ہدایت کار اور فلمساز ڈاکٹر حسن زی کی فلمی علمی باتیں


 جولی ایلورسن، میری ماں :

” فلم ’نائٹ آف حنا‘ ( 2005 ) کی تیاری میں مجھے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہالی ووڈ میں سالانہ ایک امریکن فلم مارکیٹ لگتی ہے میں نے وہاں جا کر ’میرا میکس‘ ، ’سونی پکچرز‘ ، ’یونیورسل‘ وغیرہ کے فلم خریدنے والے ایکیوزیشن ایگزیکیٹیو سے ملاقات کی۔ کوئی بھی میری فلم لینے کو تیار نہیں تھا۔ میں اپنی فلم بنانے کے بعد خاصا پریشان تھا۔ اس پر 75,000 ڈالر خرچا آ چکا تھا۔ مجھے مسائل سے نکلنے کا راستہ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

آپ جانتے ہیں کہ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی اپنے والدین کو پیسے بھیجتے رہتے ہیں میں بھی ویسٹرن یونین کے ذریعے رقم بھیجتا تھا۔ ایک روز فون پر ویسٹرن یونین کی ایک خاتون ’جولی ایلورسن‘ تھیں۔ انہوں نے فوراً پوچھا کہ تم کچھ پریشان لگتے ہو کیا بات ہے؟ میں نے بتایا کہ میں ایک فلم میکر ہوں۔ اس پر وہ بولیں کہ وہ ایک فیسٹیول ڈائریکٹر بھی ہیں۔ چوں کہ اس وقت زیادہ بات نہیں کر سکتی تھیں لہٰذا انہوں نے مجھے اپنا ذاتی نمبر دے کر کہا کہ شام کو فون کرنا۔

ہم انڈی فلم ڈائریکٹر جب خوش ہوتے ہیں تو ساری دنیا انہیں خوش دکھائی دیتی ہے اور جب وہ افسردہ ہوں تو ان کی بات چیت سے دوسرے فوراً جان جاتے ہیں کہ ان کے ساتھ مسئلہ ہے۔ میں نے شام کو فون کیا اور ہم نے پانچ گھنٹے فلموں کی باتیں کیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ خاصی بڑی رقم فلم پر لگا چکا ہوں لیکن چوں کہ فلم پاکستانی موضوع پر ہے اس لئے کوئی بھی تقسیم کار اسے خریدنے کے لئے تیار نہیں۔ اس پر جولی نے کہا کہ حسن!

تم سان فرانسسکو اسٹیٹ یونیورسٹی چلے جاؤ۔ میں نے کہا کہ میں تو میڈیکل ڈاکٹر ہوں مجھے دوبارہ یونیورسٹی جانے کی کیا ضرورت ہے؟ تب اس نے سمجھایا کہ وہاں شعبہ فلم میں جاؤ۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ سان فرانسسکو یونیورسٹی میں فلم کا ایک بہت بڑا شعبہ تھا۔ میری ملاقات وہاں کے ایوینٹ کوآرڈینیٹر سے کروائی گئی۔ ان کا نام موارٹا کنیاٹا تھا۔ مجھ سے مل کر حیران ہوئے کہ تم میڈیکل ڈاکٹر ہونے کے ساتھ فلمیں بھی بنا رہے ہو؟ میری فلم کے بارے میں سوالات کیے۔ میں نے پوسٹر وغیرہ دکھائے۔ کہنے لگے کہ ہم تمہاری فلم کو یونیورسٹی کے سب سے بڑے ہال میں دکھائیں اور پریس ریلیز تیار کریں گے۔ وہی پریس ریلیز پھر

’ میرا میکس‘ ، ’سونی پکچرز‘ ، ’یونیورسل‘ وغیرہ کو میں نے ای میل کر دی کہ میری فلم فلاں تاریخ کو سان فرانسسکو میں فلاں جگہ چل رہی ہے۔ اب ان ہی لوگوں کے فون آنا شروع ہو گئے۔ پھر سونی پکچرز سے ایک خاتون برونیلا لیزی جو کہ ادارے کی وائس پریزیڈنٹ تھی اسی شام ہوائی جہاز میں سان فرانسسکو آئیں اور میری فلم کو سائن کر لیا۔ میری وہ آٹھ مہینوں کی تھکن، ذہنی دباؤ اور جن مشکلات سے میں گزرا تھا اس کا میٹھا پھل سامنے تھا۔ میں نے فلم پر جتنے پیسے لگائے تھے وہ تمام مجھے اسی وقت مل گئے۔ 2005 کے بعد سے میں نے جولی کو اپنی ماں کہنا شروع کر دیا۔ میں کئی ایک مرتبہ ان کے گھر واقع ریاست ویسٹ ورجینیا بھی گیا ہوں۔ اب ان کی عمر 80 سال ہے ”۔

