عطاء الحق قاسمی کے تخلیقی رنگ ( 2 )

عطاء الحق قاسمی صاحب کے کچھ اشعار ضرب المثل بن چکے ہیں۔ یہ خوبی بہت کم شعراء کے نصیب میں آئی ہے۔ عصر حاضر ہی کے ایک اور شاعر ہیں شعیب بن عزیز۔ ان کا ایک شعر بھی ایسا ہے جو موقع محل کی مناسبت سے بڑی بڑی ہستیوں کی زبان پر ہوتا ہے۔ آصف علی زرداری صاحب سے بھی کئی محفلوں میں ان کا یہ شعر سنا گیا۔ شعر یہ ہے
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں
بات ہو رہی ہے محترم عطا الحق قاسمی صاحب کے ضرب المثل اشعار کے حوالے سے اور ان کے دوست شعیب بن عزیز صاحب تک پہنچ گئی۔ کیوں؟ محض اس لئے کہ
اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں
وزیراعظم شہباز شریف تو اکثر محفلوں میں موقع محل کی مناسبت سے اشعار پڑھتے ہیں اور دنیا نے ٹی وی پر ان سے مختلف مواقع پر عطاءالحق قاسمی صاحب کا کلام سنا ہے۔ ان کی ایک غزل تو وہ اکثر محفلوں میں سنا کر مجمع سے داد و تحسین سمیٹتے ہیں۔ اور بعض اوقات تو بڑا زور دے کر یا گنگنا کر بھی وہ یہ شعر پڑھتے یا پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ پوری غزل ہی بڑی مرصع ہے اور ہمارے معاشرے میں جو ظلم کا بازار گرم ہے اور اس کے باوجود انصاف نہیں ملتا، اس کی جھلک اس کے آئینے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ آپ کی یادداشت کو تازہ کرنے کے لئے یہ غزل پیش خدمت ہے۔ بلاشبہ زبان سادہ اور بیان بڑا اثر انگیز اور دل میں اتر جانے والا ہے۔ آپ پہلے عطاء الحق قاسمی صاحب کی یہ غزل ملاحظہ کیجئے۔ پھر اس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف سے ایک درخواست بھی کرنی ہے۔
خوشبوؤں کا اک نگر آباد ہونا چاہیے
اس نظام زر کو اب برباد ہونا چاہیے
ان اندھیروں میں بھی منزل تک پہنچ سکتے ہیں ہم
جگنوؤں کو راستہ تو یاد ہونا چاہیے
خواہشوں کو خوبصورت شکل دینے کے لئے
خواہشوں کی قید سے آزاد ہونا چاہیے
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیے
وزیراعظم شہباز شریف سے گزارش صرف اتنی سی ہے کہ آپ صرف اسی غزل پر اکتفا نہ کریں، آپ کو عطاءالحق قاسمی صاحب کے کلام میں سے بہت سی ایسی جاندار غزلیں مل سکتی ہیں۔ جن میں آپ کو اور شرکائے محفل کو عوام کے دلوں کی دھڑکنیں بھی سنائی دیں گی۔ اس لئے امید ہے کہ وہ آئندہ ان کی دیگر غزلوں کو بھی پیش کر کے دادو تحسین سمیٹنے کی کوشش ضرور کریں گے۔
انسان اپنی صحبت سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ عطا بھائی کے قریبی دوستوں میں بہت سی ادبی شخصیات کے ساتھ ساتھ امجد اسلام امجد، اجمل نیازی اور محترم خالد احمد تین ایسے نام ہیں، جنہیں ہدف محبت بنانے سے وہ نہیں چوکتے تھے۔ سفر اور حضر میں بھی اکثر یہ احباب ان کے ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ لوگ کہتے تھے ایسا لگتا ہے کہ ان کے بغیر عطا بھائی کی روٹی ہضم نہیں ہوتی۔ خالد احمد کی کتاب ایک مٹھی ہوا کا فلیپ بھی عطا الحق قاسمی صاحب نے لکھا اور اپنے مخصوص انداز میں ان کی شخصیت کے تمام رنگوں کا بڑی خوبصورتی اور استادانہ چابکدستی کے ساتھ احاطہ کر لیا۔ اب آپ ملاحظہ فرمائیے، محترم خالد احمد کی کتاب ایک مٹھی ہوا، کے ٹائیٹل کی پشت پر سجا عطا الحق قاسمی صاحب کا فلیپ۔
