مسیحی علماء کی عربی زبان کی خدمات (4)


لبنان میں جدید عہد کے ادبی نشاة ثانیہ کا علمبردار کہلانے والا، مارون بن حنا بن الخوری یوحنا عبود سنۂ 1885 لبنان کے علاقے جبیل کے ایک گاؤں ”عین کفا“ میں پیدا ہوا، مارون عبود نے عرب دنیا میں بطور صحافی، طنزیہ ناول نگار، نقاد، تجزیہ کار، استاد، مصنف ناول نگار اور شاعر کی حیثیت سے مقبول ہوا۔ پہلی ابتدائی تعلیم گاؤں میں۔ ہی بلوط کے درختوں کے نیچے بیٹھ کر حاصل کی، پھر سینٹ سسائن، اور پھر عیسائی مشنری اسکول سینٹ جان مارون عبود اسکول سے ہی حاصل کی، یہ ان کے خاندان کا فیملی اسکول تھا، اسکول کے ابتدائی سالوں میں ہی مارون نے اپنے ادبی رجحان کے میدان میں شاندار کارکردگی دکھائی، مارون عبود نے اسکول کے زمانے میں ہی نظمیں لکھنا شروع کر دی تھیں اور اس وقت کے مشہور اخبار ”جریدہ الروضہ“ میں شائع بھی ہونے لگیں۔

مارون کے والد کی خواہش تھی کہ مارون عبود عیسائی مذہبی تعلیم کا عالم بنے، کیونکہ مارون عبود کے دادا پادری جان عبود، اور مارون کے نانا بھی پادری موسیٰ عبود تھے، اور والد کی خواہش بھی تھی کہ وہ بھی ان کی طرح ایک مذہبی آدمی بنے۔ مگر مارون کو یہ اپنی طبیعت کی وجہ سے قبول نہ تھا، اس نے یہ اسکول چند سال بعد چھوڑ دیا، مارون عبود کی طبیعت مذہبی فرقہ واریت کے خلاف تھی۔

مارون عبود نے مزید تعلیم کے لئے بیروت کے مشہور اسکول The School of Wisdom کو چنا، ایک ایسی درسگاہ جس میں مختلف مذاہب اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔ مارون کو یہاں اپنی ادبی صلاحیتوں کے لئے سازگار ماحول میسر آیا، یہیں سے گریجویشن کیا، پھر بیروت کے متعدد علاقوں میں تدریس اور صحافت میں کام کیا، ایک طالب علم کی حیثیت سے مارون عبود نے اپنے سادہ ذرائع سے ایک ابتدائی تنقیدی اشاعت شائع کرنے کی کوشش کی جسے مارون عبود نے ”الصاعقة“ کا نام دیا۔

پھر وہ جلد ہی 20 سال کی عمر میں ”الرودہ“ اخبار کے ایڈیٹر بن گیا۔ سنۂ 1906 سے سنۂ 1914 تک مختلف اسکولوں میں تدریس کے ساتھ ساتھ، سنۂ 1910 میں صرف بیس سال کی عمر میں ”الحکمہ“ اخبار اور ”الناصر“ اخبار کے قیام میں حصہ لیا اور اس میں ایڈیٹر بنا۔ ”الحکمہ“ کے ساتھ پہلی جنگ عظیم کے آغاز تک جڑا رہا۔ سنۂ 1913 میں، وہ سب کچھ چھوڑ کر اپنے گاؤں واپس چلا گیا تاکہ وہ اپنے خاندان سے مل سکے اور ان کے ساتھ رہ سکے، یہاں گاؤں میں رہ کر ماروں عبود نے عملی طور پر سلطنت عثمانیہ کے خلاف جدوجہد شروع کی۔

مارون عبود کی عثمانی سلطنت کے خلاف جدوجہد کی وضاحت اس کے پوتے ولید ندیم عبود نے اپنے دادا کی درجنوں تصاویر کی مدد سے کی ہے، مارون عبود کی ذاتی البم واقعی ایک نادر دستاویز ہیں، جو ان کے خاندان کے پاس ہے، جن سے بہت سی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، خاص طور پر مارون عبود کی وفات کے بعد اس کے پوتے ولید ندیم مارون نے کتابوں کی اشاعت میں کردار ادا کیا تھا۔ اس نے اس کے بارے میں ایک مقالے میں بھی شرکت کی تھی، اگرچہ وہ دادا کے ساتھ نہیں رہتے تھے، لیکن ان کے والد ندیم، دو نسلوں کے درمیان ایک وفادار کڑی تھے، کیونکہ انہوں نے یہ وراثت ان تک پہنچا دی تاکہ یادداشت موجود رہے اور معلومات تازہ رہیں۔