” ڈاکٹر صاحب یہ تو خود ایک فلمی کہانی لگ رہی ہے! “ ۔ میں نے برجستہ کہا۔
” (مسکراتے ہوئے ) آدمی کی لگن سچی ہو تو روحیں دروازے کھول دیتی ہیں“ ۔ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔
دریا کو کوزے میں بند کرنا یا ون پیج فلمی کہانی :
” ڈاکٹر صاحب فلم کی کہانی کیسے چنی جاتی ہے کچھ اس کا بتائیں؟“ ۔

” کہانیاں تو آپ کے چاروں جانب ہوتی ہیں۔ گرد و پیش کا کوئی چھوٹا سا واقعہ بعض اوقات آپ کے ذہن میں بس جاتا ہے۔ آپ اس پر سوچتے رہتے ہیں۔ میں نے پاکستان میں جلے /جلائے گئے افراد کے وارڈ میں بھی کام کیا۔ ایک ایسی بھی مریضہ تھی جس کو اس کے رشتہ داروں نے قصدا جلایا تھا لیکن وہ آخر دم تک یہ ہی کہتی دنیا سے رخصت ہوئی کہ چولہا پھٹ گیا تھا۔ پورے اسپتال کو علم تھا کہ وہ خاتون نہ جانے سچ کیوں نہیں کہہ رہی۔ یہ کہانی اور اس خاتون کی بے چارگی میرے ذہن میں گھوم رہی تھی۔ اس پس منظر میں، میں نے کہانی کا ون پیج تیار کیا۔ یعنی ایک صفحہ میں پوری کہانی یا دوسرے الفاظ میں دریا کو کوزے میں بند کیا“ ۔

اسکرین رائٹنگ:

” سب سے پہلے ایک صفحہ کی کہانی لکھی جاتی ہے۔ اس کے بعد ایکٹ ون، ایکٹ ٹو وغیرہ کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے۔ اسکرین رائٹنگ کے بھی بنیادی اصول ہیں جو کہانی لکھنے کے لئے بہت ضروری ہوتے ہیں۔ تو ون پیج لکھنے کے بعد اس کہانی کے کرداروں کی تلاش کی جاتی ہے۔ مرکزی کردار ادا کرنے والے کو پروٹیگنسٹ کہتے ہیں۔ اس کے بعد سپورٹنگ کردار، ولن یا منفی کرداروں کا

انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد سین لکھنے کا مرحلہ آتا ہے۔ میں نے کافی عرصہ سان فرانسسکو پبلک لائبریری میں اسکرین رائٹنگ پر بے شمار کتابیں پڑھیں۔ ناول ایک الگ صنف ہے اس میں کردار کے جذبات و احساسات کو مفصل اور آسانی سے پیش کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس اسکرین پلے کے صفحہ پر وہی لکھا جاتا ہے جو پردہ اسکرین پر نظر آ رہا ہے۔ تفصیل نہیں لکھ سکتے۔ مثلاً ایک غمزدہ کردار ہے، اس کے دل میں کیا بیت رہی ہے یہ آپ ناول میں بہت آسانی سے بیان کر سکتے ہیں لیکن اسکرین پلے میں اس کردار کے اندرونی جذبات نہیں لکھ سکتے۔

یہ جذبات اسکرین پر وہ کردار اپنی اداکاری سے پیش کرتا ہے۔ اسکرین پلے کی ایک اپنی ترتیب ( فارمیٹ ) ہوتی ہے جس کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ کیوں کہ یہ اسکرین پلے صرف اداکاروں کے لئے نہیں ہوتا بلکہ اس کو کیمرہ مین، الیکٹریشین، پروڈکشن ڈیزائنر، میک اپ آرٹسٹ۔ الغرض تمام عملہ وہ اسکرین پلے پڑھتا ہے۔ پھر ہر ایک شعبہ، فلم ڈائریکٹر کو اپنی رائے بھیجتا ہے ”۔

