ٹائٹینک جہاز، ہاورڈ ارون اور انیس محبت نامے


پچھلے چند دنوں سے ساری دنیا میں یہ خبر پھیلی ہوئی ہے کہ ایک آب دوز کشی ٹائٹینک کے ملبے کی سیر کے لیے زیر آب گئی اور کھو گئی۔ اس کشتی میں ایک پاکستانی باپ شہزادہ دائود  اور ان کے بیٹے سلیمان دائود ۔۔۔ بھی سوار تھے جو سمندر کی گہرائیوں میں موجود ٹائٹانک جہاز کی تلاش میں نکلے اور خود ہی کھو گئے۔

انٹرنیٹ پر اس آب دوز کشتی کے گم ہو جانے کہ کہانی پڑھ کر مجھے اپنی کتاب THE MAN TITANIC LEFT BEHIND کی اور ہاورڈ ارون کے انیس محبت ناموں کی کہانی یاد آئی اور میں نے  ‘ہم سب’ کے قارئین کے لیے یہ کالم لکھنے کا سوچا۔

آج سے دس سال پیشتر ایک سہہ پہر ایک دراز قد سفید بالوں والے اجنبی غیر متوقعہ طور پر میرے کلینک آئے اور کہنے لگے، ’میرا نام کلاڈ ارون ہے اور مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے’۔

میں انہیں اپنے کمرے میں لے گیا اور کہا ‘فرمائیں’

کہنے لگے‘ میرے پاس ایک دلچسپ کہانی ہے لیکن میں لکھاری نہیں ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ میں آپ کو کسی دن وہ کہانی تفصیل سے سنائوں اور آپ وہ کہانی رقم کریں اور ہم مل کر وہ کتاب لکھیں’

‘وہ دلچسپ کہانی کس موضوع پر ہے؟’ میں متجسس تھا۔

‘وہ ٹائٹانک کے بارے میں ہے’

‘ وہی ٹائٹانک جہاز جو ایک صدی پہلے ڈوب گیا تھا’

‘جی ہاں’

‘ لیکن اس جہاز کی تباہی کی کہانی رقم ہو چکی ہے اور اس پر ایک فلم بھی بن چکی ہے’

‘ یہ درست ہے لیکن اس جہاز کےبارے میں ایک کہانی ایسی بھی ہے جو ابھی رقم نہیں ہوئی اور وہ کہانی میں آپ کو سنانا چاہتا ہوں’

‘اگر ایسی ہی بات ہے تو آپ کل شام تشریف لے آئیں اور ہم تفصیل سے باتیں کریں گے’

چنانچہ کلاڈ ارون خوشی خوشی چلے گئے اور میں گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ میں نے زندگی میں بہت سی کہانیاں اور کتابیں لکھی ہیں لیکن کلاڈ ارون سے پہلے مجھے کسی نے اپنی کہانی لکھنے کی فرمائش نہیں کی۔

اس شام میں نےانٹرنیٹ پر ٹائٹانک کے بارے میں تفاصیل جاننے کی کوشش کی تو مجھے پتہ چلا کہ ٹائٹینک ایک برطانوی جہاز تھا جو 10 اپریل 1912 کو انگلستان کی بندرگاہ سائوتھ ہیمپٹن سے نیویارک جانے کے لیے چلا تھا اور چار دن کےبعد چودہ اپریل کو ایک آئس برگ سے ٹکرا کر نیوفن لینڈ سے چھ سو کلومیٹر جنوب میں تین گھنٹے میں ڈوب گیا تھا۔ اس حادثے میں پندرہ سو تیرہ لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ جہاز کے مالک نے اس کا نام ٹائٹانک اس لیے رکھا تھا کہ اس کا خیال تھا کہ یہ نہایت ہی طاقتور جہاز تھا جو کبھی نہ ڈوبے گا اور بدقسمتی سے وہ پہلے سفر میں ہی ڈوب گیا تھا۔

اگلے روز کلاڈ ارون تشریف لائے تو مجھے بتانے لگے کہ جب ٹائٹانک جہاز 1985 میں سمندر کی گہرائیوں میں ملا تو اس جہاز کے ملبے میں جو چیزیں دستیاب ہوئیں ان میں ایک چمڑے کا بیگ بھی تھا جس میں انیس محبت نامے تھے۔ وہ چمڑے کا بیگ اتنا مضبوط اور پائدار تھا کہ سمندر کی گہرائیوں میں بھی سلامت رہا۔ کلاڈ ارون نے کہا کہ وہ بیگ اور وہ خطوط اس کے دادا ہاورڈ ارون کے تھے۔

تو کیا آپ کے دادا ٹائٹانک میں سفر کر رہے تھے؟

نہیں وہ اس جہاز پر نہیں تھے؟

اگر ہاورڈ ارون جہاز پر سفر نہیں کر رہے تھے تو پھر ان کا بیگ جہاز میں کیسے تھا؟

یہی تو دلچسپ کہانی ہے جو میں آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔

