آبدوز میں مرنے والوں سے نفرت کیوں؟ (مکمل کالم)
پہلا سوال: اوشن گیٹ نامی کمپنی دنیا کے ارب پتی افراد کو ’ٹائٹن‘ نامی آبدوز میں بٹھا کر سمندر کی تہہ میں لے جانے کا کام کرتی ہے، اس سفر کے دوران یہ ’سیاح‘ سو سال پہلے ڈوب جانے والے جہاز ٹائٹینک کے ملبے کا نظارہ کرتے ہیں۔ اس آبدوز میں پائلٹ سمیت پانچ افراد بیٹھ سکتے ہیں اور ایک ٹکٹ کی قیمت اڑھائی لاکھ ڈالر ہے۔ چند روز پہلے ایسے ہی ایک سفر کے دوران یہ آبدوز تباہ ہو گئی اور اس میں سوار پانچوں افراد جاں بحق ہو گئے۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ امرا کے چونچلے ہیں لہذا اس پر زیادہ افسوس کرنے کی ضرورت نہیں؟
دوسرا سوال: ٹائٹن کے تباہ ہونے سے کچھ روز قبل یونان کی سمندری حدود میں تارکین وطن کی ایک کشتی بھی ڈوب گئی تھی، تین سو پاکستانی اس حادثے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ کیا اس حادثے کو بین الاقوامی میڈیا کی وہ توجہ ملی جو ٹائٹن کو ملی اور اگر نہیں ملی تو کیا یہ مغربی میڈیا کی منافقت نہیں؟
تیسرا سوال:ٹائٹن میں سوار ارب پتی افراد کی تلاش میں امریکہ، کینیڈا اور فرانس کے بحری بیڑے اور آبدوزیں فوراً حرکت میں آ گئیں اور کئی روز تک ان کا سراغ لگانے کی کوشش کی جاتی رہی جس پر کروڑوں ڈالر خرچ ہوئے جبکہ غریب تارکین وطن سمندر میں ڈوبنے سے پہلے مدد کے لیے پکارتے رہے مگر ان کے حصے میں فقط پانی کی چند بوتلیں ہی آئیں۔ کیا یہ سینکڑوں غریب لوگ امداد کے زیادہ مستحق نہیں تھے؟
یہ تینوں باتیں دراصل ایک ہی سوال کے تین رخ ہیں اور ہر سوال کے جواب کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ آپ دنیا کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ ایک فاقہ زدہ شخص سے کسی نے پوچھا دو جمع دو کتنے ہوتے ہیں، اس نے جواب دیا چار روٹیاں۔ دنیا کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہے جو روزانہ کی بنیاد پر محنت کر کے اپنی زندگی گزارتے ہیں لہذا وہ دولت مند افراد کو حسد، حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں، مگراس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی شخص کی موت پر، خاص طور جب وہ موت نہایت درد ناک طریقے سے ہوئی ہو، اس لیے افسوس نہ کیا جائے کہ مرنے والا امیر کبیر آدمی تھا۔ ٹائٹن کے مسافر بلاشبہ دولت مند تھے مگر جس طرح سمندر کی تہہ میں ان کی موت واقع ہوئی وہ بہت المناک ہے۔ پاکستانی نژاد تاجر شہزادہ داؤد اپنے انیس برس کے جوان بیٹے کے ساتھ اس میں سوار تھے، ذرا ایک لمحے کے لیے تصور کریں کہ سمندر میں چار ہزار فٹ کی گہرائی میں نیچے جاتے ہوئے ان دونوں باپ بیٹے کو جب یہ احساس ہوا ہو گا کہ آبدوز خراب ہو گئی ہے اور اب یہ تباہ ہو جائے گی تو اس ایک لمحے میں ان پرکیا بیتی ہوگی۔ اور بیٹا تو محض اپنے باپ کی خواہش پوری کرنے کی غرض سے آبدوز میں بیٹھ گیا تھا ورنہ اسے اس ایڈونچر کا کوئی شوق نہیں تھا۔ یہ موت مزید اذیت ناک ہو سکتی تھی اگر آبدوز ایک سیکنڈ کے تیسویں حصے میں پھٹنے کی بجائے تکنیکی طور پر خراب ہو جاتی او ر پھر اس میں دھیرے دھیرے آکسیجن کم ہوتی چلی جاتی، ایسی صورت میں آبدوز کے مسافر دم گھٹنے سے اور شدید سردی سے مر جاتے اور یہ موت بے حد خوفناک ہوتی۔ اس حادثے میں واحد ’مثبت‘ بات یہی ہے کہ مسافروں کی موت اچانک دھماکے سے ہو گئی اور انہیں کسی قسم کی تکلیف کا احساس نہیں ہوا۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ امیروں کے چونچلے ہیں، جس دنیا میں روزانہ کروڑوں لوگ پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھا پاتے وہاں ایک تباہ شدہ جہاز کو دیکھنے کے لیے ان ارب پتی لوگوں نے کروڑوں روپے سمندر میں ڈبو دیے۔ بظاہر اس بات میں وزن ہے لیکن اگر اس دلیل کو درست مان لی جائے تو پھر یہ بات کہیں جا کر ختم نہیں ہوگی۔ مثلاً ایسے لوگ بھی ہیں جن کے لیے لاہور سے نیویارک جانا عیاشی ہے، جو کہ یقینا ہے بھی، جو بندہ کبھی نارووال سے آگے نہ گیا ہو اس کے لیے نیویارک جانے والے لوگ ویسے ہی ہیں جیسے ہمارے لیے ٹائٹن آبدوز کے بد قسمت مسافر۔ اور پھر صرف نیویارک کی بات ہی کیوں کی جائے، کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ حج، عمرے اور قربانی پر پیسے خرچ کرنے کی بجائے یہ کسی غریب کو دے دینے چاہئیں، لیکن ظاہر ہے کہ ان عبادات کی اپنی اہمیت ہے اسی لیے یہ دلیل تسلیم نہیں کی جاتی۔ آپ نے شاید اس شخص کی کہانی سنی ہو جو دنیا میں دکھ، درد اور غربت دیکھ کر پریشان رہتا تھا سو ایک دن اس نے اپنی آدھی دولت غریبوں میں بانٹ دی۔ چند دن وہ مطمئن رہا مگر پھر اس نے دیکھا کہ دنیا میں دکھ کم نہیں ہوا بلکہ اتنا ہی ہے، یہ دیکھ کراس نے اپنی باقی دولت بھی عطیہ کردی۔ لیکن اس کی تسلی نہیں ہوئی، پھر اس نے ایک ایک کر کے اپنے جسم کے تمام اعضا بھی عطیہ کر دیے، مگر دنیا کے درد ختم نہیں ہوئے اور وہ شخص مر گیا۔ اس کہانی کا یہ مطلب نہیں کہ امیر لوگوں کو غریبوں کی مدد نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس کا مقصد صرف اس دلیل کا جواب دینا ہے جس کا ذکر میں نے کیا ہے۔
اب رہی یہ بات کہ تین سو غریب لوگ یونان کی سمندری حدود میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے مگر انہیں کسی نے نہیں پوچھا جبکہ ان پانچ ارب پتیوں کے لیے دن رات ایک کر دیا گیا۔ اس کی وجہ بھی صاف ہے، جو حادثے معمول بن جائیں ان کو نارمل انداز میں لیا جاتا ہے، تارکین وطن کی یہ غالباً چوتھی کشتی ہے جو گزشتہ چند ماہ میں سمندر میں حادثے کا شکار ہوئی۔ میں نے دو مرتبہ اس پر کالم لکھا، گزشتہ ہفتے میں نے لکھا تھا کہ یہ آخری کشتی نہیں جو ڈوبی ہے، آئندہ بھی یہ حادثات ہوں گے لیکن شاید ہر حادثے پر لکھنا ممکن نہ ہو۔ اسی طرح جن دنوں وطن عزیز میں بم دھماکے معمول بن گئے تھے ان دنوں میڈیا کی کوریج کا یہ حال تھا کہ صبح کے دھماکے میں تیس افراد کے جاں بحق ہونے کی خبر دوپہر تک ٹی وی سکرین سے غائب ہو جاتی تھی۔ ایک اور وجہ پراسراریت بھی ہوتی ہے، آبدوز کا غائب ہوجانا پراسرار بات تھی، خاص طور پر اس آبدوز کا جس کی ایک ٹکٹ اڑھائی لاکھ ڈالر تھی اور جو ٹائٹینک کا ملبہ دکھانے جا رہی تھی۔ بالکل اسی طرح جیسے ملائشیا کی بد قسمت پرواز MH 370 کا آج تک سراغ نہیں مل سکا حالانکہ اس کی تلاش بھی وسیع پیمانے پر کی گئی تھی۔ بات وہی ہے کہ دنیا میں بڑی کہانیاں بڑے لوگوں کی ہوتی ہیں، غریبوں کو خود غریب بھی نہیں پوچھتے۔ نور مقدم کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیا گیا، پورے ملک میں کہرام مچا، اس کا قاتل گرفتار ہوا اور اب جیل میں سزا کاٹ رہا ہے جبکہ پنجاب کی ایک تحصیل میں اسکول جانے والی بچی کو اسکول کا چوکیدار ریپ کر کے قتل کر دیتا ہے، اخبار میں سنگل کالمی خبر لگتی ہے، بات ختم۔ اس لیے کہ اس بچی کا تعلق اپر کلاس سے نہیں تھا، گرامر اسکول میں نہیں پڑھتی تھی اور ڈیفنس میں نہیں رہتی تھی، شور اس صورت میں مچتا جب وہ بچی یہ تینوں ’لوازمات‘ پورے کرتی۔ یونان میں جو کشتی ڈوبی اسے شاید بچایا جا سکتا تھا مگر قریب سے گزرنے والے جہاز نے مرنے والے غریبوں کی مدد کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ یہی دنیا ہے، یہ نا انصافی پر کھڑی ہے، یہ بات ہم جتنی جلد سمجھ لیں اتنا ہی اچھا ہے، جب دنیا کے خالق نے ہی یہاں تفریق کر رکھی ہے تو انسان بھلا اس تفریق کو کیسے مٹا پائے گا!
کالم کی دم: مجھے اپنی کالم نگاری کے حوالے سے کوئی بڑا دعویٰ تو نہیں البتہ ریکارڈ کی درستی ضروری سمجھتا ہوں۔ جب سے کالم لکھنا شروع کیا ہے تب سے کوشش کی ہے کہ تحریر میں کچھ نیا پن پیدا کیا جائے، اسی لیے کالم کا مستقل عنوان ’ذرا ہٹ کے‘ رکھا، یہ اور بات ہے کہ اس عنوان کو اچک کر ایک ٹی وی پروگرام کا نام رکھ دیا گیا اور رسید تک نہیں دی گئی۔ اسی طرح کبھی کبھار کالم کو ’پہلی مثال، دوسری مثال، تیسری مثال‘ لکھ کر شروع کرتا ہوں، اس انداز کو بھی ایک دوست نے اپنایا مگر رسید اس کی بھی نہیں دی۔ کوئی بات نہیں، خوش رہیں اپنے خرچے پہ۔