پچھلی صدی کے پہلے نصف میں مارون عبود پورٹریٹ بنانے والے پہلے لبنانیوں میں سے ایک ہیں، مارون عبود نے اپنے گھر کی چھتوں اور دیواروں کو اپنی ڈرائنگ سے سجایا، جس میں اسے تین سال لگے، کیونکہ ہال کو تاریخی شخصیات کے چہروں سے سجایا گیا تھا۔ جیسے صلاح الدین ایوبی، فخر الدین ثانی اور بشیر الثانی، حیرام اور زینوبیا، چاول کے فصلوں کی کاشت کے قدرتی مناظر، بعلبیک قلعہ، دریائے بردہ، پالمیرا قلعہ، اموی مسجد، اور عراق و حجاز، مصر کی معروف مساجد جیسے عظیم مسجد قرطبہ، اور اندلس میں الحمرا قابل ذکر ہیں۔

اس کی پینٹنگ میں لبنانی رسم و رواج کی پوری تہذیب نظر آتی تھی، مارون عبود ایک ایسا ادیب، شاعر، نقاد اور مترجم تھا، جس نے لکھنے کی اصناف کو تبدیل کیا، مارون پیدائشی تخلیق کار تھا اور یہی اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا، اس کا گھر مجسمہ سازی اور پینٹنگ سے بھرا پڑا تھا، جہاں مارون عبود اپنے ملنے والوں کا استقبال کرتا تھا۔ مارون عبود کو جس بات پر بہت فخر تھا وہ اس کی لائبریری تھی، جسے وہ ادب اور مخطوطات کی تمام اقدار کے ساتھ تیار کرنے اور اس کی تکمیل کا خواہشمند تھا۔ وہ اپنی سردیاں ایلی گاؤں میں گزارتا تھا، جہاں وہ ایک استاد کے طور پر کام کرتا تھا، اور اس کی گرمیاں عین کفا میں گرمیوں کی تعطیلات میں ایک یا دو کتابیں لکھنے میں صرف ہوتی تھیں۔

مارون عبود پچھلی صدی میں لبنان میں مختلف مذاہب و فرقوں سامراجی سازشوں کے عہد میں پیدا ہونے والا ایسا شخص تھا جو خود فرقہ واریت کے خلاف بردبار سوچ کا حامل تھا، وہ مذاہب کے مابین نفرتوں کے لئے کھلے دل سے باغی تھا، مارون عبود فرقہ پرستی کے خلاف وہ پہلا مسیحی تھا جس نے اپنے بیٹے کا نام محمد رکھا۔ اس وقت لوگوں کے نزدیک ”محمد مارون“ ایک انوکھا ترین نام ہے، نہ صرف اس نے اپنے بیٹے کا نام ”محمد“ رکھا بلکہ اپنی بیٹی کا نام ”فاطمہ“ رکھا۔ مارون عبود کی بیٹی فاطمہ کو لبنان میں مذہبی شناخت میں درج نام پر فرقہ واریت کی بنیاد پر قتل تک کر دیا گیا تھا۔ اس شخص نے اپنی بیٹی کا درد مذہبی منافرت کے مقابل سہا تھا۔

مارون عبود نے جب اپنے بیٹے کا نام محمد رکھا، تب اسے اپنے مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید اعتراض اور تمسخر کا نشانہ بنایا گیا، اس نے ان کی پرواہ نہ کی، مارون کے خاندان و حلوہ احباب کے لوگ اسے پادری کی صورت دیکھنا چاہتے تھے مگر اس نے ان مذہبی نفرتوں کی وجہ سے اپنے بیٹے کا نام محمد رکھا۔ مارون عبود نے اس واقعے پر اپنی ایک نظم لکھی اور اس کا اظہار یوں کیا کہ