” اب ایکٹ ون کا سین بائی سین لکھنے کام شروع ہوتا ہے کہ اس میں کیا کیا ہو گا پھر اسی طرح تمام ایکٹ میں سین لکھے جاتے ہیں۔ کوئی سین بڑے اور کچھ چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ ایک صفحہ ایک منٹ کے برابر سمجھا جاتا ہے۔ یوں کہانی کی ساخت تیار ہوتی ہے۔ عام امریکی انڈی پینڈنٹ فلم 90 سے 120 منٹ کی ہوتی ہے لہٰذا اسکرین پلے بھی اتنے ہی دورانیے اور صفحات کا ہوتا ہے۔ 130 یا 140 منٹ دورانیے والی ایپک فلم کہلاتی ہے۔ ایسی فلمیں قابل قبول نہیں ہوتیں۔ البتہ اسٹوڈیوز اگر چاہیں تو وہ بنا سکتے ہیں کیوں کہ ان کے پاس بے شمار پیسہ، وسائل اور سنیما میسر ہوتے ہیں“ ۔

پلاٹ پوائنٹس :

اس کے بعد پلاٹ پوائنٹ لکھے جاتے ہیں۔ وہ یہ کہ ہر ایک پندرہ منٹ بعد دیکھنے والوں کو کہانی میں کوئی ایسا دھچکہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ بے اختیار پکار اٹھتے ہیں کہ اب کیا ہو گا؟ فلم دیکھتے وقت سب سے پہلی بات یہ کہ کس کی آنکھوں یا نکتہ ء نظر سے آپ فلم دیکھ رہے ہیں۔ اسی لئے پہلے آپ مرکزی کرداروں کا تعارف کرواتے ہیں۔ عام طور پر امریکی فلم اسی طرح سے سادا کہانی والی ہوتی ہے۔ ایک ہی کردار کے گرد گھومتی ہے اور پھر اس کے ساتھ دیگر سپورٹنگ کردار کہانی کے واقعات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ یہ سب اتنا دلچسپ ہوتا ہے کہ فلم دیکھنے والوں کو ہر دس پندرہ منٹ میں ایک جھٹکا لگتا ہے! یہ ہی ’اب کیا ہو گا‘ کہانی کی سب سے اہم ترین بات ہوتی ہے ”۔

کہانی۔ اسکرین پلے۔ شوٹنگ اسکرپٹ :
” کیا کہانی، اسکرین پلے، شوٹنگ اسکرپٹ سب ایک ہی چیز ہیں؟“ ۔

” میں نے اب تک چھ فلمیں بنائی ہیں اور مجھے بھی انہیں سمجھنے میں وقت لگا۔ کام کے دوران ساتھ ساتھ ان باتوں کو سمجھتا گیا۔ اسکرین پلے میں پوری کہانی کو ایکٹ کی ترتیب سے سمو دیا جاتا ہے۔ وہاں اسکرین پلے چوری کے ڈر سے ایک دوسرے سے چھپائے نہیں جاتے۔ تمام لوگ آپ کے ساتھ ایک رازداری معاہدے پر دستخط کرتے ہیں۔ وہاں کے تمام پیشہ ور فلمی دنیا کے لوگ ایسا سوچتے بھی نہیں کہ ہم کسی اور کی کہانی لے کر نقل کر لیں کیوں ایسا کرنے میں کرنے والے کا اپنا ہی نقصان ہوتا ہے۔

پھر اسکرین پلے کاپی رائٹ کیا جاتا ہے یوں جملہ حقوق الگ محفوظ ہو جاتے ہیں۔ پھر ہر ایک کارکن کے حوالہ جات دیکھے بھی جا سکتے ہیں۔ سب باتیں ایک طرف۔ وہاں یہ کام نہایت ہی ایمان داری کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ جب آپ آرٹ کا کام کرتے ہوئے خون پسینہ ایک کر رہے ہیں تو آپ ان لوگوں کو اپنی ٹیم کا حصہ بنائیں گے جو آپ کے کام کو اپنا کام سمجھ کر اس کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے! “ ۔