مجھے علم نہیں کہ خالد احمد کو اپنی کون سی حیثیت زیادہ پسند ہے۔ وہ غزل گو شاعر ہے، انوکھی نظمیں لکھتا ہے، مداح خوان رسول ﷺ ہے، تنقید میں کسی کو گراتا اور کسی کو اٹھاتا ہے، دنیا بھر کے بچوں سے والہانہ محبت کرتا ہے۔ اس میں ازراہ لطف و عنایت اس نے اپنے بچے بھی شامل کر لیے ہیں۔ کچھ بڑوں کی عزت کرتا ہے اور جب وہ سیکھ جاتے ہیں تو انہیں نوندریں مارنے لگتا ہے۔ جلوے میں قہقہے لگاتا اور خلوت میں آنسو بہاتا ہے، جو کماتا ہے گھر سے دفتر جاتے ہوئے مستحقین میں تقسیم کر دیتا ہے، رات گئے تک جاگتا ہے اور دوپہر تک سوتا ہے۔
جھوٹ بولتا ہے، ایسے جھوٹ بھی جو سچ سے افضل ہوتے ہیں۔ وہ نارمل نہیں اور اس کی شاعری بھی نارمل شاعری کے ذیل میں نہیں آتی۔ ٹیڑھے میٹھے رستوں پر چلنے والے خالد احمد کی شاعری ہمیں کم آمیز مناظر کی طرف لے جاتی ہے۔ کم آمیز مناظر، بے چین اور مضطرب لوگوں پر کھلتے ہیں۔ ان پر موجود سے مطمئن نہیں ہیں اور تلاش کے عمل میں ہیں۔ صبح سے شام تک تلاش میں نکلنے والے خالد احمد کی شاعری زمانے سے الگ، ممتاز اور دلکش ہے، بالکل اس طرح جس طرح خالد احمد بھری محفل میں سب سے الگ، ممتاز اور دلکش نظر آتا ہے۔ میں نہیں جانتا اسے اپنی کون سی حیثیت زیادہ پسند ہے۔ مجھے تو سارے کا سارا خالد احمد اچھا لگتا ہے اور اس کی ساری کی ساری شاعری میرے اندر ہلچل پیدا کرتی ہے۔
پاکستان ٹیلی وژن لاہور سینٹر اور ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز آفس کے بالمقابل اعلی معیار کی پرنٹنگ کا مرکز ٹریک اینڈ ٹائی بھی تھا۔ ہائی نون لیبارٹریز سے وابستگی کے باعث ہفتہ بھر میں چار، پانچ وزٹ تو میرے لازمی ہوتے تھے۔ ٹریک اینڈ ٹائی میں ہماری جناب عمران منظور صاحب اور اسد صاحب سے ملاقات ہوا کرتی تھی، گپ، شپ، چائے اور بعض اوقات تو عمران منظور صاحب کے اصرار پر (اگر ہم لنچ کے ٹائم پر وارد ہوتے تھے ) تو جوائن کرنا پڑتا تھا۔
وہاں کبھی کبھار برادر محترم جناب خالد احمد صاحب سے بھی ملاقات ہوتی تھی۔ بلکہ ایسا بھی ہوا کہ عطاء بھائی، برادر محترم خالد احمد اور میں نے کہیں نہ کہیں بیٹھ کر چائے بھی پی اور گپ شپ بھی کی۔ ایک روز جب ہم وہاں پر پہنچے تو جناب عمران منظور صاحب نے کہا کہ آج آپ نہیں، میں بات شروع کروں گا اور یہ کہہ کر انہوں نے بتایا کہ خالد احمد بھائی نے آپ کے لیے اپنا شعری مجموعہ ایک مٹھی ہوا بھجوایا ہے اور اس پر ان کا آٹو گراف بھی ہے۔ ہم نے بصد احترام جناب خالد احمد صاحب کی کرم فرمائی کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد سے عمران منظور صاحب کو بھی ہمارے اور خالد احمد بھائی کے مراسم اور روابط کا کچھ اندازہ ہوتا چلا گیا۔
