ہم نے ہیرو ازم کے لیے غزنوی اور غوری کو ادھار پر لیا ہوا ہے: فرنود عالم


سرخیاں
پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا خطاطی کی طرح ماضی کا حوالہ بن جائے گا
سوشل میڈیا سے پہلے روشن خیالوں کے لیے اظہار کے آزاد مواقع میسر نہیں تھے
معروف کالم نگار، ہیومن رائٹس ایکٹویسٹ اور سماجی مبصر، فرنود عالم سے ایک مکالمہ
انٹرویو: اقبال خورشید

جبر کی تاریکی میں اس کے الفاظ کی بازگشت امید افزا ہے، پرشور سناٹے میں اس کی آواز روشن خیالی کی نوید ہے۔ یہ اس شخص کا تذکرہ جو اندھیری سرنگ میں، بغیر رکے چلا جار ہا ہے۔ اس امید پر کہ سرنگ کے دھانے پر روشنی منتظر ہوگی۔ اس شخص کا تذکرہ، جس کے روشن افکار کو سوشل میڈیا کا پلیٹ فورم اور ٹیکنالوجی کی قوت میسر آئی، تو اسے پر مل گئے۔ تحریروں نے اس کی ہزاروں تک رسائی پائی۔ اور اس کے اعتماد نے بہتوں کا راہ دکھائی۔

فرنود عالم کا شمار ہماری نسل کے مقبول ترین قلم کاروں میں ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا بلاگز جن صاحبان فن کی کاوشوں سے مقبول عام قرار پائے، ان میں فرنود کا نام نمایاں۔ ”ہم سب“ پر پہلے پہل انھیں پڑھا گیا۔ الفاظ کے کاٹ نے دور تک جست لگائی۔ بعد ازاں ڈی ڈبلیو اور انڈپینڈنٹ جیسے بین الاقوامی میڈیا پلیٹ فورمز کے لیے لکھا۔ ویسے سچی بات یہ ہے کہ وہ کہیں بھی نہ لکھیں، تب بھی صاحب کی فیس بک وال کافی ہے۔ عشاق ادھر ہی کھنچے چلے جاتے ہیں۔ ہم بھی گئے۔ چند سوالات لیے۔ اور اب جوابات آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ پڑھیں، سر دھنیں، اور ہمیں دعائیں دیں۔

اقبال: لکھنے کے لیے پڑھنا شرط، پسندیدہ شاعر اور فکشن نگار کون ہے؟ کن کالم نگاروں کو باقاعدگی سے پڑھتے ہیں؟

فرنود عالم: مرحوم شعرا میں بیدل، غالب، میر، انیس اور اقبال کا تو خیر مقابلہ ہی کیا ہے۔ ظاہر ہے ذوق، مومن، درد، آتش، عدم، داغ، شرر، سودا اور حالی کا بھی جواب نہیں ہے۔ جوش جگر اور فراق گورکھپوری کی بھی کیا بات ہے۔

ان سے آگے کے زمانے کی بات کرتے ہیں۔ مجید امجد، نون میم راشد، ساقی فاروقی، ناصر کاظمی، منیر نیازی، مبارک شاہ اور فیض پسندیدہ شعرا میں سے ہیں۔ اور سال دو سال پہلے انتقال کرنے والے نصیر ترابی بھی۔

موجودہ سینئیر شعرا میں افضال احمد سید، احمد جاوید، اختر عثمان، پیرزادہ قاسم، سرمد صہبائی، حمیدہ شاہین، عرفان ستار، صائمہ زیدی، شہزاد نیر اور عاصم بخشی پسندیدہ شاعر ہیں۔ دو اور بھی ہیں، جو ہمارے دور کے سلطان مجروح پوری اور اختر الایمان ہیں۔ جاوید اختر اور گلزار۔

موجودہ شعرا میں جو تازہ خون ہے، ان میں اسد فاطمی تو کون و مکان سے آگے کا کوئی آدمی ہے۔ عمیر نجمی، ادریس بابر، سجاد بلوچ، سیماب ظفر اور احمد نوید پسندیدہ شعرا میں سے ہیں۔