شوٹنگ اسکرپٹ:

” میں اپنی بات کرتا ہوں۔ میری اس فلم کا 90 صفحات کا پہلا اسکرین پلے جیفری وین نے لکھا۔ یہ میری ٹیم کا ایک اہم رکن ہے۔ ہر شخص کی اپنی اپنی خاصیت ہوتی ہے۔ شاید مجھ میں اچھی کہانیاں تلاش کرنے کی تھوڑی بہت صلاحیت موجود ہے۔ جیفری وین کو سین لکھنے میں بڑی مہارت ہے۔ پھر یہ کہ اسکرین پر کس طرح سے پیش ہوں گے؟ کہانی میری اور سین وہ لکھتا ہے یوں ہم دونوں مل کے کام کرتے اور کمپیوٹر پر سین لکھنے لکھانے پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

پھر وہ اسکرین پلے تیار ہو کر تمام یونٹ میں چلا جاتا ہے۔ اب فلم بندی کا مرحلہ آتا ہے۔ اسی اسکرین پلے کو شوٹنگ اسکرپٹ میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ آپ ہر سین میں دیکھتے ہیں کہ کتنے اداکار ہیں اور کیا کام کرنا ہے۔ سب سے پہلے لوکیشن ضروری ہوتی ہے۔ جس طرح تمام سین لکھے ہوتے ہیں اسی ترتیب سے ہم شوٹ نہیں کرتے بلکہ یہ لوکیشن کے حساب سے کیا جاتا ہے“ ۔

شاٹ ڈویژن یا شاٹ کی تقسیم:

” شوٹنگ اسکرپٹ میں کیمرہ مین کے ساتھ بیٹھ کر ایک ایک سین پر بات ہوتی ہے کہ اس کو کس طرح سے شوٹ کیا جائے گا؟ کتنے سیٹ اپ میں شوٹ ہو گا؟ اس کے کتنے شاٹ بنیں گے؟ سین کی شروعات ہم ماسٹر شاٹ سے کرتے ہیں۔ اس سے سین کی لوکیشن معلوم ہوتی ہے۔ پہلے وہ سین ماسٹر میں شوٹ ہوتا ہے۔ پھر اس کو میڈیم اور اس کے بعد کلوز اپ میں شوٹ کیا جاتا ہے۔ پھر ہر ایک اداکار جو اس سین میں ہے اس کے کلوز اپس لئے جاتے ہیں۔ اس عمل کو شاٹ ڈویژن یا شاٹ کی تقسیم کہتے ہیں“ ۔

اسٹوری بورڈ:

” ماضی میں ہالی ووڈ میں جو اسٹوڈیو فلمیں بنیں ان میں ہدایتکار الفریڈ ہچکاک ( 1899 سے 1980 ) کا بڑا نام ہے۔ یہ شوٹنگ اسکرپٹ میں الیسٹریٹر /مصور /گرافک ڈیزائنر کو بلوا کر اسٹوری بورڈ بنواتے تھے۔ ہر ایک شاٹ میں کردار کیسے دکھے گا/ دکھیں گے؟ ماسٹر شاٹ کیسے ہو گا؟ چھ چھ مہینے تو وہ صرف اسٹوری بورڈ پر ہی کام کرتے تھے۔ اس کو شاٹ ڈویژن سینس اسٹوری بورڈ کہتے ہیں۔ ویسے انڈی فلم میں اسٹوری بورڈ بھی ہلکے پھلکے بنا سکتے ہیں کہ ماسٹر یہاں پر ہو گا۔ یہاں سے اس طرح اداکار فریم میں داخل ہوں گے۔ یہاں پر مکالمے ادا کریں گے“ ۔

فلم میں رنگوں کی اہمیت:

” اپنی پہلی فلم ’نائٹ آف حنا‘ ( 2005 ) کی عکس بندی کے دوران میں نے نامور کیمرہ مین ہیرو نریٹا ( پیدائش 26 جون 1941 ) سے یہ سیکھا کہ سیٹ پر رنگوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ وہ چوں کہ اسٹوڈیو کی بڑے بجٹ والی فلموں کا کام کرتے تھے لہٰذا یہ ان فلموں کے لئے ضروری تھا۔ جب کہ انڈی فلم حقیقت ہی کا عکس ہوتی ہے لہٰذا ان میں اصل لوکیشن ہی استعمال کی جاتی ہے۔ بہر حال ہم نے لوکیشن پر اداکاروں کے ملبوسات کے رنگوں کی مناسبت سے سیٹ ڈیزائنر کو بلوا کر پردوں اور بیڈ شیٹس کے رنگوں سے مطلوبہ نتائج حاصل کر لئے“ ۔

