصورت کتاب تخلیق کی۔ ضرور پڑھیے۔
(نوٹ: کتاب لوح قلم پبلیکیشنز نے شائع کی ہے۔ )



