میری کینیڈین بیٹی اور فادرز ڈے
میرے والد عبدالباسط صاحب، جو دانائی کا سرچشمہ تھے، اپنی چہیتی بیٹی اور میری اکلوتی بہن عنبرین کوثر کے حوالے سے فرمایا کرتے تھے
بیٹیاں جنت کا پھول ہوتی ہیں
وہ عنبریں کو بھی اتنا ہی چاہتے تھے جتنا مجھے۔ وہ اپنی بیٹی سے محبت ہی نہیں ان کی عزت بھی کرتے تھے۔ میں نے بھی اپنی بیٹیوں سے پیار اور عزت کرنا ان ہی سے سیکھا ہے۔
میرے قریبی دوست جانتے ہیں کہ میری دو منہ بولی بیٹیاں ہیں۔
ایک پاکستانی ہے اور ایک کینیڈین۔
پاکستانی بیٹی کا نام وردہ میر ہے جو میری بہن عنبریں اور بہنوئی ارشاد میر، جو میرے دوست بھی ہیں، کی بیٹی ہیں اور آج کل صحتیاب ہو کر اپنے والدین سے ملنے پاکستانی گئی ہوئی ہیں۔
میری کینیڈین بیٹی کا نام ایڈرئینا ڈیوس ہے جنہیں بے ٹی ڈیوس رومینیا سے اس وقت لے کر آئی تھیں جب ان کی عمر صرف بارہ دن تھی۔
جب میری ایڈرئینا سے ملاقات ہوئی اس وقت ان کی عمر بارہ برس تھی۔ میں نے ایڈرئینا سے کہا
میں آپ کی امی بے ٹی ڈیوس کو بہت چاہتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ نہ صرف وہ نیوفن لینڈ سے ٹورانٹو ہجرت کریں بلکہ آپ بھی ان کے ساتھ آئیں
کہنے لگیں۔ ایک شرط پر آؤں گی؟
وہ کیا شرط ہے؟ میں متجسس تھا۔
مجھے گھڑ سواری کا بہت شوق ہے۔
میں نے کہا شرط منظور ہے۔
چنانچہ جب بے ٹی ڈیوس اور ایڈرئینا نے ہجرت کی تو میں نے ایڈرئینا کے لیے ایک ایسا اصطبل تلاش کیا جہاں وہ گھڑ سواری سیکھ سکتی تھیں۔ میں ہر ہفتے کی صبح، جب بے ٹی ڈیوس خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی ہوتی تھیں، ایڈرئینا کو گھڑ سواری کی مشق کے لیے لے کر جاتا اور یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا۔
جب ایڈرئینا، بے ٹی ڈیوس اور میں ایک ہی گھر میں رہنے لگے تو میں نے ایڈرئینا سے کہا کہ میرا آپ سے تین طرح کا رشتہ ہو سکتا ہے
باپ کا رشتہ
انکل کا رشتہ یا
دوست کا رشتہ
آپ کو کون سا رشتہ پسند ہے؟
کہنے لگیں دوست کا رشتہ
چنانچہ ایڈرئینا میری سب سے کم عمر دوست بن گئیں۔
کبھی میں انہیں کھانے پر لے کر جاتا
کبھی سیر کروانے لے جاتا اور
کبھی ان کی سہیلی کے ہاں چھوڑ کر آتا۔
پہلے چند سال میں ان کا دوست تھا پھر فرینڈلی فادر بنا اور پھر ایک سال انہوں نے مجھے فادرز ڈے کا کارڈ دیا جس کا مطلب یہ تھا کہ انہوں نے مجھے باپ کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ بے ڈیوس میرے اور ایڈرئینا کے محبت بھرے رشتے سے خوش تھیں اور میں بھی ایڈرئینا اور اپنی بھانجی وردہ کی دوستی سے بہت خوش تھا۔
پندرہ برس کی رفاقت کے بعد جب بے ٹی ڈیوس اور میں جدا ہوئے تو ایک شام میں نے ڈنر کی میز پر بے ٹی ڈیوس کے سامنے ایڈرئینا سے کہا
آپ کی امی اور میں جدا ہو رہے ہیں
ہم یہ گھر بیچ رہے ہیں
اب ہم جدا جدا رہیں گے
بے ٹی کیلیفورنیا جا رہی ہیں لیکن میں یہیں رہوں گا۔ آپ ہم دونوں میں سے کس کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں؟