کنٹی نیوٹی یا تسلسل:

” کنٹی نیوٹی یا سین اور فلم کا تسلسل بے حد اہم ہے۔ ہمارے ساتھ ایک اسکرپٹ سپروائزر ہوتا ہے جس کا کام ہی تسلسل پر نظر رکھنا ہوتا ہے۔ مثلاً اداکار نے اپنے کس ہاتھ میں گلاس پکڑا ہوا تھا، گلاس کہاں پر رکھا۔ وہ کیمرے کے فریم میں کہاں سے آیا اور کہاں سے نکلا ہے۔ اس نے کپڑے کون سے پہن رکھے تھے۔ آستینیں چڑھی ہوئی تھیں یا نہیں۔ اس سب کو نوٹ کرنے کے ساتھ ان کی اسٹل تصویریں بھی لی جاتی ہیں۔ اس سپروائزر کے ساتھ میں خود بھی اس کا بہت خیال رکھتا ہوں۔ ایسا کرنے سے وہ سین پردے پر عین حقیقی نظر آئے گا“ ۔

ایک زمانے میں پاکستان اور بھارت کے تمام روزناموں، ، ہفت روزوں اور رسالوں میں ’فلمی بد حواسیاں‘ کے عنوان سے سین کے ناکام تسلسل پر باقاعدگی سے لکھا جاتا تھا مثلاً کردار فریم آؤٹ ہوا تو دائیں ہاتھ میں سگار تھا، پھر جب وہ فریم ان ہوا تو جادو کے زور سے سگار بائیں ہاتھ میں جا چکا تھا وغیرہ۔

” جب عکس بندی 25 دنوں میں مکمل کر لی جائے تو کہا جاتا ہے کہ یہ تو فلم کے ساتھ مذاق ہے؟ کچھ اس پر روشنی ڈالیے ؟“ ۔ میں نے سوال پوچھا۔

” نہیں نہیں! اگر آپ کی تمام چیزیں تیار ہیں اور بہت توجہ کے ساتھ عکس بندی کا منصوبہ ترتیب دیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ کام، کی گئی منصوبہ بندی کے عین مطابق مکمل نہ ہو! ہاں البتہ آپ نے ایک ایسی ٹیم کا چناؤ کرنا ہے جو وقت کی پابند ہو۔ یہ ہی کام بروقت مکمل ہونے کی کنجی ہے۔ میں نے پاکستان میں دو فلمیں بنائی تھیں ’گڈ مارننگ پاکستان‘ ( 2018 ) اور ’پاکستانی چین ساء‘ ( 2021 ) ۔ چکوال میں ہمارا بڑا گھر ہے تو میں نے تمام اداکاروں کو لاہور سے بلوا لیا۔ میرے کیمرہ مین کراچی سے آ گئے۔ دو تین ہفتے کی عکس بندی کے دوران وہ چکوال میں رہے“ ۔

” ہاں آپ نے ان اداکاروں کو تلاش کرنا ہے جو فلم کی کہانی میں اپنے جذبات کو شامل کر کے انصاف کر سکیں کیوں کہ جذبات اداکار کا ہتھیار ہوتے ہیں۔ میں نے اپنی پہلی فلم کو 25 دن میں شوٹ کیا تھا۔ دوسری فلم 21 روز اور تیسری فلم 15 دن میں۔ ایکشن والے سین کے مقابلے میں رومانٹک سین نسبتاً جلدی ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ کی پوری ٹیم تجربہ کار اور وقت کی پابند ہے تو آپ کی فلم توقع کے عین مطابق مکمل ہو سکتی ہے“ ۔

” سننے میں آتا ہے کہ ہالی ووڈ کی فلاں فلم کا اسکرین پلے فلاں لائبریری میں موجود ہے تو کیا انڈی فلموں کے اسکرپٹ بھی لائبریری میں ہوتے ہیں؟“ ۔

