سفر آب
ثاقب چلو یار دعا کرنا میں خیریت سے جاؤں۔ بچوں کی دعائیں تو ویسے بھی قبول ہوتی ہیں۔ پھر جب آؤں گا تمہارے لیے ٹافیاں لے آؤں گا۔ ناصر نے پندرہ سالہ ثاقب سے کہا۔ ناصر بھائی آپ کدھر جا رہے ہیں۔ دیکھو تمہیں تو گھر کے حالات کا پتہ ہے۔ کھانے کا لالے پڑے رہتے ہیں۔ وہ اپنے فیاض صاحب ہیں وہ بندے باہر بھیج رہے ہیں۔ انہی کے وسیلے جا رہا ہوں۔
اوہ اچھا اپ خلیج جا رہے ہو۔ ایک اور دوست ارسلان نے پوچھا۔
نہیں یاروں میں یونان جا رہا ہوں۔
ہیں ہیں۔ سب دوستوں کے منہ سے یک زبان نکلا۔ ادھر کا ویزا تو ملتا نہیں۔ اور کتنے سال کا لمبا کام ہے تم نے کیسے کیا۔
ارے یاروں۔ ایجنٹ کو پچیس لاکھ دیا وہ پہلے لیبیا پہنچائے گا پھر ادھر سے کشتی کے ذریعے یونان جائیں گے۔ اور تجھے تو پتہ ہے گوریاں مرتی ہیں پاکستانی مردوں پر۔ بس کسی سے شادی کر کے ادھر سیٹ ہو جائیں گے۔ اور اگر شادی نہ بھی ہوئی تو ادھر کام بہت۔
لیکن یار رسک بڑا ہے ابھی پچھلے دنوں ہی ایک حادثہ ہوا ہے۔ کشتی الٹی اور کتنے لوگ مر گئے۔ روکھا سوکھا کھا کر ادھر گزارا کرو نہیں تو قانونی طریقہ سے جاؤ۔ کیا تم کبھی چاہو گے کہ ہمارے گھر میں کوئی بغیر اجازت کے آئے۔ فرمان نے نہایت بردباری سے سمجھایا۔
ارے یار تو کیا ایسی باتیں کر رہا کے۔ ہزاروں لوگ ایسے جاتے ہیں اگر کوئی سو پچاس مر بھی گئے تو کیا۔ ہم پیسہ لگا کر جائیں گے اور پھر انہی کے کام ہی کریں گے۔ ان کے باپ دادا ہمارا ملک کھا گئے۔ میں تو تم سب کو کہتا ہو چلو اور اپنی زندگی بناؤ۔ چلو میں چلتا ہوں اور بھی کام۔ ہیں پرسوں جانا ہے۔ سارے دوست اپنے گھروں کو چل دیے۔ سب کے دماغ میں ناصر کا الفاظ تھے۔ صبح صبح ثاقب ناصر سے ملنے گیا اور پوچھا کہ کیا بچے بھی جا سکتے ہیں۔ ارے واہ تمہارا بھی دل کر گیا۔ کیوں نہیں بچے بھی جا سکتے ہیں۔ ویسے بھی تیرے ابے پر کتنا بوجھ ہے۔ مجھ سے ارسلان فارق اور قیصر نے بھی رابطہ کیا ہے۔ میں لے چلتا ہوں سب کو ایجنٹ کے پاس، وہی سب سمجھا دے گا۔
ایجنٹ کی چکن چپڑی باتوں نے سب کے من کے دیپ جلا دیے۔ سب کا پلان بن گیا کہ کسی بھی طرح پچیس لاکھ ہو جائیں اور وہ یونان پہنچ جائیں۔ ثاقب پندرہ سال کا لڑکا، ساری زندگی غربت کی چکی میں پسی۔ دس بہن بھائیوں میں پانچویں نمبر پر۔ اسی شام باپ بھائیوں سے بات کی۔ ابا میں یونان جانا چاہتا ہوں۔ ثاقب نے بات شروع کی۔
اچھا اچھا چلا جا، دو چار دن رہنا، زیادہ بوجھ نہ بنا کر دوستوں کے گھر۔ ابا نے حقہ پیتے ہوئے کہا۔
