نفسیات: ٹین ایج یا نفسیاتی طوفان؟
آپ صاحب اولاد ہیں۔ آپ کی نسل آگے بڑھے گی۔ آپ اس ایکسٹینشن سے سرشار ہیں۔ بچے کی پیدائش سے لے کر تمام زندگی اس کو ”میرا بچہ میرا بچہ“ کہتے نہیں تھکتے۔ اپنی استطاعت سے بڑھ کر وہ سب کچھ اس کے۔ لئے کرتے ہیں جو آپ کے لئے آپ کے والدین نہیں کرپائے۔ اولاد کی صورت میں آپ کو ایک اور جنم مل گیا ہے یعنی اپنی تمام ناتمام حسرتوں کو پورا کرنے کے لئے ایک نعمت آپ کو مل گئی ہے۔
یہ اولاد جسے آپ نعمت سمجھتے ہیں یہ آپ کے لیے آزمائش ہے۔ اس دن سے جب اس کے کنسیپشن کی خوش خبری آپ نے سنی اور اس وقت تک یہ آزمائش ہے جب تک آپ زندہ ہیں۔ رک جائیے اور توقعات وابستہ کرتے ہوئے نیچے آ جائیں کہ یہ آپ کا نام روشن کرے گی، بڑھاپے کا سہارا بنے گی۔ یہ حسین خواب دیکھنے سے پہلے سوچ لیجیے کہ ”دلی دور است“
ابھی اس کی پال پوس کے ادوار گزارنے ہیں، صحت، خوراک علاج معالجہ، تیمار داری، تعلیم، تربیت، اخلاق سازی سکولنگ، شادی اور شادی کے بعد بھی آپ کو چین کہاں ہر وقت فکر کھائے جا رہی ہے کہ بیٹی ہمہ وقت اپنے شوہر اور سسرال سے نالاں ہے، آپ کو اس کا گھر بسانے کے لئے کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں۔ بیٹا بھی تو اپنی شادی کی سٹریس لئے پھر رہا ہے۔ اس کی اولاد کے مسائل بھی تو آپ نظر انداز نہیں کر سکتے۔ بہو اور داماد آپ کے لئے بونس کی سٹریس ہے۔ اور پھر پوتا پوتی، نواسا نواسی۔ یہ وہ سود ہے جو آپ کو اصل سے پیارا ہے۔ اب آپ نے اس سود سے توقعات وابستہ کر لی ہیں۔ یہ آخری بونس ہے
آپ جانتے ہیں اور آپ کا خدا جانتا ہے کہ اس آخری بونس تک آپ کیسے پہنچے۔ لیکن یہ تو وہ سود ہے جس کی بس آپ آس ہی لگا سکتے ہیں مگر آپ کو زر مبادلہ شاذ ہی ملتا ہے۔
اور ان سب امیدوں اور نا امیدوں کے درمیان آپ کبھی ایک بہت بڑے طوفان سے بھی گزرے ہیں۔ یاد کیجئے وہ طوفان جب آیا تھا جب آپ کا بچہ ٹین ایج کو پہنچ رہا تھا۔
اگر آپ کے بچے ابھی چھوٹے ہیں تو یقیناً ابھی آپ اس کے ننھے منے وجود کی معصومیت کے خمار میں ہیں اور آگاہ نہیں کہ آنے والا ہر لمحہ آپ کو تنبیہ کرتا ہے کہ۔
آنے والا کوئی طوفان ہے اور آپ کو ابھی سے اس کی تیاری کرنی ہے۔ بالکل ویسے جیسے اس کے پیدا ہونے سے پہلے اس کے لئے کپڑے، کھلونے جھولا، فارمولہ ملک کی نت نئی برانڈز، اور ٹھوس غذا کے لئے بنے بنائے خوراک کے ڈبے اور ٹیو بیں بھی وافر مقدار میں انتظام کر لیا۔ ، دودھ پلانے کے لئے ہلنے والی کرسی، فینسی فیڈرز اور جنس کی بنیاد پر کمرے کا رنگ اور پردے لٹکائے تھے۔ بے بی شاور بھی کر لیا تھا۔ اور ٹائم ٹیبل سیٹ کر لیا تھا اور یہ بھی دل میں سوچ لیا تھا کہ بچے کو کن لوگوں سے قریب رکھنا اور کن سے دور۔
