میرے اسفار کی دلچسپ کہانیوں کا سلسلہ  (پہلی قسط)


تو لوٹتی ہوں اس زمانے میں جو 1986 کا تھا۔ ذکر ہے اس شب کا جب ایک فائیو سٹار ہوٹل کے ایک بزنس ڈنر میں شریک تھی۔ لاؤنج میں میرے دائیں ہاتھ بیٹھی ایک دل کش خاتون ”گیمبیا“ کے مشرقی حصے کے ”تاکی“ قبائل کے شادی بیاہ کی دلچسپ رسومات کا ذکر زور و شور سے کر رہی تھی۔ سچی بڑی کامیاب داستان گو نظر آتی تھی۔

”بالغ لڑکیوں کے گھر بسانے کے لئے ایک ایسی رات کا انتخاب کیا جاتا ہے جب آسمان پر چاند ہو نہ ستارے، مطلع ابر آلود اور ہر سو خاموشی، کسی شخص کو آگ تک جلانے کی اجازت نہیں ہوتی“ ۔

اچانک ایک نوخیز لڑکی عقبی نشست سے اٹھ کر سامنے آئی اور بولی۔

”بھئی ہمارے تو اپنے ملک کے رسوم و رواج بہت دلچسپ اور خوبصورت ہیں۔ وادی یاسین میں“ بوپھاؤ ”وادی بمبوریت میں چاؤ موس جیسے تہواروں کا دیکھنے سے تعلق ہے۔“

”وادی یاسین“

ایک ماڈرن سی خاتون نے زیر لب کہا۔ اس کی آنکھوں سے چھلکتی حیرت اس کی لاعلمی کو واضح کرتے ہوئے یہ بھی بتا رہی تھی کہ وہ جاننا چاہتی ہے کہ یہ علاقہ کہاں واقع ہے؟

”ہمارے لوگ بھی عجیب ہیں۔ وہ بولی۔ سیاحت کے لئے یورپ اور امریکہ بھاگے جاتے ہیں اور نہیں جانتے ہیں کہ ان کے اپنے ملک میں ایسی خوبصورت اور دل آویز جگہیں ہیں جنہیں غیر ملکی سیاحوں نے جنت نظیر کہا ہے۔ گلگت، بلتستان اور چترال کی وادیاں خدا گواہ ہے انسان ان کے حسن کو دیکھ کر گنگ رہ جاتا ہے۔

وہ دل کش اور خوبرو لڑکی اس وقت ولیم ٹیل بنی ہاتھ میں کمان پکڑے طنز کے تیر پر تیر چھوڑتی چلی جا رہی تھی۔ اس کے تیروں کی بوچھاڑ سے کوئی اور زخمی ہوا یا نہیں، یہ میں نہیں جانتی تھی پر میں چھلنی چھلنی ہو گئی تھی۔

اس چلبلی لڑکی نے میرے اندر کے مہم جو ادیب کو جگا ڈالا تھا۔ جو سالہا سال سے مصلحتوں کے تحت دل کے کسی گوشے میں سکڑا سکڑایا پڑا تھا۔ دراصل اٹھائیس سال تک پڑھنے اور ڈگریاں حاصل کرنے اور من موجی زندگی گزارنے کے بعد گھر بسانے کا فطری احساس ان سب جذبوں پر غالب آ گیا تھا۔ جس میں شہرت اور ناموری حاصل کرنے اور اپنے آپ کو ایک اچھے ادیب کے طور پر منوانے کے عزائم شامل تھے۔ میں عورت کی فطری جبلت کے ہاتھوں بے بس ہو گئی تھی اور عمر کی اس حد پر پہنچ کر یہ احساس بھی قوی ہو گیا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اب بقیہ عمر کنوار پنے کی نذر ہو جائے۔

اماں کے وظیفوں اور دعاؤں نے جس کے لڑ لگایا وہ بلاشبہ پیار کرنے کے قابل تھا۔ شیر افگن جیسا۔ پر گھر کی راجدھانی کے ظل سبحانی مہابلی کے سامنے پورا پورا گیدڑ تھا۔

ظل سبحانی دراصل پکے پکے لارڈ کلائیو تھے۔ وہی چہرہ مہرہ۔ ویسا ہی رنگ و روپ ’وہی انداز‘ وہی دبدبہ مجھ جیسی اڑتی چڑیا پنجرے میں قید ہو گئی تھی۔ سسرال نے ناک میں نتھ نہیں نکیل ڈال دی تھی۔ جس نے ناک کے نتھنے چھوڑ براچھیں بھی چیر دی تھیں۔ سارے عزائم اور خواب چولھے پر پکتی ہنڈیا سے نکلتی بھاپ کی مانند فضا میں تحلیل ہو گئے تھے۔ عیار لومڑی کی طرح لمبے چوڑے گھر کے ایک کھڈے لگی اس کٹھن وقت کو جس میں ازدواجی زندگی کے تحفظ کا پٹڑہ ہو سکتا تھا ’بچاتی‘ پاؤں اندر ہی اندر مضبوط کرتی ’ماہ و سال اپنے اوپر سے گزارتی چلی جاتی تھی۔