”میں نے ایک بیٹے کو جنم دیا، جب میں نے اس کا نام محمد رکھا تو لوگوں میں قیامت برپا ہو گئی، میرے مقابل ایک گروہ نفرت کرنے والا تھا، مگر کچھ محبت کرنے والے فاتح عالم بھی تھے، میرے دوست آمین الریحانی نے سب سے پہلے اس کی تعریف کی، اسی لئے میں نے یہ نظم لکھی۔

عشت یابنی، عشت یا خیر صبی ولدتہ امہ فی «رجب»
فھتفنا واسمہ محمدٌ ایھا التاریخ لا تستغرب
خفف الدھشة واخشع ان رایت ابن مارونٍ سمیاً للنبی
امہ ما ولدتہ مسلماً او مسیحیاً ولکن عربی
والنبی القرشی المصطفى آیة الشرق وفخر العرب
یا ربوع الشرق اصغی واسمعی وافھمی درساً عزیز المطلب
زرع الجھل خلافاً بیننا فافترقنا باسمنا واللقب
«فالافندی» مسلم فی عرفنا والمسیحی «خواجھ» فاعجبی
شغلوا المشرق فی ادیانة فغدا عبداً لاہل المغرب
یا بنی اعتز باسمٍ خالدٍ وتذکر ان تعش، اوفى اب
جاء ما لم یاتہ من قبلہ عیسویٌ فی خوالی الحقب
فانا خصم التقالید التی القت الشرق بشر الحرب
بخرافاتھم استھزئی وقل: ہکذا قد کان من قبلی ابی۔
وغداً یا ولدی، حین ترى اثری متبعاً تفخر بی
بک قد خالفت یا ابنی ملتی راجیاً مطلع عصر ذھبی
عصر حریة شعبٍ ناھضٍ واتحادٍ لبقایا یعرب
حبذا الیوم الذی یجمعنا من ضفاف النیل حتى یثرب
ونحیی علماً یخفق فوق منارات الورى والقبب
لیتہ یدرک ما صادفتہ عندما سمیتھ، من نصب
لو درى فی المھد اعمال الالى حرکتھم کھرباء الغضب
لابى العیش وشاء الموت فی امةٍ عن جدھا فی لعب
کم وکم قد قیل ما اکفرہ سوف یصلى النار ذات اللھب
ان یشنع بابنہ لا عجبٌ فھو غرٌ کافرٌ لا مذہبی
لا تصدق قولھم یا ولدی ان فیما قیل کل الکذب
ان حب الناس دینی وحیاة بلادی باتحاد اربی
فکتابی العدل ما بین الورى فی بلادٍ ہی ام الکتب
فاتبع یا ابنی اباً ابغضہ وجفاہ کل ذی دینٍ غبی
فھم آفة ہذا الشرق مذ حکموہ بضروب الرعب
جعلوا الادیان معراج العلى ومشوا فی زھوھم فی موکب
شردوا«احمد» عن مضجعہ فسرى لیلتہ فی کرب
ودھوا عیسى لما علمہ وھو لولا کیدھم لم یصلب
فاذا ما مت یا ابنی فی غدٍ فاتبع خطوی تفز بالارب
وعلى لحدی لا تندب وقل آیةً تزری باغلى الخطب
عاش حراً عربیاً صادقاً وطواہ اللحد حراً عربی۔
ترجمہ :
زندہ باد میرا بیٹا، زندہ باد سب سے اچھا لڑکا جو اس کی ماں نے رجب میں پیدا کیا۔
ہم نے نعرہ لگایا، اور اس کا نام محمد ہے، اے تاریخ حیران نہ ہو۔
حیرانی کو کم کرو اور عاجزی اختیار کرو اگر تم مارون کے بیٹے کو پیغمبر کے نام پر دیکھو