اور اس کو کس کی محبت میں سرشار کرنا ہے اور کس کے لمس سے دور رکھنا ہے۔ کب اور کس طرح اس کی ٹائلٹ ٹریننگ کرنی ہے اور کب اور کس ڈے کیئر میں ڈالنا ہے تاکہ آپ کا بچہ آپ کے بنائے ہوئے پروگرام کے مطابق ڈھل سکے شاید لا شعوری طور پر یہ آپ کی اپنے بچے کے ٹین ایج دور میں داخل ہونے سے پہلے اور بہت پہلے شاید جب ابھی وہ دنیا میں آیا بھی نہ ہو آپ کی تربیتی تیاریاں ہوں۔ ہو سکتا ہے آپ نے بچے کی پیدائش سے پہلے پیرنٹنگ کے کورس بھی کر لئے ہوں۔
بہت کچھ آپ نے کر لیا۔ اب آپ مطمئن ہیں یہ سوچ کر آپ کو اپنے اوپر بے حد فخر ہے ہر دن پہلے سے بہتر ہو گا اور آپ کا بچہ جب ٹین ایج کو پہنچے گا تو آپ فخر کر سکیں گے کہ پری نیٹل دور میں کی گئی تدبیریں اور خریداریاں اور تربیت کے منصوبے آپ کے بچے کو یقیناً مثالی ٹین ایجر بنا دیں گے۔ آپ تعریف کے قابل ہیں کہ آپ نے نے بہت اچھے والدین ہونے کا ثبوت دیا اور قبل از وقت سب تیاری کر لی۔ جو آپ کے اولڈ سکول سے تعلق رکھنے والے والدین نے نہیں کی تھیں اور آپ انہیں جتاتے بھی ہوں گے کہ ”دیکھا آپ نے ایسا کیا ہوتا تو ہماری شخصیت اور تربیت میں خامیاں نہ رہتیں“ ۔
اب آپ کا بچہ بڑا ہو رہا ہے۔ آپ اسے اچھے سکولوں میں بھیجتے ہیں۔ سیرو تفریح کے لئے لے جاتے ہیں۔ اور ہر چیز اور جگہ کا ایکسپوژر دیتے ہیں۔ باہر ریستوران میں کھانے کھلاتے ہیں۔ چھری کانٹے کا استعمال سکھاتے ہیں۔ سالگرائیں مناتے ہیں اور اس بہانے اپنے بچے کو سوشلائز کرنا سکھاتے ہیں۔ اس کے سکول کے اساتذہ سے مل کر اس کی کارکردگیوں پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔ اچھا کرتے ہیں آپ تو بہت اچھے والدین ہیں ایسے آپ کے والدین نہیں تھے۔
لیکن یہ کیا کہ آپ کا بچہ ٹین ایج میں داخل ہونے کو ہے اور آپ خوش ہونے کے بجائے بجھے بجھے لگنے لگتے ہیں اور پیشانی پر لکیریں ابھرنے لگی ہیں۔ آپ بار ہا اسے سٹریس کہتے ہیں۔
سٹریس؟ لیکن کیوں؟
آپ کا بچہ بڑا ہو گیا ہے۔ بلوغت کے معیاری وقت پر نظام کے مطابق جسمانی تبدیلیاں بھی صحتمند طریقے سے رونما ہو رہی ہیں۔ بیٹے کے جوتے کا سائز آپ کے برابر ہو گیا ہے اور بیٹی بھی ماں کے کپڑے پہن لیتی ہے۔ آپ کو خوش ہونا چاہیے۔ مگر کچھ ہے جو آپ کو بے چین کیے ہوئے ہے۔ آپ کسی سے شیئر بھی نہیں کر پا رہے کیونکہ لگتا ہے کہ آپ کی پرورش کی تمام تدبیریں بے سود رہیں۔ آپ ایک ایسے تلاطم اور طوفان سے دو چار ہیں جو آپ کا ٹین ایج اپنی جوانی کے ساتھ لایا ہے۔
آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو خفگی اٹھانی پڑے گی۔ حتی کہ آپ اپنے خاندان کے قریبی لوگوں سے بھی آنکھ چرانے لگے ہیں یہاں تک کہ والدین سے بھی شاید آپ نے ان کو چیلنج کیا ہو کہ آپ کے بچے طوفان نہیں لائیں گے۔ مگر طوفان تو آ گیا۔ یہ کوئی نئی بات تو نہیں۔ کبھی آپ کے والدین نے بھی اس طوفان میں اپنے تنہا بازوؤں کے پتوار سے کشتی چلائی ہوگی اور پار بھی لگا دی ہوگی تبھی آپ کامیاب ہو کر کھڑے ہیں۔ چلیے اب آپ کی باری ہے لوگ ساحل پر کھڑے آپ کی کشتی کے پار لگنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
یہ بھی آپ کو بتاتے چلیں کہ ٹین ایج جدید زمانے کا مسئلہ نہیں ہے۔ ہر زمانے میں والدین اس سے دوچار رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ گزشتہ زمانوں میں لوگ اس سے نبرد آزما ہونے کے لئے مختلف طریقوں پر عمل کرتے تھے جو شاید اب ممکن نہیں یا بہت باتوں کو ہم نے خود ناممکنات بنا دیا ہے اور اپنے تجربات کو ماڈرن ہونے کے شوق یا ضروریات زمانہ کے تقاضوں کے بدل جانے کی وجہ سے اولڈ سکول پر عمل کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ بہر حال ٹین ایج ایک طوفان ہے۔ جس کا سامنا کرنا ہی ہے۔
لیکن کیسے؟
یہ بتانے کے لئے شاید یہ تحریر کافی نہیں۔ اس کو قسطوں میں بیان کرنا پڑے۔
اس تحریر کی اس پہلی قسط میں ہم قارئین کے لئے ان نکات کی نشاندہی مختصراً بیان کریں گے کہ آخر بچوں کی ارتقا کا یہ دور طوفان کیوں کہلاتا ہے۔
وہ کیا علامات اور مسائل ہیں جو والدین، خاندان، سکول اور شاید ارد گرد بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔
جسمانی تبدیلیوں کے بارے میں شاید ان پڑھ والدین بھی جانتے ہوں۔ لیکن بچوں کی نشوونما کے اس دور میں جذباتی، نفسیاتی اور کرداری معاملات کے بارے میں مکمل آگاہی کا فقدان ہے جس کی وجہ سے اس دور کا طوفان شدت بھی اختیار کر سکتا ہے۔
ذیل میں چند اہم امور ہیں جن کے بارے میں والدین اور خود ٹین ایجر کو مکمل آگاہی ہونی چاہیے تاکہ ٹین ایج کے طوفان سے صحت مند طریقے سے نبرد آزما ہوا جائے :
1۔ بلوغت کے ہارمونز کی افزائش۔ خوراک اور نفسیاتی ماحول۔
2۔ جسمانی تبدیلیاں اور ان کا استقبال اور والدین کے رد عمل۔
3۔ نو بلوغیت یا ٹین ایج کا آغاز اور دورانیہ۔
4۔ ٹین ایج کے عمومی نارمل رویے اور کردار۔
5۔ ٹین ایج کے پریشان کن روئیے اور کردار
بچپن کے تربیتی انداز اور والدین کی ہم آہنگی۔ 6
7۔ والدین کی ذہنی صحت، شخصیت اور مزاج۔
8۔ ٹین ایج کی شخصیت اور ذہنی صحت۔
(جاری)