فکشن نگاروں میں بورخیس، چیخوف اور موپساں میرے لیے ہمیشہ ہی سے سر فہرست رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ میرا مطالعہ محدود ہے۔ ان تین سے ہٹ کر کوئی دو نام اگر ہیں، تو وہ بلاشبہ میلان کنڈیرا اور گارشیا مارکیز ہیں۔ ایک نام مصر سے نجیب محفوظ کا بھی ڈال لیجیے۔ زندہ فکشن نگاروں میں جاپان کے مورا کامی اور ترکی کے اورحان پامک ہیں۔

اگر اپنی سرزمین کی طرف آئیں، تو سجاد حیدر یلدرم اور راشد الخیری سے سعادت حسن منٹو تک کون ہے جس پر ہاتھ رکھ کر میں کہہ سکوں کہ یہ مجھے ذرا کم پسند ہے۔ یہ میرا منصب ہی نہیں ہے۔ اپنے قریب اور ذرا سے بعید والے زمانے کی بات کروں تو رفیق حسین، راجندر سنگھ بیدی، غلام عباس، قرۃ العین حیدر، خوشونت سنگھ، انتظار حسین بہت پسند ہیں۔ شاہد دہلوی کی نثر بہت بھاتی ہے۔ رفیق حسین کا نام سب سے اوپر اس لیے رکھا کہ انہوں نے روایت کے برعکس جانوروں کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا۔ پھر وہ خود بھی ایک بڑی کہانی ہیں۔ حال ہی میں ہم سے جدا ہو جانے والا ایک نام بالکل الگ سے لکھنا چاہوں گا۔ خالدہ حسین۔

موجودہ فکشن نگاروں میں جو بڑے ہیں، ان میں اسد محمد خان سے بڑا کون ہے؟ ان کی کہانی ’باسودے کی مریم‘ آپ مجھ سے زبانی سن لیں۔ مرزا اطہر بیگ اور خالد فتح محمد عظیم لوگ ہیں۔ خالد صاحب کا ناول ’خلیج‘ ہر سال موسم سرما میں پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اسی موسم میں ڈھاکا ڈوب کے ابھرا تھا۔ مستنصر حسین تارڑ بھی ہیں، مگر بصد احترام ایک بات کہوں؟ اب انہیں آرام کرنا چاہیے۔ اپنے کتھارسس کے لیے لکھنا اگر لازم ہے، تو ضرور لکھیں، مگر اسے شائع کروانے سے اب گریز کرنا چاہیے۔ (تاکہ) بہاؤ، راکھ اور غزال شب کا بھرم جوں کا توں قائم رہے۔

ان کے دوسری طرف کی پیڑھی میں محمد حمید شاہد، حفیظ خان، ڈاکٹر ناصر عباس نیر کا میں بہت قدر دان ہوں۔ ان میں ایک نام آمنہ مفتی صاحبہ کا بھی رکھ لیں۔ یہ اساتذہ جیسے لوگ ہیں۔ ان میں بھی ایک نام جو پچھلے سالوں میں ہم سے بچھڑ گیا، ان کا نام الگ سے لکھنا چاہوں گا۔ ڈاکٹر آصف فرخی۔

لکھنے والوں میں جو تازہ زمانے کا ترجمان خون ہے، ان میں زیف سید، حسن معراج، سید کاشف رضا، عرفان جاوید، اختر رضا سلیمی، رفاقت حیات اور عاصم بٹ جیسے فکشن نگار مجھے بے حد پسند ہیں۔ ان کی کہانیوں میں اس نسل کا احساس موجود ہے جو ایک ٹرانزیشنل پیریڈ سے گزر رہی ہے۔

جہاں تک تعلق ہے کالم نگاروں کا، تو میں وجاہت مسعود، محمد حنیف، ندیم پراچہ، خورشید ندیم، وسعت اللہ خان، یاسر پیرزادہ، ایاز امیر، عزیز علی داد اور خرم حسین کو باقاعدگی سے پڑھتا ہوں۔ مبشر زیدی کی سو لفظوں کی کہانی پابندی سے پڑھتا تھا۔ ان کے زیادہ لفظوں کی کہانیاں بھی باقاعدہ پڑھ رہا ہوں۔

اقبال: کالم یا ولاگ لکھنے کے لیے موضوع تلاش کرتے ہیں، یا موضوع خود آپ کو تلاش کر لیتا ہے؟