اب میں ہمہ تن گوش تھا۔

کلاڈ ارون نے مجھے بتایا کہ ان کے دادا ہاورڈ ارون ایک موسیقار اور فنکار تھے۔انہیں سفر کرنے کا بہت شوق تھا۔ چنانچہ جوانی میں وہ اپنے ایک فنکار دوست ہیری کے ساتھ ساری دنیا کے سفر پر نکل کھڑے ہوئے۔ وہ مختلف شہروں اور ملکوں میں رکتے’ گٹار بجاتے’ گانے گاتے’ کچھ پیسے کماتے اور پھر اگلے شہر اور ملک روانہ ہو جاتے۔ اس دو سال کے سفر میں ان کی ملاقاتیں جن ادیبوں’دانشوروں اور سیاسی رہنمائوں سے ہوئیں ان میں امریکہ کے ناول نگار جیک لندن’ہندوستان کے سیاسی رہنما موہن داس گاندھی اور روس کے انقلابی ولادمیر لینن شامل تھے۔

یوں لگتا ہے آپ کے دادا فنکار ہی نہیں ایک دانشور سیاح بھی تھے لیکن ان کا ٹائٹانک جہاز سے کیا تعلق تھا؟

کلاڈ ارون نے بتایا کہ ان کے دادا ہاورڈ اور ان کے دوست ہیری نے ٹائٹانک جہاز کا ٹکٹ خریدا تھا اور اس جہاز میں انہیں واپس نیویارک آنا تھا۔

پھر کیا ہوا؟ اب میرا تجسس کچھ اور بھی بڑھ گیا تھا۔

سفر سے ایک رات پہلے ہاورڈ ارون اپنا بیگ اپنے دوست ہیری کے پاس چھوڑ کر سیر کے لیے چلے گئے۔ سیر کے دوران انہیں چند اور نوجوان مل گئے جو انہیں اپنی پارٹی میں لے گئے اور وہ شراب و شباب و کباب کی محفل میں ایسے محو ہوئے کہ وہیں سو گئے اور صبح جب وہ آدھے ہوش میں تھے ان نوجوانوں کے ساتھ ان کے جہاز میں سوار ہو گئے۔ جب ہاورڈ ارون رات بھر واپس نہ آئے تو ان کے دوست ہیری ان کا بیگ لے کر ٹائٹانک پر سوار ہو گئے۔ جب ہاورڈ ارون کا شراب کا نشہ اترا تو انہیں پتہ چلا کہ وہ غلطی سے غلط جہاز پر سوار ہو چکے ہیں۔

چار دن بعد خبر آئی کہ ٹائٹانک جہاز ڈوب گیا ہے۔ ہاورڈ کے دوستوں ’رشتہ داروں اور ساتھیوں نے فرض کر لیا کہ ٹائٹانک جہاز ڈوبا ہے تو ہاورڈ بھی اپنے دوست ہیری کے ساتھ ڈوب گئے ہیں۔ ہاورڈ جب نیویارک پہنچے تو پتہ چلا کہ ان کے دوست ان کا جنازہ پڑھ چکے ہیں۔ انہیں اپنے عزیزوں کو یہ بات باور کرانے میں بہت دشواری ہوئی کہ وہ جہاز ڈوبنے کے بعد بھی زندہ ہیں۔ ہاورڈ ارون نے اپنے اس حیرت انگیز تجربے کے بارے میں ایک تفصیلی خود سوانحی کہانی LUCKY HARRY بھی لکھی تھی جس کی کاپی کلاڈ ارون نے مجھے دی تا کہ میں وہ کہانی بھی کتاب میں شامل کرسکوں۔

آپ کے دادا ایک لکھاری بھی تھے۔ میرے پاس ان کے کئی مضامین بھی ہیں جو میں آپ کو پڑھنے کو دوں گا۔ سچی بات یہ ہے کہ وہ میرے دادا کے بھائی تھے لیکن ان کا اپنا کوئی بچہ نہ تھا اس لیے وہ مجھے اپنا پوتا سمجھتے تھے۔ وہ مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔ میری پیدائش پر انہوں نے مجھے ایک خط لکھا تھا جو اب بھی میرے پاس محفوظ ہے۔

آپ کی کیا عمر تھی جب وہ فوت ہوئے؟

ہاورڈ ارون 1953 میں فوت ہوئے جب میری عمر صرف سات برس تھی۔ انہوں نے اپنی بہت سی تخلیقات ایک بیگ میں محفوظ رکھی تھیں اور وہ بیگ میرے والد کو دے رکھا تھا اور وصیت کی تھی کہ جب کلاڈ جوان ہو تو اسے دے دینا۔ چنانچہ جب 1985 میں ٹائٹانک کے جہاز کے ملبے میں میرے دادا کا بیگ ملا تو میں بہت خوش ہوا۔اس بیگ میں ان کے انیس خطوط بھی تھے جو ٹائٹانک جہاز دریافت کرنے والوں نے چھاپے۔ میں ان کی کاپی بھی آپ کے لیے لایا ہوں۔

‘ان خطوط کی کہانی کیا ہے؟’

