ایک غیر قانونی تارک وطن سے مکالمہ


یہ خادم کہ اب انٹارکٹیکا کے سوا باقی چھے بر اعظم دیکھ چکا ہے، وانواٹو، ٹونگا اور جزائر سولومن تین ملکوں کو چھوڑ کر جہاں بھی گیا کسی نہ کسی پاکستانی سے ملاقات ہو گئی۔ برطانیہ وغیرہ تو خیر پاکستانیوں کے لیے دوسرے گھر کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن مثلاً فجی میں سب سے نیک نام ماہر امراض قلب، برازیل میں فورک لفٹر نامی گاڑی کے اہم ترین سپلائر، ہالینڈ میں سماجی علوم کے نمایاں استاد کو پاکستانی پا کر بہت خوشی ہوئی۔ یہاں شام میں سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے مرقد کے نواح میں تو پاکستانیوں کا باقاعدہ محلہ ہے اور پاکستانی امام باڑہ ”حسینیہ الباکستانیہ“ کے نام سے عرصے سے فعال ہے۔ اس کے علاوہ کئی پاکستانی شامیوں سے رشتہ مناکحت میں منسلک ہو کر یہاں مقیم ہیں جن سے کبھی کبھار سفارت خانے کی تقریبات میں ملاقات ہوجاتی ہے۔ چند سال قبل جب اس خادم کے اہل خانہ بہ غرض سیاحت آئے ہوئے تھے، سفارت خانے میں یوم آزادی کی تقریب میں شرکت کی دعوت ملی۔ ایک معمر خاتون نے جو اپنے درجن بھر پوتوں نواسوں کے جلو میں تھیں، ٹھیٹ پنجابی میں حسین قاضی صاحب سے کرسی خالی کرنے کو کہا چونکہ ان کے ”گوڈے“ کام نہیں کر رہے تھے۔ اس کے بعد اس خادم کی ہم سر زینب سے روایتی پاکستانی انداز میں بھلو چنگو، راضی باضی، صرف ایک بچے پر اکتفا کرنے پر ملامت طرز کی گفتگو کے دوران انکشاف کیا کہ وہ آٹھوں گانٹھ کمیت شامی ہیں۔ ایک پاکستانی سے شادی کے بعد دس بارہ برس اپنے سسرال سیال کوٹ میں مقیم رہیں۔ پھر مع اہل و عیال واپس سوریہ منتقل ہو گئیں۔ سوائے عربی اور سیال کوٹی طرز کی پنجابی کے، اور زبان نہیں جانتیں۔

خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا، یونان کے قریب غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے اور اس میں سیکڑوں پاکستانیوں اور دوسروں کی ہلاکت پر دل بہت ملول ہے۔ یہ اس طرز کا پہلا سانحہ نہیں ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف پچھلے ایک سال کے دوران بحیرہ روم میں پاکستانیوں سمیت مرنے والوں کی تعداد بیس ہزار سے متجاوز ہے۔ سوشل اور رسمی میڈیا پر ان وجوہات کے بارے میں قسما قسم کے خیالات دیکھنے میں آ رہے ہیں جو نوجوانوں کو اپنی زندگی خطرے میں ڈالنے پر راغب کر رہی ہیں۔ سوریہ، لیبیا، کانگو، افغانستان، صومالیہ، جنگ اور قحط زدہ مغربی افریقی ممالک وغیرہ کے بارے میں تو کہا جا سکتا ہے کہ وہاں کے کچھ لوگوں کو یقینی موت اور خطرناک سفر کے بیچ کا الم ناک انتخاب درپیش ہے۔ لیکن، تمام تر اقتصادی مسائل کے باوجود پاکستان مواقع روزگار سے خالی نہیں ہوا ہے اور نہ ہی خدانخواستہ، کچھ نا عاقبت اندیش اندرونی و بیرونی عناصر کے خدشات یا خواہشات کے علی الرغم کوئی خانہ جنگی یا قحط کا سماں ہے۔ اس تناظر میں پاکستانی نوجوانوں کا ایک غیر یقینی مستقبل کے لیے بھاری رقوم خرچ کر کے جان جوکھم میں ڈالنا بہت سے احباب کی نظر میں ایک معمہ ہے۔