بات ہو رہی ہے برادر محترم خالد احمد اور عطاءالحق قاسمی کی اور ذرا دور نکل گئی۔ ان دونوں میں ایک قدر مشترک یہ بھی ہے کہ ان دونوں کی ولادت قیام پاکستان سے چار برس پہلے یعنی انیس سو تینتالیس میں ہوئی لیکن ہمارے عطا بھائی، جناب خالد احمد سے عمر میں چار ماہ اور چار دن بڑے ہیں۔ عطاء الحق قاسمی صاحب یکم فروری 1943 ء کو اور نامور شاعر خالد احمد 5 جون 1943 ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ دونوں نے اپنے بزرگوں کے ساتھ ہجرت کر کے لاہور میں ڈیرہ ڈال لیا۔ برسوں پہلے کی بات ہے کہ برادر محترم خالد احمد کے اعزاز میں ایک پر وقار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اعلی پائے کے مضامین پڑھے گئے تھے لیکن عطاءالحق قاسمی صاحب کا مضمون بہت پسند کیا گیا تھا۔ بطور نمونہ ان کا ابتدائی جملہ اور اختتامی سطور حاضر خدمت ہیں۔
خالد احمد کے ساتھ میری دوستی جتنی پرانی ہے، اتنی پرانی تو کسی کے ساتھ دشمنی بھی نہیں ہوتی۔
اب ملاحظہ کیجئے عطا الحق قاسمی صاحب کے مضمون کے اختتامی کلمات۔
”مجھے صرف اتنا کہنا ہے کہ خالد احمد کے بارے میں زیادہ جاننے کا دعوی کرنا، خود کو اور دوسروں کو دھوکے میں مبتلا کرنا ہے۔ بچپن سے باپ کی شفقت سے محروم ہو جانے کے بعد سرد و گرم زمانہ چکھتے چکھتے خالد احمد نے اپنی ذات میں پناہ لے لی ہے۔ داتا گنج بخش کا قول ہے کہ اے انسان تیرا خود کو پہچاننا، خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے لیکن خالد احمد کے حوالے سے یہ بات اس طرح کہی جا سکتی ہے کہ اے انسان تیرا خالد احمد کو پہچاننا خود کو مزید ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ چنانچہ مجھے خالد احمد کو پہچاننے کی کیا ضرورت ہے۔ اپنے دکھ تھوڑے ہیں کہ اب خالد احمد کے دکھوں کی چتا میں بھی خود کو جلایا جائے“ ۔
میں نے محترم عطا الحق قاسمی صاحب کی شخصیت، فن، خدمات اور ان کے شعر و سخن پر قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا تو یکلخت یادوں کی کھڑکیاں کھل گئی ہیں۔ یہ بات بھی بتا دوں کہ وہ میرے والد بزرگوار ادیب، شاعر، دانشور، ماہر تعلقات عامہ اور ڈیڑھ سو سے زیادہ مطبوعات کے مولف سید فخرالدین بلے کے تین چار پسندیدہ ترین کالم نگاروں کی فہرست میں سے ایک ہیں۔ اور ان کا کالم پڑھنے کے بعد وہ اس میں بین السطور جو کچھ لکھا گیا ہوتا تھا، کبھی کبھار اس کی نشان دہی بھی کر دیا کرتے تھے۔
اور اگر کالم چھپا ہو اور وہ عدیم الفرصتی کی بنا پر نہ پڑھ پاتے تو ایک کمی سی محسوس ضرور کرتے تھے اور اس کا اظہار کر کے اپنا غم غلط کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ وہ ان کے فن و سخن سے بھی پیار کرتے تھے اور اسی لئے ان کی محبت مجھے ہی نہیں ہماری فیملی کو ورثے میں ملی ہے۔ ان سے ملنے ملانے کے حوالے سے میرے بہن بھائیوں کی بہت سی یادیں مشترک ہیں۔ اور کچھ یادیں قافلے کے پڑاؤ کے حوالے سے ہیں۔ دراصل میرے والد بزرگوار ادب و ثقافت کے دلدادہ تھے اور محفلیں سجانے کے شوقین بھی۔