فرنود عالم: اگر میں کسی ادارے کے لیے معاوضے پر لکھنے کا پابند ہوں، تو اکثر موضوع تلاش کرنا پڑتا ہے۔ بصورت دیگر موضوع مجھے تلاش کرتا ہے۔ میری وہ تحریریں جن سے میں خود مطمئن ہوں، وہی ہیں جن میں موضوع خود چل کر میرے پاس آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاوضے پر لکھوں، تو جم کر مسلسل نہیں لکھ پاتا۔ لمبے لمبے ناغے مارتا ہوں۔ دو چار پیسے کمانے کے لیے زور مار لیتا ہوں پھر تھک جاتا ہوں۔ وجہ یہی ہوتی ہے کہ موضوع کی تلاش اکثر بہت کوفت والا معاملہ بن جاتا ہے۔ تحریر کی بے ساختگی مر جاتی ہے۔ جیسے کسی پراڈکٹ کے اشتہار کے لیے کوئی بے برکت سا سکرپٹ لکھ دیا ہو۔ اب کوئی ایسا ادارہ ڈھونڈ رہا ہوں، جو مجھے نہ لکھنے کے پیسے بھی دے دیا کرے۔

اقبال: شاید ہر قلم ایسے ہی کسی ادارے کی تلاش میں ہوں۔ چلیں، یہ فرمائیں کہ لکھنے کا ڈھب کیا ہے؟ کاغذ قلم، یا لیپ ٹاپ؟ دن میں لکھتے ہیں یا شام ڈھلے؟

فرنود عالم: میں سال 2007 میں ہی قلم سے کی بورڈ پر آ گیا تھا۔ قلم سے لکھنا آج بھی مجھے اچھا لگتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں خاصا خوش خط واقع ہوا ہوں۔ مگر تحریر لکھنے کے لیے اب کی بورڈ سے نیکسٹ لیول ہم آہنگی پیدا ہو چکی ہے۔

میرے دماغ میں کھچڑی شام ڈھلے پکتی ہے اور لکھنے کے لیے صبح کا وقت پسند ہے۔ اگر یہ آٹھ سے پانچ والے دفتری لانجے کبھی قابو میں آئیں، تو میں سورج طلوع ہونے سے کچھ دیر قبل لکھنے والی عیاشی ماروں گا۔ لمبے سفر اور ہائیکنگ پہ نکلنے کے لیے بھی مجھے یہی وقت پسند ہے۔ مگر کم ہی ایسا ممکن ہو پاتا ہے۔ وہی فیض والی بات، تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے۔

اقبال: سوشل میڈیا پر آپ خاصے متحرک، یہ بتائیں کیا سوشل میڈیا واقعی اپنی اثر پذیری میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو پیچھے چھوڑ چکا ہے؟

فرنود عالم: پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا کا تو دور ہی نہیں رہا۔ یہ فرسودہ زمانہ پاکستان جیسے بے وسیلہ ملکوں میں ہی باقی ہے۔ آس پاس سروے کر کے دیکھ لیں، کتنے لوگ ٹی وی سکرین کو براہ راست وقت دیتے ہیں۔ ٹی وی کے جو پروگرام لوگوں تک پہنچتے ہیں وہ بھی ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے پہنچتے ہیں۔ ابھی الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا محض عادتوں کی ورزش میں مصروف ہے۔ انسانی ضرورت اور سہولت یہ بتاتی ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا خطاطی کی طرح ماضی کا حوالہ بن جائے گا۔

اقبال: اسی تناظر میں یہ سوال ابھرا کہ چند برس قبل ڈیجیٹل جرنلزم میں روشن خیالی کا جو غلغلہ تھا، ویب پیجز، نئی نئی ویب سائٹس، اب لگتا ہے، وہ دم توڑ رہا ہے، کیا یہ بدلتا ٹرینڈ ہے، یا بڑھتے سیاسی و مالی مسائل؟

فرنود عالم: ڈیجیٹل میڈیا پر روشن خیالی کا غلغلہ ہمیں اچانک اس لیے محسوس ہوا کہ اس سے پہلے روشن خیال رائٹرز کے لیے اظہار کے آزاد مواقع میسر نہیں تھے۔ سوشل میڈیا نے موقع دیا، تو فوری طور پر لکھنے والوں نے وہاں مورچے لگا لیے۔ خاص طور سے پسے ہوئے طبقات کو اپنی بات پہنچانے کا موقع ملا۔ انہوں نے بھی نعمت جانا اور سوشل میڈیا پر آ گئے۔ وہ کچھ ضروری باتیں کہنا چاہتے تھے اور کچھ بنیادی سے سوالات رکھنا چاہتے تھے۔ پھر وہ کچھ تازہ حقائق بھی پہنچانا چاہتے تھے۔ ٹرینڈ ختم نہیں ہوا، بلکہ مزید مورچوں کے آنے سے اور پورے زور و شور کے ساتھ بات ہو جانے سے اب گفتگو میں ذرا ٹھہراؤ سا آ گیا ہے۔