ابا جی یونان کوئی پاس نہیں۔ کتنے سمندر دور ہے۔ اور پتہ ہے لاکھوں لگ کے بندہ جاتا ہے۔ بڑے بھائی نے کہا۔ جی بھائی، پیسے تو لگے گے بہت سارے مگر جب میں پہنچ جاؤں گا تو سب بدل دوں گا۔ یہ جھونپڑی محل میں بدل دوں گا۔ وہ سارے خواب پورے کروں گا جو کبھی مکمل ہو ہی نہیں سکتے تھے۔ ثاقب نے ایجنٹ کی زبان بولی۔ اور سب کو منا لیا۔ اپنی زمین بیچی، زیور بکا اور ثاقب کو اگلے ماہ ڈنکی کا پروانہ ملا۔
ارسلان دو بہنوں کا بھائی۔ جس کی بہنیں کبھی باہر نہ نکلی۔ ہر ضرورت گھر میں پوری۔ دنیا سے دور رکھنا ارسلان کی خواہش یا انا۔ اگر بہت امیر نہیں تو بہت غریب نہیں۔ اچھا رہن سہن۔ مگر یونان کے خواب، ان ملکوں کی عیاشی، تابناکی سے بھرپور مستقبل سب چیزوں پر حاوی ہو گیا۔ نہ باپ کی ملائمت بھری نظریں، نہ بہنوں کی شکوہ کرتی آنکھیں نا ماں کی آہ زاری۔ وڈیروں سے پیسے ادھار لیے گئے۔ گھر گروی بھی رکھوایا۔ تب جا کر زاد راہ کا انتظام ہوا۔ پندرہ دن بعد لیبیا کا ٹکٹ ملا۔ جاتے ہوئے بہنوں کا سمجھا گیا کہ باہر مت نکلنا ورنہ ٹانگیں توڑ دوں گا۔ سفر شروع ہوا۔
فاروق چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑا۔ ماں باپ کا سہارا۔ آج کل کے حالات میں گھر کا گزارا نہ ہونے کے باعث گھر والے بھیجنے پر بضد۔ ایجنٹ کو پیسے دینے کے لیے بیوی کا زیور کو بیچا گیا۔ جو بیچاری اس کو دوسرے شہر بھی نہ جانے دے۔ وہ تو ان پیسوں سے کاروبار کرنے پر بضد تھی مگر بیوی کی سنے کون۔ حالات کی ستم ظریفی نئے رستے پر لگا دیا۔
قیصر تین بہنوں کا بھائی، منتوں مرادوں سے پیدا ہوا۔ پھر آنکھ لگی، جوانی چڑھی۔ دو گلیاں چھوڑ کر شنو سے عشق ہوا۔ جس کے امیدوار پہلے ہی قطار در قطار۔ مگر شنو بھی قیصر پر فریفتہ۔ جانتی تھی اکلوتا سپوت، دو بہنوں کی شادی تو اس کی شادی کے ساتھ کر دی جائے گی۔ ایک پہلے سے شادی شدہ۔
مراسم بڑھائے۔ منگنی ہوئی۔ شادی قیصر کے بزنس کرنے تک ملتوی۔ ابھی وہ ایک مکینک کی نوکری کر رہا تھا۔ انہی دنوں شنو کو ناصر کے اڑنے کا پتہ لگا بس یہی شرط قیصر کے سامنے رکھی اور حل بھی مل گیا۔ بہنوں اور ماں باپ کو دھمکیاں لگائی۔ بہنوں نے اپنے لیے بنا ہوا زیور بھائی کے قدموں میں، شادی شدہ بہن بھی چھپا کر زیور لائی۔ کچھ چھوٹی بہن کا تیار شدہ جہیز فروخت کیا اور دس دن بعد دوسرے ملک کا داخلہ مل گیا۔
سارے دوستوں کو جاتا دیکھ کر فرمان بھی سبق بھولا اور پچیس لاکھ کا انتظام کر لیا۔ سب کے نزدیک اپنی ذات سے زیادہ اپنے عزیز تھے۔
ناصر سب سے پہلے پہنچا۔ پھر دس دن بعد قیصر پندرہ دن بعد ارسلان، بیس دن بعد فاروق ایک ماہ بعد ثاقب پہنچ گیا۔ اور اتنے وقت کے ہیر پھیر کے باوجود سب لیبیا کی سختیاں جھیل رہے تھے۔