ہاورڈ ارون کی کینیڈا کے شہر لنزی سے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے ہیملٹن کی ایک نوجوان محبوبہ تھی جس کا نام PEARL پرل تھا۔ وہ بھی ایک موسیقار تھی۔ جب ہاورڈ اور ہیری دنیا کے سفر پر نکلے تو پرل نے اپنے محبوب کو خط لکھنے شروع کیے۔ ہاورڈ انہیں بڑی چاہت سے سنبھال کر اپنے چمڑے کے بیگ میں رکھتے۔ پرل ایک سادہ و معصوم لڑکی تھی۔ وہ اپنے محبت ناموں میں اپنےدل کا حال اپنے محبوب کو لکھ بھیجتی۔ ایسی باتیں بھی جو اسے نہیں لکھنی چاہئییں تھیں

اس کی ایک مثال دیں۔ میں نے کلاڈ سے پوچھا

پرل جب کسی کونسرٹ میں گاتیں تو کونسرٹ کے بعد بہت سے نوجوان ان کی طرف پروانوں کی طرح کھنچے چلے آتے اور ان سے باتیں کرتے۔ پرل وہ ساری باتیں خط میں لکھ دیتی۔ ایسی باتوں سے ہاورڈ احساس کمتری اور احساس تنہائی کا شکار ہوتے اور حسد کی آگ میں جلنے لگتے۔ وہ پرل کو ایسے لوگوں سے ملنے سے منع کرتے لیکن وہ کہتیں کہ یہ میرے فین ہیں میرا ان سے کوئی رومانوی تعلق نہیں ہے میں معصوم ہوں میرے محبوب صرف آپ ہیں۔

ہاورڈ ان خطوط کی وجہ سے اتنے پریشان اور دل برداشتہ ہوئے کہ انہوں نے ایک خط لکھ کر اپنی محبوبہ پرل قطع تعلق کر لیا لیکن پھر بھی ان کے خطوط سنبھال کر رکھے۔ اور یہی خطوط ٹائٹانک جہاز کے ملبے میں ان کے بیگ میں ملے۔

آپ کے دادا واپس آئے تو کیا ہوا؟

وہ واپس آئے تو بہت شرمندہ تھے۔ انہوں نے پرل کو بہت تلاش کیا لیکن وہ نہ ملیں۔ وہ ساری عمر ان کو یاد کرتے رہے اور ایک روایتی عاشق کی طرح انہوں نے ساری عمر شادی بھی نہ کی۔

جب 1985  میں ٹائٹانک کی کہانی سامنے آئی تو پرل کے رشتہ دار بھی ملے۔ میں نے پرل کے رشتہ داروں کے انٹرویو سنے تو پتہ چلا کہ پرل اپنے محبوب سے قطع تعلق کے بعد اتنی بیمار ہوئیں کہ فوت ہو گئیں۔ ہاورڈکو ساری عمر اپنی کھوئی ہوئی محبوبہ نہ ملی کیونکہ وہ ان کے کینیڈا واپس آنے سے پہلے ہی فوت ہو چکی تھیں۔

کلاڈ نے مجھے وہ نظم بھی دکھائی جو ہاورڈ نے مرنے سے ایک سال پہلے اپنی برسوں نہیں، دہائیوں کی کھوئی ہوئی محبوبہ پرل کےلیے لکھی تھی۔

کلاڈ نے اپنے دادا کے خطوط ’مضامین اور نظم مجھے دیے۔

میں نے کلاڈ کا تفصیلی انٹرویو لیا اور کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا۔ کلاڈ نے بے تکلفی سے مجھے یہ بھی بتایا کہ جب کتاب چھپے گی تو وہ اس کی ایک کاپی اپنے پوتے کے استاد کو دے گا کیونکہ جب ان کے پوتے نے اپنے پڑدادا کی کہانی کلاس میں سنائی تو اس کے استاد نے کہا، تم جھوٹ بولتے ہو۔

کلاڈ نے کہا میں اس استاد کو جھوٹا اور اپنے پوتے کو سچا ثابت کرنا چاہتا ہوں۔ کلاڈ کی یہ بات سن کر ہم دونوں نے زور کا قہقہہ لگایا۔

دو سال کی محنت اور ریاضت کے بعد ہم نے مل کر ایک کتاب چھاپی جو اب ایمیزون پر موجود ہے۔ اس کتاب میں ہاورڈ ارون کی کہانی موجود ہے جو شراب کے نشے میں دھت ہونے کی وجہ سے زندہ بچ گئے تھے۔ اس کتاب کا نام ہم نے THE MAN TITANIC LEFT BEHIND

رکھا تھا۔

نوٹ : اگر کوئی قاری ایمیزون پر کتاب نہیں خرید سکتا تو وہ مجھے اس پتے پرwelcome@drsohail.com ای میل کر دے اور میں انہیں اپنی کتاب کی پی ڈی ایف فائل بطور تحفہ بھیج دوں گا۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

One thought on “ٹائٹینک جہاز، ہاورڈ ارون اور انیس محبت نامے

  • 26/06/2023 at 10:27 شام
    Permalink

    Seems very interesting!

Comments are closed.