ایک ماں کی کہانی جو بیٹے کی نوکری بچانا چاہتی تھی


یہ گزشتہ برس کی بات ہے۔ میں ان دنوں بطور ایڈیشنل سیکرٹری (زراعت) خدمات سرانجام دے رہا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے مجھے ڈائریکٹر جنرل (سائل سروے ) پنجاب کی اضافی ذمہ داری بھی تفویض کی ہوئی تھیں۔ غالباً ستمبر کا مہینہ تھا، صبح دس بجے کا وقت تھا۔ میں ڈیوس روڈ پر واقع ڈائریکٹر جنرل (واٹر مینجمنٹ ) کے دفتر میں ابھی داخل ہوا ہی تھا کہ وہ عورت بھی میرے پیچھے پیچھے اندر آ گئی۔ میں اندر داخل ہو کر دفتر کے بیرونی دروازے کے سامنے ایستادہ صوفے پر بیٹھ گیا۔

وہ عورت میرے سامنے چند قدم کے فاصلے پر آ کر رک گئی۔ اس نے بوسیدہ لباس پہنا ہو تھا اور وہ خاصی گھبرائی ہوئی تھی۔ میری نظر جیسے ہی اس سے ملی اس نے اپنے ہاتھ جوڑ تے ہوئے اپنے پہلو میں کھڑے ایک دبلے پتلے نوجوان کی طرف اشارہ کر کے بھرائی ہوئی آواز میں کہا، صاحب جی! میرے پتر تے مہربانی کرو، ایدھی نوکری بچا دیو۔ (صاحب جی، میرے بیٹے پر مہربانی کرو، اس کی نوکری بچا دو)۔

ماں کی عمر کوئی پچپن سال کے اندر باہر ہوگی۔ اس کے بشرے سے ٹپک رہا تھا کہ اس کا تعلق کسی انتہائی پس ماندہ گاؤں سے تھا۔ ویسے تو ماں کا چہرہ میرے ذہن پر نقش ہے لیکن یہ کوئی ایسا منفرد چہرہ نہیں ہے کہ جسے جزئیات میں بیان کیا جانا ضروری ہو۔ وہی خود بھوکا رہ کر اولاد کا پیٹ بھرنے کی وجہ سے جسم کا لاغر پن، وہی جون جولائی کے جلتے دنوں میں آگ کے سامنے کھڑے ہو کر بچوں کو پکا کر کھلانے کی مشقت میں جھلسی ہوئی رنگت، وہی چہرے پر منقش شفقت آمیز ممتا۔ بس ویسا ہی چہرہ جیسا کسی بے بس اور مجبور ماں کا ہوتا ہے۔

ویسے تو مجھے ہمیشہ سے ہی ایسا لگتا ہے کہ تمام ماؤں کے چہرے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ بلکہ دنیا کی تمام مائیں دراصل ایک ہی عورت ہے جو صورت بدل کر ہمارے گھروں میں موجود ہے۔ میں جب بچپن میں اپنے دوست یوسف اور ماسٹر بشیر کی ماں کے ہاتھ کا بنا کھانا کھا کر گھر آتا تھا تو مجھے ہمیشہ محسوس ہوتا تھا کہ میرے گھر میں منتظر ماں ان ماؤں سے کوئی الگ عورت نہیں تھی، بلکہ وہی عورت کپڑے بدل کر آ گئی تھی۔ میں نے اپنی نظروں کا زاویہ گھما کر لڑکے کی طرف دیکھا تو مجھے وہ اپنی ماں کا ہی پرتو لگا۔ بلکہ اگر اس کے چہرے پر ہلکی ہلکی مونچھیں نہ ہوتیں تو دونوں میں امتیاز کرنا مشکل ہو جاتا۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایک ماں کے اس طرح ہاتھ جوڑنے اور التجا کرنے کے عمل پر میرا اندر پگھل کر رہ گیا ہو گا۔ ایسا ہر گز نہیں ہوا۔ بلکہ میرے اندر جیسے لاوہ سا ابل کر رہ گیا۔ عام حالات میں مجھے بڑی سے بڑی کوتاہی بھی طیش نہیں دلا پاتی لیکن اس صورت حال میں میں خود کو بڑی مشکل سے کنٹرول کر پایا۔

