کیا منشیات کی علت کا علاج ممکن ہے؟
( 26 جون منشیات کے استعمال کے خلاف مختص بین الاقوامی دن کے موقعہ پہ لکھی تحریر)
یہ دور انٹر نیٹ کا ہے۔ جہاں اکثر محض غلط فہمیاں اور قیاس آرائیاں اس سرعت رفتاری سے پھیلتی ہیں جیسے تیز تند ہوا دور دراز فاصلوں تک پودوں کے بیج پھیلاتی ہے۔ سوچ جو محض مفروضہ کی بنیاد پہ نمو پائے خطرناک ہوتی ہے اور اس کے دور رس اثرات اتنے مضر ہوسکتے ہیں جن کا سوچنا بھی محال ہے۔ منشیات کا استعمال یقیناً سماجی ترقی میں دم قاتل کی حیثیت رکھتا ہے لیکن ہمارے سماج میں منشیات کے عادی افراد کے خلاف سرد مہری اور ہتک آمیز تفریقی رویہ قائم ہے۔ جو آئے دن میں فیس بک کی پوسٹوں اور واٹس اپ کے میسیجز کی شکل میں دیکھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ منشیات سے زیادہ زہریلا تو ہمارا رویہ ہے جو ہم نے منشیات کے عادی افراد کے خلاف روا رکھا ہے۔ اور جو بجائے حقیقت کے ہمارے مفروضات پہ مبنی ہے۔
میں امریکہ میں بطور سوشل ورکر، گزشتہ بارہ برس کی پریکٹس میں جانے کتنے ہی نشے کی علت کے شکار افراد کی تھرپی کا کام انجام دیا ہے۔ جنہیں منشیات مثلاً کوکین، ماروانا، ہیروئن، درد کش ادویات، ایل ایس ڈی، شراب اور سگریٹ وغیرہ کے نشہ کی لت ہوتی ہے۔ اگر زندگی میں ناکامیوں کا منہ دیکھنے، صحت خراب ہونے اور زندگی کے تمام معاملات بشمول قریبی رشتوں کو داؤ پہ لگانے کے باوجود منشیات کے استعمال کی عادت پہ قابو نہ پایا جا سکے تو ایسے افراد کا علاج ضروری ہے۔ جو خود اپنے تئیں علاج کرنے کے بجائے مخصوص منشیات کے سینٹرز میں ہی ممکن ہوتا ہے۔
نشہ چاہے ادویات اور انجیکشنز کی شکل میں ہوں یا، ہمارے رویے مثلاً شاپنگ، انٹرنیٹ، سیل فون، جوا کھیلنے، بسیار خوری، یا جنسی عمل کی کثرت کے نشے کی صورت، لذت کی یہ کیفیت انسانی دماغ کے ایسے حصوں پہ اثر انداز ہوتی ہے کہ جو سوچنے سمجھنے اور منطقی فیصلے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اپنے کسی زیاں کے احساس سے عاری علت کے شکار افراد صرف اس لذت کے حصول کے متلاشی رہتے ہیں جو منشیات کے استعمال کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے۔ یہ خواہش اس قدر شدید ہوتی ہے کہ والدین اپنے بچوں کے واحد گرم کپڑے تک بیچ دیتے ہیں۔ ان کا کھانا خرید نے اور نگہداشت کرنے کے بجائے نشے کے انجکشن سے مدہوشی ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا ذہن اس لذت کے احساس کے شکنجے میں جکڑ جاتا ہے جو انہیں منشیات کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔
کیا وجہ ہے کہ جب ہم کسی جسمانی، طبی مرض میں مبتلا مریض مثلاً کینسر، ناکارہ گردے کے شکار یا دل کے مرض میں مبتلا مریضوں کو دیکھتے ہیں تو ہماری ساری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہوتی ہیں لیکن جب نشہ کی علت میں مبتلا افراد کو اپنی زندگی میں بے بسی سے ایڑیاں رگڑتے دیکھتے ہیں تو ہم بجائے انہیں ذہنی مرض میں مبتلا مریض سمجھنے کے اخلاق سے گرا ہوا بے وقعت انسان سمجھتے ہیں۔ ہم اپنے تحقیر آمیز رویے سے انہیں مسلسل یہ باور کرواتے ہیں کہ ان کی یہ حالت ان کے گناہ اور بد افعالی کا نتیجہ ہے۔ اور وہ اسی انجام کے مستحق ہیں۔ دراصل یہ تفریقی رویہ ہماری کم فہمی اور کم علمی کا نتیجہ ہے۔ جس کا ہمیں ادراک ہی نہیں۔
معاشرے میں منشیات کے عادی افراد کے خلاف تضحیک سے بھرپور رویہ گھر سے شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ منشیات کا عادی فرد سب سے پہلے اپنے گھر والوں کے لیے شرمساری کا سبب بنتا ہے۔ اگر کسی کی اولاد منشیات کی عادی ہے تو وہ خاص کر ”اونچی ساکھ“ رکھنے والے گھرانے کے لیے انتہائی شرمساری کا سبب ہوتا ہے۔ لہٰذا والدین نہ صرف حتی المقدور اس مرض کو چھپاتے ہیں بلکہ اکثر اپنی اولاد سے لاتعلق بھی ہو جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں امریکہ میں مقیم پاکستانی مہاجرین ڈاکٹر والدین کی کہانی قابل ذکر ہے کہ جن کا اٹھارہ سالہ بیٹا منشیات کا عادی ہو گیا۔ امیر باعزت ڈاکٹر والدین نے ڈرگ کورٹ میں اس کا وکیل تو کروا دیا مگر کمیونٹی میں شرمساری کے خوف سے کبھی عدالت میں نہیں گئے۔ بیٹے کو منشیات رکھنے کے جرم کی پاداش میں جیل بھگتنا پڑی۔ قید کے دوران اس کا جیل کے عملہ کے ہاتھوں جنسی استحصال بھی ہوا۔ والدین کی کسی قسم کی جذباتی سپورٹ سے محرومی اور پھر جنسی استحصال کے بعد شدید بے بسی اور ڈپریشن سے گزرنے والے بیٹے نے جیل میں خود کشی کر لی۔ اس طرح والدین نے اپنی انا اور عزت بچانے کے لیے اس بچے کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا۔
نشہ کے مرض کے محرک عوامل کا تفصیلی تجزیہ اور معاملے کی پرتیں اتارے بغیر ہم اس بات کے مجاز نہیں کہ اپنا کوئی فیصلہ دے سکیں۔ منشیات کے علاج کے لیے ہمیں بہت تحمل، وقت اور ثابت قدمی کی ضرورت ہے ناکہ انہیں بندوق کی گولی کی زد میں رکھ کر فوری نشہ چھوڑ دینے کا حکم صادر کردینے کی۔ یہ ضرور ہے کہ اگر اس کا علاج نہ ہو تو اس کے نتائج کا زہر اگلی نسلوں تک منتقل ہو گا لیکن ایسے مریضوں کے علاج کے نتائج سے مایوس ہونا بے سود ہے۔
نسلوں میں منتقل ہونے والے اس زہر کا تریاق ہمارے مثبت رویہ اور اجتماعی جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس مرض سے متعلق زیادہ سے زیادہ آگہی پیدا کریں اور تمسخر اور مفروضات سے گریز کریں۔
(یہ مضمون دنیا میں منشیات کے استعمال کے خلاف مختص بین الاقوامی دن ( 26 جون ) کے موقعہ پہ لکھا گیا۔ اس موضوع پہ مزید مضامین گاہے بگاہے پیش کیے جائیں گے۔ )