اخ بیس دن بعد سب کا انتظام ہو گیا۔ سب تیراکی سیکھ کر آئے تھے۔ سب کے سامنے ان کے گھر والوں کے ہنستے چہرے آرہے تھے۔ ایک نئی پر امید صبح کی آمد تھی۔ لیبیا میں رہ کر کافی اندازہ تو ہو گیا تھا۔ دوسروں کے قصے کافی عبرتناک تھے۔ لیکن واپسی کے دروازے بند کر آئے تھے۔ امید تھی کیا پختہ یقین تھا کہ وہ پہنچنے اور فتح کرنے والے ہیں۔ لہریں بلند ہوئی۔ چھاپے کے خطرے بڑھے۔ زندگی روٹھتی نظر آئی۔ پانچواں دن کشتی پر، اس کشتی پر جدھر پاؤں رکھنے کا جگہ نہیں۔
کھانے کا انتظام نہیں۔ بھوکے پیٹ کیا تیراکی ہونی۔ سامنے سے گشت کرتی کشتیوں سے بچ بچ کر بھی نہیں پہنچ پا رہے تھے۔ یا وہ شاید پکڑنا نہیں چاہتے تھے کہ مر جائیں۔ بنا اجازت ہمارے گھر میں گھسنے والے۔ پھر بھوکے پیٹوں کی التجا بڑھی لہریں نے اپنی بلندی دکھائی، پھر کشتی لڑکھڑائی، آنکھیں ڈبڈبائی اور پھر وطن میں بیٹھی ماں، بہنوں اور بیوی کو ایسا لگا انہی کو آخری ہچکی آئی۔ سب نے ہاتھ پیر مارے کنارا تک پہنچنے کی امنگ کتنے کو ڈبو رہی تھی۔
چند لمحے کے بعد ثاقب کی جان پر بن آئی۔ موت سامنے دکھائی۔ وہ قرضے، وہ وعدے وہ قسمیں ثاقب کے ساتھ ہی ڈوب گئی۔
ناصر جس کے لیے رقم کا انتظام تو آسانی سے ہو گیا تھا۔ وہ تیراکی کا بھی ماہر بن کر آیا تھا۔ پیسے زیادہ دے کر ساحل پر انتظام بھی کروا لیا تھا مگر آجل سے کون ٹکرایا۔ لہر کے زور پر سمندر کی گہرائیوں میں چلا گیا اور پھر واپس کبھی نہ آیا۔
فاروق جس کی بیوی نے منتیں کی مت جاؤ مگر ماں باپ پہلے۔ سارا زیور جو اس نے یونان جانے کے لیے بہایا وہی اس کو کسی گہرے سمندر میں بہا کر لے گیا۔
قسمت نے یاوری کی قیصر تیرا اتنا تیرا کہ ساحل پر پہنچ ہی گیا۔ شنو کا نشہ تھا یہ دعائیں جو اس کو بچا لائی۔ دعائیں تو سب کے گھر والوں نے کی مگر عرش تک پہنچی اس کی۔ کنارا نصیب ہوا مگر موت کی تلخی سے بچ کر جو اب تلخیاں جھیلنی تھے وہ ناقابل بیان تھی۔
ارسلان جس کے خواب سب سے الگ، ساحل پر پہنچا بھی سب سے الگ مگر اب زندگی بھی تو سب سے الگ۔ سامنے ہوا جرم۔ پولیس کے لیے بنا یہ ملزم۔ پھر غیر قانونی ویسے۔ ماں باپ کو پہنچنے کی اطلاع دیے بغیر ہی جیل کے پیچھے خبر چلی۔
تارکین وطن کی کشتی ڈوبی۔ کچھ کے طنز کچھ کی ہمدردی۔ لاشوں پر بھی رقم لگی۔ جو پہلے ہی سب گنوائے بیٹھے تھے اب لاش بھی گنوا بیٹھے۔ جن کی خبر نہ ملی ان کو یہ لگا کہ مر گیا اب لاش نہیں ملنی۔ بات ختم۔ جن کو پتہ چلا کہ لاش مل گئی اب اتنی رقم دو اپنی لاش لو۔ کھانے کو پیسے نہیں، دفنانے کو کوڑی نہیں۔ لاش کیسے آئے۔