ایڈرئینا نے میری طرف دیکھ کر کہا۔ آپ کے ساتھ
میں نے بے ٹی کی طرف دیکھا تو انہوں نے مسکرا کر کہا
مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ آپ ایڈرئینا کے باپ کی طرح ہیں
چنانچہ میں نے تین کمروں کا کونڈو لیا
ایک کمرہ ایڈرئینا کے لیے
ایک کمرہ میرے لیے اور
ایک کمرہ مہمانوں کے لیے
مجھے اس بات کی خوشگوار حیرت ہوئی کہ جدائی کے بعد نہ صرف میری اور بے ٹی کی بلکہ ایڈرئینا اور وردہ کی دوستی بھی برقرار رہی۔ وہ سہیلیاں بھی ہیں اور بہنیں بھی۔ ان کا خون کا نہیں دل کا رشتہ ہے محبت اور پیار بھرا رشتہ۔
ایڈرئینا میرے ساتھ تین برس رہیں۔ پھر ایک شام مجھ سے کہنے لگیں
میں اور میرا بوائے فرینڈ گیورگی ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور اکٹھے رہنا چاہتے ہیں۔ آپ کی کیا رائے ہے؟
میں نے کہا یہ تو خوشی کی بات ہے محبت بھرے رشتے قیمتی رشتے ہوتے ہیں ہمیں ان کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
چنانچہ پچھلے دو برس سے ایڈرئینا اور گیورگی بہت محبت پیار سے زندگی گزار رہے ہیں اور خوش ہیں۔ گیورگی مجھ سے عزت سے اور میں ان سے شفقت سے پیش آتا ہوں۔
آج کینیڈا میں فادرز ڈے منایا جا رہا ہے۔ آج میری کینیڈین بیٹی ایڈرئینا نے مجھے میرے پسندیدہ ایرانی ریستوران۔ زعفران۔ میں ڈنر پر بلایا تھا۔
جب ہم ملے تو پہلے انہوں نے مجھے ایک ہیٹ تحفے کے طور پر دیا۔
پھر انہوں نے مجھے یہ کہتے ہوئے آم دیے کہ چند برس پیشتر آپ نے ہی میرا تعارف آموں سے کروایا تھا اس لیے آپ کے لیے آموں کا تحفہ لے کر آئی ہوں
چلو کباب، قورمہ سبزی، چاول اور دوغ کا ڈنر کھانے کے بعد جب ہم سماوار میں بنی ایرانی چائے پی رہے تھے اس وقت ایڈرئینا نے پہلے مجھے ایک گھوڑے کی تصویر دکھائی جو وہ خریدنا چاہتی ہیں۔ وہ آج کل گھوڑے کو ڈانس کرانے کے سبق لے رہی ہیں۔ پھر انہوں نے اپنے پرس سے نکال کر مجھے ایک ایسا کارڈ دیا جس پر ایک لائٹ ہاؤس بنا ہوا تھا۔ اس کارڈ پران کے دلی جذبات رقم تھے جو کچھ یوں تھے
TO SOMEONE VERY SPECIAL TO ME
IT, S FATHERS DAY AND IT SEEMS LIKE THE PERFECT TIME TO TELL YOU HOW MUCH I APPRECIATE AND ADMIRE YOU
HOPE YOU KNOW THE VERY SPECIAL PLACE
YOU, LL ALWAYS HAVE IN MY LIFE
AND IN MY HEART
HAPPY FATHER, S DAY
AFFECTIONATELY ADRIANA
میں نے اپنی کینیڈین بیٹی کو گلے لگایا اور اسے کہا کہ مجھے تصاویر بھیج دینا تا کہ میں انہیں اپنے بلاگ کے ساتھ، ہم سب، کو بھیج سکوں،
ایڈرئینا اس سال ایک سوشل ورکر بن گئیں ہیں۔
مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میری بیٹی نہ صرف ایک خوشحال اور بامقصد زندگی گزار رہی ہیں بلکہ دکھی انسانیت کی خدمت بھی کر رہی ہیں۔
میری دونوں بیٹیاں جانتی ہیں کہ دلوں کے رشتے خون کے رشتوں سے زیادہ مخلص ہو سکتے ہیں اور یہی رشتے فیمیلی آف دی ہارٹ بناتے ہیں۔
یہ میری خوش بختی کہ میری دونوں بیٹیاں میرے دل کے خاندان کا حصہ ہیں۔





