مجھے جینے دو!
”سنو میں تمہاری ماں ہو۔ تم مسلسل مجھے تکلیف پہنچائے جا رہے ہو۔ بس بہت ہو گیا۔“ کیا کہہ رہی ہو ماں۔ میں نے آخر ایسا کیا کیا ہے۔ ”وہ بولا۔“ کیا مطلب! تمہیں لگتا ہے تم نے کچھ نہیں کیا؟ اور تو اور تمہارے سب بھائیوں نے بھی میرا حشر خراب کر کے رکھ دیا ہے۔ جگہ جگہ سے میرے دل کو زخموں سے چور چور کر دیا ہے۔ اب بس بہت ہو چکا۔ مجھے جینے دو۔ میرے چہرے پر پڑی جھریاں اور کرب تم لوگوں کو بالکل ہی دکھائی نہیں دیتا۔
”ماں کافی غصے اور دکھ میں لگ رہی تھی۔ اسے افسوس ہو رہا تھا کہ اس کی ساری کی ساری اولاد ہی نالائق اور لالچی نکلی۔ ماں نے سینکڑوں نہیں ہزاروں برسوں سے تنہا اپنے اوپر اپنی ساری اولاد کا بوجھ اٹھا رکھا تھا۔ ماں تو محبت، شفقت اور صبر کا منبع ہوتی ہے۔ مگر اب لگتا ہے اس بوڑھی ماں کا حوصلہ بھی ٹوٹنے لگا تھا۔ اسے اپنے ضعیف جسم پر پڑ چکی دراڑیں باقاعدہ اب چبھنے لگی تھیں۔ ماں کی روح تک سے خون رسنے لگا تھا۔ اس مشفق ماں کی آنکھوں کی تھکن، لہجے کی ٹوٹ پھوٹ اور نحیف و نزار کندھوں کا درد آخر اس کے بیٹوں کو کیوں نظر نہیں آتا؟
کیوں وہ اس کے حصے بخرے کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ جانتے ہیں یہ بیچاری ماں کون ہے؟ یہ ہم سب کی دھرتی ماں ہے۔ ہاں وہی جسے ہم ریاست کہتے ہیں۔ جس کے بارے میں سنا تھا ریاست ہوگی ماں کے جیسی۔“ مگر ہم سب نے مل کر کیا کر دیا اپنی ہی ماں کے ساتھ۔ اس پہ اتنے ظلم ڈھائے کہ دھرتی ماں بھی چلا اٹھی۔ دوسری طرف اس ماں کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں کہ کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ مہنگائی اور بیروز گاری کا یہ عالم ہے کہ حکومت کے اعلانچیوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ روس سے تیل آ جانے کے باوجود وہ شاید سرسوں کا تیل نکل آیا ہے۔
کیونکہ پیٹرول کی قیمتیں وہی رہیں گی۔ ہر گز کم نہیں ہوں گی۔ آٹے اور تندوری روٹیوں اور نان کی قیمتوں میں اضافہ ہی اضافہ ہے۔ گھی، دالیں، گوشت، مرغی اور سبزیاں بھی ہر پاکستانی کی پہنچ میں آتے آتے رہ جاتی ہیں۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ اب سوشل میڈیا کی وجہ سے پاکستانی اپنے گھروں میں اب کس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ ”علی کیا تم نے سنا کہ ہمارے وزیر خزانہ نے آج شب اپنی پریس کانفرنس میں کیا کہا ہے۔“ نہیں ابا میں سو گیا تھا۔
”بیٹا! تیل کی قیمتوں میں کمی نہیں ہو رہی تو ظاہر ہے باقی اشیا بھی سستی نہیں ہوں گی۔ میرا دل چاہتا ہے میں حکومتی سربراہوں کو خط لکھوں اور پوچھوں کہ یہ ایک آزاد ملک ہے۔ تیل کی قیمت بڑھانے کا اختیار صرف حکومت کے پاس ہی کیوں ہے۔“ علی حیرت سے اپنے ابا کو دیکھنے لگا اور بولا ابا آپ کسی مشکل میں پڑ جائیں گے۔ ابا نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا ”تم ٹھیک کہتے ہوں۔ اس ملک میں وہ جمہوریت نہیں ہے جو ہمیں بتائی جاتی ہے۔