ثاقب کے بھائی زمین سے گئے، بھابھیاں زیور سے اور ماں باپ اولاد سے گئے۔ ان کا صدمہ الگ بہوؤں کا الگ انداز ان کا تو نقصان کرا گیا۔ جھوٹے لارے ان کے ماں باپ کی کمائی ان کے بچوں کا حق لے گیا۔ دو وقت کا کھانا ایک پر آ گیا۔ کوئی ماسی بنی تو کوئی مزراعن۔ بوڑھے وجود کو چارپائی بھی نصیب نہ ہوئی۔
فاروق جس کو بھیجنے کے لیے بہن بھائی سب سے آگے، ہر قسم کے حالات میں بھائی کے وارث۔ وہ وارث تب کے لیے تھے جب پیسہ آنا تھا۔ آب تو ذمہ داری بن گئی بھابھی اور بھتیجے کی۔ اگلا تو مر گیا پچھلوں کو مار گیا۔ بھابھی نوکرانی بنی بھتیجا اوئے لڑکے سے مشہور ہوا۔ ماں باپ چپ تماشائی۔ کیونکہ وہ بھی تو انہی کے آسرے پر تھے۔ کچھ ماہ بعد بہو کے میکے والے لے گئے۔ بچہ ادھر ہی چھوڑ گئے۔ روتی تڑپتی ماں بچے کو چھوڑ کر کسی اور کی بیوی بن گئی۔ اور بچہ درمیان میں لٹک گیا۔ نہ ماں ملی نہ باپ۔ سب تباہ۔ اور ایک رات کزن کی زیادتی کا شکار ہو کر مر گیا۔ سب تباہ ہوا۔ کچھ نہ ملا۔
قیصر جو ساحل پر پہنچا۔ مگر چوری کی راستہ سے پہنچے ہوئے کی کیا اوقات۔ مہاجر کی کیا زندگی۔ اور ایسا مہاجر جو خود بنا۔ ملک کا رہنا والا کتا بھی گھر رکھتا ہے اور تارکین وطن وہ بھی نہیں۔ ہر لمحہ پکڑے جانے کا خوف۔ اول جو بھی کام ملتا پہلے پاسپورٹ کا پوچھتا۔ رہائش کے لیے پیسہ نہیں۔ خوراک نہیں۔ کوڑے دان کے پاس بیٹھا رہتا۔ جب لوگ کوڑا پھینکنے آتے ان کے شاپر سے اپنا رزق تلاش کرتا۔ کبھی کبھار کام ملتا تو دو نوالے کھا لیتا۔
چند ماہ میں ہڈیوں کا ڈھانچا بن گیا۔ پھر کچھ جو لوگ پہلے اسی طرح کے آئے ہوئے تھے ان کے ذریعے کام ملا اور گھر کال کر کے حال بتایا۔ ماں باپ جو صدمہ سہ رہے تھے ایک آس بندھی۔ جب قیصر کی کوئی خبر نہ ملی تو مردہ ڈکلیئر کر دیا گیا۔ بڑے داماد کو زیور کا پتہ لگا اس نے طلاق دی۔ چھوٹی کا رشتہ ٹوٹ گیا کیونکہ جہیز اور زیور تھا نہیں۔ منجھلی کو بیاہ کر لے گئے ان کے گھر میں کام والی نہیں تھی۔ شنو کنواری تھی یہ بہت تھا۔
دن رات محنت کی تب جا کر ایک بہن کو جھمکوں کی رقم بھیجی۔ شنو کے مطابق اب اسے آنا چاہیے تھا اور دھوم دھام سے بیاہ کر ساتھ لے جانا چاہیے تھے اور اس کی ہمت کیسے ہوئی بہن کو جھمکے لے کر دینے کی۔ سب شنو کا ہو۔ باتیں سنا کر فون بند کیا۔ قیصر دو بہنوں کے حالات کی وجہ سے ایک کو تو سکون سے رکھنا چاہتا تھا۔ اور شنو کی خواہش ابھی پوری ہو نہیں سکتی تھی۔ اور اگلے پانچ سال بھی کوئی امید نہیں تھی۔ اس کی خودغرضی کی وجہ سے بہنوں کی زندگی ویران ہوئی۔