اس کی ماں نے اسے مسلمان یا عیسائی نہیں بلکہ ایک عرب پیدا کیا۔
اور وہ قریشی نبی، برگزیدہ، آیت مشرق اور عربوں کا فخر ہے
اے مشرق کے خطوں، ایک سبق سنو، سنو اور سمجھو، عزیز طالب علمو!
جہالت نے ہمارے درمیان جھگڑا بویا تو ہم نے اپنے نام اور لقب سے علیحدگی اختیار کرلی
ہماری روایت میں ”آفندی“ ایک مسلمان ہے، اور عیسائی ”خواجہ“ ہے، تو مجھے یہ پسند ہے۔
انہوں نے مذاہب میں مشرق پر قبضہ کر لیا تو یہ اہل مغرب کا غلام بن گیا۔
اے میرے بیٹے خالد کے نام کی قدر کرنا اور یاد رکھنا اگر زندہ رہو گے تو زیادہ وفادار ہو گے۔
جو پرانے زمانے میں اساوی سے پہلے اس کے پاس نہیں آیا تھا۔
میں ان روایات کا مخالف ہوں جنہوں نے مشرق کو جنگ کی برائی میں جھونک دیا۔
ان کے توہمات کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں : مجھ سے پہلے میرا باپ ایسا ہی تھا۔
اور کل، میرے بیٹے، جب تم میری پگڈنڈی کو دیکھو گے، تمہیں مجھ پر فخر ہو گا۔
تیرے ساتھ، میرے بیٹے، میں نے اپنے ایمان کو توڑا ہے، ایک سنہری دور کی صبح کی امید
ایک زندہ لوگوں کی آزادی اور عربوں کی باقیات کے اتحاد کا دور
وہ دن جو ہمیں دریائے نیل کے کنارے سے یثرب تک اکٹھا کرتا ہے۔
اور ایسے جھنڈے کو سلام جو بکن اور گنبد پر پھڑکتا ہے۔
کاش وہ جانتا کہ جب میں نے اس کا نام ایک یادگار سے رکھا تو مجھے کیا سامنا کرنا پڑا
اگر جھولے میں روبوٹ کی حرکتیں معلوم ہوتیں تو غصے کی بجلی سے وہ حرکت میں آ جاتے۔
اس نے جینے سے انکار کر دیا اور ایک کھیل میں اس کے دادا کی طرف سے قوم میں موت چاہتا تھا۔
کتنا اور بارہا ہی کہا گیا ہے کہ جس کا میں کفر کرتا ہوں وہ آگ میں شعلوں کے ساتھ نماز پڑھے گا۔
اگر وہ اپنے بیٹے کو گالی دے تو کوئی تعجب نہیں کہ وہ کافر ہے، کافر ہے، فرقہ نہیں ہے۔
ان کی باتوں پر یقین نہ کرنا بیٹا کہ سب جھوٹ بولا گیا۔
عوام کی محبت میرا دین ہے اور میرے وطن کی زندگی عرب اتحاد میں ہے۔
میری کتاب انصاف اس ملک میں قہر کے درمیان ہے جو کتابوں کی ماں ہے۔
تو بیٹا، ایک ایسے باپ کی پیروی کرو جس سے وہ نفرت کرتا ہے اور ہر احمقانہ مذہب کو خشک کر دیتا ہے۔
وہ اس مشرق کی لعنت ہیں جب سے انہوں نے اس پر دہشت کے ساتھ حکومت کی۔
انہوں نے مذاہب کو اللہ تعالیٰ کی معراج بنا دیا اور وہ اپنے غرور میں جلوس نکال کر چل پڑے
انہوں نے احمد کو اس کے بستر سے ہٹا دیا، اور اس کی رات تکلیف میں گزر گئی۔