” بہت سی ہالی ووڈ فلموں کے اسکرین پلے کتابوں کی شکل میں موجود ہیں۔ یہاں کے بڑے شہروں کی پبلک لائبریریوں میں پرانی کلاسیک فلموں کے اسکرین پلے مل جاتے ہیں۔ البتہ چھوٹی انڈی فلموں کے اسکرین پلے آپ خود کتابی شکل میں ان لائبریریوں میں رکھوا سکتے ہیں“ ۔

کچھ ’سال زینتھ اسٹوڈیو‘ کا احوال:

” جب آپ نے پہلی انڈی فلم بنائی تو لوگوں یا تقسیم کاروں کو پوری فلم دکھائی یا اس کا کچھ حصہ؟ اور جن پنڈتوں نے مشورے دیے ان کا کیا کیا؟“ ۔

” پہلی فلم میں تو میں بہت جذباتی تھا۔ ساتھ ہی میرا سیکھنے کا بھی عمل تھا۔ میرے سینماٹو گرافر آسکر ایوارڈ یافتہ ہیرو نیریٹا تھے۔ ان کے توسط سے میری ’سال زینتھ اسٹوڈیو‘ والوں سے ملاقات ہوئی۔ کچھ اس اسٹوڈیو کا بھی ذکر ہو جائے : میں جب ریاست ہائے متحدہ امریکہ گیا تب وہاں پر دو فلمیں بہت مقبول تھیں : ’ٹائی ٹینک‘ ( 1997 ) اور ’انگلش پیشنٹ‘ ( 1996 ) ۔ دونوں ایوارڈ یافتہ فلمیں تھیں۔ میں نے دونوں فلمیں سنیما میں دیکھیں اور آخر الذکر تین مرتبہ دیکھی۔

اس فلم کی پوسٹ پروڈکشن ایڈیٹنگ اور ساؤنڈ، سان فرانسسکو کے پاس ’برکلی‘ شہر میں ’سال زینتھ اسٹوڈیو‘ میں کی گئی۔ اس اسٹوڈیو نے خود کئی ایک بڑی آسکر ایوارڈ یافتہ فلمیں بنائیں اور یہیں پوسٹ پروڈکشن کا کام ہوا۔ مجھے اس اسٹوڈیو میں خوش آمدید کہا گیا۔ میں نے بتایا کہ میں پہلا پاکستانی فلم میکر ہوں اور ابھی ’نائٹ آف حنا‘ شوٹ کی ہے۔ انہوں نے میری فلم دیکھنے کی فرمائش کی۔ جس اسکرین پر ’انگلش پیشنٹ‘ سب سے پہلی دفعہ دکھائی گئی تھی میری فلم بھی وہاں دکھائی گئی حالاں کہ میری فلم اس وقت مکمل نہیں ہوئی تھی۔

ہم نے وہاں دیکھنے والوں کی رائے بھی لی کہ فلم میں مزید کوئی بہتری کی گنجائش ہے؟ وہاں مختلف آراء دی گئیں۔ میں نے نوٹ کردہ رائے اپنے ایڈیٹر کو بتلائیں۔ ان آراء کی روشنی میں فلم کی ضروری تدوین کر لی گئی۔ لیکن اس کے بعد مجھے یوں لگا کہ جو میں بتانا چاہتا تھا کہانی وہ نہیں رہی بلکہ اس کی شکل ہی بدل گئی۔ کیوں کہ ایک فلم تو اسکرین پلے میں ہوتی ہے۔ ایک اداکاروں کے ساتھ عکس بندی کے وقت اور ایک ایڈیٹنگ کے وقت بنتی ہے۔ لہٰذا وہ بدلی ہوئی فلم میرے دل کو نہیں لگی۔ میں نے فلم کی ریلیز سے دو تین ہفتے پہلے ایڈیٹر کے ساتھ بیٹھ کر اسے اصل کہانی کے مطابق کر دیا“ ۔