”پرسی کلاس“ کی یہ پڑھی لکھی عورت جس کے اندر اپنے آپ کو منوانے اور شہرت حاصل کرنے کے جراثیم گو کڑے حالات کی اینٹی بائیوٹک دواؤں سے نڈھال ضرور ہو گئے تھے۔ پر ابھی مرے نہیں تھے اب دوبارہ زندہ ہو رہے تھے۔ وہ تیسری دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح ترقی پذیر کا ٹھپا ماتھے سے پونچھ کر اسے ترقی یافتہ جیسے خوش رنگ جھومر سے سجانا چاہتی تھی۔

پر مصیبت تو یہ تھی کہ لڑ لگنے والا ایسا امن پسند تھا کہ زندگی کی رواں دواں ندی میں اسے طغیانی چھوڑ ہلکے سے بھنور بھی پسند نہ تھے۔

ایک بار دورے پر کوئٹہ جا رہا تھا۔ میں نے بریف کیس تیار کیا۔ اسے پکڑایا اور کہا

”مجھے بھی ساتھ لے چلتے کوئٹہ نہیں دیکھا۔ دیکھ لیتی اسی بہانے“ ۔ اپنے اپ پر کلون کی بارش کرتے ہوئے لڑ لگنے والے نے گھوم کر یوں دیکھا جیسے میں پاگل ہو گئی ہوں۔

”لو تمہیں کہاں گھسیٹتا پھروں گا۔ میں تو وہاں کام بھی ڈھنگ سے نہ کر سکوں گا۔ دھیان تم میں ہی اٹکا رہے گا کہ کہیں کوئی رکشہ ’ٹیکسی والا ہیر پھیر نہ کر جائے“ ۔

میں نے دھیرے سے کہا۔

”میں انجانی جگہوں ’انجانے شہروں‘ ناواقف راستوں اور اجنبی لوگوں سے کبھی نہیں گھبراتی۔ ہمیشہ راستے نکال لیتی ہوں اور میرے ساتھ کبھی کوئی ہیرا پھیری نہیں ہوئی“ ۔

اور بریف کیس کو زور دار جھٹکا دیتے ہوئے اس نے طنزاً کہا۔
”عجیب عورت ہو۔“

تب میں نے ہونٹوں کو بڑی گھودوئی سے نہیں چھوٹی سے سیا کہ میرے تلوؤں کے نیچے ابھی ریتلی زمین تھی۔ اور جب رتیلی زمین موذائق کے فرش میں بدلی۔ گھر کا سکون ڈسنے لگا تھا۔ جی چاہتا تھا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ہواؤں میں اڑتی ابابیلوں کی طرح انجانے دیسوں کی طرف نکل جاؤں ”رائیڈر ہیگرڈ“ کے ”میکومیزن“ اور ”ہنسیں“ کا روپ دھار لوں۔ نئی جگہوں کے اسرار جانوں۔ ”ڈور تھی ڈکس“ بن جاؤں اور خوب خوب لکھوں۔

اب اندر اور باہر زور دار جنگ کا آغاز ہوا۔ ممتا اور گھر داری ٹانگوں کو اندر کی

جانب گھسیٹ رہی تھی۔ اور کچھ بننے بنانے ’لکھنے لکھانے کی آندھی پٹخ پٹخ کر دروازے کے باہر پھینکتی تھی۔

پھر اس شب اس شوخ لڑکی کی باتوں نے مجھے عملی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔

شمالی علاقہ جات پر لکھنے کا منصوبہ ذہن نے بنایا۔ میرا بچپن ان علاقوں کی کہانیاں اور پھل کھاتے گزرا تھا کہ بڑے ماموں کی پہلی تقرری گلگت ایجنسی میں ہوئی تھی۔

تب ایک دن میں نے اپنا پرانا اعتماد بحال کرتے ہوئے لڑ لگنے والے سے کہا۔
”میں شمالی علاقوں کی سیاحت کے لئے جانا چاہتی ہوں۔ مجھے کچھ لکھنا ہے۔“
میاں کے ہونٹوں اور آنکھوں میں طنزیہ ہنسی ابھری تھی۔

”مشرقی پاکستان پر لکھنے کے لئے وہاں گئیں تو اسے بنگلہ دیش بنا دیا۔ اب شمالی علاقہ جات کی شامت آ گئی ہے۔ خدا کے لئے رحم کھاؤ اس پر۔ گھرہستن عورت بنو۔

ڈھیٹ بن کر مدعا پھر گوش گزار کیا۔ اس بار لہجے کے ساتھ ساتھ چہرے پر بھی جھلاہٹ تھی۔

”عجیب عورت سے واسطہ پڑا ہے۔ ٹک کر رہنا دوبھر ہے۔ کوئی پوچھے بھلا تم نے وہاں جا کر خشک اور بنجر پہاڑوں سے کون سے راز و نیاز کرنے ہیں“ ۔

سچی بات ہے ’بھینس کے آگے بین بجانے والے محاورے کا صحیح اور عملی مفہوم اس دن میری سمجھ میں آیا تھا۔
پر دل نے کہا تھا جانا ہے مجھے وہاں۔ ہر صورت ہر طور۔ قرض ہے اس دھرتی کا میرے اوپر۔
٭٭٭
٭٭٭

Facebook Comments HS