ہمارے عہد کا سب سے بڑا تاریخ دان؟
ہمارے عہد کا سب سے بڑا تاریخ دان کون ہے یہ ایک سوال ہے۔ جو مجھ سے گزشتہ سال مختلف یونی ورسٹیوں کے طلبہ نے دوران لیکچرز پوچھا۔ سچ تو یہ ہے اس بات پر کبھی میں نے اس طرح غور ہی نہیں کیا تھا۔ ذہین میں جب اس سوال پر کئی ماہ غور کیا تو کچھ یہ سمجھ میں آیا۔ ایک تو یہ کہ بد قسمتی سے پاکستان میں ورلڈ کلاس ایلیٹ یونی ورسٹی ہی کوئی نہیں۔ اس لئے عالمی سطح کے محقق و پروفیسرز بھی نہ بن سکے۔ ماضی میں تھی۔ یاد رہیے کہ 1900۔ 1950 کے عشرہ میں اسی لاہور میں متعدد پروفیسرز کو نوبل انعام تک ملے۔
لیکن پھر بھی اس عہد (یعنی گزشتہ 50 سالوں میں ) کچھ لوگوں نے شعبہ تاریخ میں اہم کام کیا۔ ان کے نام درج ذیل ہیں۔
1۔ ڈاکٹر مبارک۔ ان کا کام مغل دربار اور مجموعی سماج کے حوالے سے ہے
2۔ ڈاکٹر طارق رحمن ان کا کام زبان اور اس کی تاریخ و اس سے جڑی سیاست کے حوالے سے ہے۔
3 ڈاکٹر عائشہ جلال امریکہ میں ہارورڈ سمیت اہم جامعات میں پروفیسر ہیں۔ قیام پاکستان کی دہائیوں اور حالیہ کام بحر ہند کے حوالے سے اہم ہے
4۔ عرفان حبیب۔ علی گڑھ یونی ورسٹی سے وابستہ ہیں اور قدیم ہند۔ مہا بھارت عہد اور پھر جدید ہند میں لیف سیاست و معیشت کی تاریخ پر اہم ترین آواز ہیں۔
5 پانچواں نام ڈاکٹر اشتیاق کا ہو گا جو کہ بیشک باقاعدہ طور پر تاریخ کے مضمون سے تعلق نہ رکھتے ہیں بلکہ ان کا مضمون پولٹیکل سائنس ہے۔ لیکن کی پنجاب کی تقسیم کی تاریخ پر تحقیق و سمجھ یقینی طور پر ہمارے عہد سب سے بہتر ہے
6۔ جہاں تک شہر باکمال، مبارک، دل عزیز اور ہر لحظہ بدلتے لاہور کی تاریخ کا تعلق ہے تو اس کے اوپر ایک نام نہیں لیا جا سکتا۔ اس وقت 400 کے قریب کتابیں و مقالہ جات۔ جس میں میری کتاب ”گواچا لاہور“ بھی شامل ہے موجود ہیں۔ ہر کی اپنے اپنے پس منظر میں اہمیت ہے۔ خاص طور پر تحقیقات چشتی جس میں شہر کی تمام اہم مقامات کا احاطہ کیا گیا، بابر علی صاحب کی سوانح عمری جس میں شہر مال روڈ فارسی، تحلیل ہوتی اخلاقیات، آلودہ ہوتی فضا اور پتہ نہیں کیا کیا، ڈاکٹر طاہر کامران (کیمبرج یونیورسٹی) کی حالیہ کتاب اپنی تحقیقی تکنیک کے حوالے سے قابل دید ہے۔ جو کہ راج میں لاہور کیسا تھا کا موضوع لیا ہوئے ہے۔ اور دوبارہ یہ کہوں گا کہ تمام 400 اپنی جگہ یادوں کے حوالے سے اہم ہیں۔ گو کہ گزشتہ دہائی میں غلط تاریخی حوالے دینے کا رواج بڑھا۔
7۔ جہاں تک پنجاب کی تاریخ کا تعلق ہے تو میرے مطابق اس حوالے سے ہمارے پاس سب سے بڑا دریا ہیر وارث شاہ، لال حسین دا کلام، بابا بلھے شاہ کا کلام، گرنتھ سمیت بابا مارکہ شاعری ہی ہے۔ باقی سرکاری تاریخ کی کتابیں بھی ہر عہد میں آئی اور ردی میں گئی۔