بابائے قوم بھی اب زندہ نہیں ہیں تو کیا ہوا ان کی تعلیمات تو زندہ ہیں۔ اگر اسی طرح غذا کی اشیا میں اضافہ ہوتا رہا تو عام آدمی یہاں کس طرح زندہ رہ سکتا ہے۔“ علی کی آنکھوں میں بھی اداسی اتر آئی۔ وہ کہنے لگا ”ابا! کیا آپ سمجھ پائے ہیں کہ اس ملک میں کیا خرابی ہے۔ اب تو لگتا ہے ہمارے ہاں مخلوط پارٹیوں کے رہنما احمقوں کی جنت کا ایک گروہ ہیں۔ وہ ہمیں کسی بھی ایسی چیز دینے کے قابل نہیں جس کا انہوں نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔
سڑکوں پر گھسیٹنے سے لے کر گریبان پھاڑنے تک کے نعرے اور پھر ان ہی کے بیٹے کو وزیر خارجہ کا قلم دان تھما دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں نوکر شاہی طبقہ بھی صرف مفادات کی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔ وہ ہر گز یہ نہیں سمجھتے کہ ہمارے لیے کیا اچھا ہے۔ یہ حکومتی وزرا ہی کی تعداد اور اخراجات ہیں جو افراط زر کا سبب بن رہے ہیں۔ اپنے لوگوں کو یہ یونہی انعام و کرام سے نوازتے رہتے ہیں۔“ اب دیکھیں ناں! یہ یونان جانے والی کشتی میں سوار نوجوان کتنی ماؤں کی آنکھوں کا تارہ تھے۔
کتنوں گھروں کی امیدیں تھے۔ 300 قیمتیں جانیں سمندر برد ہونے کے بعد انسانی سمگلروں کی پکڑ دھکڑ پر کمیٹی بنائی گئی۔ لیکن ابا! جب تک نوجوانوں کو پاکستان میں اپنا مستقبل تابناک نظر نہیں آئے گا وہ یونہی اجنبی جنگلوں، صحراؤں اور سمندروں میں اپنی جانیں گنواتے رہیں گے۔ قارئین یہ ساری باتیں آج اس دلخراش واقعے کے بیت جانے کے بعد مجھے ستا رہی ہیں۔ کیا یہ ہنر مند ہاتھ جو یونانی پانیوں کی نذر ہو گئے۔ ان سے پاکستان میں فائدہ کیوں نہیں اٹھایا جاتا۔
یہ ساری باتیں سن کر ہماری دھرتی ماں بھی تکلیف میں ہے۔ ہمیشہ سے نقصان اٹھانے اور قیمتی جانیں ضائع ہو جانے کے بعد وفاق سے تحقیقاتی کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں۔ کب سے لوگ چور راستوں سے فرار ہوتے رہے ہیں مگر انسانی سمگلروں کا مافیا دندناتا پھرتا ہے۔ آئین کے مطابق نہ تو مفت تعلیم دی جاتی ہے نہ ہی بیروزگاری ختم ہوتی ہے۔ مختلف ملکوں سے ہر سال ہزاروں لوگ جنگ، عقوبت اور غربت کی وجہ سے دغا بازوں کے ہتھے چڑھ کر یورپ کے سنہرے خواب آنکھوں میں سجائے موت خرید لیتے ہیں۔
یونان جانے والی کشتی کی حالت بھی کچھ اچھی نہ تھی اور یونانی نیوی کے لوگوں نے کشتی کو کھینچنے کے لیے رسیاں بھی غلط جگہوں پر باندھیں۔ ضرورت سے زیادہ بوجھ کی وجہ سے انجن خراب ہوا اور کشتی ڈوب گئی۔ گارڈین اخبار کے مطابق پاکستانیوں کو زبردستی نیچے ڈیک میں بند کیا گیا جبکہ باقی باشندے اوپر بیٹھے تھے۔ ہمیں ہر جگہ حقیر سمجھا جاتا ہے۔ اوبزرور کی رپورٹ کے مطابق عملے نے بھی پاکستانیوں کے ساتھ بد سلوکی کی حتیٰ کے پینے کا پانی بھی مہیا نہیں کیا۔ مرنے والوں میں بڑی تعداد کشمیریوں کی تھی۔ ملک میں تو ایک دن کا سوگ منایا گیا۔ وہاں بھی میڈیا پر ہنسی ٹھٹھے کے پروگرام جاری رہے۔ مگر مر جانے والوں کے پیچھے رہ جانے والوں کا تو ہر دن سوگ کا دن ہے۔