میں نے غصے کو پیتے ہوئے انتہائی درشت لہجے میں لڑکے سے مخاطب ہو کر کہا، ہاں بھئی! کیا مسئلہ ہے تمہارا۔ سر جی! نوکری توں غیر حاضری دا مسئلہ اے۔ تسی مہربانی کر دیو۔ (سر جی، نوکری سے غیر حاضری کا مسئلہ ہے، آپ مہربانی کر دیں)  اس نے رٹا رٹایا فقرہ انتہائی ملتجیانہ انداز میں قے کر دیا۔ اس سے پہلے کہ اس کے اس رویے پر میرے اندر کا آتش فشاں پھٹ پڑتا میں نے ساتھ والے صوفے پر بیٹھے اپنے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سے کہا کہ وہ انہیں باہر لے جائے اور ان کا مسئلہ تفصیل کے ساتھ سن کر مجھے بریف کرے۔ ان کے کمرے سے رخصت ہونے کے بعد میں نے ٹھنڈا پانی پیا اور خود کو نارمل کرنے میں لگ گیا۔

آپ اب تک یقیناً میری سنگ دلی کے بارے میں منفی رائے قائم کر چکے ہوں گے۔ آپ کے اندر ایک مختصر مکالمے نے بھی جنم لیا ہو گا کہ پاکستان کی بیوروکریسی ایسے ہی کٹھور اور بے حس افسران پر مشتمل ہے۔ یہ اپنے دفتروں میں فرعون بن کر بیٹھتے ہیں۔ یہ گھٹیا اور نیچ لوگ ہیں جو بس اتفاق سے ان کرسیوں تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ سب چور، کرپٹ اور بد عنوان ہیں۔ یہ ننگ آدمیت ہیں۔ اگر ترلے کی جگہ ان کے آگے رشوت کی ہڈی ڈالی جائے تو آسانی سے کام ہو جاتا ہے۔ مجھے آپ کے ان خیالات سے کوئی لمبا چوڑا اختلاف نہیں ہے، کیوں کہ میں تو اپنا تعلق اس قبیل سے جوڑ بیٹھا ہوں جو کام پڑنے پر اپنے ہی بیچ میٹ کا فون سننا اور اس کے میسج کا جواب دینا چھوڑ دیتے ہیں۔

آپ شاید اس واقعہ سے متعلق میرے رویے کے بارے میں میرے نقطہ نظر سے اتفاق نہ کریں لیکن مجھے اپنا نقطہ نظر آپ کے سامنے ضرور رکھنا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کے ناتے ہمیشہ باوقار رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ کوئی بھی حالات ایسے نہیں ہوتے کہ انسان کسی اپنے جیسے انسان کے آگے گڑگڑا کر ہاتھ باندھے۔ میرے سامنے کوئی شخص اس طرح ہاتھ جوڑے یا گڑگڑائے تو مجھے اپنی گہری تذلیل کا احساس ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے جیسے اس کے اس رویے کا میں براہ راست ذمہ دار ہوں۔ جبکہ میرا ماننا ہے کہ بنیادی انسانی عظمت کا مول اس دنیا کی کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ میں ذاتی طور پر باوقار رویوں کو پسند کرتا ہوں۔

شاید میں ایک مثال کی مدد سے اپنی بات بہتر طور پر بیان کر پاؤں، اور اس مثال کے لیے مجھے جزیرہ نما عرب کے ریگستانوں کی خاک چھاننے کی ضرورت نہیں۔ جس دھرتی سے میرا تعلق ہے یہ بذات خود دنیا کی قدیم ترین اور شاندار ترین روایات کی امین ہے۔ سکندر اعظم ( میں اعظم کی جگہ قاتل لکھنا چاہ رہا ہوں لیکن اس سے بعض قارئین کو غلط فہمی ہو سکتی ہے کہ شاید میں کسی دوسری تاریخی شخصیت کا حوالہ دے رہا ہوں ) کے سامنے مفتوح راجہ پورس کو پیش کیا گیا۔

دھرتی کے سپوت کی بہادری سے فاتح بھی متاثر تھا۔ فاتح نے رعونت سے پوچھا، بتاؤ تمہاری ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ مفتوح نے بلا خوف و خطر جواب دیا، وہی جو بادشاہ بادشاہوں سے کرتے ہیں۔ نہ کوئی التجا، نہ منت، نہ سماجت اور نہ ہی زندگی کی بھیک۔ اور اس با وقار رویے نے مفتوح کو فاتح کی جگہ لا کھڑا کیا۔ زندگی بھی سلامت رہی اور سلطنت بھی۔ میں نے اکثر خواب میں خود کو سکندر سے یہ مکالمہ کرتے پایا ہے۔

لنگوٹیے جی آر ( غلام رسول) اور ماموں زاد مشتاق سے میری والہانہ محبت کی وجہ ان کے باوقار رویے ہیں۔ زندگی چاہے انہیں جتنے مرضی بڑے امتحان میں ڈال دے میں نے انہیں ہمیشہ باوقار پایا۔ اپنی کسی ضرورت کے لیے کسی کے آگے سوال کرنا میرے نزدیک ایک روح فرسا تجربہ ہے۔ لیکن میں نے ان دونوں سے سیکھا کہ ان روح فرسا لمحوں میں اپنے لہجے، چہرے اور بدن کو کیسے باوقار رکھا جا سکتا ہے۔