اقبال: مگر سیاست میں ٹھہراؤ عنقا ہوا۔ یہ بتائیں، پانچ سال بعد کا پاکستان کیسا ہو گا؟ کیا سیاسی استحکام آئے گا، یا مزید سیاسی بگاڑ؟

فرنود عالم: ہماری سیاست میں اگر چور دروازہ بند ہو جائے تو سیاسی استحکام آ جائے گا۔ صحت مند سیاسی مقابلے کے لیے ضروری ہے کہ مقابلہ سیاسی جماعتوں کے بیچ ہو۔ مگر ابھی تک مقابلہ ریاستی اور سیاسی جماعتوں کے بیچ چل رہا ہے۔ چور دروازہ بند ہو جائے تو مقابلے میں یکسوئی پیدا ہو جائے گی۔ اسی سے سیاسی استحکام پیدا ہو گا۔ اب اگر آپ سوال بدل کر یہ پوچھیں کہ اگلے پانچ سالوں میں چور دروازہ بند ہو جائے گا، تو میں یقین سے کچھ کہہ نہیں پاؤں گا۔ ہر عشرے میں امکان پیدا ہوتا ہے مگر نصیب میں وہی دائرے کا سفر نکل آتا ہے۔ سیاست دان ایک جیسے تلخ تجربات سے گزر تو رہے ہیں مگر ان ایک جیسے تجربات کا ایک جیسا نتیجہ برامد نہیں کر پا رہے۔ کسی کو باجوہ چاہیے کسی کو فیض چاہیے۔ بات تب بنے گی جب اس بات پر اتفاق ہو جائے گا کہ ہمیں دونوں ہی نہیں چاہئیں۔

اقبال: آخری کتاب کون سی پڑھی؟ کون سی کتاب بار بار پڑھنے کا جی چاہتا ہے؟

فرنود عالم: بالکل تازہ تازہ دو کتابیں پڑھیں۔ ایک کرنل عطا کی سوانح ’دو جہانوں کا شہری‘ اور دوسری ڈاکٹر ناظر محمود کی ’متبادل تاریخ‘ ۔ اور پشاور کے تحقیقی ادارے ’مفکورہ‘ سے شائع ہونے والی کتاب ’تواریخ باجوڑ‘ زیر مطالعہ ہے۔

مطالعے کے معاملے میں کافی موسمی سا ہوں۔ محرم آ جائے تو میر انیس، مرزا دبیر کو پڑھتا ہوں۔ سچے بھائی جیسے پرانے اور سرور ندیم جیسے اپنے زمانے کے نوحہ خوانوں کو سنتا ہوں۔ رمضان آتا ہے تو بہترین نثر میں بات کہنے والے سید ندوی، شبلی نعمانی اور مولانا اصلاحی کو کچھ نہ کچھ پڑھتا ہوں۔ عورت مارچ والے ماحول میں وائٹ فیمنزم اور ایکو فیمنزم ٹائپ چیزیں دوبارہ نکال لیتا ہوں۔ تارڑ صاحب نے ’عورت‘ کے نام سے دیس دیس کی عورتوں کی کہانیاں جمع کی ہیں، ان کی ورق گردانی کر لیتا ہوں۔

نومبر آتا ہے تو ’شاید‘ پہ لکھا جون ایلیا کا مقدمہ ضرور پڑھتا ہوں۔ اقبال کو پڑھتا ہوں، جاوید اقبال کو سنتا ہوں، ان کی ’اپنا گریبان چاک‘ کے اقتباس دیکھتا ہوں۔ دسمبر آتا ہے تو بنگلا دیش کی مناسبت سے ناصر کاظمی، فیض، نصیر ترابی وغیرہ کے کلام پھر سے یاد کر لیتا ہوں۔ بی بی شہید کی مناسبت سے کاشف رضا اور زیف سید کے ناول یہاں وہاں سے پڑھتا ہوں۔ کیونکہ دونوں ہی ناولوں کے کردار لیاقت باغ پہنچتے ہیں۔ ہجرت کے دن ہوں تو خشونت سنگھ کی ’ٹرین ٹو پاکستان‘ جیسی چیزیں چگنے لگتا ہوں۔