” یہاں سے میں نے یہ سیکھا کہ آپ کو فلم کی کہانی پر مکمل گرفت ہونی چاہیے۔ اداکار ہمیشہ باصلاحیت ہوتے ہیں۔ وہ ایک سین کو دس مختلف طریقوں سے کر سکتے ہیں۔ بحیثیت ڈائریکٹر آپ کہانی کے عین مطابق اس اداکار سے کام کروائیے۔ میں نے امریکی اور بھارتی منجھے ہوئے اداکاروں کے ساتھ کام کیا ہے۔ اسکرین پلے کے حساب سے ٹھوس اور جاندار کام کروانا ہی صحیح ہدایت کاری ہوتی ہے۔ اسی طرح شوٹنگ اسکرپٹ میں شاٹ کی تقسیم کا بھی علم ہونا چاہیے کیوں کہ ڈائریکٹر ہی فلم بینوں کو فلم دکھاتا ہے“ ۔

” ڈاکٹر صاحب آپ نے انڈی فلم کی ابجد کو اتنے مختصر وقت میں کتنی آسانی سے بتلا دیا گویا دریا کوزے میں بند کر دیا“ ۔

جواب میں زیر لب مسکراہٹ۔

” جب آپ پہلی انڈی فلم بنا رہے تھے تو مختلف شعبوں میں لوگوں کو رکھا گیا۔ آپ کو کب علم ہوا کہ یونٹ میں تو ضرورت سے زیادہ افراد بھرتی کر لئے گئے ہیں“ ؟

” اس سوال کے جواب میں میری پہلی فلم ’نائٹ آف حنا‘ کی تیاری کی دلچسپ کہانی ہے۔ میری خواہش تھی کہ میں نے یہ کام کر کے دنیا کو دکھانا ہے۔ اسی دھن میں ایک روز میرا گزر کیمروں کی ایک دکان پر ہوا جہاں اکیڈمی ایوارڈ یافتہ کیمرہ مینوں کے نام لکھے ہوئے دیکھے۔ میں نے دکان والوں سے پوچھا کہ ان میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو سان فرانسسکو میں رہتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک ہیرو نیریٹا ہیں جو کبھی کبھار یہاں پر آ جاتے ہیں۔

میں نے رابطہ نمبر لے کر انہیں فون کر دیا۔ اتفاق سے اگلے روز وہ سان فرانسسکو آ رہے تھے یوں ہماری ملاقات ہوئی اور میں نے انہیں اپنی فلم کا اسکرپٹ پیش کیا۔ میں سوچ رہا تھا کہ میں تو بالکل نیا ہوں میرے جیسے بہت سے اسکرپٹ ان کے پاس آتے ہوں گے لیکن تین دن بعد ان کا فون آیا کہ مجھے تمہارا اسکرین پلے پسند آیا۔ یہ سن کر تو جیسے میرے قدم زمین پر جم ہی نہیں رہے تھے“ ۔

” میں چوں کہ فلم آرٹس فاؤنڈیشن جاتا تھا۔ ان کا ایک رسالہ ہر مہینے شائع ہوتا تھا اس میں کیمرے بنانے والی ایک بہت بڑی امریکن کمپنی پانا وژن کے نئے پیکیج کا اشتہار نظر سے گزرا۔ جس سے علم ہوا کہ وہ نئے فلم میکرز کے لئے ایک پیکیج لائے ہیں جس کو حاصل کرنے کے لئے درخواست دی جا سکتی ہے۔ اس میں فلم بنانے کے لئے کیمرے کا پورا پیکیج اور بہت سی سہولیات دی جانا تھیں۔ میں نے ان سے رابطہ کیا۔ دوسری طرف ایک خاتون لوری تھیں۔

میں نے تعارف کرانے کے بعد کہا کہ میں اپنی پہلی انڈی فلم بنانا چاہتا ہوں۔ ہنس کر کہنے لگیں کہ ڈاکٹر اور فلم؟ پوچھا کہ تمہارا سینماٹو گرافر کون ہے؟ میں نے کہا ہیرو نریٹا۔ مجھے یوں محسوس ہوا گویا یہ نام سن کر تھوڑی دیر لوری پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا۔ پوچھا کیا کہا؟ میں نے جواب دیا ہیرو نریٹا! کہنے لگیں کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ پہلی فلم بنا رہے ہیں اور کیمرہ مین ہیرو نریٹا ہیں! اب مجھے اندازہ ہوا کہ اس سینماٹو گرافر کا فلمی حلقوں میں کیا مقام ہے! (جاری ہے)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).