لاری اڈا، کھٹارا طیارہ اور لوکل روڈ

کچھ سفر حسین ہوتے ہیں تو کچھ منزلیں شاندار۔ مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ بندہ سفر اور منزل کی فکر بھول کر مسافروں میں کھو کر رہ جائے۔ کبھی انسان سفر کو بھول جاتا ہے تو کبھی منزل گم کر بیٹھتا ہے مگر یہ ایک کمیاب واقعہ ہے کہ بندہ سفر اور منزل سے بے نیاز ہو کر مسافروں میں توجہ مرکوز کر بیٹھے۔ زندگی میں کچھ ایسے سفر اور مسافر بھی گزرتے ہیں کہ ان کے متعلق سوچ کر بندہ ہنسی روک نہیں پاتا اور ہنس کر کہتا ہے ”دھت تیری“ کتنی مضحکہ خیز یاد ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ ابھی پیدا نہیں ہوا۔ میں کہتا ہوں کہ جس نے لاہور کا لاری اڈا نہیں دیکھا وہ ابھی عالم ارواح میں ہے، پیدا ہونے کا مرحلہ تو بہت بعد کا ہے۔ لاہور کا لاری اڈا ایک ایسا لاری اڈا ہے جہاں ایک طرف منزلوں کے سفر شروع ہوتے ہیں، ارمانوں کی دنیا پروان چڑھتی ہے، خوابوں کی تعبیر ہوتی ہے تو دوسری طرف انسان سفر کی تکالیف کا لباس تار تار کرتے ہوئے گھر کا رخ کرتا ہے۔
لاری اڈا ایک ایسی جگہ کا نام ہے جہاں موجود ہر شخص مسافر ہے۔ لاری اڈے میں بکھرے مسافروں کو دیکھ کر اچانک میر کا مصرعہ یاد آ جاتا ہے۔
”ساز پسیج روانہ ہے سب قافلے کی تیاری ہے“
ہر لاری اڈے پر تین طبقات کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ لاہوری لاری اڈا بھی اس کلیہ سے مستثنیٰ نہیں۔ یہاں طبقات سے مراد سماجی طبقات نہیں بلکہ معاشرتی گروہ مراد ہیں۔ ایسے گروہ جن کو کمیونٹی کہا جا سکتا ہے۔ پہلا طبقہ ڈرائیور اور کنڈکٹر حضرات کا ہے۔ اس کی بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ طبقہ بڑا منہ پھٹ ہوتا ہے۔ بسوں کو طیارہ کا نام دے کر خود کو پائلٹ تصور کرنا اور جہاز ران کی قابلیت کے ضمن میں چرس بھرا سیگریٹ استعمال کرنا، اس طبقہ کی پہچان ہے۔ دوسرا طبقہ لاری اڈا پر مختلف اشیاء بیچنے والوں کا ہے۔ اس طبقہ کے لوگوں کی پہچان یہ ہے کہ ان کی آنکھوں سے گداگری، چہرے سے مسکینیت، کپڑوں سے فقیری، اور ہاتھوں سے مزدوری ٹپکتی ہے۔ یہ طبقہ کبھی مجبوری کی داستان تو کبھی لاچاری و بے بسی کی تصویر پیش کرتا، زبردستی مختلف اشیا بیچتا نظر آتا ہے۔ تیسرا طبقہ وہ طبقہ ہے جو پہلے طبقہ سے خفا تو دوسرے طبقہ سے بیزار ہوتا ہے اور بے بسی کی تصویر بنا بار بار گھڑی پر نگاہ ڈالتا ہے۔ عرف عام میں اسے ”مسافر“ کہا جاتا ہے۔
طیاروں میں بیٹھے مسافر حبس سے بے حال اور ان کے بچے، جن کو ماؤں نے سرسوں کے تیل سے خوب تر کیا ہوتا ہے، گرمی کی تپش سے پکوڑا ہو رہے ہوتے ہیں مگر ڈرائیور اپنی ہستی میں مست چرس بھرا سیگریٹ سلگائے چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر محو پرواز ہوتے ہیں۔ مسافروں کی آہ و زاری سے اگر ان کے اندر رحم کا جذبہ پیدا ہو جائے اور وہ گاڑی اسٹارٹ کرنے لگیں تو کنڈکٹر چلانے لگتے ہیں کہ ابھی وقت نہیں ہوا۔ یہ جملہ سن کر مسافروں پر یہ راز عیاں ہوتا ہے کہ
”مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں“
کنڈکٹر کو اگر بس کا منکر نکیر کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ وہ مسافروں سے ایسے ایسے سوال کرتا ہے جن کے پوچھنے کا حق خدا کے بعد صرف پولیس افسر کو ہوتا ہے۔
اگر مسافر کنڈکٹر کے چنگل سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو زبردستی اشیاء فروخت کرنے والے دھاوا بول دیتے ہیں۔ وہ اشیاء نہیں بلکہ لاچاری کا ہنر بیچتے ہیں۔ ان سے مسافر کسی صورت بچ نہیں پاتا۔ یا تو پیسے جاتے ہیں یا کنجوسی کا ٹھپا لگ کر عزت۔ یہ مسافر کو خود طے کرنا ہوتا ہے کہ وہ اپنی عزت بچائے یا پیسہ۔ یہ مرحلہ اتنا مشکل ہوتا ہے کہ محبت کی آگ کے دریا سے گزرنا بھی اتنا مشکل نہ ہوتا ہو گا۔
یہ تو تھی لاری اڈا کے تناظر میں طبقاتی بحث۔ لگے ہاتھوں ان بسوں کی شان بھی سنتے جائیے جن میں ڈرائیور پائلٹ، کنڈکٹر منکر نکیر، زبردستی اشیاء بیچنے والے جابر اور مسافر بے بس اور لاچار ہوتے ہیں۔ ان بسوں کی خاصیت یہ ہے کہ یہ جا کہیں رہی ہوتی ہیں اور لے جا کہیں اور رہی ہوتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ان کا منہ کعبہ کی طرف تو ٹائر کلیسا کی جانب محو سفر ہوتے ہیں۔ ان بسوں کی کھڑکیوں کے شیشے نہیں ہوتے۔ اور جن راہوں کی خاک چھانتے ان کی یہ حالت ہوتی ہے وہاں سڑک کے بجائے کھائیاں ہوتی ہیں۔ ان کھائیوں کی حکمت شاید یہ ہے کہ مسافر زندگی کے تلخ رخ سے واقف ہو کر دنیا کی محبت دل سے نکال پھینکیں اور آخرت کی فکر کریں۔ ایک دانش مند نے اس معاملہ کی یوں تعریف کی ہے، یہ کھائیاں اس لیے بنائی گئی ہیں کہ مسافروں کے گناہ جھاڑے جا سکیں۔
ایک واقعہ یاد آ گیا، آپ کو سنائے دیتا ہوں۔
ایک بار میں ”توقیر طیارہ“ میں سفر کر رہا تھا۔ اس طیارے میں ہر وہ خاصیت موجود تھی جن کا تذکرہ پہلے کیا جا چکا ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ اچانک بارش برسنے لگی۔ بارش کی تیز بوچھاڑ ٹوٹے شیشے سے اندر داخل ہوئی تو ایک بچہ ڈر کر چیخنے لگا۔ رستہ پر موجود گڑھے پر سے گزرتے وقت بس اچھلی تو بچہ سہم کر چپ ہو گیا اور اس کی ماں چیخنے لگی۔ یہ منظر دیکھ کر بس کے آخر میں بیٹھی بوڑھی عورت چلائی ”پڑھو لا الہ الا اللہ“ ۔ بس گونج اٹھی اور میں موت کی آہٹ پا کر بے اختیار دعائے جنازہ پڑھنے لگا۔
ان بسوں میں سفر کرنے کے دو اصول ہیں۔ پہلا یہ کہ بندہ بے عزتی کے احساس سے ناواقف ہو۔ اور دوسرا یہ کہ دل کا عارضہ لاحق نہ ہو۔ یوں آپ محفوظ رہیں گے۔ وہ الگ بات ہے کہ ان بسوں میں ایک بار سفر کر چکنے کے بعد بلڈ پریشر کچھ اوپر نیچے رہنے لگتا ہے۔
اگر آپ ان بسوں میں سفر کرنے کے خواہشمند ہوں تو سب سے قبل غسل فرمائیں اور تمام رشتے داروں اور جاننے والوں سے معافی مانگ لیں اور حقوق معاف کروا لینے کے بعد لاری اڈا کا رخ کریں۔ عین ممکن ہے کہ آپ جائیں تو سرخ جوڑے میں اور آپ کو واپس، سفید پیراہن میں لایا جا رہا ہو۔