لمبی ہائیک پر نکلنے کی تیاری ہو تو تارڑ صاحب اور وقار ملک کی تحریریں چکھنے لگتا ہوں۔ ایسے ہی وقتوں کا کرشمہ ہوتا ہے، جب نارتھ فیس، نانگا پربت اور کے ٹو جیسی فلمیں دیکھ لیتا ہوں۔ برصغیر کے ریڈ لائٹ ایریاز اور وہاں کے بالا خانوں کی پرانی ثقافت کہیں زیر بحث آ جائے، تو ہادی رسوا کی ’امراؤ جان ادا‘ جیسی چیزیں اپنی جگہ، مگر آئی اے رحمان کا وہ پیش لفظ ضرور پڑھتا ہوں، جو انہوں نے فوزیہ سعید کی کتاب ’کلنک‘ کے لیے لکھا تھا۔

میرے پاس چھوٹا سا ڈوگی ہے، بیٹیوں کی طرح ہی ہے۔ اس کے ساتھ کچھ اچھا برا ہو جائے، تو رفیق حسین کا افسانہ ’کلوا‘ لازمی پڑھتا ہوں۔ کچھ برس پہلے ریل پہ اسلام آباد سے کراچی کا سفر کیا، تو علی رضا کی عابدی صاحب کی ’ریل کہانی‘ ، حسن معراج کی ’ریل کی سیٹی‘ ، انتظار صاحب کا افسانہ ’کٹا ہوا ڈبہ‘ اور قاضی فضل الرحمن کی ’روداد ریل کی‘ یہ سب اٹھالی۔ وبا کے دنوں میں ’تنہائی کے سو سال‘ جیسی چیزیں کام آئیں۔ لاپتا افراد کا معاملہ آ جائے تو انور سن رائے کا ناول ’چیخ‘ منٹو کا افسانہ ’نیا قانون‘ آصف بٹ کی ’کئی سولیاں تھیں سر راہ‘ اور کافکا کی ’دی ٹرائل‘ جیسی چیزیں کھینچنے لگتی ہیں۔ ابھی جن دنوں روس نے یوکرین پر حملہ کیا، تو خیال ٹالسٹائی کی ’وار اینڈ پیس‘ کی طرف چلا گیا۔ مگر جنگ عظیم کے پس منظر میں لکھے گئے ڈیڑھ دو سو صفحوں والے ناول چوبیس آنکھیں، دی مون از ڈاؤن، کالی بارش اور برما کا ستار پڑھ لیے۔

اتنی ایران توران کی مارنے کے بعد اب آپ کے اصل سوال کی طرف آتا ہوں۔ مولانا آزاد کی ’غبار خاطر‘ بار بار پڑھنا چاہوں گا۔ اور پڑھتا بھی ہوں۔

اقبال: ایک غیر امکانی صورت حال سامنے رکھنا چاہوں گا۔ اگر کبھی اقتدار آپ کو سونپ دیا جائے، تو پہلا قدم کیا اٹھائیں گے؟

فرنود عالم: خارجی سطح پر پڑوسیوں سے تعلقات بہتر بناؤں گا اور داخلی سطح پر تمام صوبوں کو با اختیار بناؤں گا۔ اس کام کے لیے ان لوگوں سے مشاورت کروں گا، جنہیں ہمارا ریاستی بیانیہ غدار کہتا ہے۔ محب وطن طبقے سے بھی مشورہ کر لیا کروں گا، مگر پوری کوشش کروں گا کہ ان کے مشوروں پر عمل نہ کروں۔

اقبال: فلموں میں دل چسپی ہے؟ کس ہدایت کار کا کام پسند؟ کس اداکار کو سراہتے ہیں؟

فرنود عالم: ہدایت کاروں میں عباس مستان، انوراگ کشپ، راج کمار ہرانی اور بھنسالی۔ جونی ڈیب، جو ایک مکمل آرٹ پیکج ہے اور لیونارڈو ڈی کیپریو، جو اول و آخر ایک اداکار ہے۔ عرفان خان، سنجے مشرا، پاریش راول، پنکج تریپاٹھی، رادھیکا آپٹے، راج کمار راؤ، علی افضل، عالیہ بھٹ، دیپیکا، رندیپ ہوڈا اور تازہ تازہ ایوشمان کھرانا کا فین ہوں۔ اپنے والوں میں فردوس جمال، صبا قمر، نعمان اعجاز، سلیم معراج اور سجل علی پسند ہیں۔