تو کسی در پہ گیا ہو تو خبر ہو تجھ کو
کس قدر کار اذیت ہے سوالی ہونا

اس ماں اور بیٹے کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے حوالے کر کے میں کمیٹی روم میں چلا گیا اور سپیشل ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی کے مباحث میں الجھ گیا۔ میٹنگ خاصی طویل تھی۔ آڈٹ کے نقطہ نظر سے محکمانہ بد عنوانیوں کی وجہ سے قیامت بس چند دنوں کی مسافت پر تھی جب کہ محکمہ کہ نقطہ نظر سے آڈٹ کی بدمعاشیوں اور زیادتیوں کی وجہ سے بس صور پھونکا ہی جانے والا تھا۔ بحر کیف خاصی سر کھپائی کے بعد میں دونوں کو ایک نقطہ پر متفق کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ قرب قیامت کے بارے میں ان کے نقطہ ہائے نظر کچھ زیادہ دور اندیشانہ نہیں تھے۔ میٹنگ سے فارغ ہو کر میں اپنے دفتر آ کر دفتری مصروفیات میں کھو گیا۔ ماں اور بیٹے والا قصہ ذہن سے یک سر محو ہو گیا۔

رات کو بستر پر لیٹ کر سونے کے لیے جونہی آنکھیں بند کیں تو پتا نہیں وہ ماں کہاں سے میرے کمرے میں آ گئی اور میرے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑی ہو گئی۔ میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ چاروں طرف بغور دیکھا تو کمرے میں کسی کو بھی موجود نہ پایا۔ میں بے چینی سے صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا۔

دفتر پہنچتے ہی میں نے متعلقہ ڈائریکٹر کو پیغام بھیجا کہ وہ اس لڑکے سے متعلقہ فائل لے کر فوراً میرے دفتر آ جائے۔ ڈائریکٹر تھوڑی ہی دیر میں دو چار فائلیں بغل میں دابے آن پہنچا۔ اس نے کیس کی جو تفصیلات بتائیں وہ کوئی امید افزا نہیں تھیں۔ معلوم ہوا کہ اسے کوئی ایک سال قبل اس کے والد کے دوران سروس وفات پا جانے کی بنیاد پر کنٹریکٹ پر نائب قاصد بھرتی کیا گیا تھا۔ اس کا گاؤں کہیں پتوکی کے آس پاس تھا۔ لاہور میں کوئی رہائش دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اسے روزانہ پتوکی سے دو تین گھنٹے سفر کر کے دفتر پہنچنا پڑتا تھا۔

واپسی پر بھی اسی طرح کی خواری جھیلنا پڑتی تھی اور اس کی ساری تنخواہ اس سفر میں صرف ہو جاتی تھی۔ بچت کی کوئی صورت نہ پا کر اس نے پہلے تو نوکری سے استعفی دے دیا جو ابھی منظوری کے مراحل میں تھا کہ وہ نوکری سے غیر حاضر ہو گیا۔ میں نے ڈائریکٹر کو ہدایات دیں کہ اس کا استعفی واپس کر دیا جائے او ر اس کی غیر حاضری کے عرصہ کو ریگولرائز کرنے کے لیے کیس تیار کر کے پیش کیا جائے۔ ڈائریکٹر اگلی صبح تک مہلت لے کر رخصت ہو گیا۔

اگلی صبح جب ڈائریکٹر میرے کمرے میں داخل ہوا تو اس کے چہرے سے کوئی ناخوشگوار خبر مترشح تھی۔ وہ میز کے دوسری طرف میرے سامنے والی سیٹ پر بیٹھ گیا اور کیس فائل کھول کر میرے سامنے رکھ دی۔ کیس فائل میں اس لڑکے کے بھرتی ہونے کے پس منظر سے لے کر اس دن تک کی تمام تفصیلات ایک نوٹ کی صورت میں درج تھیں۔ ڈائریکٹر کہنے لگا، سر! اس لڑکے کو نوکری پر بحال کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔ اگر ہم اس کے غیر حاضری کے عرصے کو چھٹی کی صورت میں بھی ریگولرائز کرنا چاہیں تو بھی قانونی طور پر ممکن نہیں۔