جب انہوں نے عیسیٰ کو سکھایا تو انہوں نے ہل چلا دیا، اور اگر یہ ان کی سازشوں میں نہ ہوتا تو وہ مصلوب نہ ہوتے

اگر میں کل مر گیا تو میرے بیٹے میرے نقش قدم پر چلو تو جیتو گے۔
اور میری طرف سے، ماتم نہ کرو، اور ایک ایسی آیت کہو جو انتہائی قیمتی تقریروں کو متاثر کرتی ہے۔
وہ ایک آزاد زندگی جیا، دیانت دار عرب، اور وہ ایک آزاد عرب کی طرح قبر تک پہنچ گیا۔

مارون عبود کا اپنے بیٹے کا نام محمد رکھنے کے نتیجے میں اسے عیسائی مذہبی درس گاہوں سے شدید تنقید کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف حلقوں سے بھی شدید تنقید کا بھی سامنا رہا، لیکن اس نے بغاوت جاری رکھی، جس کے بعد وہ بخود ایک ”The School of Wisdom“ سے مشہور ہوا۔ جس میں مختلف مذاہب اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے دوست شامل ہوئے۔ مارون نے اس پر بھی بس نہیں کیا، اس نے پانی بیٹی کا نام فاطمہ رکھا، اور اس کی قیمت اس نے اپنی بیٹی کے قتل کی صورت میں ادا کی۔

سنۂ 1932 میں اس کی بیوی کو اس سے اغوا کر لیا گیا، مارون عبود کے بچے ابھی چھوٹے تھے، اس لیے اس نے محمد کو گاؤں میں اپنی خالہ کے سپرد کر دیا اور اپنے ساتھ باقی بچوں کو لے کر اپنے گاؤں کا رخ کیا تھا۔ اپنی زندگی کے آخری حصے میں مارون عبود کو پانی کی کمی، چکر آنے اور تھکن کی وجہ سے اپنی کتاب ”فارس آغا“ کو مکمل کرنے کے لیے بہت تکلیفیں اٹھانا پڑیں۔ مارون عبود امید سے جڑے رہنے والا اور ہمیشہ مسکراتا رہتا تھا، اپنے خاندان کے ساتھ رہنے کا خواہشمند تھا۔

مارون عبود کی مہربان روح، اور خوش مزاج شخصیت نے اسے ہمیشہ طاقت بخشی۔ لیکن آخری مہینوں میں جب اس کی کمزوری اپنی حد تک پہنچ گئی تو اس نے اپنے بچوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنے کمرے میں کسی کو کمزور، بیمار دیکھنے کے لیے داخل نہ ہونے دیں۔ مارون عبود نے سنۂ 1923 سے ایک استاد کے طور پر کام کیا جب تک کہ وہ بیماری سے تھک نہیں گیا، اور وہ 77 برس کی عمر میں سنۂ 1962 میں فوت ہوا۔

متعدد ادبی اصناف کے درمیان بے ساختہ اور مہارت کے ساتھ منتقل ہونے والے پولی میتھ مارون عبود کی وفات کے ساٹھ سال گزر جانے کے بعد بھی ایک عرب کے علماء میں زندہ ہے۔ مارون عبود کی طنزیہ نگاری، اس کی نقش نگاری، اس کے گاؤں کے کردار اور اس کی زبان سے ملتی جلتی کوئی چیز نہیں عربی ادب میں نہیں ملتی، جسے عام بول چال سمجھا جائے، ایک ایسا اسلوب جو ممکنہ حد تک عام موجودہ عرب بول چال کے قریب ہونے کے باوجود اس بات کو باور کرواتا تھا اسے عظیم کلاسیک عربی کے درمیان وقف کیا جائے، اور یہ تصنیفات لبنانی ادبی اسکول کے نصاب کا لازمی حصہ بن جائیں۔

مارون عبود ایک باصلاحیت، متنوع، ایک سچا فنکار، اور ایک قابل مصنف تھا جس نے ساٹھ کے قریب کتابیں چھوڑیں، جن میں عربی روانی کی فراوانی، اس کی انسانی گہرائی، اور اپنے عہد کے ماحول میں اس کی اصل ڈوبی ہوئی ہو۔ اپنی ادبی قدر کے علاوہ، مارون عبود ایک محنتی ادیب، ایک محنت کرنے والا دیہاتی، ایک عقیدت مند استاد کا نمونہ رہا، جس نے اپنی بہت سی تحریریں اپنے طلباء کی خدمت میں لکھیں، اور ایک باپ جس نے اپنے بچوں کی پرورش کرنے کے لیے ماں کا کردار بھی ادا کیا۔ مارون عبود کے تمام چہرے چمک رہے ہیں، عرب کے انٹرنیٹ پر یہاں کے انسائیکلوپیڈیا معلومات کے مطابق مارون عبود کی 60 کے قریب تالیفات ہیں۔ ان میں مشہور ترین الرؤوس، على المحک، مجددون و مجترون، اقزام جبابرہ اور اشباح و رموز ہیں۔

Facebook Comments HS