اسی لئے میری آنکھ ایسے ماحول میں کھلی کہ گھر میں ادیبوں، شاعروں، دانشوروں، ذاکروں، فن کاروں کا جمگھٹا لگا رہتا تھا۔ اشفاق احمد، بانو قدسیہ، فیض احمد فیض، جوش ملیح آبادی، جون ایلیا، قتیل شفائی، مرتضیٰ برلاس، طفیل ہوشیار پوری، اداکار محمدعلی، اداکار منور سعید، محسن بھوپالی، ڈاکٹر وزیر آغا، مصور اور سفرنامہ نگار اسلم کمال، صادقین، پروفیسر عاصی کر نالی، عرش صدیقی، اصغر ندیم سید، مسعود اشعر، انورسدید اور اسی پائے کی علمی ادبی شخصیات ہمارے گھر میں سجنے والی محفلوں کی رونقیں دوبالا کیے رکھتی تھیں۔
پھر ایک وقت ایسا آیا کہ 1980 انیس سو اسی کی دہائی میں انہوں نے ایک ادبی اور ثقافتی تنظیم قافلہ ہی بنالی، تاکہ زندگی کی ہنگامہ خیزیوں کے ساتھ قافلہ تنظیم کے تحت ماہانہ بنیاد پر نشست کا اہتمام مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جا سکے اور یہ سلسلہ دس برس سے زیادہ جی۔ او آر تھری شادمان لاہور میں جاری رہا بھی۔ قافلے کے تحت سجنے والی محفلوں کو انہوں نے پڑاؤ کا نام دیا۔ اس قافلے کے پڑاؤ بڑی باقاعدگی کے ساتھ جی او آر تھری شادمان لاہور میں ہوا کرتے تھے اور جب اقامت گاہ بدل گئی تو یہ سلسلہ فصیح روڈ پر برسوں جاری رہا۔
قافلے کے بہت سے پڑاؤ میں محترم عطاءالحق قاسمی صاحب نے شرکت کی۔ بڑے بڑے ادیب، شاعر اور دانشور اس محفل میں شریک ہو کر اپنا رنگ جماتے اور دکھاتے تھے۔ اس محفل کے حوالے سے اسرار زیدی کی رپورٹیں اخبار جہاں میں چھپا کرتی تھیں۔ بیدار سرمدی اور سرفراز سید بھی اپنے کالموں میں اس کے رنگ دکھاتے تھے۔ اخبار خواتین میں بھی تفصیلی رپورٹیں شائع ہوتی تھیں۔ یہی نہیں ہفت روزہ آواز جرس لاہور کے بانی مدیر اعلیٰ میرے والد بزرگوار ہی تھے۔
اور اس کی ادارت کی ذمے داریاں انہوں نے میرے ناتواں کندھوں پر ڈال دی تھیں۔ قافلے کے پڑاؤ کے حوالے سے بعد میں باتیں ہوں گی۔ پہلے بات ہو جائے اس یادگار مکالمے کی جو میں نے کیا۔ دراصل میں نے ہفت روزہ آواز جرس کا ایک خصوصی گوشہ محترم عطاء الحق قاسمی صاحب کی شخصیت اور فن کے حوالے سے شائع کرنے کا ارادہ کیا۔ ہفت روزہ آوازجرس میں خصوصی گوشے شائع کرنے کے لیے بطور خاص اسکیچ بنوانے کی روایت بھی قائم کی گئی تھی۔
اس روایت کی پاسداری بھی تو ہم ہی نے کرنی تھی۔ خصوصی گوشے کے لئے میں نے محترم عطاءالحق قاسمی صاحب کو فون کیا اور عرض کیا آپ سے ملنے کے لیے آنا چاہتا ہوں۔ ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ ٹی وی اینکر کی طرح عطاءالحق قاسمی صاحب نے ہماری بات کاٹتے ہوئے فرمایا آپ کو بتانے۔ پوچھنے یا اجازت لینے کی ضرورت کب سے ہو گئی۔ ہم نے مودبانہ انداز میں عرض کیا جس وقت آپ کی گھر میں موجودگی یقینی ہو، وہ وقت بتا دیجے۔ ہم حاضر ہوجائیں گے کیونکہ ہمارے ارادے کچھ نیک نہیں ہیں۔
عطاءالحق قاسمی صاحب اپنے مخصوص انداز میں ہنسے اور فرمایا دھمکی آمیز لہجہ ہے آپ کا ، لیکن ہم واقف ہیں سید فخرالدین بلے صاحب اور ان کے خانوادے سے۔ ہم جانتے ہیں انہوں نے کن خطوط پر اپنے بچوں کی تربیت فرمائی ہے۔ ظفر بیٹا، آپ کل شام سات بجے کے بعد سے رات ایک بجے تک کسی بھی وقت تشریف لائیے بلکہ ہماری خوشی تو اس میں ہوگی کہ آپ ہمارے ساتھ ہی کھانا بھی کھائیں۔ ہم نے نہایت عاجزی سے گزارش کی آپ کھانے کا تکلف نہ فرمائیے۔