اپنی زندگی بھی بہت بھیانک۔ پندرہ گھنٹے کا کام کا بعد اتنی رقم ملتی کہ رہ اور کھا سکے۔ ایک وقت کھا کر کچھ رقم بچتی۔ شنو تین ماہ بعد کسی اور کی ہو گئی۔ اور پھر خود قیصر مشین بن گیا اور دس سالوں بعد گھر بھی بنا لیا بہنوں کو بیاہ دیا مگر خود ایڈز کا مریض بن گیا۔ چند دن بعد واپس آیا اور خون تھوکتے مر گیا۔ صنم ملا نہ خدا۔ بیچ لٹکتا رہا۔
اور ارسلان بہنوں کو پابند رکھنا والا جیل کی سلاخوں کے پیچھے۔ چھڑوا نے کے لیے باپ کی ہمت نہیں۔ نہ والدین جی سکے نہ مر سکے۔ قرض دینے والوں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ نہ ملنے پر پہلے باپ کو مارا پھر بوڑھی ماں کو گھسیٹا۔ پھر بہنوں پر نظر پڑی۔ ہر دوسرے روز یہی کھیل کھیلا۔ ماں باپ کی تذلیل ہوتی بہنوں کو دکھایا جاتا۔ ہر لمحہ خوف رہا کہ ابھی ہمارے ساتھ بھی تشدد ہوا۔ مگر جو بہنوں کے ساتھ ہوا وہ ستم کی حد تھی۔ پہلے ایک بیٹی کو لے گئے۔ پھر دوسری کو۔ ایک سال کے استعمال کے بعد گھر بھی واپس مل گیا اور قرض بھی ختم۔ ایک نے آ کر خودکشی کی دوسری بھائی کی بازیابی کے لیے اسی کام کو چن لیا۔ پھر ارسلان پانچ سال بعد واپس آیا۔ جب ارسلان نے گھر قدم رکھا۔ بہن نے جاکر ماں باپ کے کپڑے اور اپنے بے آبرو کپڑے سامنے رکھے۔ خود کو آگ لگا لی۔
کسی کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔
کشتی میں سوار کچھ لوگ بچ گئے۔ اور واپس آ گئے۔ تین سو میں سے دس۔ اور پھر ان کی زندگی کبھی دوبارہ نہ بن سکی۔ قرض لے کر جو چلے تھے وہی آ رکے۔ زندگی بھیانک ویسی ہی بھیانک جیسے مرنے والوں کے گھر والوں کے ہو گئی تھی۔ مرنے والوں تو خود مر گئے۔ پچھلوں کے لیے سزا چھوڑ گئے۔ مگر واپس آنے والوں خود بھی عذاب میں اور گھر والے بھی۔ کچھ پہنچ جاتے ہیں سلامت مگر کتنے سال خوف سے نہیں نکل سکتے۔ کچھ کو پانی کا تو کچھ کو بھوک کا کچھ کو جنگل کا تو کچھ کو جانوروں کا اور کچھ تو انسانوں سے بھی ڈر جاتے ہیں۔ ادھر شادی بھی ایسے نہیں ہو جاتی۔ اور بغیر پاسپورٹ کے کبھی اچھی نوکری نہیں ملتی۔ کتوں کی طرح کام کر کے چند روپے کماتے ہیں گھر بھیجتے ہیں جو پاکستان پہنچ کر رقم بڑھ جاتی اور فضول خرچی میں اڑ جاتی۔ چاہے پچاس سال لگا کر واپس آؤ تب بھی خالی ہاتھ ہوتے ہیں۔
اور فرمان پچیس لاکھ کا جب انتظام کر لیا تو مشورہ کیا کچھ لوگوں سے۔ ایک جنرل سٹور کھولا۔ اور اس پر کام کیا۔ آج شہر میں کتنی برانچ کھول کر بیٹھا ہے۔ اس کے بچے اعلی تعلیم کے حصول کے لیے انہی ممالک پہنچ گئے جدھر سے اس کے دوستوں کی لاشیں بھی نہ آ سکی۔