احباب میں سے کچھ نے اسے وطن میں چھائی ہوئی مایوسی، بے چارگی اور بے روزگاری کا نتیجہ قرار دیا تو کچھ کے خیال میں یہ لالچ، مقابلے بازی وغیرہ کا شاخسانہ ہے۔ اس خادم کے بے شمار قریبی دوست اور عزیز ترک وطن کر کے دور دیس جا بسے ہیں لیکن وہ سب قانونی راستوں سے گئے، سو ٹھیک سے اندازہ نہیں کہ ڈوب جانے والوں میں سے کس کو کیا مجبوری لاحق رہی ہوگی۔ ایک پشتو ٹپے کی منظوم ترجمانی کرتا ہوا ہمارے یار عزیز ڈاکٹر عصمت درانی کا شعر بھی صورت حال کی مکمل وضاحت سے لاچار نظر آتا ہے کہ۔ کچھ نے عشق کے ہاتھوں اپنا گھر چھوڑا۔ کچھ نے رزق کی خاطر نقل مکانی کی۔ اس ضمن میں اس خادم کا ایک مختصر مشاہدہ ہے سو احباب کی نذر ہے۔

کئی سال پہلے یہ خادم ایک افسر اعلی کے ہمراہ کسی سرکاری اجلاس میں شرکت کے لیے براستہ استنبول، جنیوا گیا۔ چار پانچ روز بعد اسی راستے سے واپسی تھی۔ پرواز کے مقررہ وقت سے ذرا پہلے نشان زدہ دروازے پر پہنچا تو کچھ شور و غل سنائی دیا۔ اندر جھانکا تو کوئی بیس اکیس پاکستانی نوجوان، سستی مگر نئی شلوار قمیص پہنے اور ایک سے کاغذی بیگ ہاتھ میں لیے بیٹھے ہیں۔ ان میں سے ایک باریش نوجوان کا بایاں پاؤں اور دایاں ہاتھ پلستر میں ملفوف تھا۔ وہ لگاتار انگریزی اور اردو میں چلا رہا تھا کہ وہ واپس نہیں جانا چاہتا اور مسلسل سر اور جسم کو جھٹکے جا رہا تھا۔ ترکی پولیس کے دو سپاہی اسے دونوں سمت سے تھامے ہوئے تھے۔ جب سب مسافر جہاز میں بیٹھ چکے تو پولیس والے اسے گھسیٹتے ہوئے لائے لیکن وہ مسلسل سر کو دائیں بائیں پٹکے جا رہا تھا اور رو دھو رہا تھا۔ جہاز کے عملے نے پولیس والوں سے پوچھا کہ اگر راہ میں اسے کوئی گزند پہنچا، یا اس نے خود کو مزید زخمی کر لیا تو ذمہ دار کون ہو گا۔ جب پولیس والوں نے حیص بیص سے کام لیا تو پائلٹ نے اسے ساتھ لے جانے سے صاف انکار کر دیا اور مجبوراً پولیس والے اسے بازووں سے پکڑ کر واپس لے گئے۔ واپس جاتے وقت اس کا چیخنا چلانا ماند پڑ گیا تھا اور دروازے میں رک کر تو ظالم نے باقی جہاز والوں کو آنکھ بھی ماری۔

خیر، جہاز اڑا تو میں نے برابر بیٹھے نوجوان سے حال احوال کرنا شروع کیا۔ موصوف تئیس سال کے تھے اور تعلیمی قابلیت آٹھویں فیل تھی۔ تعلق جنوبی پنجاب کے قصبے لیاقت پور سے تھا۔ والد صاحب کی سائیکلوں کی مرمت کی دکان تھی، جسے گروی رکھ کر اور مزید پیسے جاننے والوں سے ادھار پکڑ کر پندرہ لاکھ روپے کے خرچ پر اسے انسانی سمگلروں کے حوالے کیا گیا تھا۔ نوجوان کے بقول پہلے اسے اور بیسیوں دیگر افراد کو کراچی لے جایا گیا، پھر وہاں سے تربت اور مند بلو کے راستے ایران سمگل کیا گیا۔ کچھ دن وہاں پوشیدہ رکھ کر ترکی اور ایران کی سرحد پر کسی مقام پر پہنچایا گیا جہاں سنگلاخ پہاڑی دروں کے راستے، رات کے اندھیرے میں پیدل سرحد پار کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ وہاں بھیڑیوں کی بھی بہتات تھی اور ترکی کے سرحدی محافظ بھی پتہ تک کھڑکنے پر گولی چلا دیتے۔ نوجوان کے بقول اس کے قافلے میں شامل بہت سے لوگ محافظوں کی گولیوں کا نشانہ بنے اور ایک آدھ کو بھیڑیے بھی گھسیٹ کر لے گئے۔ یہ نوجوان ان چالیس کے قریب خوش قسمتوں میں سے تھا جو زندہ کسی طرح دوسری جانب پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

