ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور انسانی حقوق کا درس!


پاکستانی نیورو سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی جیل خانے میں قید ہوئے کم و بیش 20 برس بیت چکے ہیں۔ اس دوران پاکستان میں ان کے حق میں آوازیں اٹھتی رہیں۔ سول سوسائٹی اور میڈیا کی طرف سے ان کی رہائی کا مطالبہ ہوتا رہا۔ ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی ان کی رہائی کے لئے ایک مہم کی قیادت کرتی رہیں۔ سیاسی جماعتیں بھی دعویدار رہیں کہ بر اقتدار آنے کے بعد ڈاکٹر عافیہ کو پاکستان واپس لانے کے لئے امریکہ سے بات کی جائے گی۔ گزرے برسوں میں مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی حکومتیں قائم ہوئیں اور رخصت ہو گئیں۔ تاہم ڈاکٹر عافیہ صدیقی پاکستان واپس نہ آ سکیں۔

ہفتہ دس دن پہلے ڈاکٹر عافیہ کی بہن، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے امریکہ میں قید اپنی بہن سے دو ملاقاتیں کی ہیں۔ پہلی ملاقات تنہائی میں ہوئی۔ تاہم دوسری ملاقات میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد اور ڈاکٹر عافیہ کے وکیل بھی ڈاکٹر فوزیہ کے ہمراہ تھے۔ یہ ملاقاتیں امریکی ریاست ٹیکساس کی فورٹ ورتھ جیل میں ہوئیں۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی جب جیل میں قید بہن سے ملنے کے لئے کمرہ ملاقات میں پہنچیں تو یہ دیکھ کر دکھی ہو گئیں کہ ان کے اور ان کی بہن کے مابین موٹے شیشے کی ایک دیوار حائل ہے۔

ان بہنوں کی بے بسی کا اندازہ کیجئے کہ برسوں بعد ملنے والی دونوں بہنیں ایک دوسرے کو چھو نہ سکیں۔ ایک دوسرے کو گلے نہ لگا سکیں۔ ایک دوسرے کو چوم نہ سکیں۔ بس ایک دوسرے کو دیکھ اور باتیں کر سکیں۔ سینیٹر مشتاق احمد خان کے توسط سے جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق ڈاکٹر عافیہ نے قیدیوں کا مخصوص لباس پہن رکھا تھا۔ جیل میں ایک قیدی کی طرف سے ہونے والے حملے کے نتیجے میں ڈاکٹر عافیہ کے اگلے دو دانت ٹوٹ چکے ہیں۔

ان کی آنکھوں کے گرد بھی زخم کا گہرا ایک نشان موجود ہے۔ سر پر لگنے والی چوٹ کی وجہ سے ان کی سماعت بھی متاثر ہوئی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپنی بہن کو بتایا کہ انہیں اپنی والدہ اور بچے ہر وقت یاد آتے ہیں۔ جیل حکام اور امریکی قوانین کی سختی دیکھیے کہ ڈاکٹر فوزیہ کو یہ اجازت بھی نہیں دی گئی کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کو ان کے بچوں کی تصاویر دکھا سکیں۔ سینیٹر مشتاق احمد خان کے مطابق یہ ملاقاتیں مکمل طور پر ریکارڈ ہو رہی تھیں۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی اسی امریکہ سے تعلیم یافتہ ہیں جس کے جیل خانے میں یہ قید ہیں۔ 2003 میں جنرل پرویز مشرف کے دور آمریت میں انہیں امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا۔ پرویز مشرف اپنی کتاب میں لکھ چکے ہیں کہ انہوں نے اپنے شہریوں کو امریکہ کے حوالے کر کے امریکی ڈالر سمیٹے تھے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر الزام تھا کہ انہوں نے امریکی فوجیوں پر فائرنگ کر کے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی۔ امریکی عدالت میں ان پر مقدمہ چلا اور انہیں 86 سال کی سزا سنا دی گئی۔

جج نے یہ سزا مختلف جرائم کے ارتکاب پر سنائی۔ ان کے جرائم یہ تھے کہ انہوں نے امریکی شہریوں پر حملہ کیا۔ سزا کے سال اس لئے کئی گنا بڑھا دیے گئے کہ یہ شہری فوجی تھے اور حکومتی اہلکار بھی۔ عمر قید کی سزا اس وجہ سے دی گئی کہ حملہ آور یعنی ڈاکٹر عافیہ نے اسلحہ استعمال کیا تھا۔ قصہ مختصر یہ کہ امریکی فوجیوں پر بندوق تان لینے کے جرم میں وہ گزشتہ بیس سال سے امریکہ کی جیل میں پڑی سڑ رہی ہیں۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔

جیل میں موجود قیدی ان کے دانت توڑ ڈالیں۔ ان پر مکے برسائیں۔ ان کو ٹھڈے مار کر زخمی کر دیں۔ لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ گزرے برسوں میں ڈاکٹر عافیہ کی ماں اللہ کو پیاری ہو گئی۔ ان کے بچے لا پتہ ہو گئے۔ ان کی بہن جگہ جگہ فریاد کرتی رہی۔ مگر امریکہ کے کانوں پر جوں نہیں رینگی۔ اب دونوں بہنوں کی ملاقات ہوئی بھی تو شیشے کی دیوار کے پار سے۔