ڈائریکٹر ایڈمن نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ کسی بھی کنٹریکٹ ملازم کو طبی بنیادوں پر زیادہ سے زیادہ تین ماہ تک رخصت دی جا سکتی ہے۔ جبکہ اس لڑکے کا غیر حاضری کا عرصہ چار ماہ سے بھی زیادہ ہے۔ لہذا اب قانونی طور پر اس لڑکے کا کنٹریکٹ ختم کرنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں۔ مجھے اس کی رائے سے اختلاف کی کوئی صورت نظر نہیں آئی۔ تاہم میں نے اسے کہا کہ وہ ایک آدھا دن ٹھہر جائے، میں مزید سوچ بچار کے بعد اسے کوئی حتمی ہدایات دوں گا۔

اگلے دو دن اسی شش و پنج میں گزر گئے کہ ایک ماں کی فریاد کیسے پوری کی جائے۔ قانون کہتا تھا کہ بلا تاخیر اس کا کنٹریکٹ ختم کر دیا جائے، دل یہ کہتا تھا کہ کوئی راستہ نکالا جائے۔ کوئی راستہ نکل آئے گا۔ آخر ایک ماں کی دعا کیسے رد ہو سکتی ہے۔ لیکن کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ جب بھی ذہن میں یہ سوچ آتی کہ اس کے کنٹریکٹ کو ختم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کردوں تو ایک مجبور و بے بس ماں میرے سامنے ہاتھ باندھے آ کھڑی ہوتی اور میں ایک عجیب سی اذیت میں مبتلا ہو جاتا۔

ویسے بھی بائیس سالہ نوکری میں کسی کو سزا دینا یا کسی کے خلاف سزا تجویز کرنا میرے لیے سب سے ناخوشگوار تجربہ رہا ہے۔ عام طور پر میرے دفتر میں کوئی بھی فائل ایک دن سے زیادہ نہیں ٹھہرتی لیکن جہاں کسی کو سزا دینے یا سزا تجویز کرنے کی بات آ جائے تو ایسی فائل میرے دفتر کی مستقل مہمان بن جاتی ہے۔ بسا اوقات ہفتوں اور مہینوں تک میری جان نہیں چھوڑتی۔ بار بار الزامات کا جائزہ لیتا ہوں، پیش کردہ شہادت کا تجزیہ کرتا ہوں، قانون دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ شاید بچت کا کوئی راستہ نکل آئے۔ جب تمام راستے مسدود ہو جاتے ہیں تو پھر بادل نخواستہ فائل کو اگلی منزل تک پہنچانے کے حکم نامے پر دستخط کرتا ہوں۔

تیسرے دن گیارہ بجے کے قریب میں ملتان روڈ پر واقع سائل سروے کے دفتر پہنچا۔ کچھ ہی دیر بعد ڈائریکٹر بھی آ گیا۔ آج اس کے چہرے پر سرشاری تھی۔ کہنے لگا، سر! اس لڑکے کے مسئلے کا حل نکل آیا ہے۔ میں چونکا۔ کیا حل نکلا ہے؟ سر اس لڑکے کا کیس شروع دن سے ہی درست سمت میں نہیں چلایا گیا۔ وہ کیسے؟ سر! پنجاب سول سرونٹس ایکٹ کے قاعدہ 17 اے کے تحت دوران ملازمت فوت ہو جانے والے سرکاری ملازمین کے بچوں کو مستقل بنیادوں پر بھرتی کیا جاتا ہے، نہ کہ کنٹریکٹ پر۔

اس لڑکے نے بھی مستقل بنیادوں پر بھرتی ہونا تھا لیکن اسے غلط طور پر کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا ہے۔ اگر اجازت ہو تو میں اس ضمن میں قانونی آرڈر بنا کر پیش کردوں؟ میں نے کہا، بلا تاخیر پیش کرو۔ ڈائریکٹر شکریہ کہہ کر رخصت ہو گیا اور میں چشم تصور سے اس ماں کا خوشی سے تمتماتا ہوا چہرہ دیکھنے لگا۔ کہاں ہم اس کے بیتے کو نوکری سے نکالنے کے سوچ رہے تھے اور کہاں اب ہمیں اسے مستقل بنیادوں پر نوکری دینے کے احکامات صادر کرنا پڑ رہے تھے۔

جب ماں باپ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں تو پھر ایسے واقعات کا وقوع پذیر ہونا معمولی بات بن جاتا ہے۔ رب کریم آپ کے لیے لوگوں کے دل نرم کر دیتا ہے، انہیں آپ کی بھلائی پر مامور کر دیتا ہے اور ان کو ایسے سوچ عطا کر دیتا ہے جس سے آپ کی فلاح ہو سکے۔ اپنے والدین کو معمولی مت جانیے۔ وہ آپ کے لیے رحمت ہی رحمت ہیں۔ وہ رب کا روپ ہیں۔ ان کو گلے سے لگا لیجیے، یہ کائنات آپ کو گلے سے لگا لے گی۔

Facebook Comments HS