عامر خان کبھی بہت پسند تھے، مگر اب وہ فن سے زیادہ موضوع کے گھن چکر میں پڑ گئے ہیں۔ موضوع کو بھی فن کار سے زیادہ ایک مصلح کار کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔ ان کا ایک جملہ نہیں بھولتا کہ میں شراب نہیں پیتا، مگر اپنے رول کو نبھانے کے لیے میں نے ایک بار شراب پی۔ بھائی، اگر شرابی ایکٹنگ میں پرفیکشن لانے کے لیے پینی پڑ رہی، تو آپ اداکار کس بات کے ہوئے؟ کیا زچگی کے کردار میں نبھاؤ لانے کے لیے اداکارہ کو پریگنینٹ ہونا پڑے گا؟

معاف کیجیے گا، کوشش کے باوجود میں شاہ رخ خان کو کبھی پسند نہیں کر سکا ہوں۔ اس سے آپ میری بدذوقی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے وہ اپنے ایکشن میں اور سوچ میں ایک خالص فن کار ہے۔ وہ بغیر کسی آلودگی کے فلم سے شروع ہو کر فلم پر ختم ہوتا ہے۔

اقبال: کیا ہمارے ہاں رول ماڈلز کی کمی ہے؟ کچھ لوگ، کچھ نام، جنھیں آپ قابل تقلید سمجھتے ہوں؟

فرنود عالم: رول ماڈلز کی کمی نہیں ہے، بلکہ رول ماڈلز بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔ درخت ہلاؤ، دس رول ماڈل اور بیس موٹیوشنل سپیکر گر جاتے ہیں۔ اب کوئی بڑا منصوبہ لانچ کرنا چاہیے کہ ان رول ماڈلز کو کیسے ختم کیا جائے۔ آن اے سیریس نوٹ، ہمیں اپنی فکر میں بہت بڑی تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ہیرو ازم کے لیے غزنوی اور غوری جیسی ہستیوں کو ادھار پہ لیا ہوا ہے، اور جو زمین سے جڑے ہوئے ہمارے اپنے نقد و نقد ہیرو ہیں انہیں ہم نے ولن بنایا ہوا ہے۔ اس الٹی چال کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمیں وہ رول ماڈلز ملے جنہیں ہمارے دکھوں میں اضافے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ ہمیں رول ماڈلز اگر بنانے بھی ہیں تو ان لوگوں کو بنانا چاہیے، جن کی نسبت علم، ہنر، فن، سائنس اور آرٹ سے ہو۔ جنگ اور اشتعال کا حوالہ رکھنے والے رول ماڈلز تخلیق کرنے سے اب اجتناب کرنا چاہیے۔

قابل تقلید لوگ تو استاد سلامت علی خاں، سبط حسن، ڈاکٹر عبدالسلام، باچا خان، عبدالستار ایدھی، سائیں کمال خان شیرانی، شیخ ایاز، گل خان نصیر، ڈاکٹر ادیب رضوی، عاصمہ جہانگیر، مشال خان کے والد اقبال لالہ، نرگس ماول والا اور فرح علی بے جیسے لوگ ہوتے ہیں، مگر مانے گا کون۔

اقبال: پھر سیاست کا رخ کرتے ہیں۔ یہ فرمائیں، اس ”نازک موڑ“ پر مریم نواز اور بلاول بھٹو کو کیا مشورہ دینا چاہیں گے؟

فرنود عالم: مریم نواز ایک باپ کی بیٹی اور ٹویٹر ایکٹوسٹ بننے کی بجائے ایک سیاسی جماعت کی نمائندہ بنیں۔ اور چونکہ وہ تازہ زمانے کی عورت ہیں، تو مردانہ غلبے والی جماعت مسلم لیگ میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ کریں۔

بلاول کو چاہیے کہ پی پی میں اب ڈویلپمنٹ اور اس کی مارکیٹنگ کا رجحان بھی پیدا کریں۔ اور وہ جو بی بی کی سیاست میں انسانی حقوق کا فلسفہ بہت نمایاں تھا، اسے ذرا اور نمایاں کریں۔

Facebook Comments HS