یہ وہ امریکہ ہے جو خود کو انسانی حقوق کا سب سے بڑا علم بردار کہتا ہے۔ اس امریکہ میں حقوق نسواں کا سب سے زیادہ واویلا کیا جاتا ہے۔ انسان تو انسان، وہاں پر کتے، بلیوں کے بھی حقوق ہیں۔ لیکن ڈاکٹر عافیہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ برسوں بعد ملنے آئی اپنی بہن کو چھو سکتی یا اسے گلے لگا سکتی۔ اسے یہ حق بھی حاصل نہیں کہ وہ اپنے بچوں کی تصویر دیکھ سکتی۔ پاکستان میں کسی خاتون کے ساتھ کوئی معمولی سا معاملہ پیش آ جائے تو امریکہ ہمیں عورتوں کے حقوق اور آزادی کا درس دینے لگتا ہے۔ البتہ کشمیر میں ہونے والی جنسی زیادتیوں، اغوا اور قتل کے معاملے پر امریکہ آنکھیں موند لیتا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ گوانتاناموبے اور ابو غریب جیل میں امریکہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کرتا رہا ہے۔ مگر اس کو کبھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے۔ کسی دوسرے ملک اور عالمی ادارے کی بھی مجال نہیں کہ امریکہ کی توجہ انسانی حقوق کی جانب مبذول کروائے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو آئی۔ ایم۔ ایف اور امریکی امداد کا محتاج پاکستان، امریکہ کو کسی بھی طرح کے دباؤ میں لانے سے قاصر ہے۔

ایک اور معاملہ دیکھیں۔ امریکی جج نے ڈاکٹر عافیہ کو اس جرم پر بیس سال قید سنائی کہ انہوں نے امریکی شہریوں پر حملہ کیا تھا۔ یہ سزا بیس سال مزید بڑھا دی گئی کہ وہ شہری حکومتی اہلکار تھے۔ سزا کے سالوں میں میں مزید بیس سال کا اضافہ کر دیا گیا کیوں کہ وہ شہری فوجی بھی تھے۔ عمر قید کی سزا اس وجہ سے سنائی گئی کہ ڈاکٹر عافیہ نے اسلحہ تھام رکھا تھا۔ لیکن جب پاکستان کی بات آتی ہے تو یہ قانون اور ضابطے کسی گہری قبر میں دفن ہو جاتے ہیں۔

9 مئی کو تحریک انصاف کے شرپسندوں نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے ۔ فوجیوں کے گھر اور املاک جلا دیں۔ توڑ پھوڑ کی۔ خوف و ہراس پھیلاتے، دندناتے رہے۔ لیکن جب تحریک انصاف نے (خواہ اپنی لابنگ فرموں کے ذریعے ) امریکی اراکین کانگریس کو توجہ دلائی کہ ان کے کارکنوں کے خلاف قانونی کارروائی ہو رہی ہے تو یہ اراکین کانگریس سیکرٹری انٹونی بلنکن کو خط لکھتے ہیں کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی حالت تشویش ناک ہے اس پر توجہ دیں۔

پھر ادھر ادھر سے ہمیں درس ملنے لگتا ہے کہ انسانی اور سیاسی حقوق کا احترام کیا جائے۔ امریکیوں کو یہ بھی یاد آ جاتا ہے کہ (شر پسندی میں ملوث) کچھ خواتین جیلوں میں بند ہیں۔ ان کی جنس کو بنیاد بنا کر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں بیس سال سے قید ڈاکٹر عافیہ نے پاکستانی قوم کو یہ پیغام بھجوایا ہے کہ ”مجھے اس جہنم سے نکالو“ ۔ لیکن ان کی مدد کے لئے کوئی آگے نہیں بڑھا۔ دوسری طرف نو مئی کو شر پسندی میں ملوث پاکستانی ڈیزائنر خدیجہ شاہ کے متعلق جب یہ معلوم ہوا کہ وہ امریکی نیشنلٹی کی حامل ہے، اس کو قانون کے شکنجے سے چھڑانے کے لئے بھی امریکی سفارت خانہ فوراً متحرک ہو جاتا ہے۔

یہ کھلا تضاد نہیں تو کیا ہے۔ خود امریکہ میں قانون کی گرفت کا اندازہ کیجئے کہ 2021 میں امریکی پارلیمنٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے شخص کو اٹھارہ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ سپیکر نینسی پلوسی کی کرسی پر پاؤں رکھ کر تصویر لینے والے کو ساڑھے چار سال کی سزا ہوئی۔ کہنے کا مطلب یہ کہ تمہارے فوجی پر کوئی بندوق تانے تو 86 سال قید۔ لیکن ہماری فوجی تنصیبات، چوکیوں اور گھروں کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ ہماری پارلیمنٹ، ہمارے پولیس اہلکاروں، ہمارے قوانین کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔

اس میں امریکہ کا بھی کیا دوش۔ اصل قصور خود تحریک انصاف کا ہے جو لاکھوں ڈالروں کی ادائیگی کے عوض یہ معاملہ امریکیوں کے سامنے رکھ رہی ہے۔ کاش کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی تحریک انصاف اسی طرح امریکہ میں لابنگ کرتی۔ لاکھوں ڈالر خرچتی۔ مودی کو امریکی سینیٹروں کے خط موصول ہوتے۔ مودی کو انسانی حقوق کا درس ملتا تو پاکستانیوں کے دل باغ باغ ہو جاتے۔

۔ ۔
بشکریہ روزنامہ نئی بات

Facebook Comments HS