البتہ ہم چائے ضرور پیئیں گے۔ عطاء صاحب نے اس کے جواب میں بس یہی فرمایا کہ پہلی مرتبہ سن رہا ہوں کہ کوئی اپنے گھر میں بھی پوچھ کر آتا ہے اور تکلف کرتا ہے۔ ٹھیک ہے طے ہو گیا، کل شام سات بجے ملتے ہیں۔ اگلے روز ہم وقت مقررہ پر عطاءالحق قاسمی صاحب کے دولت خانے پر پہنچے۔ ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ عطاء صاحب ہمارے منتظر تھے۔ کم و بیش ڈھائی تین گھنٹے ہمارا ان کے دولت کدے پر قیام رہا اور اس دوران زبردست اور ذائقہ دار چائے کے ساتھ لذیذ اور ہماری من پسند چیزوں سے تواضع کی گئی۔
ہم نے ان کا انٹرویو لیا۔ کھل کر باتیں ہوئیں۔ ان کا کلام بھی سنا اور انٹرویو سے ہٹ کر نئے ادبی رجحانات پر بھی ان کے خیالات اور تاثرات سے آگاہی سمیٹی۔ قصہ مختصر پھر جب ہم نے اجازت چاہی تو عطاءالحق قاسمی صاحب نے اجازت تو دیدی لیکن خوش دلی سے نہیں، ان کی خواہش تھی کہ جس ماحول اور انداز میں مکالمہ جاری ہے، وہ جاری ہی رہتا اور بے شک خواہش تو ہماری بھی یہی تھی لیکن ہماری مجبوری یہ تھی کہ والد گرامی کو ماہر امراض قلب ڈاکٹر کمال کے پاس لے جانا تھا۔
بالکل رخصت ہوتے ہوئے ہم دروازے سے لوٹ کر واپس ان کے ڈرائنگ روم میں آ گئے اور ڈرائنگ روم کی دیوار پر آویزاں عطاءالحق قاسمی صاحب کی بڑی سی تصویر اتار لی اور نہایت احتیاط سے بغل میں داب کر عرض کیا اس وقت تو بس یہ ڈکیتی کرنی تھی۔ پھر ہم نے آواز جرس کے مصور جناب طاہر نقوی کے سر پر سوار رہ کر غالباً ًسات دنوں میں اس۔ مقبوضہ تصویر۔ سے ایک اسکیچ تیار کروایا اور عطاءالحق قاسمی صاحب کے گھر جاکر ان کی فریم شدہ تصویر انہیں لوٹا دی۔
پھر اگلے ہی ہفتے ہم نے عطاءالحق قاسمی صاحب کے حوالے سے ہفت روزہ آواز جرس لاہور میں خصوصی گوشہ شائع کیا۔ جس میں عطاءالحق قاسمی صاحب کے فن اور شخصیت کے حوالے سے بہت سا مواد اور تصاویر بھی شامل تھیں اور اس گوشے میں یہ اسکیچ بھی شائع کیا تھا اور اس اسکیچ کے ساتھ قاسمی اور قاسمی بھی۔ قارئین آواز جرس اور عطاء الحق قاسمی صاحب نے اس خصوصی گوشے کو بہت پسند فرمایا۔ چند روز بعد ہم نے یہ اسکیچ بھی فریم کر واکر عطا صاحب کو بطور تحفہ پیش کیا اور اس کے ساتھ اسی اسکیچ کا ایک چھوٹا سا پازیٹو بھی بنوا کر انہیں پیش کیا اور عرض کیا جناب عطاءالحق قاسمی صاحب یہ پازیٹو اس لیے کہ یہ آپ کے کالم کے مونوگرام میں استعمال ہو۔ اور پھر اگلے ہفتے سے ہی یہ اسکیچ ان کے کالم کے مونوگرام میں انگوٹھی میں نگینے کی طرح سے سجا دیا گیا اور پھر اسی اسکیچ والا مونوگرام برسوں۔ روزن دیوار سے۔ کے ساتھ شائع ہوتا رہا۔ (جاری ہے ) ۔
نوٹ : عطاء الحق قاسمی کے تخلیقی رنگ کی اس قسط میں شامل تمام تر مصورانہ شاہکار پروفیسر آکاش مغل صاحب تخلیق کردہ ہیں اور انہوں نے بطور خاص اسی مضمون کے لیے بطور تحفہ عطا کیے ہیں