وہاں پہنچ کر انہیں بند ٹرکوں میں لاد کر استنبول لے جایا گیا اور مضافات کے کسی بند کارخانے کے تہہ خانے میں واقع گودام میں چھپا دیا گیا کہ جیسے ہی کشتی کا بندوبست ہوتا ہے، انہیں یونان پہنچا دیا جائے گا۔ ہفتہ عشرہ ایسا ہی گزرا اور کھانے کو دن میں دو بار دال اور پاؤ روٹی دی جاتی۔ پھر دو دن تک کوئی نہ آیا۔ بھوک پیاس اور پریشانی ستانے لگی۔ سو لوگوں نے ہمت کر کے تہہ خانے کا بوسیدہ دروازہ توڑ دیا اور باہر آ گئے۔ کچھ دور چلنے کے بعد پولیس والے نظر آئے تو ان میں سے کچھ لوگ تو ڈر کے مارے بھاگ کھڑے ہوئے اور باقیوں نے خود کو پولیس کے حوالے کرنے کی کوشش کی۔ لیکن پولیس والوں نے انہیں لاتعلقی دکھاتے ہوئے نظر انداز کر دیا۔ پھر انہوں نے دیسی ٹوٹکا آزماتے ہوئے سڑک پر دھرنا دے دیا جس سے ہائی وے پر ٹریفک رک گئی اور پولیس کو مجبوراً انہیں گرفتار کرنا پڑا۔ اقوام متحدہ کا ایک ادارہ غیر قانونی تارکین وطن کو واپس پہنچانے کا کام کرتا ہے، سو اس نے انہیں تین ماہ کی قید کے بعد ایک جوڑا پاکستانی لباس اور گھر والوں کے لیے مٹھائی کا تھیلا دے کر پاکستان آنے والے جہاز میں بٹھا دیا۔

اس خادم نے اس سے پوچھا کہ اب تو نصیحت ہو گئی ہوگی۔ واپس جا کر کیا کرنے کا ارادہ ہے؟ اب تو وطن میں ہی محنت مزدوری کرنا مناسب ہو گا۔ ترنت بولا کہ نہیں، اب کوریا جانے کی کوشش کروں گا۔ پوچھا وہ کیوں؟ بولا کہ سنا ہے کہ جانے کے بارہ لاکھ لگتے ہیں اور بندہ ایک بار پہنچ جائے تو مہینے کے دس لاکھ کما کر گھر بھیج سکتا ہے۔ پوچھا، یہ کیسے پتا چلا؟ بولا کہ بہت سے لوگ کوریا جا چکے ہیں اور ان کے گھر والے عیش کر رہے ہیں۔ پوچھا کہ کیا تم نے ایسے کسی شخص یا اس کے گھر والوں کو دیکھا ہے؟ بولا، نہیں، دیکھا تو نہیں مگر سنا ضرور ہے۔ کس سے سنا ہے؟ ، جی، ایجنٹ یعنی انسانی سمگلر نے بتایا تھا۔

سو، اس مکالمے سے اس خادم نے وہی نتیجہ نکالا جس پر ایک گزشتہ مضمون میں بات ہوئی تھی کہ مارکیٹنگ میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ یہ سائیسی کی طرح وہ علم دریاؤ ہے جس میں انسانی نفسیات کی کمزوریوں کو جانچ کر اس کے مطابق ”پراڈکٹ“ میں مختلف قسم کے سبز، لال خوابوں کے جعلی بکسوئے ٹانکے جاتے ہیں، جن میں فریب پذیر لوگوں کو پھنسا کر ان کی جمع پونجی اور کبھی کبھی زندگی تک کو ہتھیایا جاتا ہے۔ کسی حکیم کا وہ کیا قول تھا کہ جب تک دنیا میں ایک احمق بھی زندہ ہے، نوسرباز بھوکے نہیں مریں گے۔

Facebook Comments HS